Topics

ارادے کا قانون ۔عرفانہ شہزاد ۔ دسمبر ۲۰۲۱

 

ایسا شخص جو حیات کے نشیب و فراز سے گزرا، جس نے زندگی اور موت کو قریب سے دیکھا ، تجربات کی بھٹی میں کندن بنا ، کون جانے وہ کتنے دن رات ریاضت میں مشغول رہا ، کتنے سورج طلوع ہوئے اور کتنے چاند ڈوبے۔۔۔ وہ زندگی کے دشت میں سرگرداں رہا۔ بالآخر جوانی کے جذبوں کو ایک مرد قلندر کے قدموں میں نثار کر کے سچائی کو پا لیا ۔ پھر ۔۔۔ چشم ِ ارض و فلک نے دیکھا کہ ۔۔۔ وہ شخص جس نے کسی اسکول و مکتب سے نہیں پڑھا تھا، علم و ادب کی دنیا میں اس کی تحریروں اور تقریروں نے شعور و آگہی کی نئی طرح ڈالی اور وہ اپنی ذات میں درس گاہ بن گیا۔ فاصلے اس کے قدموں میں سمٹتے رہے۔ اس نے خاتم النبیین رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ہر مذہب و ملت کے فرد کو آفاقی پیغام دیا کہ اپنی اصل کو پہچانو ، اصل روح ہے، روح سے واقف ہو کر رنج و الم کے بادل چھٹتے ہیں اور دنیا کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ درد مند دل نے خلقِ خدا کی خدمت کی ، پریشان حال کی فریاد سنی اور سکون کی راہ دکھائی ۔۔۔اور الحمد للہ یہ سفر جاری ہے۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟

ارادے کی قوت سے۔

بندہ جب فکشن کی نفی کرتا ہے تو ارادے کو اثبات حاصل ہوتا ہے ۔ ارادہ کیا ہے؟

۱۔ ارادہ وہ قوت ہے جس پر وجود قائم ہے۔

۲۔ ارادہ زندگی کا شعلہ ہے۔ اگر یہ شعلہ الاؤ بن جائے تو کائنات اس میں مدغم ہو جاتی ہے۔

۳۔ ارادے کا مطلب فرد کا درپیش مراحل کے لئے خود کو پیش کرنا ہے۔ اگر وہ گھبرا کر پیچھے ہٹنا چاہے تو اس نے ارادے کو رد کر دیا یعنی قدم عجلت میں اٹھایا گیا ہے۔

۴۔ ارادہ ابتدا میں مجاز ہو سکتا ہے مگر رفتہ رفتہ ایسے مقام پر پہنچتا ہے جہاں حقیقت ہے۔

۵۔ آدمی ارادہ اور کوشش کرتا ہے۔ تکمیل اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔

راہ نما نے بارہا علمی نشستوں میں حاضرین سے سوال کیا کہ ”آپ کی اصل کیا ہے؟ روح ہے۔ روح اللہ کا امر ہے۔ اللہ کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو حکم دیتا ہے کہ ہو ، وہ ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارادے کی صلاحیت مخلوق کو عطا کی ہے اور وسائل کو ارادے کے تابع کیا ہے۔“

افسوس کہ ہم نے خود کو نہیں پہچانا اور وسائل کو سب کچھ سمجھ لیا۔ وسائل غالب ہونے سے شعور محدود ہو جاتا ہے۔

واقفِ رموز نے دعا کا اصول بتایا کہ ” دعا کے ساتھ عمل شرط ہے ۔ تین مرتبہ دعا کرنے کے بعد دعا قبول نہ ہو تو راضی برضا رہیں۔“

ربِ کائنات کا فرمان ہے،

”کوئی مصیبت ایسی نہیں جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو۔ ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔“

(الحدید : ۲۲)

ایک سرمایہ دار ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ راہ نما نے اسے سمجھایا کہ ،

”ارادہ کرتے ہوئے ذہن کشادہ ہونا چاہیئے۔ لاکھ کی سوچو گے لیکن ذہن میں ٹوٹ پھوٹ (جوڑ توڑ ۔ شک) ہے تو ہزار ملے گا۔ ذہن ارادے کی پختگی کے مدارج طے کرلے تو اللہ ایسے اسباب بناتا ہے کہ لاکھ کے ارادے سے دس لاکھ ملتا ہے۔ ذہن کو دو جمع دو چار میں لگانے کے بجائے کاروبار میں برکت کے لئے خدمتِ خلق کا راستہ اختیار کرو۔“

