Topics

خط اللہ کے نام۔ جولائی ۲۰۲۰

 

آج کل شام کو چھت پر چہل قدمی کرتی ہوں۔ سڑکیں سنسان اور راستے خالی ہیں۔ گھر کے پچھلی جانب فارم ہاؤس میں قطار در قطار درختوں کی شاخیں مست و خرم ہوا سے جھولتی ہیں۔سڑک کے دوسری طرف پارک میں سبز رنگ کی تازہ گھاس کے تصور سے تلوؤں کو ٹھنڈک پہنچتی ہے اور کیاریوں میں رنگین پھول نظر کو تازگی بخشتے ہیں۔

سڑک کنارے دھریک کے درخت سفید اور کانسی رنگ پھولوں کے گلدستے اٹھائے کھڑے ہیں جن کی بھینی خوش بو سے فضا معطر ہے۔ زمین پر آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان اور آسمان میں وسعت دیکھ کر لگتا ہے کہ فطرت پُر سکون اور آسمان بے نیاز ہے۔ زمین و آسمان کے عجائبات پر غور کرنے والوں کو قدرت آسمانی وسعتوں سے ہمکنار کرتی ہے۔

نہیں جانتی کہ میرا اور اس کا ساتھ کب سے ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ جب میں نہیں تھی۔ میرا وجود اس کے ارادے میں موجود تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب روحوں کو جسم نہیں ملے تھے۔ جسم ملتے ہی اس کے اور میرے ہونے کا احساس پیدا ہوا۔

اکثر سوچتی ہوں کہ جب میں نے دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے پہلے کیا دیکھا ، پہلا خیال کیا آیا، کس کی آواز سنی اور سب سے پہلے کسے محسوس کیا۔

محسوسات کی دنیا اب تک اس لمحے سے سجی ہوئی ہے جب میں نے اردو لکھنی سیکھی اور مشق کر کے پہلا نام ”اللہ“ لکھا۔ ورق پر بابرکت نام لکھتی رہتی مگر دل نہ بھرتا۔ اس نام میں اتنی کشش ہے کہ لکھنے بیٹھتی تو دیر تک لکھتی رہتی۔ یہ محض نام نہیں ، بابرکت وجود ہے جس کے دم سے تشخص اور پہچان ہے۔

جب نام لکھنا شروع کیا تو مجھے یقین تھا کہ میں جو بھی ہوں 'اُس' کے ہونے سے ہوں۔ 'اللہ' نام سے اتنی انسیت ہوئی کہ اپنا آپ اجنبی ہوگیا۔ آئینے میں دیکھ کر بے یقین رہتی۔ میں آج تک اپنے وجود سے نامانوس ہوں۔۔ ہر دم کچھ نہ کچھ بدل جاتا ہے۔

کڑی دھوپ اور ٹھنڈی چھاؤں میں ہر طرف اس کی مہربانیاں دیکھیں اور محبت علم الیقین سے عین الیقین میں داخل ہو گئی ۔ حق الیقین کی مجھے خبر نہیں۔ اتنا جانتی ہوں کہ ہجوم یا تنہائی میں ایک لمحے کو دل احساس سے خالی نہیں ہوا۔ اندر میں کوئی کہتا کہ تم کم زور ہو۔۔۔ وہ مضبوط ہے۔ اس طرح وہ میرا یقین بن گیا۔

میں اس رشتے پر ناز کرتی اور دل ہی دل میں اس سے باتیں کرنے لگی۔ مجھے یقین ہو گیا کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے اور مجھے یاد کرتا ہے۔ بعض اوقات میں چلتے چلتے ٹھہر جاتی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی جیسے دل ابھی سینے سے باہر آجائے گا ۔ خمار چھا جاتا اور آنکھوں میں کھل بند شروع ہو جاتی۔ ایسے میں دل چاہتا کہ اس کے سوا پاس کوئی نہ آئے۔

