Topics
زمین کی لہریں مکینوں کے عمل سے
توازن میں رہتی ہیں ورنہ بے ترتیب ہو جاتی ہیں۔ کچھ وقت قبل صبح سویرے گھروں میں
اللہ کی کتاب کی تلاوت کی جاتی تھی جس کی وجہ سے ذہن میں روشنی کی مقداریں توازن
میں رہتی تھیں ، گھر میں برکت ہوتی ، بچوں کی زبان پر اللہ اللہ ہوتا، ماں باپ خوش
ہوتے تھے کہ بچہ ”اللہ“ کہہ رہا ہے ۔ اب اس کی جگہ موسیقی نے لے لی ہے جس کی وجہ
سے آدم زاد کے اندر باہر بے ہنگم شور برپا ہے اور سکون محال ہو گیا ہے۔
1839ء میں موسیقی کی دنیا میں Binaural Beats متعارف کروائی گئیں۔ تحقیق و تلاش (سائنس) کے مطابق یہ دھنیں ذہنی
کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ تناؤ ، بے چینی اور دباؤ کم کر کے ارتکاز
پیدا کرتی ہیں۔ تخلیقی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں۔
جو دھنیں سماعتی فریب کے میکانزم
پر تخلیق کی جاتی ہیں پھر باعثِ سکون کیسے ہو سکتی ہیں؟ الوژن سے الوژن تخلیق ہوتا
ہے۔ مادی شے سے وقتی آرام مل سکتا ہے، ابدی خوشی نہیں ملتی۔ Binaural beats کیا ہیں؟
مختلف آوازوں کی دھنیں ہیں۔ ان کو
سماعتی فریب کہا جاتا ہے اور یہ دماغ میں بنتا ہے۔ اس میں ایک وقت میں دو
فریکوئنسی کی آوازیں سنی جاتی ہیں ، ایک کان میں ایک اور دوسرے کان میں دوسری ۔
لاشعور ان دھنوں میں فریکوئنسی کے فرق کو محسوس کرتا ہے ، شعور محسوس نہیں کرتا۔
شعور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فریکوئنسی کو سنتا ہے۔ مثلاً ایک کان 44 ہر
ٹز کی فریکوئنسی سنتا ہے ، دوسرا 40 ہرٹز کی جب کہ دماغ (شعور) ان دونوں کو نہیں
سن رہا ، وہ ان کے فرق (44-40=4) یعنی 4 ہرٹز کی آواز کو محسوس کرتا ہے ۔ غور
کیا جائے تو سماعتی فریب سے دماغی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور طبیعت وہم کی طرف
مائل ہو جاتی ہے آج ان آوازوں پر مشتمل دھنیں زیادہ پسند کی جا رہی ہیں ، دماغ اس
فریب کا عادی ہو گیا ہے اور زندگی کی آواز اس کے لیے بے کشش ہو گئی ہے۔
آدمی 20 ہرٹز سے لے کر 20 ہزار
ہرٹز کی آوازیں سنتا ہے ۔ اونچی آواز میں گفتگو سے سننے کی حس کمزور ہوتی ہے اور
دیگر حواس پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ راہ نما فرماتے ہیں کہ آواز کمرے تک
محدود ہونی چاہیئے۔
ایک سفر میں کسی کے خراٹوں سے راہ
نما رات بھر سو نہیں سکے اور کمرے سے باہر تشریف لے گئے۔ کسی نے عرض کیا کہ خراٹوں
سے نجات کا طریقہ کیا ہے۔ فرمایا ، خراٹے لینے والے کے منہ میں مصری کی ڈلی رکھ
دیجئے۔
آواز کے تاثرات فضا میں پھیلتے ہیں
۔ میں سوچ رہی تھی کہ غصے میں آواز اونچی ہو جاتی ہے اور سماعت کو ناگوار گزرتی
ہے۔ غصے کی آواز ریکارڈ کر کے سنی جائے تو شرمندگی ہوتی ہے۔ خیال آتے ہی ذہن میں
آیت گونجی،
” اپنی چال میں اعتدال اختیار کر
اور اپنی آواز ذرا پست رکھ ۔ سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔“ (لقمان
: ۱۹)
تفکر کی رَو اس سوال پر رکی کہ
