Topics
مزاج کے
خلاف بات سے آنکھوں میں نمی تیرنے لگی اور آواز قدرے بھاری ہو گئی۔ خیال آیا کہ
برداشت بڑھانے کی ضرورت ہے، ایسے موقع پر بحث سے گریز اور خاموشی بہترین ہے۔ راہ
نما نے نصیحت فرمائی تھی کہ، ”اپنی باتیں اللہ سے کیا کرو۔“ ملال ہے کہ حکم عدولی
ہوتی رہی۔ میں نے لوگوں میں راز دار تلاش کیے لیکن راز ۔۔ راز نہ رہے۔ بزرگوں کی
باتوں پر عمل کیا ہوتا تو زندگی آسان ہو جاتی۔ ایک ملاقات میں فرمایا، ”لوگ میری
باتیں غور سے سنتے ہیں لیکن یاد نہیں رکھتے۔“ میں گھبرا گئی کہ یاد نہ رکھنا، عمل
نہ کرنا ہے۔ یہ کس کے لیے کہا گیا؟ یہاں میرے سوا کوئی موجود نہیں۔ کیا میرے لیے
کہا گیا ہے؟
اندر میں
آواز نے کہا۔ ایک ہی طرزِ عمل کو دہرانا عادت نہیں تو اور کیا ہے۔ تم بات سن لیتی
ہو لیکن۔۔۔؟ علم کا دروازہ تعمیل سے کھلتا ہے۔ کہتے ہیں کہ عادتیں پختہ ہو جائیں
تو قبر تک ساتھ جاتی ہیں۔ موت کا قانون ہے کہ جب تک فرد کا ذہن قبول نہ کرے۔۔ موت
نہیں آتی۔ زندگی بھی موت کی طرح ہے۔ کوئی عادت تب کردار میں ڈھلتی ہے جب ذہن قبول
کرتا ہے۔ عزم کیا کہ جو کہہ دیا جائے، وہ کرنا ہے، نہ جانے کب وقتِ اجل آجائے!
جانے سے پہلے ان عادتوں کو ترک کرنا ہے جن سے مرنے کے بعد زندگی ۔۔۔ زندگی نہیں
رہتی۔
کچھ عرصہ
پہلے ہماری جاننے والی 70 سال کی بزرگ خاتون نجی ہسپتال کے پُر تعیش کمرے میں
زندگی کے آخری ایام گزار رہی تھیں۔ میں ان کی عیادت کے لیے گئی۔ ان پر نقاہت طاری
تھی۔ مجھے دیکھتے ہی آنکھیں بھر آئیں اور آنسو بوند بن کر برسنے لگے۔ گداز لہجے
میں کہنے لگیں، کیا میں راہ نما کو سلام کرنے حاضر ہو سکتی ہوں؟ میں نے کہا، ایک
سال پہلے آپ نے پیغام بھیجا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا، ”ان سے کہیں آجائیں، میں
نے تو کبھی کسی کو منع نہیں کیا۔“ میں نے یہ بات کئی بار خاتون کو یاد دلائی تھی
لیکن یہ جتانے کا موقع نہیں تھا۔
ان کے
آنسوؤں کے تسلسل میں روانی آگئی۔ لباس میں ایسی مہک تھی جیسے صندل کا درخت جل رہا
ہو۔ میں ان کے آنسو خشک کرتی اور رخسار دوبارہ بھیگ جاتے۔ انہوں نے کہا، زندگی نے
وفا کی تو خدمت میں حاضر ہوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ سے دوستی کے
سکون سے آشنا کرنا چاہتے ہیں۔ بیٹا! دروازے کھلے تھے، میں نے ہی دیر کر دی! میں نے
انہیں دلاسا دیا کہ آپ کا پیغام پہنچ جائے گا، وہ دعا کریں گے۔ چند روز بعد خاتون
کی مشکل آسان ہو گئی۔
فاتحہ کے
لیے قبرستان جانا ہوا تو قبروں کے کتبوں پر نقش تحریروں کی جانب توجہ مبذول ہوئی۔
کسی کتبے پہ صراطِ مستقیم کی دعا کندہ تھی اور کسی پر مرحوم عزیز سے محبت کا اظہار
تھا۔ ایک کتبے پہ لکھا تھا۔ دکھ دینے والوں کو اللہ معاف کرے۔ مرحومین کے نام کے
ساتھ کتبوں پر عہدے لکھنے کا رواج عام ہے۔ دنیا کے عہدے دنیا تک ہیں، مٹی میں جا
کر سب مٹی ہو جاتے ہیں۔ وہاں کوئی انجینئر، ڈاکٹر، پائلٹ، بیرسٹر، بزنس مین اور
افسر نہیں ہوتا لیکن مادہ پرستی نے ذہنوں پہ قفل لگا دیے ہیں۔ آدمی مر جاتا ہے اور
رشتہ دار قبر پر مادیت کی تختی نصب کر دیتے ہیں۔
کتبے پڑھتے