 بسا اوقات ہم خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سوچ بچار کرتے ہیں مگر ذہن کسی اور طرف متوجہ ہوتے ہی پہلا خیال پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ اب نہ جانے کب وہ خیال دوبارہ آئے اور کب اس کے مظہر بننے کے لئے معاون صورت حال پیدا ہو۔ ذہن کی تقسیم سے ارادے کی قوت دم توڑ دیتی ہے۔فرد سمجھتا ہے کہ وہ مقصد پر کاربند ہے حالاں کہ جب تک فرد مقصد میں یکسو نہیں ہوتا ، ارادہ مظہر نہیں بنتا ۔

کام کی تکمیل میں احساس ِ ذمہ داری شرط ہے۔ ذمہ دار فرد اہلِ خانہ ، خاندان ، معاشرے اور قوم کے لئے فائدہ مند ہے۔

ایک بار راہ نما سے عرض کیا کہ فلاں صاحب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے فضل و کرم سے مجھے کسی چیز کی کمی نہیں، ہر ضرورت احسن طریقے سے پوری ہوتی ہے۔ کسی مہینے اخراجات معمول سے بڑھتے ہیں تو غیب سے انتظام ہو جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیب خالی ہوتی ہے، سوچتا ہوں کیا کروں۔ پھر کوئی آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے فلاں وقت آپ سے ادھار لیا تھا ، یہ رقم آپ کی ہے۔

یہ بتا کر میں نے راہ نما سے پوچھا ، ایسا کس طرح ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا،

” وہ صاحب ذمہ دار ہیں۔ قانون یہ ہے کہ اگر خاندان کا سربراہ ذمہ دار ہو تو ذمہ داری کی مناسبت سے قدرت مدد کرتی ہے اور وسائل فراہم ہو جاتے ہیں۔“

اپنے خول میں بند ہونے والا فرد غیر ذمہ دار ہے جب کہ خود غرضی کے خول سے نکلنے والا خدمت کے دائرے میں داخل ہوتا ہے ، ارادے میں پختگی آتی ہے اور نقوش ظاہر ہوتے ہیں۔

میں نے ایک بانجھ خاتون کی گود (جس کو بچے کی شدید خواہش تھی) بھری ہوئی دیکھی تو سوچا کہ یہ بچہ خاتون کے مضبوط ارادے کا نتیجہ ہے۔

میرے (راقم الحروف) ایک عزیز کا دبئی میں کاروبار ختم ہو گیا لیکن وہ ملک واپس نہیں آئے۔ نوکری ختم ہوتے ہی رہائش کا مسئلہ ہوا ۔ بیگم کا فیصلہ تھا کہ حالات کیسے ہوں ، واپس نہیں جانا۔ اس بات کو 20 سال ہو گئے ہیں ، وہ اب تک دبئی میں ہیں اور خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وہ اس کی وجہ جانتے ہیں یا نہیں لیکن یہ ثمر مضبوط ارادے کا ہے۔

ایک طالبہ نے مجھ سے شکوہ کیا کہ میرا کوئی ارادہ کامیاب نہیں ہوتا۔ میں نے حوصلہ بڑھایا کہ کوئی ارادہ ایسا ضرور ہو گا جس کی تکمیل ہوئی ہو۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے پُر جوش آواز میں بتایا ، ہماری کلاس میں ایک لڑکی فرسٹ اتی تھی ۔ سوچتی تھی کہ اس لڑکی میں کیا خاص بات ہے ۔ اساتذہ ایک ہیں ، کلاس ایک ہے اور محنت میں بھی کرتی ہوں۔ سوچ لیا کہ اس بار پوزیشن حاصل کروں گی۔ پڑھائی پر زیادہ توجہ دی۔ سات مضامین میں A+ اور ایک مضمون میں گریڈ B آیا۔ جس میں نمبر کم آئے ، زہن میں یہ بات تھی کہ میں اس مضمون میں کمزور ہوں۔

طالبہ کی بات سن کر میں نے کہا، تم نے جو سوچا اس کے نقوش بن گئے۔

وہ افراد جو مستقل حالات کا رونا روتے ہیں اپنے ماضی پر غور کریں تو ایسے بہت سے مناظر نگاہ سے گزریں گے جب انہیں شکر کے لمحات میسر آئے ۔ اگر وہ قوتِ ارادی کے آداب پورے کریں تو رونا دھونا ختم ہو جائے گا۔

”اور یہ کہ انسان کے لئے کچھ بھی نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے کوشش کی ہے۔ اور یہ کہ اس کی کوشش عن قریب دیکھی جائے گی۔“

(النجم :  ۳۹ ۔ ۴۰)