گھر والوں کو خبر نہیں تھی کہ میرا مکان جس جہاں میں ہے، وہ جہاں کوئی اور ہے۔ 'اللہ' نام کی تکرار سے محسوس ہوتا کہ وہ ہر طرف ہے اور مجھے گہری نظر سے دیکھ رہا ہے۔ میں خود کو نگاہِ محبت کے نور میں چلتے پھرتے ، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے اور یاد میں مگن دیکھتی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ مجھے دیکھ کر مسکراتا ہے ، سامنے آتا اور چھپ جاتا ہے۔ اس کی محبت نے میرے اندر عجب ناز و انداز پیدا کر دیئے تھے۔

زندگی شعور کے مدارج طے کرتے ہوئے آگے بڑھی اور موجودگی کا احساس قوی ہوتا گیا۔ بچپن کا شعور ذہن میں تھا اس لئے میں جانتی تھی کہ وہ کہی ان کہی سب سنتا ہے اور میرے لکھے بغیر دل کی بات پڑھ لیتا ہے ۔ پھر بھی دل چاہتا کہ اسے خط لکھوں ۔ شاید یہ میرے محدود شعور کی تسکین تھی۔

میں نے خط لکھنا شروع کئے۔ چپکے چپکے خط لکھتی، پڑھتی اور درسی کتابوں میں چھپا لیتی۔ کبھی الماری میں کپڑوں کے نیچے محفوظ کر لیتی۔ پھر وقت بہ وقت سارے خط نکال کر پڑھتی۔۔ کاغذ بھیگ جاتا تھا، سیاہی پھیل جاتی تھی اور محبت کے سارے رنگ نظر آتے تھے۔ مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا۔ بھیگے ہوئے کاغذ دیکھ کر میں کہتی ، اے سیاہی ! گواہ رہنا۔

خط لکھنے کی تیاری مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ جب گھر پر کوئی نہ ہوتا تو میں منہ ہاتھ دھو کر امی کی سرخی پاؤڈر لگاتی، آنکھوں میں کاجل سجاتی اور خط لکھنے بیٹھ جاتی۔ ورق آنسوؤں سے بھیگ جاتا ۔ خط لکھنے کے بعد بھیگے کاغذ کو چوم کر ہوا میں بلند کر تے ہوئے کہتی،

”آپ کے نام“

اور تہ کر کے چھپا لیتی۔ پھر گھر والوں کے انے سے پہلے منہ دھو لیتی تاکہ کسی کو خبر نہ ہو۔ بیش تر خطوط میں جلا چکی ہوں۔ جو محفوظ ہیں ان میں سے مختصر ترین دو خطوط یہ ہیں۔

۱۔

اے میرے محبوب ! میرے سچے رفیق ، میرے رب اعلیٰ،

السلام علیکم،

آپ عظیم الشان کائنات کے رب ہیں۔ اس ناچیز پر آپ کے احسانات بے شمار ہیں۔ خاص کر محبت کی تپش جس سے ہر ساعت وجود موم کی طرح پگھلتا ہے۔ آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور نگاہِ محبت نے مجھے مدہوش کر دیا۔ اے میرے محبوب! مجھے لذتِ دیدار سے نوازئیے۔ مجھ پر رحم کیجئے، نورِ محبت کو بینائی عطا کیجئے تاکہ مین جلوۂ جانا ں دیکھ سکوں۔ کاش وقت تھم جائے اور میں ہمیشہ آپ سے باتیں کرتی رہوں۔

فقط ، آپ کی بندی

 

۲۔

اے میرے محبوب ! میرے رب کریم!

السلام علیکم،

آپ کی کتاب ِ محبت ”قرآن“ میرے پاس ہے۔ پڑھ کر ماحول سے بے نیاز ہو جاتی ہوں۔ آپ کا کلام وسیع اور میری فہم محدود ہے۔ بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ زہن پر بوجھ پڑتا ہے۔ آپ کا وعدہ ہے کہ آپ نے قرآن کو سمجھنا آسان کر دیا ہے۔ امید ہے کسی روز آپ میرا ذہن کھول دیں گے۔ 'قل ھو اللہ احد' پڑھ کر مجھ پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔ سچ ہے کہ اپ بے نیاز اور بے مثال ہیں ۔ آپ کا کوئی شریک نہیں۔

اے میرے محبوب! آیۃ الکرسی میری جان ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ 'اُسے نیندآتی ہے نہ اونگ'۔

