Topics
آب و گل کی دنیا میں اللہ کا دوست بزرگ
راہ نما کی صورت میں مخلوقِ خدا کے اندر رحمانی طرزِ فکر راسخ کرنے آیا۔ مشن کی
تکمیل پر من موہنی نورانی صورت مادی آنکھوں سے چھپ گئی مگر روشنی کا سفر جاری ہے۔
زندگی ایک طرف فنا اور دوسری طرف بقا کی مساوات (Equation) پر قائم ہے۔ فنا
۔۔ بقا ہے ۔۔ راہ نما نے سکھایا کہ اپنی ذات کو خالقِ کائنات اللہ اور خاتم
النبیین، محبوبِ رب العالمین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت میں فنا کر دو۔
کائنات کا ذرّہ ذرّہ انا کی لہروں کے
ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہے کیونکہ ہر ذرّہ حقیقی طرزوں میں زندگی گزارنے کا
پابند ہے۔ انا کی لہریں زمانی اور مکانی فاصلوں کی پابند نہیں ہیں۔ آسمانوں کا
بغیر ستون کے بلند ہونا، زمین کا بساط ہونا، ایک بساط کا دوسری لا شمار بساط سے
ربط، سورج، چاند اور ستاروں کا مقررہ راستے پر سفر اور ان کی حد بندی (مقداریں)
میں ترتیب و توازن عمیق (گہرا) روحانی رابطے کی نشاندہی ہے۔ افق پر پرندوں کی ڈار
نظم و ضبط کو ظاہر کرتی ہے۔ زمین کی اپنے مدار میں گردش۔۔ زمین اور مدار میں ہم
آہنگی ہے۔ بیج کا درخت بننا، درخت کا جڑ کے ذریعے پانی کو شاخ در شاخ پتّوں اور
غنچوں تک پہنچانا ربط کے بغیر ممکن نہیں۔ فرد کا باطن سے رابطے میں تعطل طرزِ فکر
پر مادیت کے غلبے کی علامت ہے۔ جوں ہی مادیت پرستی کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے، شک کا
دروازہ بند ہو جاتا ہے ۔۔ یقین کی دنیا روشن ہوتی ہے۔
کہنے کو زینہ ایک ہے لیکن اس کا ایک رخ
پستی اور دوسرا بلندی کی طرف ہے۔ صاحبِ فکر خواتین و حضرات یقین کا زینہ چڑھ کر وہ
روشنی حاصل کر لیتے ہیں جو الوژن (فریبِ نظر) کی نفی کر کے حقیقت دیکھنا سکھاتی
ہے۔ دنیاوی علوم جہاں ختم ہوتے ہیں، وہاں سے روحانی شعور کی ابتدا ہوتی ہے۔ مادی
علم شے کو دیکھنے کے ہزار زاویے متعارف کراتا ہے جبکہ روحانی علم ۔۔۔ علمِ شے
منتقل کرتا ہے جو تبدیل نہیں ہوتا۔ شے اور علمِ شے میں فرق یہ ہے کہ شے مظاہرہ ہے،
شے جس بنیاد پر قائم ہے، وہ علمِ شے ہے۔ شے میں تغیر ہے ۔۔ علمِ شے میں تغیر نہیں
ہے۔ قانون: علمِ شے، حقیقی علم ہے۔ باقی سب مفروضہ حواس یا شک کی کارفرمائی ہے۔
روحانی استاد روح سے واقف ہیں۔ ان کو
اشیا کے فارمولوں (علمِ شے) کا شعور ہے۔ ایسی پاکیزہ ہستیوں سے ربط سعادت ہے۔ ایک
مرتبہ راہ نما نے پوچھا، ضمانت کیا ہوتی ہے؟ عرض کیا، شے کے بدلے کوئی شے لینا۔ ان
کا جواب قانون ہے، فرمایا: ”میری طرزِ فکر مجھ سے روحانی رابطے کی ضمانت ہے۔“ راہ
نما کی خوشبو (طرزِ فکر) جس فرد کے اندر بس جائے، موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔
ظاہری قربت کا ثمر صاحبِ اخلاص کو حاصل ہوتا ہے۔ اخلاص ۔۔ الوژن سے آزادی ہے۔
عام شخص جب دنیا سے جاتا ہے تو اس کا
اپنے چاہنے والوں سے رابطہ رہتا ہے بشرطیکہ چاہنے والے اسے یاد رکھیں۔ اس بارے میں
بزرگ راہ نما فرماتے ہیں: ”اعراف والوں کا زمین والوں سے تیس سال رابطہ رہتا ہے۔
