Topics

یقین کی روشنیاں۔ جولائی۔ ۲۰۲۳ ء

 

قدرت نے مشاہدہ حق کے لیے مخلوق کے قلب میں نور داخل کیا۔ کسی مقام کو زمین اور کسی کو آسمان قرار دیا۔ آسمان کو بروج سے سجایا اور زمین کو آئینہ بنایا۔ دونوں میں چراغ رکھے اور گداز کی لو روشن کی۔ لو کے بھڑکنے سے دن اور گھنٹے سے رات ہوئی۔ دن کی طوالت کو شب کا وصل ملا تو حیات رخِ یار سے فروزاں ہو گئی۔

مشاہدۂ حق کے لیے ذہن کو ایک مرکز کا پابند ہونا ضروری ہے۔ پھر انکشاف ہوتا ہے کہ قلبِ مخمور (خوشی سے سرشار ہونا) کے لیے ہر ذرّہ آئینہ ہے۔

شاعر نے کہا ہے،

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

اہلِ دل سے کوئی پوچھے کہ آہِ نارسا سے شبِ مراد تک پہنچنے کے لیے کتنے برس وحشت کے صحرا کی خاک چھاننی پڑتی ہے۔ یہ راستہ پھولوں کی گزرگاہوں پر چل کر طے نہیں ہوتا۔ پھولوں میں بھی کانٹے ہوتے ہیں۔ جب بندہ ذہن میں موجود پھولوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے تو کانٹے اس کے لیے نرم ہو جاتے ہیں۔ حسابِ عمر کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمِ اسباب میں ذہن جس خیال میں سفر کرتا ہے، عالمین کے سفر میں وہی خیال اس کا ہم سفر بن جاتا ہے۔

ایمان بالغیب بندے کو اللہ کی طرف لے جاتا ہے جب کہ شک اللہ سے دوری ہے۔ حواس ایک ہیں۔ جب ان کے ذریعے اللہ سے رجوع کیا جاتا ہے تو یقین کی دنیا روشن ہوتی ہے اور جب حواس کو ظاہری چمک دمک تک محدود کر دیا جائے تو یہ الوژن (وہم) ہیں۔ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ جب اللہ سے محبت کا احساس مغلوب ہوتا ہے تو زندگی کفرانِ نعمت بن جاتی ہے۔ دوسری جانب اگر بُعد (دوری) کے رجحانات کو نظر انداز کر دیا جائے تو مشاہدے کی قوت بیدار ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خاتم النبیین حضور پاکﷺ سے فرمایا کہ ہر نبی اور رسول ان حالات سے گزرے ہیں کہ جب ان کے دل میں کوئی آرزو پیدا ہوئی تو شیطان نے وسوسہ ڈالنے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے وسوسے کو دور کر کے ان کے دل میں اپنی باتیں ڈالیں جو پیغمبرانِ کرام علیہم السلام کا یقین بن گئیں۔

ہم میں کے تشخص کی بنیاد خالقِ کائنات اللہ ہے۔ شعور جب ”میں“ کو بنیاد سے الگ دیکھتا ہے تو دیوار بن جاتی ہے۔ ”میں“ مفروضہ ہے جس سے محفوظ رہنے والا شخص ذات کو پہچان لیتا ہے۔

راہ نما سے عرض کیا کہ پڑھنے، لکھنے اور سننے میں یہ بات آتی ہے کہ فلاں شخص نے سو سال ریاضت کی لیکن عرفان نصیب نہ ہوا۔ یہ بات مایوسی پیدا کرتی ہے۔ کیا اس میں صداقت ہے؟

انہوں نے ارشاد فرمایا،

”اس کی ریاضت کا مقصد اللہ نہیں تھا۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی شخص کو اللہ کی طلب ہو اور اللہ اسے نہ ملے۔“

ایک موقع پر ہم سے فرمایا،

”اصل ہی اصل کو دیکھ سکتی ہے۔ کیا کبھی نقل نے بھی اصل کو دیکھا ہے؟ اگر آپ یہ نکتہ سمجھ جائیں تو اصل مشاہدہ بن جاتی ہے۔“

مجلسِ عرفان جاری تھی کہ کسی نے گلو گیر لہجے میں عرض کیا، اللہ تعالیٰ یاد آتے ہیں۔