محبت کرنے والا یہی چاہتا ہے کہ آپ اسے دیکھتے رہیں اور وہ۔۔۔؟

اے محبوب! میں عاجز و مسکین ، مجبور و بے کس ، اپنی بے بسی کا اظہار کرتی ہوں۔ آپ کی عظمت و بڑائی، قوت و طاقت ، رحمتوں اور نوازشوں کا اقرار کرتی ہوں۔

اے میرے مالک! فیصلے کا اختیار اپ کے پاس ے۔ خدارا میری فریاد سنئے۔ آنکھیں آپ کا ادراک نہین کر سکتیں، آپ ان آنکھوں کا ادراک بن جایئے۔

فقط، آپ کی بندی

ذہن ہر وقت نامۂ محبت کی طرف متوجہ رہتا۔ سوچتی تھی کہ کاغذ قلم ہاتھ آتے ہی یہ لکھوں گی ، وہ لکھوں گی۔ پھر ڈر پیدا ہوتا کہ کوئی پڑھ نہ لے۔ خطوط کی حفاظت مشکل ہو جاتی تو میں شعلوں کے حوالے کر دیتی۔

مجھے یاد ہے جب پہلی مرتبہ دل میں لگی آگ کو فاسفورس سے بنی آگ کے حوالے کیا تو محسوس ہوا کہ کاغذ نہیں جل رہا، میں جل رہی ہوں۔ کاغذ نہیں سلگ رہا ، میں سلگ رہی ہوں ۔ کاغذ راکھ نہین ہوا، میں راکھ ہو رہی ہوں۔ آنکھیں جلنے لگیں اور چربی پگھلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ یکایک جھماکا ہوا۔ کسی نے کہا،

”اطمینان رکھو! محبت کے خطوط جلے نہیں، نگاہِ کرم میں محفوظ ہو گئے ہیں۔“

اپنائیت کا احساس مزید گہرا ہو گیا۔ سکون اور اطمینان کی لہریں محیط ہو گئیں۔ پھر میں نے خطوط کی حفاظت کرنا چھوڑ دی۔ بس لکھتی اور الماری میں رکھ دیتی۔ بہت عرصے یہ معمول رہا۔ نجانے پھر کیا ہوا کہ میں نے خط لکھنا چھوڑ دیا۔ یہ عمل ترک کئے سالوں گزر گئے ہیں مگر وہ مجھ سے قریب ہے۔ اس کی تجلی شمع ہےاور میں پروانہ۔

ایک رات خواب میں دیکھا کہ آسمان پر سنہرے رنگ کی بہت بڑی کتاب کھلی ہوئی ہے۔ کتاب نے پورے آسمان کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ میں نیچے کھڑی حیرت سے دیکھ رہی ہوں ۔ ذہن میں آواز گونجی،

” یہ وہ خط ہیں جو تم نے ہمین لکھے تھے۔“

مجھے باریک کاپی اور رجسٹر کے صفحے یاد آئے۔

عرض کیا ، میں نے تو آپ کو بہت کم خط لکھے تھے۔ یہ اتنے زیادہ۔۔؟

ہاں! یہ تمہارے خطوط ہیں۔ آواز دوبارہ گونجی۔

میں خوشی سے رونے لگی۔ آنکھ کھلی تو چہرے پر نمی تھی اور دل شکر کے جذبات سے لبریز تھا۔

مجھے یاد ہے ان دنوں گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔ ہم سیر و تفریح کے لئے ایبٹ آباد گئے ہوئے تھے۔ وہ مجھے ہر سمت نظر آتا۔ پہاڑوں میں ، وادیوں میں چھا جانے والی دھند میں، اوپر ، نیچے، ہر طرف ۔ اکثر چونک جاتی کہ یہ کیسا دیکھنا ہے کہ میں اسے دیکھ رہی ہوں اور وہ نظر بھی نہیں آتا۔

گھر میں کسی بڑے سے پوچھا ، کیا اللہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔۔؟ مجھے جھرک دیا گیا کہ ایسی باتیں نہیں کرتے۔ آئندہ اس بارے میں سوچنا بھی مت۔