ارادہ زندگی پر محیط ہے۔ راہ نما فرماتے ہیں،

”موت بھی ارادے کے تحت واقع ہوتی ہے۔ جب فرد مرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے (خواہ وہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے لئے ہی کیوں نہ ہو) ، فرشتے اس ارادے کو ریکارڈ کر کے فرد کو دوسرے زون میں منتقل کر دیتے ہیں ۔ اگر کوئی مرنا نہیں چاہتا اورموت کا وقت آجاتا ہے تو وہ رضا مندی تک نزع میں رہتا ہے۔“

یہ سن کر معلوم ہوا کہ حیات کے آخری زینے تک ارادے کی اہمیت ہے۔

بارہا تجربہ ہوا کہ کچھ کرنے کے لئے اگر مجھے کسی شخص کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے تو وہ میں خود ہوں۔ جس کام کو انجام دینے کے لئے میں نے اپنی حوصلہ افزائی کی، اس کے خدوخال خدوخال ذہن میں ترتیب پا گئے اور ایسا ارادہ کبھی ناکامی سے دو چار نہیں ہوا۔

محسوس ہوتا ہے کہ ارادہ بے رنگ نقطہ ہے۔ نقطے میں خلا ہے ۔ خلا میں فکر کی روشنی داخل ہوتی ہے تو نقطہ رنگین ہوتا ہے اور خدوخال غیب سے ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ ارادے کی تکمیل میں درپیش مراحل سے ہم پریشان ہو کر ہمت ہار دیتے ہیں۔ اس کو پریشانی مت سمجھیں کیوں کہ یہ ذہنی پختگی کے لئے قدرت کی طرف سے امتحان ہے۔

ایک تربیتی نشست میں فرمایا،

”مرشد سالک کے راستے میں جان بوجھ کر دیواریں کھڑی کرتا ہے کہ وہ ان میں سے راستہ بنا کر گزر جائے نہ کہ دیوار کے سامنے کھڑا ہو کر رونا شروع کر دے کہ یہ کیا ہے۔ یہ ایک طرح سے استاد کی طرف سے اعتماد کا اظہار ہے کہ میرے شاگرد میں اتنا دم ہے کہ رکاوٹ راستہ بن جاتا ہے۔“

میں نے سوچا کہ شاگرد وہ ہے جو استاد کے حکم پر بلا چون و چرا عمل کرتا ہے۔ بات ذہن میں نقش ہو گئی ۔ خواب دیکھا کہ،

”چاند آب و تاب سے چمک رہا ہے ۔ میں ایسی جگہ کھڑی ہوں کہ نہ وہ آسمان ہے اور نہ زمین۔ ہاتھ میں آئینہ ہے ۔ چاند کی چاندنی میں آئینہ دیکھتی ہوں تو چہرہ نظر آتا ہے۔“

آئینے کی مثال جسم مثالی کی ہے۔ جو تصور قائم ہوتا ہے ، آدمی اس کی تصویر بن جاتا ہے ۔ تصور میں الوژن ہے تو الوژن نظر آتا ہے اور تصور حقیقی ہے تو اندر میں روشنی نظر آتی ہے۔

استادِ محترم مثبت عمل و کردار کی پختگی اور ارادے کی مضبوطی کے لئے سیرتِ طیبہ ﷺ پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں ،

”ہم جب خاتم النبیین حضور پاکﷺ کی سیرت طیبہ کو حرزِ جاں بنا لیں گے تو روحانی علوم کو فروغ دینے اور ان علوم کو نوعِ انسانی تک پہنچانے میں ہر ہر قدم پر اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ کا ہمیں تعاون ملے گا ۔ بلا شبہ ہم دنیا میں کامران اور آخرت میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سر خرو ہوں گے۔ جرات مندانہ اقدام کرنے ، دل شکن حالات سے گزرنے ، لوگوں کی الزام تراشیوں کو نظر انداز کرنے کا ہمارے اندر حوصلہ پیدا ہوگا۔“

(کتاب : خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ ، جلد اوّل)

اللہ کے محبوب ، رحمۃٌ للعالمین رسول اللہ ﷺ کی پوری حیات عزم و ارادے کی اعلیٰ مثال ہے۔ جب کفار نے کوشش کی کہ آپ ﷺ دین حق کی تبلیغ ترک کر دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا،

”اللہ کی قسم ! وہ میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند لا کر رکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں اللہ کا حکم اس کی مخلوق کو نہ پہنچاؤں ، میں ہرگز اس کے لئے آمادہ نہیں ہوں یہاں تک کہ اللہ کا سچا دین لوگوں میں پھیل جائے یا کم از کم میں اس جدو جہد میں اپنی جان دے دوں۔“)۔


 

Topics