Topics
رات کے تین بج رہے تھے۔ بیت اللہ کے گرد ایک پرندے کو
طواف کرتے ہوئے دیکھا تو تجسس ہوا کہ یہ کون ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا ۔۔۔ ابابیل۔
ذہن نے سورۃ الفیل کی تلاوت کی۔
ترجمہ یہ ہے:
”تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ
کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟ اور ان پر پرندوں (ابابیل)
کے غول کے غول بھیج دیے جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے؟ پھر ان کا
یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھس؟“ (الفیل : ۱۔۵)
عظیم الجثہ ہاتھیوں کی فوج کے ہمراہ ہزاروں آدمیوں کا
ناپاک ارادے سے آنا اور دوسری جانب ننھے پرندوں کا سنگ ریزوں کی بارش سے دشمن کو
صفحۂ ہستی سے مٹا دینا اس طرف اشارہ ہے کہ پرندوں کو اس بات کا علم تھا کہ اللہ کے
گھر کی حفاظت کے لیے ان کا انتخاب ہوا ہے۔ ابابیل کے گروپ کی تنظیم اور مقصد کی
تعمیل اتحاد و یقین کے پیٹرن کو ظاہر کرتی ہے۔
عام آدمی کو ابابیل پرندہ نظر آتا ہے جب کہ دیکھنے والے
دیکھتے ہیں کہ ابابیل ”علم“ ہے اور اسے ذرّات کا شعور حاصل ہے۔ ابابیلوں کی چونچ
میں رکھے کنکروں نے، جو باجرے کے دانے کے برابر تھے، ابرہہ کے لشکر کے لیے ایٹم بم
کا کام کیا۔ غور طلب ہے کہ ایک کنکر کسی ابابیل کی چونچ میں نہیں پھٹا۔ ننھے
پرندوں نے چونچ کا اتنا دباؤ رکھا کہ کنکر گرفت میں رہے۔ وہ ان کو چبا یا نگل سکتی
تھیں مگر ایسا نہیں کیا۔ یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ علم ہے جو پرندوں میں ابابیل
کے حصے میں آیا۔ ابابیلوں کی فوج کے پاس باجرے کے برابر دانے کہاں سے اور کس طرح
آئے، تحقیق و تفکر کا ذوق رکھنے والے خواتین و حضرات کے لیے یہ معمہ ہے۔
آدمی لاشعوری حواس کی مدد سے تفکر کرتا اور علوم سیکھتا
ہے لیکن غور نہیں کرتا کہ شعور کی مشین کس توانائی (Energy) سے چل رہی ہے۔
اندر میں روشنی کو دیکھنے، سمجھنے اور پہچاننے کی پہلی
فریکوئنسی علم ہے۔ یہ علم کہ میں مادہ نہیں، روشنی ہوں۔ روشنی سے واقف ہونے کی
منزل یقین ہے۔ یقین کی تکمیل ہو جائے تو تخلیقات میں کام کرنے والی روشنیاں حافظے
کی سطح پر ابھرتی ہیں اور حواس کے کام کرنے کا دائرہ پھیل جاتا ہے لیکن یہ تب ہوتا
ہے جب آدمی اندر میں دیکھتا ہے۔
اللہ نے جس علم کا مظاہرہ ابابیل کے ذریعے کیا، وہ علم
نوعِ آدم کو بھی عطا کیا ہے اور اسے احسنِ تقویم بنایا ہے۔ یہ تخلیقی فارمولوں کا
علم ہے جو کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں۔ اگر آدمی اندر موجود ذرّے کا علم سیکھ لے
تو کائنات کی بساط اس پر روشن ہو سکتی ہے اور وہ مشیت کی پسِ پردہ حکمتوں سے واقف
ہو سکتا ہے، جتنا اللہ چاہے۔ ارشادِ ربانی ہے،
”اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزوں کو تمہارے لیے
مسخر کر دیا سب کچھ اپنے پاس سے۔“ (الجاثیہ : ۱۳)
علم یقین کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں
فرمایا ہے کہ ”صادقین کا قرب اختیار کرو۔“ صادق وہ ہے جو شے کی صداقت سے واقف ہو۔
روحانی زبان میں صداقت کو علمِ شے کہا جائے تو فکر کا وسیع زاویہ روشن ہو جاتا ہے۔