ہوئے وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا۔ بادلوں کی گرج سنائی دی اور آسمان کو خوشبو دار
پسینہ آگیا۔ گھر کی جانب روانہ ہوئی تو ذہن میں آیت روشن ہوئی، ”اور وہی ہے جو
اپنی رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے پھر آسمان سے پاک پانی نازل
کرتا ہے۔“ (الفرقان : ۴۸) اللہ تعالیٰ نے فضا کو
بشارت دینے والی ہواؤں سے مصفٰی کیا ہے تاکہ مخلوق رحمت کی فضا میں سانس لے اور
قدرت کی نشانیوں پر غور کرے۔ بارش کا ہر قطرہ رحمت کی تصویر اور وسائل کا خزانہ
ہے۔ اللہ نے آسمان کو زمین کا رفیق بنایا ہے اس لیے ان کے کنارے آپس میں ملتے ہیں۔
آسمان سے روشن لہریں نزول کرتی ہیں تو زمین پر زندگی بیدار ہوتی ہے۔ اللہ نے جسم
کو جان (روح) کا رفیق ٹھہرایا اور جان (روح) اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ اللہ کا حکم
نور کی صورت میں آسمانوں اور زمین میں پھیلا ہوا ہے۔ آدمی ذاتی اغراض کی قید سے
آزاد ہو اور نورانی طرزِ فکر کو قبول کرے تو نورانی لہروں کو کائنات پر محیط
دیکھتا ہے۔ اللہ کے حکم سے لہریں اس کے لیے مسخر ہو جاتی ہیں۔۔ وہ دن کہتا ہے تو
دن کے حواس غالب آتے ہیں، شعور فاصلوں کو محسوس کرتا ہے اور اگر وہ رات کہتا ہے تو
شعور کے لیے فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔
رحمت کی
ہوائیں ہر جہان میں ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ صاف ہوا میں سانس لینا چاہتے ہیں یا
کھڑکی دروازے بند کر کے گھٹن کو قبول کرتے ہیں۔ ایک نشست میں راہ نما نے فرمایا،
”عالمِ اعراف میں کسی پر اذیت کے لمحات ہوں تو جس وقت کوئی دوست اس سے ملنے آجائے
یا وہ کسی دوست سے ملنے چلا جائے تو ان لمحات میں آرام و سکون میسر آجاتا ہے۔“ یہ
ایصالِ ثواب کی فضیلت و اہمیت کا بیان ہے۔ مرحومین کو ایصالِ ثواب کرنا ان سے
ملاقات اور تحفہ ہے۔ ذہن پُر سکون ہو جاتا ہے۔
جب آدمی اس
دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو مٹی کی قید اور مادی حواس سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اب حواس
اعراف کے زون کے مطابق کام کرتے ہیں۔ جنگِ بدر کے بعد کا منظر پڑھئے۔ ”خاتم
النبیین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معمول تھا کہ فتح کے بعد تین دن تک وہیں
قیام فرماتے تھے تاکہ تھکے ماندہ سپاہی آرام کر لیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کر کے
واپسی کے سفر کے لیے تازہ دم ہو جائیں۔ بدر میں بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تین
دن مقیم رہے اور تیسرے دن حکم دیا کہ سواری لائی جائے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام
اس پر سوار ہوئے۔ صحابیوں کی ایک جماعت بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہمراہ
ہوئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کنوئیں پر تشریف لے گئے جس میں کفار کی لاشوں
کو ڈال کر اسے مٹی سے دھانپ دیا گیا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک ایک کا
نام لے کر آواز دی۔ اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! اے ابو جہل بن ہشام! اے
