Topics

احساس کا میکانزم ۔ اپریل ۲۰۲۴ء

 

صبح کی پُرکیف فضا میں لہروں نے کسی کی آمد کی دستک دی۔ دستک کی گونج سے آمد کا احساس یقین بن گیا۔ پہلا دن انتظار میں گزرا پھر دوسرا اور تیسرا دن۔ تین روز بعد باپ سے زیادہ مہربان بزرگ راہ نما کی تشریف آوری کی اطلاع موصول ہوئی۔ میں تفکر کی وادی میں گم ہو گئی کہ یہ کیسا نظام ہے کہ سینکڑوں میل دور کسی نے سفر کا ارادہ کیا، ارادہ کرتے ہی خبر ان راستوں کو پہنچی جہاں سے قافلے کو گزرنا اور ٹھہرنا تھا۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وارفتگی بڑھتی ہے تو سکون کا ساماں ہونے سے پہلے اس کی خبر احساس بن جاتی ہے۔ احساس کیا ہے؟

ایک مرتبہ راہ نما نے سمجھایا،

”خیال کی پختگی احساس میں ڈھلتی ہے اور احساس ایک قدم آگے نگاہ بن جاتا ہے۔“

مظاہرِ عالم میں ہر شے، احساس اور محسوس کی ڈور سے بندھی ہوئی ہے۔ اس تعلق میں کمی بیشی کو بے حسی کہتے ہیں۔ درحقیقت بے حسی، احساس کی غیر موجودگی نہیں بلکہ موجود شے کو نظر انداز کرنا ہے۔ جس معاشرے میں بے حسی بڑھ جاتی ہے، وہاں کی فضا طبیعت کو بوجھل کر دیتی ہے، سکون میں سے راحت نکل جاتی ہے اور بے حسی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔

ہونے نہ ہونے کی اطلاع کو احساس کہتے ہیں۔ جس چیز کو ہم محسوس کرتے ہیں، وہ ہمارے لیے موجود ہے اور جس کا خیال نہ آئے، وہ غیر موجود ہے۔ مثلاً اچھی باتیں کرنے سے آدمی اچھا نہیں بن جاتا تاوقتیکہ اچھائی اندر میں نہ اتر جائے۔ اسی طرح غصے کے بارے میں پڑھنے یا سننے سے غصہ طاری نہیں ہوتا جب تک غصے کی صفات اختیار نہ کی جائیں یعنی غصے کا احساس، آدمی کا احساس بن جائے۔ غصے کے لیے پہلے ذہن میں قبولیت کا دروازہ کھلتا ہے پھر اس کا احساس مجسم ہو کر سامنے آتا ہے۔ غصے میں بے حسی طاری ہو جاتی ہے اور اشتعال بڑھ جاتا ہے۔

امیر المومنین حضرت علیؓ کا قول ہے،

”غصہ عجلت میں شروع ہوتا اور احساسِ ندامت پہ ختم ہوتا ہے۔“

ہر جذبہ اور تقاضا احساس ہے اور ہر احساس ایک سراپا ہے جس میں دل، دماغ اور سارے اعضا موجود ہیں۔ ہم کوئی کیفیت اختیار کرتے ہیں تو وہ ہمارا تعارف بن جاتی ہے۔ اگر تعارف فطرت کا پرتو ہے تو خوش آئند ہے اور فطرت کے خلاف ہے تو شیطانی وسوسہ ہے۔

احساسات اور اظہار کا طریقہ سب کا مختلف ہے۔ خاندانی طرزِ فکر، ماحول، جذبات، روحانی تجربات، ثقافتی اثرات، رسوم و رواج، یکسوئی اور انتشار وغیرہ اس کی وجوہات ہیں۔ بیمار ذہن کی بہ نسبت یکسو ذہن کی محسوس کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ احساس میں کمی بیشی سے ذہنی رفتار اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

