Topics

یہ تکرار ہے۔ جولائی ۲۰۲۴ء

 

کمرے کے وسط میں کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی کہ راہ نما تشریف لائے ۔ ہاتھ میں پانی سے بھرا پیالہ تھا۔ انہوں نے پانی کی پتلی دھار سے میری پیشانی پر کچھ تحریر کیا۔ خیال آیا کہ ٹائم ٹیبل لکھا جا رہا ہے۔ اور آنکھ کھل گئی۔ احساس اتنا گہرا تھا کہ بیداری اور نیند میں فرق نہ کر سکی۔

جب کہیں گھنٹی کی آواز سنتی ہوں ، پیشانی پر آبی روشنائی سے لکھی ہوئی تحریر یاد آتی ہے اور سوچتی ہوں کہ ٹائم تیبل کے مطابق اس وقت میں زندگی کی کس کلاس میں ہوں، کون سا سبق ہے؟ یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ قلم اہم ہے یا روح؟

فہم نے کہا ، قلم کہ قلم سے کسی بھی شے پر لکھا جا سکتا ہے لیکن دل کی آواز مختلف تھی ۔ دل نے کہا ، قلم اور لوح لازم و ملزوم ہیں ۔ قلم کا مظاہرہ لوح پر ہوتا اور لوح کے ظاہر ہونے کے لئے قلم واسطہ ہے۔ لوح اسکرین ہے جس پر تصویر بنتی ہے ، چھپتی ہے ، ظاہر ہوتی ہے ، پردہ در پردہ چھپ جاتی ہے۔

کھڑکی سے باہر آم کے پیڑ پر نظر گئی تو چند ہفتے پہلے نظر آنے والے بورنے سبزکیریوں کا لباس پہن لیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ بور ہے نہ کیری بلکہ گٹھلی کی وسعت ہے جو ٹائم ٹیبل کے مطابق روپ بہروپ کا مظاہرہ ہے۔ اس کی منزل آم ہے اور آم کی جائے پناہ مٹی ہے۔ ہر شے کی طرح آم کے بیج کے نظام الاوقات معین ہیں۔

سردیوں کی سہانی شام تھی ۔ راہ نما نے گھر کی اوپری منزل سے نیچے دیکھتے ہوئے فرمایا،

”وہ دیکھو ! آم کے پیڑ پہ بور آگیا ہے۔ قدرت کے ٹائم ٹیبل کے مطابق آم کے ظاہر باطن کا مشاہدہ ہوگا ۔“

تحریر پڑھ کر گزر جائیں تو یہ محض ایک جملہ ہے لیکن غور کریں تو اس میں کائنات بند ہے۔ ٹائم ٹیبل کا ذکر سن کر توجہ خواب کی طرف چلی گئی۔ یہاں ہر شے کا وقت معین ہے اور کوئی شے اس سے باہر نہیں ہے۔ آدمی کتنا ہی خود کو وقت سے دور کرنے کی کوشش کرے لیکن وہ وقت کے اندر رہتا ہے۔ وقت سے باہر کچھ نہیں ہے۔ وقت سے تکرار شروع ہوئی ہے ، تکرار سے کائنات اور مخلوقات قابلِ تذکرہ بنی ہیں ۔ خیال سے خیال بغل گیر ہوا تو قرآن کریم کی آیت حافظے میں روشن ہوئی۔

”کیا نہیں گزرا انسان پر زمانے میں ایسا وقت جب وہ ناقابلِ تذکرہ شے تھا ؟ ہم نے اسے مخلوط نطفے سے پیدا کیا ۔“  (الدّھر : ۱۔۲)

نطفہ کا مخلوط ہونا تکرار ہے۔ مخلوط سے مراد دو یا زیادہ ۔ جب دو اشیا خلط ملط ہوتی ہیں تو ایک غالب اور دوسری مغلوب ہوتی ہے پھر مغلوب شے غالب اور غالب مغلوب ہو جاتا ہے۔ ایک شے چھپتی ہے تو دوسری ظاہر ہوتی ہے ۔ ظاہر غیب میں چلا جاتا ہے اور غیب ظاہر ہو جاتا ہے۔ دونوں رخ اپنا ذکر ، اپنی نمائندگی چاہتے ہیں۔ یہ تکرار ہے۔

زندگی مناظر کی رونمائی ہے۔ آدمی تمام عمر مناظر دیکھتا ہے۔ منظر دیکھتے ہوئے ایک لاکھ میں سے ایک فرد کا ذہن اسکرین کی طرف جاتا ہے، باقی لوگ اسکرین سے غافل ہونے کی وجہ سے مناظر کو اصل سمجھتے ہیں ۔ یہ بات آدمی کو معلوم نہیں کہ وہ خود بھی ایک منظر ہے جو ٹائم ٹیبل کے مطابق کہیں سے آرہا ہے، اسکرین پر ظاہر ہو رہا اور کہیں جا رہا ہے ۔ جس اسکرین پر وہ ظاہر ہے، اس کی تلاش میں لگ جائے تو اپنی بساط نظر آتے ہی کائنات کی اسکرین اس کے لئے روشن ہو جاتی ہے۔ بساط کو دیکھنے کی صلاحیت کا نام آدمی نہیں ، انسان ہے۔