صاحبِ یقین بزرگ نے فرمایا،

”اللہ اور بندے کا معاملہ دو طرفہ ہے۔“

یہ فرما کر وہ خاموش ہو گئے۔ سمجھنے والوں پر روشن ہوا کہ بندہ سمجھتا ہے کہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے جب کہ خالق کے سامنے بندے کی حیثیت نہیں۔ خالق خود مخلوق سے محبت کرتا ہے اسی لیے مخلوق کے قلب میں ذات سے رجوع کی کشش پیدا ہوتی ہے۔

شعور آئینہ ہے۔ کہیں سے روشنی آتی اور آئینے پر منعکس ہوتی ہے تو آئینے پر عکس الٹا بنتا ہے۔ ایک آئینہ اندر بھی ہے۔ اس میں نصب شیشہ عکس کو ویسا دکھاتا ہے جیسا وہ ہے۔ راہ نما شاگرد کو تربیت سے گزار کر بیرونی آئینہ توڑ دیتے ہیں تاکہ شاگرد باہر دیکھنے میں بھی اپنے اندر میں دیکھے۔

مشاہدۂ حق کا مطلب سچائی سے آگاہی ہے۔ آدمی، آدمی کی دوا ہے لیکن اپنی طرح مجبورِ محض شخص کو توقعات کا محور بنانا دراصل سچائی کی نفی کر کے مفروضے سے وابستہ ہونا ہے۔ لوگوں سے تعلق مدد کرنے کی حد تک رکھیے، بدلے میں مدد کا خواں رہنے کے لیے نہیں۔۔ بیساکھیاں آدمی کو کمزور کرتی ہیں جب کہ نیاز مندی سے یقین کی قوت منتقل ہوتی ہے۔

ہر فرد کو ظرف اور سکت کے مطابق مشاہدہ ہوتا ہے۔ ایک روز بزرگ راہ نما نے فرمایا،

”سب جانتے ہیں کہ بادشاہ کے پاس ہیرے ہیں لیکن بادشاہ ہیروں کی نمائش نہیں کرتا۔“

روحانیت کو علمِ سینہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے۔ علم کی حفاظت کی جاتی ہے۔ غور طلب ہے کہ شیطان آسمانی دنیا میں فرشتوں کی گفتگو سننے جاتے ہیں تو ان پہ شہاب پھینکے جاتے ہیں تاکہ وہ رموز سے واقف نہ ہوں اور ملائکہ کی انسپائریشن کے پروگرام میں بگاڑ پیدا کر کے اہلِ زمین کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔ شیطان کی پہچان وسوسہ ہے جس کے ذریعے وہ قلب میں داخل ہونے کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ وسوسہ آئے تو سمجھ جائیے کہ شیطان قلب میں داخل ہونے کی راہ چاہتا ہے۔

حقیقت کا مشاہدہ دو طرح سے ہوتا ہے۔

۱۔ صفات کا مشاہدہ

۲۔ ذات کا مشاہدہ

منزل رسیدہ استاد کی نسبت کے بغیر ذات و صفات کا مشاہدہ نہیں ہوتا ورنہ راہِ سلوک کا مسافر نظر کے فریب کو حقیقت سمجھ کر راہ سے بھٹک جاتا ہے۔

بزرگ راہ نما کی ہر بات میں پیغمبرانِ کرام علیہم السلام اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کا حوالہ اور تشریح ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں رائج تمام ظاہری و باطنی علوم کا ماخذ الہامی علوم ہیں اور یہ کہ قرآن کریم کو سمجھے بغیر آدمی کائنات سے واقف نہیں ہو سکتا۔

”ہم نے قرآن کا سمجھنا آسان کر دیا۔ ہے کوئی سمجھنے والا؟“ (القمر : ۱۷)

ایک بہن نے اس حکم پر عمل کیا اور ہمیں اپنی کیفیات کے بارے میں بتایا۔ وہ کہتی ہے،

”میں نے ہدایت کے مطابق قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر یعنی سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کی تو تین روز تک قلب میں نورانی بارش محسوس کی۔ اس دوران ذہن اللہ کی طرف یکسو رہا۔ کبھی رقّت طاری ہوتی اور کبھی بھاری پن محسوس ہوتا۔ اس کیفیت سے میرے اندر قرآن کریم کو پڑھنے کا ذوق بڑھ گیا ہے اور قرآن فہمی کی طرز بدل گئی ہے۔ الحمد اللہ! تفکر میں گہرائی پیدا ہو گئی ہے۔“

