Topics
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،
”اور جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لیے
جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیمؑ کھڑے ہوتے
تھے، اس کو نماز کی جگہ بنا لو اور ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کو کہا کہ طواف کرنے
والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے
گھر کو پاک رکھو۔“ (البقرۃ : ۱۲۵)
خانہ کعبہ میں مقامِ ابراہیمؑ پر با ادب
حاضر تھی۔ حاضری کا تقاضا ہے کہ فرد جس مقام پر ہے اور جس کے لیے حاضر ہے، اس کے
سوا کسی کا خیال نہ آئے بلکہ ہر خیال میں اس ایک خیال کو مرکز بنا لے۔۔ آس پاس
کتنے لوگ موجود کیوں نہ ہوں۔۔ با ادب۔۔۔ درودِ ابراہیمیؑ کا ورد کرنے لگی اور ورد
میں یکسو ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے متفرق رنگ و نسل کے صدہا پروانے نقشِ پائے
خلیلؑ کی چہار جانب جمع ہوئے اور حلقہ بنا کر یک آواز درود شریف پڑھنے لگے۔ آوازیں
ایک ہو کر رقت آمیز ہو گئیں اور ایسا لگا کہ رحمتِ خداوندی نے ہر آنسو کو موتی بنا
دیا ہے۔ دل نے گواہی دی کہ یہ قبولیت کی سند ہے۔ یہ منظر کس کس نے دیکھا یا کس نے
نہیں دیکھا، علم نہیں۔
تفکر کہتا ہے کہ مقام کا تعلق جہاں محلِ
وقوع سے ہے، وہاں طرزِ فکر سے بھی ہے کہ مقام طرزِ فکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ابو
الانبیا حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،
”پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ
یکسو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔“ (النحل : ۱۲۳)
ابوالانبیا حضرت ابراہیمؑ کی طرزِ فکر جو
دراصل تمام پیغمبرانِ کرام علیہم السلام کی طرزِ فکر ہے، کو آنکھوں کا سرمہ بنا
لینے سے بصارت سے الوژن (وہم) کا پردہ ہٹتا ہے اور ذرا سی بصیرت پانے والے بھی
ننھے منے جگنو بن جاتے ہیں۔ جگنو جس سمت رخ کرتے ہیں، گھٹا ٹوپ اندھیرا روشن ہو
جاتا ہے۔
مقامِ ابراہیمؑ پر درودِ ابراہیمیؑ کے
ورد کے دوران خود سے بے خود ہوئی تو اندر میں اسکرین پر منظر ظاہر ہوا۔ روشن اور
کشادہ آنکھوں والی نورانی ہستی نظر آئی، سر پر پگڑی نما رومال بندھا تھا اور چہرے
پر مسکراہٹ تھی۔۔ اسکرین سے یہ منظر غائب ہو گیا اور دوسرا منظر روشن ہوا۔
حضرت ابراہیمؑ کے نقشِ پا پر سرنگوں ہو
گیا۔
سلاسلِ طریقت کا نصاب علمِ حضوری ہے۔ یہ
اللہ کو حاضر و ناظر جاننے اور خود کو اللہ کے حضور حاضر محسوس کرنے کا علم ہے۔
مادی علوم میں کاغذ اور قلم زیرِ بحث آتے ہیں لیکن علمِ حضوری میں سالک کا ذہن
روحانی استاد کی سلیٹ ہوتا ہے۔ اس طریقِ تعلیم میں زمینی فاصلے حائل نہیں ہوتے،
ذہن کا ذہن سے ربط ہوتا ہے۔
علمِ حضوری اطلاعاتی نظام پر قائم ہے۔
سالک اطلاع کی جزئیات اور اس کے ماخذ کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جاننے کی کوشش کرتا ہے