اُمیہ بن خلف! کیا یہ اچھا نہیں تھا کہ تم اللہ اور اس کے رسول علیہ الصلوٰۃ
والسلام کی فرماں برداری کرتے؟ اب جب کہ پردہ اٹھ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب
کو دیکھ لیا تو تم مسلمان ہونے کی آرزو کرتے ہو۔ اس کے بعد فرمایا، بلاشبہ ہم نے
اسے حق پایا جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا۔ کیا تم نے بھی اسے حق پایا
جس عذاب کی وعید تم سے کی گئی تھی؟ صحابہ کرام نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! آپﷺ ان
اجسام سے مخاطب ہیں جن میں ارواح موجود نہیں ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے
فرمایا، قسم ہے اللہ کی! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ تم ان سے زیادہ اس بات
کے سننے والے نہیں ہو۔ جو کچھ میں بیان کر رہا ہوں، وہ خوب سن رہے ہیں۔“ (کتاب:
بارانِ رحمت ﷺ)
ایک واقعہ
پیشِ خدمت ہے جو میرے شوہر کی آپ بیتی ہے۔ آپ بھی پڑھیے۔ ۱۹۹۰ء کی ایک دوپہر موٹر سائیکل پر کولیگ کے ہمراہ
ٹیکسٹائل مل سے واپس جا رہا تھا کہ گلی سے تیز رفتار سوزوکی نکلی اور ہماری موٹر
سائیکل سے ٹکرائی۔ میں ہوا میں اچھل کر زمین پر گرا تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا
چھا گیا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ اگلے لمحے میں نے راہ نما کو
اپنے سر ہانے دیکھا تو بے فکر ہو گیا کہ وہ ساتھ ہیں۔ راستے میں ابتدائی طبی امداد
دی گئی۔ ہسپتال پہنچا، ایکس رے ہوئے۔ رپورٹ دیکھ کر ڈاکٹر صاحب کا پہلا جملہ یہ
تھا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ بچت ہوگئی ورنہ نچلا دھڑ مفلوج ہو جاتا
کیونکہ ان کی ریڑھ کی ہڈی کے نچلے تین مہرے دب گئے ہیں۔ مزید زور پڑتا تو یہ ٹوٹ
جاتے۔ میں نے خاموش آواز میں دعا کی کہ یا اللہ! میں ہسپتال میں نہیں رہنا چاہتا۔
ڈاکٹر نے والد صاحب سے کہا، ان کو ہسپتال میں رکھنے کی ضرورت نہیں۔ گھر میں تین
ہفتے سخت جگہ پر لٹائیں، مہرے جگہ پر آجائیں گے۔ ساتھ ساتھ فزیو تھراپی کے سیشنز
سے یہ معمول کے مطابق حرکت کریں گے۔ ان شاء اللہ۔
الحمد للہ،
21 ویں روز میں خانقاہ میں ڈیوٹی پہ حاضر تھا۔ پہلے روز ڈیوٹی کے بعد شام کو کمر
میں شدید درد اٹھا۔ میں خانقاہ کی انتظار گاہ لیٹ گیا۔ کھڑکی سے راہ نما کے کمرے
کی روشنی نظر آرہی تھی۔ تھوڑی دیر میں روشنی بجھ گئی۔ معلوم ہوا وہ کہیں تشریف لے
جارہے ہیں تو میری ہمت جواب دے گئی۔ بمشکل باہر گیا اور عرض کیا، حضور! بہت درد ہو
رہا ہے۔ وہ رک گئے۔ میرا ہاتھ پکڑا۔ محسوس ہوا کہ کمر کے مہروں میں کرنٹ دوڑ رہا
ہے۔ الحمد للہ، وہ دن ہے اور آج کا دن، میں ٹھیک ہوں۔
نظامِ
کائنات خدمت و ایثار کے نیٹ ورک پر قائم ہے۔ یہ صفات غالب ہو جائیں تو کائنات کی
ہر شے معاون بن جاتی ہے۔ اللہ کے دوستوں کا ہر سانس خدمت ہے۔ وہ سود زیاں سے آزاد
ہر لمحہ ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔ بے لوث خدمت کرنے والوں کو کائناتی شعور حاصل ہوتا ہے،
وہ کائنات کی تمام اشیا سے ربط میں آجاتے ہیں۔ کائناتی شعور میں اتنی کشش ہے کہ
مخلوق جوق در جوق فقیر کے در پر حاضر ہوتی ہے۔