آسمانی کتابیں اور قرآن کریم خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام کا مظہر ہیں۔

راہ نما فرماتے ہیں،

”قرآن کریم ایسے پڑھو کہ اللہ تم سے ہم کلام ہے۔ یکسو ہو کر سمجھنے کی کوشش کرو۔۔ ذہنی اور قلبی ربط قائم ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔“

ایک صاحبہ کا مہلک بیماری کے تلخ تجربے سے گزر کر اللہ پر یقین کس طرح مستحکم ہوا، یہ روداد ان کی زبانی سنیے:

”میرے سینے میں گلٹیاں تھیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ سرجری سے ختم ہو جائیں گی۔ سرجری کے وقت میں نے گھر والوں اور دوست احباب سے کہا کہ کوئی میرے ساتھ اسپتال چلے لیکن سب نے کوئی نہ کوئی مجبوری بیان کر کے معذرت کر لی۔ میں دکھ اور تکلیف کی حالت میں اکیلے اسپتال روانہ ہوئی۔ وہاں کسی خاتون کے استفسار پر کہ آپ اکیلی کیوں ہیں، کیا آپ کے ساتھ گھر سے کوئی نہیں آیا، میں نے کہا۔۔۔ میں اکیلی نہیں ہوں، میرے ساتھ اللہ ہے۔ یہ سن کر خاتون کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ بولیں، جب تک آپ کا آپریشن نہیں ہوتا اور گھر واپس نہیں جاتیں۔ میرا بیٹا آپ کے ساتھ رہے گا۔

آپریشن تھیٹر میں مجھ پر بے چینی طاری ہو گئی۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ دل سے آواز آئی:

اللہ نور السمٰوٰت والارض

اس کے ساتھ ہی نگاہ کے سامنے خانہ کعبہ کا منظر روشن ہوا۔ دیکھا کہ فیروزی روشنی کے بڑے بڑے دائرے نکل کر میری جانب آ رہے ہیں۔ اس دوران ڈاکٹر نے میرے بارے میں کسی سے کہا کہ اس مریضہ کے تاثرات عام مریضوں سے مختلف ہیں۔ کچھ دیر بعد نگاہوں کے سامنے روضہ رسولﷺ کا منظر روشن ہوا۔ دیکھا کہ نورانی ہالے نے مجھے حصار میں لیا ہوا تھا۔ ان مشاہدات کے بعد اللہ تعالیٰ پر یقین راسخ ہو گیا اور اللہ کے فضل سے مشکل وقت میں کبھی اکیلے پن کا احساس نہیں ہوا۔“

خاتون کی کیفیات سن کر میرے دل میں گداز پیدا ہوا اور اپنے محسن کی بات یاد آئی۔

”جب بندہ اللہ کی راہ پر چلتا ہے تو دنیا سے توقعات ٹوٹ جاتی ہیں اور اللہ پر یقین مستحکم ہو جاتا ہے۔“

مضمون لکھنے کے دوران مجھ پر بے چینی طاری ہوئی۔ کسی پل قرار نہ آیا تو میں حضرت ابو الفیض قلندر علی سہروردی ؒ کے مزار پہ حاضر ہوئی اور ”تصورِ شیخ“ کا مراقبہ کیا۔ تصور میں گہرائی پیدا ہوتے ہی ماورائی آوازیں سماعت بنیں۔ نہ جانے کون کون لحن کے ساتھ ورد کر رہا تھا،

یا اللہ یا رحمٰن یا رحیم

یا اللہ یا رحمٰن یا رحیم

یا اللہ یا رحمٰن یا رحیم

اپنے وجود کو لہروں میں تحلیل ہو کر اس ورد کی بازگشت بنتے دیکھا۔ پھر اندر میں اپنا دل نظر آیا، سفیدی مائل نیلگوں اور مرجھایا ہوا۔ ورد کی تکرار جاری تھی کہ ایک بہت محترم ہستی کی نسبت عطا ہوئی اور پژمردہ دل میں توانائی کی لہر دوڑ گئی۔ اب دل سونے کی طشتری میں تھا، اس کے ارد گرد گلاب کی پتیاں تھیں۔ پھر اس میں سے تازہ خون پھوٹ پڑا۔ ایسی رقّت طاری ہوئی کہ لگتا تھا آنسوؤں میں بہہ جاؤں گی۔ اس کے بعد بے قراری کو قرار آ گیا۔


 

Topics