گدھے کی آواز کو ناپسندیدہ کیوں کہا گیا ہے۔ قرآن کریم میں آیات تلاش کیں ۔ ارشاد
ِ باری تعالیٰ ہے،
”اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے
پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہاری زندگی کی رونق بنیں وہ اور بہت سی
چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم تک نہیں۔“ (النحل
: ۸)
” جن لوگوں کو توراۃ کا حامل بنایا
گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر
کتابیں لدی ہوئی ہوں۔“ (الجمعتہ : ۵)
پہلی آیت میں گدھے کی تعریف بیان
کی گئی ہے کہ وہ خدمت کرتا ہے ، بوجھ اٹھاتا ہے اور اگر اس پر سواری کی جائے تو
باعثِ زینت ہے۔ دوسری آیت کا مفہوم یہ سمجھ میں آیا کہ محض کتابیں جمع کرنے ، سطحی
طور پر پڑھنے اور رٹا لگانے سے علم حاصل نہیں ہوتا بلکہ جو کچھ پڑھا ہے، اس کی
روشنی باطن میں داخل ہونے سے علم حاصل ہوتا ہے ۔ باطن سے ناواقف فرد جتنی چاہے
کتابیں پڑھ لے ، وہ جہالت میں ڈوبا ہے۔
خیال نے متوجہ کیا کہ گدھا مخلوق
کی حالت کو بیان کرنے کی ایک تمثیل ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”چال میں اعتدال
اختیار کرو اور آواز آہستہ رکھو۔“ چال اور آواز کو ایک ہی آیت میں بیان کرنے میں
حکمت ہے۔
ذہن میں سوالات کی بوچھاڑ ہو گئی۔
۱۔ چال میں اعتدال کس وقت ہوتا ہے؟
۲۔ آواز میں توازن کب آتا ہے؟
چلنے کا انداز شخصیت کا عکاس ہے۔
سکون کی حالت میں فرد کی چال میں اعتدال ہوتا ہے ۔ جمود کا شکار آدمی خیالات کی
دنیا میں کھویا ہوا اور سست رو ہے۔ درمیانی چال کا حامل فرد پُر اعتماد ، پُر سکون
، پُر یقین اور بردبار ہوتا ہے۔
آوازیں مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔
خوش نما، میٹھی ، اونچی ، کرخت ، خوشگوار وغیرہ۔ بات محض اونچا بولنے کی ہوتی تو
بہت سی چیزوں کی آوازیں ، گدھے کی آواز سے زیادہ اونچی ہیں۔ جیسے کھرچنے اور رگڑ
کی آواز کانوں میں خراش پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح برقی آلات ، مشینوں اور اوزار کی
تیز آواز ۔ یقیناً گدھے کی آواز کا ذکر کرنے میں کوئی حکمت ہے۔
گدھے کی آواز کی گتھی سلجھانے میں
مصروف تھی کہ ایک عجیب بات ہوئی۔ باہر سڑک پر گدھے کی آواز سنائی دی۔ غور کرنے پر
معلوم ہوا کہ گدھا سانس توڑ کر بولتا ہے۔
آواز کے صعود اور نزول کا دائرہ
ہوتا ہے۔ گدھا دائرہ مکمل ہونے سے پہلے توڑ دیتا ہے کیوں کہ قدرت نے اسی فارمولے
پر اس کی آواز تخلیق کی ہے ۔ اس طرح گدھے کی آواز ہماری سماعتی فریکوئنسی کو متا
ثر کرتی ہے۔
”اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ
کر ، نہ زمین پر اکڑ کر چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند
نہیں کرتا ۔“ (لقمان : ۱۸)
چیخ کر بولنا اور اکڑ کر چلنا اللہ
کو ناپسند ہے۔ اس سے جسمانی خلیات ، اعصابی نظام اور جسم میں دور کرنے والی
وائبریشن متاثر ہوتی ہے۔ دھیمی اور ٹھہری ہوئی آواز متوازن مزاج کی دلیل ہے۔ خالق
کائنات اللہ ایسی وائبریشن کو پسند کرتا ہے جس سے مخلوق کو نقصان نہ پہنچے۔