انسان دیکھتا ہے کہ آم بچے کے روپ میں نظر آتا ہے پھر غائب ہو جاتا ہے ، کیری مظہر بنتی ہے اور چھپ جاتی ہے، آم ظاہر ہوتا اور اس پر بھی غیب کا پردہ آجاتا ہے ۔ بور اور کیری کی مقداریں آم کے اندر نہ ہوں تو آم ظاہر نہیں ہوگا ، آم کے احساسات گٹھلی میں محفوظ نہ ہوں تو زمین کی اسکرین پر آم نظر نہیں آئے گا پھر غیب ظاہر اور ظاہر غیب کیا ہے؟

بہت دن تلاش میں گزرے ۔ ایک روز نقطہ روشن ہوا۔ میں نے دیکھا کہ نقطہ روشن ہوتے ہی اس کی اسپیس دائرہ بن گئی۔ دائرے میں زمین کے طول و عرض کے مناظر نظر آئے۔ قریب سے دیکھنے کی کوشش کی تو دائرہ سمٹ گیا اور سارے منظر نقطے میں چھپ گئے۔

لاشعور نے کس طرف اشارہ کیا ہے؟

کیا اس کا تعلق غیب ظاہر غیب سے ہے؟

جو دیکھا تھا ، آنکھیں بند کر کے اسے دہرایا ۔

نقطہ کھلا زمین ظاہر ہوئی

نقطہ بند ہوا ۔ زمین چھپ گئی۔

آواز آئی۔ چھپ گئی لیکن نقطہ کے اندر موجود ہے۔ نقطہ کھلتے ہی دوبارہ نظر آئے گی۔ ذہن پر زور دو کہ اس پورے منظر میں کیا ہوا؟

میں نے خود کلامی کے انداز میں کہا ، نقطہ پھیلتے ہی دائرہ بنا اور دائرہ سمٹ کر نقطہ بن گیا ۔

اور معمہ ۔ معمہ نہیں رہا۔

پُر جوش انداز میں خود سے کہا،

”ظاہر ہونے سے مراد اسپیس کا پھیلنا اور غائب ہونے کا مطلب اسپیس کا سمٹنا ۔“

کائنات کی اسکرین سے کوئی شے غائب نہیں ہوتی ۔ اسپیس پھیلتی اور سمٹتی ہے ۔ مثال یہ ہے کہ کروڑوں لوگ آم کھاتے ہیں لیکن آم ختم نہیں ہوتے ، دوبارہ آجاتے ہیں۔۔ کیسے؟

”گٹھلی میں موجود آم کی اسپیس پھیلی اور پھیلنے کے بعد گٹھلی میں ہی سمٹ گئی۔ کسان نے گٹھلی بوئی تو اس میں سے بور ، کیری اور آم دوبارہ ظاہر ہو گیا۔ اس پورے مظاہرے میں ہر مرحلے پر آم کی اصل موجود رہی۔“

میں تو  وہ سمجھی ہوں جسے لکھ نہیں سکتی۔

قارئین! آپ کیا سمجھے؟

ٹائم ٹیبل مقداریں ہیں۔ کوئی تخلیق وقت سے پہلے ظاہر نہیں ہوتی ۔ دن رات بھی تخلیق ہیں۔ دن کی مقدار الگ ہے، رات کی مختلف ہے اور دونوں کا عکس ایک دوسرے میں موجود ہے اسی لئے دن سے گزر کر رات آتی ہے اور رات سے گزر کر دن ظاہر ہوتا ہے۔ ایک نظم و ضبط ہے جس کی پوری کائنات پابند ہے۔

”اور وہ اللہ ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔“ ( الانبیآء : ۳۳)

زندگی جب فطرت کے ٹائم ٹیبل کے تحت گزاری جاتی ہے تو ”زندگی بندگی ، بندگی زندگی“ بن جاتی ہے۔ ایسے فرد کے لئے پھیلنا اور سمٹنا بے معنی ہو جاتا ہے۔ اندر کی نظر قریب دور اشیا کو نگاہوں کے سامنے دیکھتی ہے۔ فطرت شناسی کے اصول الہامی کتابوں اور آخری آسمانی کتاب قرآن کریم میں تفصیل سے بیان ہیں۔

”نماز قائم کرو ، زوالِ آفتاب سے لے کر اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی اہتمام کرو کیوں کہ فجر میں قرآن پڑھنا مشہود ہے۔“

(بنیٓ اسرائیل : ۷۸)

عروج و زوال کا قانون بھی نظم و ضبط کے دائرے میں آتا ہے ۔ ارشاد ِ باری ہے،

”حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی ۔“  

(الرعد : ۱۱)