جب زبان سے ذکر کی تکرار ہو لیکن فہم ذکر کی روح سے
ناواقف ہو تو یقین کے تانے بانے ترتیب نہیں پاتے۔ صاحبِ بصیرت خواتین و حضرات کو
تکرار کے علم پر تسخیر حاصل ہوتی ہے۔ وہ اللہ کے فضل سے تکرار کی قوت کو ایک حکم
میں مجتمع کر لیتے ہیں۔
یقین کا قانون مثبت اور منفی دونوں رخ میں کام کرتا ہے
یعنی نیوٹرل ہے۔ پیغمبرانہ طرزِ فکر اختیار کرنے سے یقین مثبت رخ میں کام کرتا ہے۔
جب تک اللہ کی ذات پر یقین راسخ نہیں ہوتا، علم کی تکمیل نہیں ہوتی۔
ایک نشست میں راہ نما نے فرمایا،
”جب آپ کمرے سے باہر جاتے ہوئے دروازہ کھولنے کے لیے
ہینڈل گھماتے ہیں تو آپ کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ دروازہ کھل جائے گا۔ اگر
دروازہ کھولنے سے پہلے سوچنا شروع کر دیں کہ پتہ نہیں دروازہ کھلے گا یا نہیں،
کہیں ایسا نہ ہو، کہیں ویسا نہ ہو جائے اور اس سوچ میں دروازہ کھولنے کے لیے اٹھیں
تو ہو سکتا ہے آپ دروازہ کھول لیں لیکن۔۔۔؟“
مثبت رخ دیکھنے سے منفی رخ مغلوب ہوتا ہے۔۔ اس کیفیت کے
حصول کے لیے راہ نما مرتبۂ احسان کا مراقبہ تجویز فرماتے ہیں جس میں تصور کیا جاتا
ہے کہ ”اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔“
اللہ کی نظرِ رحمت ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ جب کوئی
بندہ اہتمام کر کے حقیقی ذات کی طرف رجوع کرتا ہے تو Illusion کی مقداریں ٹوٹ جاتی ہیں۔ وہ درجہ بہ درجہ
قرب کی منازل طے کرتا ہے پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ جان لیتا ہے کہ میں کس کی
عطا کردہ بصارت سے دیکھ رہا ہوں۔ خوف و غم دور ہوتے ہیں اور اللہ کے لیے جینا مرنا
زندگی بن جاتا ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے،
”کہہ دیجیے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور
میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو عالمین کا رب ہے۔“ (الانعام : ۱۶۳)
بزرگ راہ نما یقین کے دیے روشن کرتے ہیں۔ وہ خاتم
النبیین حضرت محمد ﷺ پر نازل آخری آسمانی کتاب قرآنِ کریم کی تعلیمات کے مطابق
عقیدت مندوں کو رحیم و کریم اللہ سے محبت کرنا سکھاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں،
”آدمی جب اللہ کے لیے کوئی کام کرنے کا ارادہ اور کوشش
کرتا ہے تو وسائل موجود ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں یقین کا پیٹرن مستحکم ہو جاتا
ہے۔“
علمی نشست میں ایک پریشان چہرہ خاتون شریک تھیں۔ اللہ کی
محبت پر گفتگو ہو رہی تھی۔ خاتون نے پوچھا، کیا اللہ مجھ سے محبت کرتا ہے؟ شفیق
استاد نے فرمایا،
”ہاں بیٹی! اللہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔ نعمتوں پر غور
کریں، ان میں کون سی ایسی نعمت ہے جس کی آپ قیمت ادا کرتی ہیں؟ کیا یہ اللہ کی
محبت نہیں؟“
الفاظ میں یقین کی لہریں خاتون کے قلب پر منعکس ہوئیں
تو حیران و پریشان چہرے پر سکون اور اطمینان کی روشنی پھیل گئی۔
المیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وسائل عطا کیے ہیں
جیسے آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پیر، صحت مند جسم، دھوپ وغیرہ، ہم ان کی قدر نہیں کرتے
