Topics

راہ طریقت۔فروری ۔۲۰۲۴

 

چاہنے والے ایک سے دو اور دو سے ہزار ہوں تو بسا اوقات رقابت پیدا ہو جاتی ہے۔ اولیا ء اللہ کی سوانح حیات میں ایسے واقعات ملتے ہیں جب منظورِ نظر شاگرد سے دوسرے لوگ حسد کرتے اور ناراض رہتے تھے۔ راہ ِ طریقت کے مسافر آگاہ ہوں کہ دل میں میل آنے سے نظر دھند لا جاتی ہے۔

باطنی علوم کا بنیادی سبق الوژن کی نفی اور حقیقت کا اثبات ہے اور نفی اثبات ، ایثار ہے۔یہاں میں کی نشونما کی بجائے ”میں کشی“ کی جاتی ہے تاکہ سالک مراد کا ہم خیال ہو جائے۔

رقابت کا پودا ” احساسِ ملکیت“ کے بیج سے پھلتا ہے۔ ایک روز راہ نما نے فرمایا ،

”میں کسی ایک کے لئے مخصوص نہیں ہوں۔“

 شاگرد استاد کے قریب ہونا چاہتا ہے اور یہ مثبت جذبہ ہے لیکن ایسا ہونے میں کسی کو اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھنا اور اس کے لئے مسائل کھڑے کرنا منفی عمل ہے۔ سب کی منزل ایک ہے اور راستہ بھی۔ رکاوٹ پیدا کرنے والا سمجھتا ہے کہ میں آگے بڑھ رہا ہوں جب کہ وہ اپنا سفر روک کر اوروں کی راہ میں پتھر رکھنے میں مشغول ہے۔ راہ نما فرماتے ہیں،

”جذبۂ رقابت کی ابتدا وہاں سے ہوئی جب ابلیس کو حکم ہوا کہ آدم ؑ کو سجدہ کرو۔“

آدم ؑ کی فی الارض خلیفہ نامزدگی کے ساتھ ہی عزازیل کے اندر تکبر اور حسد کی آگ دہکنے لگی۔ اس نے آدمؑ کو فی الارض خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کر کے بغاوت کی اور راندۂ درگاہ ہو کر عزازیل سے ابلیس بن گیا۔

حسد اور کبر آدمی کو ابلیس بنا دیتا ہے۔ جب کسی کے اندر بغاوت اور حسد کے جذبات بیدار ہوتے ہیں تو درحقیقت یہ ابلیس کی تقلید ہے۔

حسد کرنے والا اس جذبے کو اپنی محبت سمجھتا ہے۔ اسے ادراک نہیں ہوتا کہ محبت کی لطافت مغلوب ہو چکی ہے اور اس کی جگہ منفی جذبات نے لے لی ہے۔ جو جذبہ غالب ہوتا ہے ، وہی فرد کا آئینہ بن کر مکافات کا تعین کرتا ہے۔

میں نے دیکھا کہ ایک صاحب خاموشی سے بزرگ استاد کو دیکھتے تھے۔ پھر ایک روز انہیں کسی سے یہ کہتے سنا،

” سب لوگ میرے محبوب کے دیوانے ہیں۔ یہ تماشا میری برداشت سے باہر ہے۔ میں آئندہ یہاں نہیں آؤں گا۔“

یہ جملے ادا کرتے ہوئے ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ اس کے بعد وہ نظر نہیں آئے۔ ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا۔ اللہ جانتا ہے۔

ایک بھائی بتاتے ہیں کہ میرے اندر رقابت جے جذبے کا تدارک کچھ اس طرح ہوا۔

ان کی زبانی پڑھئے۔             

میں راہ نما سے ملاقات کے لیے خانقاہ میں حاضر تھا۔ دوسرے شہر سے ایک اور بھائی بھی ملنے آئےتھے۔ ان کا بلاوہ پہلے آگیا اور میں منتظر رہ گیا۔ اندر میں منفی جذبات پنپنے لگے۔ اگلے روز میں پھر منتظر تھا جب کہ بھائی صاحب کی ملاقات دوبارہ ہوئی اور ان کے ہمراہ آنے والے افراد بھی دید سے مستفید ہوئے۔

مجھ سے برداشت نہ ہوا۔ حسد کی تپش میں سلگنے لگا اور خانقاہ کے ایک گوشے میں بیٹھ کر سوچا کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میں بھی دوسرے شہر سے آیا ہوں۔

فیصلہ کیا کہ جب تک تسلی بخش جواب نہیں ملتا ، یہاں سے نہیں اٹھوں گا۔شام سے رات ہوگئی۔ گھڑی کی چھوٹی سوئی دو اور بڑی سوئی چھ کے ہندسے پر رکی تو اونگھ آ گئی۔

دیکھا کہ جس جگہ انتظار میں بیٹھا ہوں ، وہاں راہ نما تشریف لائے۔ مجھے بازوؤں کے حلقے میں لے کر سینے سے لگایا اور مسکراتے ہوئے فرمایا۔