ایک مرتبہ راہ نما نے فرمایا،

”بیمار آدمی کی عقل بھی بیمار ہو جاتی ہے۔“

اطلاع کی قبولیت اور اسے محسوس کرنے کی صلاحیت میں مثبت طرزِ فکر کی بہت اہمیت ہے۔ سوچ مثبت ہو تو ناسازگار حالات میں بھی خوش رہنے کی راہ تلاش کر لیتی ہے۔ اس کے برعکس منفی سوچ سے متاثر شخص خوشی میں بھی ناخوش رہتا ہے اور ناگواری کی تصویر بن جاتا ہے۔

پُرسکون زندگی گزارنے کے لیے خوش رہنے کی عادت اختیار کر کے احساس کا دائرہ وسیع کریں، اچھی چیزوں کے بارے میں سوچیں اور مظاہر کے پسِ پردہ نظام پر غور کریں۔ اس سے یکسوئی پیدا ہوتی ہے اور ذہن کی رفتار تیز ہوتی ہے یعنی حواس کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے۔ جائزہ لیں کہ آپ کے حواس کی رسائی کتنی ہے اور کتنی ہونی چاہیے۔

احساس جب فطرت کے احساس سے گلے ملتا ہے تو جسم ثانوی ہو جاتا ہے اور بیداری میں رہتے ہوئے نیند کی دنیا کی صلاحیتوں کا ادراک ہوتا ہے۔ پھر آدمی جس مقام، شے یا فرد کو دیکھنا چاہتا ہے، اس میں فاصلہ زیرِ بحث نہیں آتا، احساس سواری بن جاتا ہے۔

دو شاگرد استادِ طریقت سے ملاقات کے لیے بذریعہ ریل گاڑی کراچی روانہ ہوئے۔ آدھا سفر طے ہو گیا تو ان میں سے ایک نے کہا، استادِ محترم شہر میں موجود نہیں۔

دوسرے نے پوچھا، تمہیں کیسے خبر؟

اس نے جواب دیا، اندر میں کوئی کہہ رہا ہے کہ ایک منزل پہلے اترو تو ملاقات ہو جائے گی۔ دوسرے دوست نے سنی ان سنی کر دی۔

پہلا دوست جانتا تھا کہ یہ مراد کے خیال میں بے خیال ہونے کا نتیجہ تھا کہ وہ جہاں تھے، احساس وہاں کی خبر دے رہا تھا۔

ریل گاڑی حیدرآباد اسٹیشن پر رکی تو پہلے دوست نے کہا، محسوس ہوتا ہے کہ محترم استاد یہاں تشریف فرما ہیں۔ ہمیں اس اسٹیشن پر اترنا چاہیے۔ اگلے اسٹیشن پر اترے تو واپس یہیں آنا پڑے گا لیکن دوست نے انکار کر دیا۔

ریل گاڑی آخری اسٹیشن پر رکی اور وہ خانقاہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ پہلے دوست کے احساسات درست تھے۔۔۔ استادِ محترم شہر میں نہیں تھے، وہ قریبی شہر تشریف لے گئے تھے۔ انہیں بس میں بیٹھ کر ایک اسٹیشن پیچھے جانا پڑا۔

احساس کا میکانزم غیبی رابطے کا نظام ہے جو انا کی لہروں کے ذریعے سرگرمِ عمل ہے۔ یہ فرد کی انا نہیں ہے بلکہ اس ہستی کا امر ہے جس کا نور آسمانوں اور زمین میں پھیلا ہوا ہے۔

کئی سال پہلے کا ذکر ہے۔ میں نے نمازِ عشاء کی ادائیگی کے لیے جائے نماز بچھائی تو اندر میں کسی نے خبردار کیا کہ آس پاس سانپ ہے۔ جسم میں وہی سنسناہٹ پیدا ہو گئی جو سانپ کو دیکھ کر ہوتی ہے۔ میں نے تیزی سے جائے نماز وہاں سے اٹھائی اور سب سے کہا کہ یہاں سانپ ہے۔ انہوں نے وہم سمجھا۔

اگلے روز سب نے دیکھا کہ کمرے کی دیوار کے باہر کیاری میں تقریباً ڈیڑھ میٹر طویل خوبصورت دھاریوں والا سانپ سو رہا تھا۔

کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے اور ہو چکا ہے، اس کی اطلاعات آسمانوں اور زمین میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ ضرورت کے مطابق ذہن میں نشر ہوتی ہیں اور فرد جب چاہے، تصرف کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری حفاظت فرمائی، خطرے سے مطلع کیا اور اللہ کی دی ہوئی توفیق سے میں نے اندر میں آواز کو قبول کر کے عمل کیا۔

لوگ عالمِ محسوسات میں آ کر محسوسات کے Source کو جانے بغیر یہاں سے چلے جاتے ہیں۔ کسی سے پوچھیں کہ تم احساس سے واقف ہو؟ جواب ہاں میں ہوگا۔ ضمیر کہتا ہے کہ وہ احساس جو حقیقت تک پہنچنے میں مدد نہ دے، Illusion ہے۔

مضمون میں احساس کے جس رخ کی جانب متوجہ کیا گیا ہے، یہ وہ ذوق ہے جو صحیح اور غلط کی شناخت رکھنے کے ساتھ شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے،

”اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل سے گزرتے ہیں، ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔“ (ق : ۱۶)

تحریر مصنف کا ذہن ہوتی ہے۔ لکھنے والا سطحی ذہن سے لکھے اور پڑھنے والا سطحی ذہن سے پڑھے تو احساس تغیر سے روشناس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس لکھنے پڑھنے میں گہرائی ہو تو دماغ کی اسکرین پر یقین کے نقش و نگار نظر آتے ہیں۔

ایک ہی تحریر مختلف اوقات (یہ دنوں کا فرق بھی ہو سکتا ہے اور سالوں کا بھی) میں پڑھنے سے جب مفہوم روشن ہوتا ہے تو فرد کو احساس میں گہرائی کا ادراک ہوتا ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے کہ اوہو! میں نے اس بات کو ہمیشہ سطحی طور پر سنا اور پڑھا، آج سمجھ میں آیا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ احساس سے درست واقفیت کے لیے ہم ذہن ہونا ضروری ہے۔

آخری الہامی کتاب قرآنِ کریم میں تفکر سے اللہ کی طرزِ فکر حاصل ہوتی ہے اور ذاتِ حق کے عرفان کی حس بیدار ہوتی ہے۔ ایسا بندہ کچھ جاننا چاہتا ہے تو کائنات کے تمام کل پرزوں کا اطلاع ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ تلاشِ حق میں معاون بن جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صادقین کا قرب اختیار کرو، اہلِ ذکر سے دریافت کرو، مجھ تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔

تلاشِ حق کا راستہ کامل راہ نما کی سرپرستی میں طے ہوتا ہے ورنہ احساس سیدھے راستے کی بجائے Illusion کو قبول کر لیتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے،

”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کے لیے تقویٰ اختیار کرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ (المائدۃ : ۳۵)

اللہ محبت ہے (خالقِ کائنات اللہ اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے)۔ اس نے کائنات محبت سے تخلیق کی ہے تاکہ وہ پہچانا جائے۔ کائنات کے تانے بانے میں احساسِ محبت دَور کر رہا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کی انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے روحانی علوم کے وارث اولیا اللہ نے تعلیم دی ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس سے فتح کے باب کھلتے ہیں۔

میں اللہ کے دوست کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضر تھی۔ کچھ دیر آنکھیں بند کر کے مراقب ہوئی تو آواز آئی،

”ہر نام صفت ہے اور صفت حواس ہیں۔ جس ہستی کے مزار پر تم مراقب ہو، ان کا نام محض نام نہیں۔۔۔ حواس ہے۔ ایسے حواس جو اللہ کی تجلی کا دیدار کرتے ہیں، اللہ کی آواز سنتے ہیں اور اسے محسوس کرتے ہیں۔ جب کوئی بندہ ان حواس کو قبول کرتا ہے تو وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے اور اس کے اندر کسی قسم کا خوف یا غم نہیں رہتا۔“


 

Topics