زبان خاموش رہتی لیکن آنکھیں جواب دیتی تھیں کہ وہ محبوب ہی کیا جسے دیکھا نہ جا سکے۔

اسکول میں سہیلی سے کہا، اللہ کو دیکھنا چاہتی ہوں۔

اس کے چہرے پر تشویش پھیل گئی۔

اس نے کہا، یہ نہیں ہو سکتا۔

میں نے پھر کسی سے سے دل کی بات نہیں کی۔

نویں جماعت میں تھی کہ عجیب خیال آیا۔ بار بار قبر میں لیٹنے کا دل چاہتا تاکہ معلوم ہو کہ ماحول کی تبدیلی حواس پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے ۔ بظاہر اس خواہش کا پورا ہونا موت سے پہلے ممکن نہیں تھا۔ خیال رد کرنے سے شدت میں اضافہ ہوگیا۔ میں نے اللہ سے مدد مانگی کہ یا اللہ ! کوئی انتظام فرما دے۔

ایک روز صبح کے وقت اسکول جانے کے لئے گیٹ کھولا۔ سڑک کے دوسری طرف تازہ مٹی کا ڈھیر نظر آیا۔ قریب جا کر دیکھا تو تقریباً چھ فٹ گہرا گڑھا تھا۔ غالباً پانی یا سیوریج کی لائن کے لئے کھدائی کی گئی تھی۔

آنکھوں میں چمک آگئی۔ دل قبر نما گڑھے میں اترنے کے لئے مچلنے لگا لیکن سفید یونیفارم کا خیال آتے ہی خود کو سمجھایا کہ شام ہونے تک صبر کروں۔ کسی نے دیکھ لیا تو پاگل سمجھے گا۔

گرمیوں کے دن تھے۔ بالآخر شام ہوئی۔ ٹھنڈی ہوا کے ساتھ چنبلی کی خوش بو فضا میں پھیل گئی۔ بچے گلی میں کھیل رہے تھے۔ آج میں نے سفید یونیفارم تبدیل نہیں کیا۔ کسی بہانے سے پہنے رکھا ۔ مغرب کے بعد اندھیرا پھیلنا شروع ہوا لیکن اندھیرا بھی روشنی تھا۔ بچے اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ کچھ بچے ابھی تک کھیل رہے تھے۔ میں نے چپکے سے نظر بچا کر گڑھے میں چھلانگ لگا دی اور سیدھا لیٹ گئی۔

مٹی کی نمی محسوس ہوتے ہی کیفیت بدل گئی۔ گھر کے سامنے سنگ مر مر کی دیوار قریب ہوتے ہوئے بہت دور نظر آئی۔ آس پاس گھروں میں بتیاں جلتے بجھتے دیے بن گئیں۔ جھر جھری سی آئی اور ہر چیز ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔ آنکھیں بند ہونے لگیں اور جسم غیر محسوس ہو گیا۔

اُف! کتنا بڑا دھوکا ہے۔ دنیا اور رشتے ناتے سب کھیل تماشا ہے ۔ صرف ایک رشتہ حقیقی ہے اور وہ اللہ ہے۔ حواس اس نقطے میں سمٹ ائے۔ مٹی مٹی میں مل رہی تھی اور جان جان سے لپٹ رہی تھی۔ نی جانے کتنی دیر میں وہاں بے سدھ پڑی رہی۔

امی نے رو رو کر برا حال کر لیا۔ گلی میں خبر پھیل گئی کہ میں گم ہو گئی ہوں۔ ہر طرف تلاش جاری تھی۔ گلی میں اندھیرے کی وجہ سے کسی کو گڑھے میں دیکھنے کا خیال نہیں آیا۔ کافی دیر بعد ایک بچے نے مجھے دیکھ لیا اور سب کو خبر کی۔ پریشان آوازیں سماعت سے ٹکرائیں اور میں قبر کے ماحول سے نکل آئی۔

دو افراد نے مجھے کھینچ کر باہر نکالا۔چند گھنٹوں میں رنگ زرد ہو گیا تھا۔ بہت دن تک کسی سے بات کرنے کو دل نہیں چاہا۔ بھوک کم ہوگئی لیکن تجربہ اچھا تھا۔ باعثِ تسکین بات یہ ہے کہ ہر جہاں میں وہ میرے ساتھ ہے۔ چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا۔