”اخلاص تو آپ کے اندر بھی ہے۔“

یہ سن کر خواب میں ہی مجھ پر خمار چھا گیا۔

وصل کا لمحہ آج بھی یادوں میں تازہ ہے۔ الحمد للہ ۔ اس کے بعد کسی سے رقابت محسوس نہیں ہوئی۔ یہ خواہش اپنی جگہ موجود ہے کہ مجھے زیادہ قربت ملے لیکن جب میری موجودگی میں کسی کی ملاقات ہوتی ہے تو اب اپنے اندر خوشی کی لہریں محسوس کرتا ہوں۔ میں نے جا لیا ہے کہ جو کچھ ہوا ، وہ تربیت تھی۔ میرے اندر احساِ برتری تھا کہ دوسرے شہر سے آیا ہوں تو ملاقات ہو جائے گی۔ احساسِ برتری ، احساس کمتری میں بدل گیا جب مجھ سے پہلے کوئی اور گیا اور میری ملاقات نہ ہو سکی۔

ایک علمی نشست میں بزرگ نے فرمایا،

”جس طرح میں سب سے محبت کرتا ہوں ، اگر میرا شاگرد اسی طرح سب سے محبت کرے گا تو یہ خود غرضی نہیں ، ایثار ہے۔ اس سے سلسلے کو مضبوط فاؤئنڈیشن (بنیاد) ملے گی۔“

ہر میدان اور شعبے میں دوسروں کی سیڑھیاں گننے والے کو احساس ہونا چاہئے کہ جب نظر راستے سے ہٹ جائے تو گرنا لازمی ہے۔ روحانی استاد شاگرد کی افتادِ طبع کے مطابق اسے تربیت کے مراحل سے گزار کر سود زیاں کے احساس سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ پھر شاگرد کو فکر نہیں ہوتی کہ کس کو کیا ملا اور مجھے کیا نہیں ملا، یہی منفی جذبات سے آزادی ہے اور یہی آزاد ذہنی ہے۔ سالک کے لئے یہ فتح کا مقام ہے۔

کتاب ”لوح و قلم“ میں فتح کو ”طرزِ تفہیم“ کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے۔

”اگر انسان خالی الذہن ہو کر اس نسبت کی طرف متوجہ ہو جائے تو ثابتہ × (کائناتی ریکارڈ کا وہ درجہ جس میں ہر شے مطلق حالت میں موجود ہے۔) کی تمام تجلیات کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ یہ نسبت دراصل ایک یادداشت ہے۔ اگر کوئی شخص مراقبہ کے ذریعے اس یادداشت ۔ اگر کوئی شخص مراقبہ کے ذریعے اس یاد داشت کو پڑھنے کی کوشش کرے تو ادراک ورد یا شہود میں پڑھ سکتا ہے۔۔ انبیا کے وراثت یافتہ گروہ نے تفہیم کی طرز پر اس یاد داشت تک رسائی حاصل کی ہے ۔“

(کتاب : لوح و قلم)

 

ذہن تغیر سے آزاد ہو کر خالی الذہن ہوتا ہے۔ جنت میں بابا آدم ؑ اور اماں حواؑ کے ذہن میں اللہ کے حکم کی تعمیل کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ خالی ذہنی تھی۔ جب شیطان کے بہکاوے میں آئے تو ذہن خالی نہ رہا اور وہ تغیر میں الجھ گئے۔

کسی خوش نصیب نے بزرگ دوست پوچھا کہ آپ مجھے بھول تو نہیں جائیں گے؟

انہو ں نے فرمایا ،

” یاد رکھنے سے بھول جانا زیادہ مشکل ہے۔“

موسمِ بہار کی ہوائیں گلستان کا رخ کرتی ہیں تو رنگ رنگ پھول کھلتے ہیں۔ اگر بادِ نسیم گلستان سے رخ موڑ لے تو پھر۔۔؟

یہی صورت یاد کی ہے۔ یاد کا عمل اطلاع کے تابع ہے۔ کوئی یاد کرتا ہے تو ہم یاد کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم یاد کر رہے ہیں جب کہ کوئی ہے جو ہمیں یاد کر رہا ہے۔

ہر شخص سانس لیتا ہے۔ وہ نہیں سوچتا کہ میں سانس کیوں لے رہا ہوں۔ سانس میں تسلسل ڈور کی مانند ہے جسے کوئی سنبھالے ہوئے ہے۔ کسی کی محبت جب زندہ رہنے کی وجہ بن جائے تو محبوب کے علاوہ ہر شے ثانوی ہو جاتی ہے۔

ایک خاتون راہ نما کے معالج کے پاس گئیں اور سنجیدگی سے کہا ، بیٹا ! میری دوا میں ایک گولی زہر کی شامل کر دینا اور چند گولیاں دوسروں کے لئے بھی دے دینا تاکہ ہم سب کھا کر مر جائیں اور تم اکیلے ہی راہ نما سے ملاقات کیا کرو۔