اونچی آواز خود نمائی کی علامت ہے۔
خود نمائی سے تکبر پروان چڑھتا ہے اور یہ جہالت کی نشانی ہے۔ الہامی تعلیمات ”نفی“
کا درس دیتی ہیں۔
شخصیت میں نکھار کا تعلق تعمیری
سوچ سے ہے جس کا عکس فرد میں نظر آتا ہے۔
روحانیت توازن کا نام ہے ۔ غرور
جیسی تخریبی سوچ آدمی کو تنزل کی طرف لے جاتی ہے اور اللہ نے آدمی کے اندر برقی
رَو کا جو قدرتی نظام رکھا ہے ، اس میں انتشار پیدا ہو جاتا ہے ۔ دماغ کے خلیات
چوں کہ اسی برق رَو سے چارج ہوتے ہیں ، ان میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور آدمی بے سکون
ہو جاتا ہے۔ پھر نہ آواز میں توازن رہتا ہے نہ چال میں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے
،
”زمین میں اکڑ کر نہ چلو ۔ تم نہ
زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔“
(بنی اسرائیل : ۳۷)
اللہ حاکمِ اعلیٰ ہے ۔ بڑائی صرف
اللہ کو زیب دیتی ہے۔ بندگی اور عاجزی بندے کا زیور ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، عاجزی
اختیار کرنے سے مراد حاکمِ اعلیٰ کا مطیع ہونا ہے جس سے بندے کے اندر برقی رَو کا
نظام درست رہتا ہے۔ اللہ سے صدقِ دل سے معافی طلب کرتے ہی وزن بے وزن محسوس ہونا
اس بات کی دلیل ہے۔
ایک مرتبہ راہ نما شاگردوں کو
سمجھا رہے تھے کہ زیادہ باتیں نہیں کرنی چاہیئں۔ زیادہ باتیں کرنے والے زیادہ تر
غلط بولتے ہیں۔ ان کے منہ سے ایسی بات نکل جاتی ہے کہ پچھتاوے کی وجہ سے وہ ساری
رات سو نہیں سکتے۔
دعا کی قبولیت کے حوالے سے ایک
مرتبہ انہوں نے فرمایا ، کردار بے عمل ہو تو دعاؤں کی صدائیں فضا میں بازگشت کرتی
رہتی ہیں ، زمینی حدود سے باہر نہیں نکلتیں۔
یہ سن کر خیال آیا کہ نشر ہونے
والی آوازیں فضا میں محفوظ رہتی ہیں ، ان کو سنا جا سکتا ہے۔
ایک مرتبہ نماز فجر سے قبل حسب
معمول قہوہ بنا رہی تھی ۔ سرد موسم کی وجہ سے باورچی خانے کا دروازہ بند رکھا تھا۔
محسوس ہوا کہ راہ نما ”یاحی یا قیوم“ کا ورد کر رہے ہیں۔ ان کا کمرا فاصلے پر تھا
۔ حیران ہوئی کہ آواز اتنی دور سے کیسے آرہی ہے۔ جوں ہی دروازہ کھولا ، ماحول میں
بلند ذکر کی گونجار تھی۔ میں سمجھی کہ درختوں اور گھاس میں چھوٹے چھوٹے اسپیکر لگے
ہوئے ہیں لیکن ایسا نہیں تھا۔ درختوں سے ، دیواروں سے ، گھاس سے ، پھولوں سے غرض
ہر سمت اور ہر شے سے ذکر کی آواز آرہی تھی اور ذرّے ذرّے میں دور کر رہی تھی ۔
آسمان کی طرف نگاہ کی تو ادراک ہوا کہ ستارے بھی ذکر میں شامل ہیں۔ ایسا لگتا تھا
کہ زمین کی گہرائی سے آسمان کی وسعت تک کائنات راہ نما کے ساتھ ذکر میں محو ہے۔ یہ
دیکھ کر مجھ پر وجد طاری ہوگیا اور میں بھی ذکر کی نغمگی میں ڈھل گئی۔
یا حی یا قیوم
یا حی یا قیوم
یا حی یا قیوم
آواز دھیرے دھیرے فضا میں تقسیم
ہوگئی۔ جو فرد ورد کی فریکوئنسی سے واقف ہوتا ہے ، ہر شے اس کے ساتھ ورد کرتی ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ ؒ فرماتے ہیں،
”قوی ہمت والا نفس جب کسی کیفیت سے