بزرگ راہ نما اخلاقی بیماریوں کی نشاندہی ، ان کے تدارک ، پریشانیوں سے نجات اور مشکل حالات سے نبرد آزمائی کے لئے فرماتے ہیں،

”رات کو سونے سے پہلے سن میں کئے ہوئے اعمال کا محاسبہ کریں ۔“

معمولی کام بھی وقت پر نہ کیا جائے تو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ محاسبہ دن بھر کی مصروفیات کا جائزہ لے کر وقت کے صحیح استعمال کا گُر سکھاتا ہے۔ بزرگ راہ نما فرماتے ہیں،

”ہماری اماں کہا کرتی تھیں کہ بچہ ایک دن اسکول سے ناغہ کر لے تو پڑھائی میں دس دن پیچھے چلا جاتا ہے۔“

ایک صاحب نے بتایا کہ گزشتہ 20 سالوں سے معمول ہے کہ صبح 5:54 منٹ پر آفس جانے کے لئے بس اسٹاپ پہنچتا ہوں۔ ہشاش بشاش رہتا ہوں اور اپنے کام سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ صبح وقت پر پہنچتا ہوں تو لوگ میری امد پر اپنی گھریاں ملاتے ہیں ۔ اگر کسی روز بس اسٹاپ پر دو تین منٹ کی تاخیر سے پہنچتا ہوں تو دن بھر کے اوقات کار متاثر ہو جاتے ہیں۔ اگلی بس آدھے گھنٹے بعد روانہ ہوتی ہے اور تھکن غالب آجاتی ہے۔ میں ذہنی طور پر مژمردہ ہو جاتا ہوں جس کا اثر کام پر پڑتا ہے۔ فائیلیں چیک ہونے سے رہ جاتی ہیں اور کام التوا میں چلا جاتا ہے۔

پہلی بس میں وقت پر سوار نہ ہونے سے وہ ہر اسٹاپ پر تاخیر سے پہنچتے یعنی آفس میں اس دن کی تمام ڈیڈ لائن گزر جاتیں اور کام وقت پر نہ ہوتا۔ آدھے گھنٹے کے فرق اور پھر ذہنی کوفت کی وجہ سے بہت سا کام رہ جاتا۔

والد صاحب مرحوم وقت کے بہت پابند تھے۔ قدرت نے انہیں صلاحیت عطا کی تھی کہ مستقبل کے واقعات کی پیش گوئی کر دیتے تھے۔

ایک صبح ہم والدین کے ہمراہ مری مال روڈ پر ہوٹل میں ناشتہ کر رہے تھے کہ والد صاحب نے فرمایا ، بچو! ناشتہ جلدی کرو ، نیچے بازار میں ایک رشتہ دار موجود ہیں ، وہ چلے جائیں گے، ان سے ملاقات کرنی چاہیے۔

والد صاحب کے ساتھ رہتے ہوئے ہماری زندگی میں اس قسم کے واقعات معمول تھے۔ ہم بازار پہنچے تو سامنے ہمارے چھوٹے ماموں اپنی ہاکی ٹیم کے ہمراہ فروٹ خرید رہے تھے۔

( راز کی بات : کوئی بھی فرد پانچ حواس کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے وقت کی پابندی کر کے چھٹی حس کی کی معاونت حاصل کر سکتا۔ تجربہ شرط ہے)

ایسے واقعات ہیں کہ اوقاتِ کار کا احترام نہ کرنے والوں کی چھٹی حس نے کسی واقعہ سے متعلق پیشگی اطلاع دی لیکن انہوں نے معاونت قبول نہیں کی کیوں کہ نظم و ضبط کی عادت نہیں تھی۔ اطلاع کو وہم کہہ کر نظر انداز کر دیا۔ انہیں نقصان پہنچا۔

چھٹیِ حس سے متعلق ایک اور واقعہ پڑھئے۔

دو بہنیں گھر میں پودے رکھنے کے لئے گملوں پر رنگ و روغن کر رہی تھیں کہ ایک بہن نے کہا ، یہ رنگ و روغن کا وقت نہیں ہے۔ آج شام ہماری والدہ دنیا سے رخصت ہو جائیں گی۔ چلو، ان کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ خیال اتنا گہرا تھا کہ ہم نے کسی سے تذکرہ کئے بغیر ضروری انتظامات کر لئے، شام ذرا گہری ہوئی۔ رضائے الٰہی سے والدہ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔

چھٹی حِس کو سننے کے لئے ذہن کا مثبت اور یکسو ہونا بہت ضروری ہے۔

راہ نما سے سوال کیا کہ آپ کے معمولات پر غور کرنے سے انکشاف ہوتا ہے کہ جس کام کو کرنے کے لئے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے ، آپ اسے کم وقت میں انجام دے دیتے ہیں۔ تن تنہا اتنے کام کیسے کر لئے؟ انہوں نے فرمایا ، ” میں ہر کام کا ٹائم ٹیبل ترتیب دیتا ہوں۔“

Topics