اگر کوئی انہیں یاد نہیں کر رہا، وہ آپ کے پاس یاد کرانے آئیں گے۔ اس کے بعد ان کا
آپ کے پاس آنے اور رسائی کا اثر ختم ہو جائے گا۔“ ایک خاتون کے والد دنیا سے رخصت
ہوئے تو راہ نما نے ان سے دریافت فرمایا، کیا آپ کے والد صاحب چلے گئے؟ چونکہ
خاتون کا ربط بحال تھا، سوچا، وہ چلے گئے جبکہ نہیں گئے۔ اس فکر میں تھیں کہ کیا
کہیں، راہ نما نے مشکل آسان کی اور فرمایا: ”وہ یہیں ہیں ناں؟“ دوبارہ دونوں
ہاتھوں کے اشارے سے فرمایا: ”یہیں ہیں ناں؟“ خاتون نے عرض کیا، جی، یہیں ہیں۔
فرمایا: ”بس۔ موت کی حقیقت یہی ہے۔“
راہ نما نے اکثر مواقع پر حاضرین سے
انتقالِ مکانی کے موضوع پر گفتگو فرمائی ہے۔ ایک روز فرمایا: ”کل آپ لاہور میں
تھے، وہاں آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ یہاں آگئے۔ اسی طرح جب یہاں سے آپ کا انتقال ہو
جائے گا، آپ لاہور چلے جائیں گے۔“ ایک موقع پر فرمایا: ”کچھ دیر پہلے آپ پنڈال میں
تھے، وہاں سے آپ کا انتقال ہو گیا، آپ یہاں خانقاہ میں آگئے۔ بظاہر تو کوئی مر گیا
لیکن کہیں تو وہ زندہ ہے اور زندہ فرد جب چاہے، جہاں چاہے، آ جا سکتا ہے۔“
کافی پرانی بات ہے۔ ایک سہیلی نے کہا کہ
میری والدہ کو دنیا سے رخصت ہوئے ۱۲ سال بیت گئے لیکن وہ اپنے ہونے کا احساس
دلاتی ہیں۔ میں نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ سہیلی نے جواب دیا: ”والدہ
میرے اندر اپنی سخاوت کی شکل میں زندہ ہیں۔ جس روز میرے اندر سے سخاوت کی عادت نکل
گئی، اس لمحے عالمِ ناسوت سے میری والدہ رُخصت ہو جائیں گی۔“ دوست راہ نما نے
بچوں، جوان اور بوڑھوں کو بے حد شفقت اور محبت دی ہے۔ ایک ضعیف شخص کا پوپلا چہرہ
یاد آیا جنہوں نے روتے ہوئے کہا تھا کہ حضرت! آپ مجھے بھول تو نہیں جائیں گے؟ راہ
نما نے ان کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے فرمایا: ”یاد رکھنے سے بھول جانا زیادہ مشکل
ہے۔ کُھرچنا پڑتا ہے۔“
کچھ عرصہ پہلے فرمایا: ”فکر نہ کرو۔ میں
یہاں رہوں گا ۔“ پھر خاموشی سے رخصت ہو گئے؟ روز اس سوال کا جواب تلاش کیا۔ ایک
روز اندر میں سے آواز آئی۔ دل نے کہا، مرید مادی لباس میں تلاش کرتا ہے جبکہ مرشد
۔۔؟ آنکھیں بند کر کے اندر میں مراقب ہو جاؤ۔ کیا مراقبہ آن لائن کلاس نہیں ہے ۔۔؟
تکرار فریکوئنسی ہے جو دو وجود (روحوں) کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔ سمندر اس امر
کی علامت ہے کہ تیراک موجود ہے۔ محبت ہم سے کہتی ہے کہ بس انتظار کے دیے روشن
رکھنا، کیا خبر کس لمحے وصال ہو جائے۔
ایک مرتبہ بزرگ دوست نے فرمایا: ”ایک وقت
آتا ہے کہ سالک جب چاہتا ہے، مرشد کو دیکھ لیتا ہے۔ جب چاہتا ہے، مرشد سے باتیں کر
لیتا ہے۔“ برسوں اس وقت کا انتظار کرنے کے بعد ایک ملاقات میں عرض کیا، حضور! آپ
مراقبہ میں نظر کیوں نہیں آتے؟ انہوں نے فرمایا: ”مرید کو ظاہری طور پر دیکھنے کی
عادت ہے اس لیے نظر نہیں آتا۔“ بات سمجھ میں نہیں آئی تو فرمایا: ”شعور ابھی بچہ
ہے۔“