میں نے خاتون سے کہا ، آپ کو اس طرح سے بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔

کہنے لگیں کہ میں تین مرتبہ ملاقات کے لئے حاضر ہوئی ، ہر بار بتایا گیا کہ ڈاکٹر صاحب نے طبیعت کی خرابی کے پیشِ نظر آرام تجویز کیا ہے۔

میں نے ان کو تسلی دی کہ ڈاکٹر صاحب کی ہدایت کے مطابق آرام کر رہے ہیں ، ان شاء اللہ ملاقات ہو جائے گی۔ کیا آپ جانتی ہیں کہ راہ نما نے ایک بار فرمایا تھا،

”لوگ سمجھتے ہیں کہ میں لوہے کا بنا ہوں، بیمار نہیں ہوتا جب کہ لوہا بھی بیمار ہوتا ہے۔“

یہ سنتے ہی خاتون ان کی صحت یابی کے لئے دعاگو ہوئیں اور شکوہ بھول گئیں۔

 

فرد اپنے خلوص کے مطابق فیض یاب ہوتا ہے۔ مثلاً ابتدائی درجے کے کھلاڑی کو بڑے میچ میں موقع فراہم کیا جائے تو تجربے اور مہارت کے فقدان کے باعث جلد تکان سے ہلکان ہو جاتا ہے اور اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ اسی طرح روحانی شاگرد کو درجہ بہ درجہ قدم جما کر لامحدودیت کے سفر میں سکت کے حصول کی جدو جہد کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،

”تم کو ضرور درجہ بہ درجہ ایک طاقت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے۔“   (الانشقاق : ۱۹)

کئی سال پہلے جب بزرگ استاد لاہور تشریف لائے تو ان کی آمد سے پہلے خبر پھیلی کہ اس مرتبہ ان کا قیام خانقاہ میں نہیں ہوگا۔

عقیدت مندوں میں ہلچل مچ گئی۔ سب کو فکر لاحق ہو ئی کہ ملاقات کیسے ہوگی؟ ان کی قربت کیسے ملے گی ؟ علمی محافل کا کیا سلسلہ ہوگا؟ ضرور ہم سے خطا ہوئی ہے۔

بزرگ سے درخواست کی گئی تو فرمایا،

”آپ نے سنی سنائی بات پر کیسے یقین کر لیا؟

اپنے تعلق پر بھروسا ہونا چاہئے۔

تجربات و مشاہدات کو سامنے رکھ کر سوچتی ہوں کہ زندگی آسان ہے اور مشکل بھی۔ جب آدمی کسی کو اپنا کہتا ہے تو اس پر حق جتاتا ہے اور شراکت برداشت نہیں کرتا۔ یہی آدمی اپنی ذات میں کسی کو شریک نہیں کرتا اور جسے اپنا کہہ کر حق جتا رہا ہے ، اس کی طرح بننے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ اس طرح نہ وہ اپنا ہوتا ہے اور نہ کسی کا بنتا ہے۔ راہِ سلوک کا قانون ہے کہ جب مرید مراد کی آرزو کرتا ہے اور اسے مراد میسر آجاتا ہے تو پھر چاہئے کہ خود کو اس کے سپرد کر دے۔ جب خود سپردگی ہوئی تو منفی جذبات کا خانہ از خود خالی ہو گیا۔

ایک واقعہ پڑھئے۔

کسی شاگرد نے اپنے استاد سے کہا کہ آپ فلاں شاگرد سے بہت محبت کرتے ہیں۔

استاد نے پوچھا ، جمعہ کی نماز کہاں پڑھو گے؟ جہاں پڑھو گے ، وہاں مسجد میں بھیک مانگو اور جو پیسے جمع ہوں ، مجھے لاکر دے دو۔

شاگرد یہ سن کر خاموش ہو گیا۔

اس بات کی خبر اُس شاگرد کو ہوئی جس کا ذکر ہوا تھا تو اُس نے خود سے پوچھا کہ کیا میں یہ کام کر سکتا ہوں؟ لوگ کہیں گے کہ بھیک مانگ رہا ہے۔ وہ الجھ گیا ۔ بالآخر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ کام کر سکتا ہے۔

اس نے حلیم پکانے کا ارادہ کیا۔ قصائی کے پاس گیا اور پیسے مانگے۔ قصائی نے کہا ، ہم پیسے نہیں دیتے، گوشت دے سکتے ہیں۔ جو چیزیں درکار تھیں، ان دکانوں پر جا کر مانگیں اور کہا کہ میں حلیم پکا کر تقسیم کروں گا۔ اللہ کا کرم ہے کہ کسی نے انکار نہیں کیا۔ سب نے کہا لے جاؤ۔ شاگرد نے حلیم پکا کر سب میں تقسیم کی اور ان دکان داروں تک بھی پہنچائی جنہوں نے کارِ خیر میں حصہ لیا تھا۔

 


Topics