بھر جاتا ہے تو اس کے قریب رہنے والے نفوس اور ان کی طبیعت میں اس کی کیفیت سرایت
کرتی ہے اور جب وہ کسی پتھر یا درخت سے وقت کے موافق کوئی معرفت سنتا ہے تو اس کی
قوت دوسرے لوگوں میں بھی سرایت کرتی ہے۔ پھر وہ لوگ اسی طرح سنتے ہیں جس طرح اس نے
سنا تھا۔“
نماز فجر کے بعد الیکٹریشن بھائی
ملے ۔ تصدیق کے لئے دریافت کیا کہ کیا یہاں ساؤنڈ سسٹم لگا ہوا ہے تو انہوں نے سر
نفی میں ہلایا۔
راہ نما سے ذکر کیا تو انہوں نے
فرمایا، کیا صرف تمہیں سنائی دیا یا کسی اور کو بھی ؟
پھر وہ مسکرائے اور خاموش ہو گئے۔
آوازوں پر غور کیا جائے تو آوازیں
بولتی ہیں۔ ہر آواز نیوٹرل ہے مثلاً بارش کی آواز۔ ٹن کی پر ، ماربل کے فرش پر ،
درختوں پر ، گھاس پر ، چھتری پر اور مٹی پر بارش کی آواز کے محسوسات الگ الگ ہیں
لیکن ۔۔ بارش ہر جگہ بارش ہے۔۔ فرق محسوس کرنے اور جس شے سے بارش ٹکرا کر آواز بدل
رہی ہے ، اس کا ہے۔
مجھے نیند بہت آتی ہے شاید وجہ یہ
ہے کہ میں جاگنا چاہتی ہوں ۔ میری سہیلی کم خوابی کا شکار تھی۔ میں نے کہا کہ جب
جاگتی ہو تو عبادت کر لیا کرو اور مجھے بھی جگا دیا کرو کیوں کہ الارم لگاتی ہوں
لیکن بجنے پر بند کر کے سو جاتی ہوں۔
کچھ عرصہ یہ معمول رہا کہ وہ فون
کر کے جگاتی اور میں نماز تہجد ادا کرتی۔
ایک روز سو رہی تھی کہ غیبی آواز
سے جاگ گئی۔ آواز نہایت پُجلال اور گرج دار تھی۔
آواز نے کہا ، پڑھ!
ہیبت طاری ہوگئی۔ فوراً اٹھ کر وضو
کر کے دو رکعت نفل ادا کی ۔ صبح سہیلی نے فون پر معذرت کی کہ رات کو تمہیں جگا
نہیں سکی۔
ایک روز خیال آیا کہ جب ہر شے
تسبیح کرتی ہے تو غذا جو ہم روز کھاتے ہیں ، وہ بھی ذکر کرتی ہوگی ۔ خواب میں
دیکھا کہ حلوے کی پلیٹ ہے اور حلوے میں ہلکی ہلکی تھرتھراہٹ ہو رہی ہے کان لگا کر
سنا تو آواز آرہی تھی ،
لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کائنات آواز سے شروع ہوئی ، آواز
پر حرکت کرتی ہے اور آواز پر ختم ہوگی۔ یہ آوازوں کی دنیا ہے۔ شاعر حیات امروہوی
نے لکھا ہے،
زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے
بج رہا ہے اور بے آواز ہے
مادی کانوں کے لئے یہ ساز بے آواز
ہے۔
فرد جھوٹ بول سکتا ہے لیکن آواز سچ
بولتی ہے کیوں کہ آواز بذات ِ خود اپنی گواہ ہے۔ فرد چاہے تو آواز کا لبادہ اوڑھ
لے پھر بھی آواز کے پیچھے لہریں سچائی کو بے نقاب کر دیتی ہیں۔
باطنی علوم کے ماہرین فرماتے ہیں
کہ ہر آواز کی شکل و صورت اور ہیئت ہے۔ آواز کی لاشمار ویولینتھ (طول موج) ہیں ۔
ہر ویو لینتھ ایک شکل ہے۔ آواز ویو لینتھ کی پابند ہے۔ اشیا میں پہچان کا ذریعہ
اندر میں آواز ہے جس کی وجہ سے مخلوق دیکھتی اور شناخت کرتی ہے۔
آدمی اگر یکسو ہو اور آوازوں کے
اسرار سے واقف ہو جائے تو وہ فریبِ نظر سے آزاد ہو جاتا ہے۔ فریبِ نظر سے آزاد
کرنے والی آواز کہیں اور نہیں ، دل کے کمرے میں ہے ۔ گونج محسوس کریں ، ذہن کو
گونج کی تھرتھراہٹ کے تابع کر دیں اور جو ہو رہا ہے اس پر راضی ہو جائیں۔