اے اللہ! تو اعلیٰ و بزرگی والا رب ہے

میں نجس و ناپاک بندی

تو قادر مطلق ہے

اور میں مجبور محض

تیرے حکم سے میرا وجود ہے

تجھے اپنے محبوب ﷺ کا واسطہ

مجھے نورِ محبت سے محروم نہ کرنا

محبت بھرے دن اور محبت بھری شامیں تھیں۔

میں سولہ سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر جاتی اور تنہائی میں ٹہلتے ہوئے باتیں کرتی تھی۔ لگتا تھا کہ خون میں جوش پیدا ہو گیا ہے اور لہروں میں تلاطم برپا ہے۔ اظہار ِ محبت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ سر سراتی ہوائیں کان میں سرگوشیاں کرتی تھیں۔ جواب موصول ہونے پر طاقت سلب ہو جاتی اور میں زمین پر ڈھیر ہو جاتی۔

گھر والے ڈانٹتے تھے کہ کیا بلاوجہ مسکراتی رہتی ہو۔ میں کسی کو کیا بتاتی؟

سچ کہتے ہیں کہ گھر کا تبدیل کرنا شعور کا ٹوٹنا ہے۔ میرا شعور بھی بہت مرتبہ ٹوٹا۔ ہم محلے سے سوسائیٹی میں منتقل ہوگئے۔ والد صاحب نے قیمتی گھر جہاں میرا بچپن گزرا، سستے داموں فروخت کر دیا!

سیڑھیاں ، چھت اور وہ کمرہ۔ میرا بستر کھڑکی کے بالکل نزدیک تھا۔ رات میں سوتے ہوئے کھلا آسمان اور چاند آنکھوں کے سامنے ہوتے۔ چاندنی راتوں میں چھت پر ٹہلتے ٹہلتے تھک جاتی تو کمرے میں آ کر بستر پر لیٹ جاتی۔ پورے چاند کی رات میں روشنی کمرے میں پھیلنے سے ماحول پُر اسرار ہو جاتا ۔میں مسکراتے ہوئے پوچھتی کہ اے چاندنی ! کیا تم میری تلاش میں اندر آئی ہو۔؟

میں نے سردیوں کی راتوں میں بارہا چاند کی روشنی میں اللہ کے لئے اشعار لکھے جن کے جواب آنکھیں بند کرنے کے بعد موصول ہوتے۔

بچپن کے گھر سے جذباتی وابستگی کی وجہ سے وہاں میرا گزرا ہوا بچپن نہیں تھا۔ اس لئے اداس تھی کہ گھر کے چپے چپے میں یادیں بسی ہوئی تھیں۔ اُسے یاد کرنے کی ابتدا اس گھر سے ہوئی تھی۔ فرش پر گرنے والے آنسو بظاہر مٹ چکے تھے مگر مجھے واضح دکھائی دیتے تھے۔ میں اکثر کہتی تھی کہ

”اے فرش ! گواہ رہنا ، یہ آنسو نہیں ، میری محبت ، میرا لہو ہے۔“

گھر تبدیل کرنے کا انتہائی دکھ تھا۔ مگر حسرت و یاس اطمینان میں بدل گیا جب بچپن کے گھر میں آخری روز اندر میں آواز گونجی،

”تم ہماری محبت کو سینے سے لگائے ہماری طرف ہی آرہی ہو۔“

دل بھر آیا۔ یا اللہ! بے شک میرا سفر آپ سے آپ کی جانب ہے۔ ٹھیک اس روز سے دل گھروں سے آزاد ہو گیا۔ مٹی کی درو دیواریں نہیں ، بندے کا اصل گھر دل ہے جہاں محبوب رہتا ہے۔ آج بھی جب گھر سے نکلتی اور داخل ہو تی ہوں تو یہ ضرور کہتی ہوں کہ

”یا اللہ! آپ مجھ سے رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔۔ نحن اقرب الیہ من حبل الورید۔“۔



 

Topics