اور نہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
عصر کے وقت مراقبہ میں گونج سنائی دی۔
”بادشاہت اور حکومت صرف اللہ کی ہے۔“
الفاظ کے ساتھ نور کی آبشار دیکھی۔ نگاہ مرکوز کی تو
بوندیں موتیوں کی بلّوریں لڑیاں تھیں۔ ہر موتی پر اسم ”اللہ“ لکھا تھا۔ منظر بدلا۔
دیکھا کہ لکڑی سے بنی زرد کرسی لڑکھڑاتی ہوئی اوپر سے نیچے آتی نظر آئی۔ زرد رنگ
کرسی آدمی کے جھوٹے اقتدار کی علامت ہے۔ یہ بات ذہن میں داخل ہوتے ہی کرسی گر کر
ٹوٹ گئی۔ پھر چند حشرات کرسی کے نیچے رینگتے ہوئے نظر آئے۔ اتنے میں نورانی ریلا
آیا اور کرسی سمیت سب غائب ہو گیا۔۔ آنکھوں کے سامنے خلا رہ گیا۔
آدمی کے خود ساختہ اقتدار کے عبرت ناک انجام پر دل لرز
اٹھا۔
اس کیفیت سے باہر آئی تو حافظے کی اسکرین پر ماضی کا
ایک منظر روشن ہوا۔ دیکھا کہ ادھیڑ عمر عورت مسئلہ بیان کرتے ہوئے زار و قطار رو
رہی ہے اور راہ نما فرما رہے ہیں،
”غور کریں، اللہ نے آپ کو کبھی تکلیف نہیں دی، دکھ درد
تو دوسروں کی طرف سے ملے ہیں۔ رحیم و کریم اللہ اپنے بندوں کو تکلیف میں نہیں
دیکھتا، آدمی خود تکلیف کا انتخاب کرتا ہے۔ اللہ نے آدم کو شجرِ ممنوعہ کے قریب
جانے سے منع کیا لیکن۔۔۔؟“
بزرگ راہ نما ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کی محبت کی
چاشنی پیدا کرتے ہیں۔ ہم کائنات میں علم و عرفان کے لیے آئے ہیں، یہ عرفان کہ اللہ
ہمارا خالق ہے، اور محبت کے بغیر علم و عرفان حاصل نہیں ہوتا۔
ایک بھائی نے صاحبِ علم سے ملاقات کے ابتدائی دنوں کا
واقعہ سنایا۔ ان کی زبانی پڑھیے:
راہ نما کے سامنے زانوئے ادب تہ کیے بیٹھا تھا۔ انہوں
نے فرمایا،
”گائے بچھڑے کو مخصوص آواز سے پکارتی ہے۔ بچھڑا دوڑتا
ہوا ماں کے پاس آتا ہے۔ اسی طرح آپ کو اللہ کی پکار پر لبیک کہنا ہے۔“
میں سمجھا شاید یہ موت کے وقت کی بات ہو رہی ہے۔ زیرِ
تربیت رہنے سے علم ہوا کہ اللہ تعالیٰ بندے کے اندر اپنے عرفان کی تڑپ پیدا کرتے
ہیں، ہمیں اس پکار پر لبیک کہنا ہے۔
بھائی نے کہا، فرد دنیا میں آتا ہے، اللہ اور اپنے
درمیان خلا قائم کر لیتا ہے اور عرفان حاصل کیے بغیر چلا جاتا ہے۔
خوش نصیب ہیں وہ خواتین و حضرات جن کو روحانی استاد
ملتا ہے۔ روحانی استاد۔۔۔ اللہ و رسولﷺ کی طرف بلاتا ہے اور شاگرد کو اندر میں
متوجہ کرتا ہے۔ چوں کہ شاگرد یکسو نہیں ہوتا، وہ پکار کو نظر انداز کر دیتا ہے اور
لطیف آواز سننے سے قاصر رہتا ہے۔ اصل میں وہ منتشر آوازوں کو قبول کر کے بھٹک جاتا
ہے۔
بھائی نے مزید کہا کہ راہ نما کی تربیت کی وجہ سے اب
میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ دل کا دھڑکنا، رگوں میں خون کا گردش کرنا اور سانس کی
آمد و شد خالق کی پکار ہے۔ کام کے دوران اچانک محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنی طرف
متوجہ کیا ہے اور خیال آتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ اندر میں آواز سننے سے یقین کا
مشاہدہ ہوتا ہے اور علم کے دریچے کھلتے ہیں۔ جب میں آواز سے غافل ہوتا ہوں تو بے
قرار ہو جاتا ہوں اور طبیعت ہر شے سے بیزار ہو جاتی ہے، فوراً رب سے رجوع کرتا ہوں
اور قرار پاتا ہوں۔