کہ اطلاع کیا ہے، کہاں سے آتی ہے، اس میں پیغامات کہاں محفوظ ہوتے ہیں اور یہ
پیغامات لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ کیسے پہنچتی ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے اور اکثر
ایسا ہوتا ہے کہ اطلاع بیک وقت لاشمار اسکرینوں پر ظاہر ہوتی ہے تو ہر ایک اس کو
اپنی نظر سے دیکھتا ہے جس سے ”ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ“ کے مصداق، اطلاع
پردے میں رہ جاتی ہے۔ پردے پر نظر آنے والے عکس سے طرح طرح کے معنی و مفہوم اخذ کر
لیے جاتے ہیں لیکن اس پورے عمل میں اطلاع اپنی اصل حالت پر قائم رہتی ہے۔
علمِ حضوری میں شعور کو لاشعوری تحریکات
کے تابع کرنے کی مشق کروائی جاتی ہے۔
صاحبِ یقین روحانی استاد نے میری موجودگی
میں ایک عمر رسیدہ خاتون سے فرمایا،
”آپ کا شعور ابھی بچہ ہے۔“
عمر رسیدہ پر یہ سن کر کیا گزری ہوگی،
مجھے علم نہیں لیکن میں اس سوچ میں گم ہو گئی کہ جب بچے اور بوڑھے دونوں کا شعور
بچہ ہے پھر بالغ شعور کیا ہے؟ مجھ پر بے خبری طاری ہو گئی۔ محسوس ہوا،
”یہ بات صرف بڑی بی کے لیے نہیں، میرے
لیے بھی کہی گئی تھی۔ جب میرا شعور ابھی بچہ ہے پھر میں نے دنیا میں آ کر کیا سنا،
کیا دیکھا، کیا سیکھا اور وقت کہاں چلا گیا؟ کیسی لاعلمی ہے کہ فرد کی پہچان شعور
سے ہے اور میں مٹی کے جسم کی عمر کو اپنی پہچان سمجھ بیٹھی ہوں۔ جب سے مٹی کے
ذرّات مرکب ہو کر میری شکل میں دنیا کے سامنے آئے ہیں، تب سے میں اپنی عمر گن رہی
ہوں اور خود کو باشعور سمجھ رہی ہوں۔ اگر شعور نا پختہ رہ جائے تو پھر لاشعور
(یہاں سے بعد کی دنیا) میں میرا مقام کہاں ہوگا؟“
نظر راہ نما پر پڑی تو وہ مراقب تھے۔
عمر رسیدہ خاتون جا چکی تھیں۔
تلاش و جستجو سے روزن کھلا کہ روحانیت
میں شعور کی بلوغت سے مراد لاشعوری تحریکات کے زیرِ اثر زندگی گزارنا ہے۔ آدمی جب
نامعلوم دنیا سے آنے والی اطلاعات کو قبول نہیں کرتا تو فہم میں خلا پیدا ہوتا ہے،
ایسے میں جسم کی عمر تو وقت کے ساتھ بڑھتی ہے لیکن شعور وقت کے ساتھ سفر نہیں
کرتا، نا پختہ رہتا ہے۔
دروازہ کھلا۔۔ شعور کی بالیدگی کے لیے
مجھے وقت کے ساتھ سفر کرنا ہے۔ وقت کیا ہے؟ وقت کا احساس اطلاع کے ذریعے ہوتا ہے۔
اطلاع کیا ہے؟ اطلاع سے واقف ہو کر وقت کا علم حاصل ہوتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا
ہے کہ وقت کے تانے بانے علمِ حضوری سے ملتے ہیں۔
کوئی صاحب یا صاحبہ اعتراض کر سکتے ہیں
کہ ”جوان یا بوڑھے فرد کا شعور بچہ کیسے ہوا جب وہ ایسے دور میں رہ رہا ہے جس میں
ٹیکنالوجی اپنی معراج کو چھو رہی ہے؟ سائنس کی ترقی شعوری ارتقا کا نتیجہ ہی تو
ہے۔“ کسی حد تک یہ درست ہے لیکن کلی طور پر درست جملہ یہ ہے کہ ”مادی ترقی مادی
شعور“ کے ارتقا کا نتیجہ ہے۔ جب تک مادے میں کارفرما شعور کا علم نہ ہو، ماورائی
دنیا کے سامنے مادی ترقی صفر ہے۔
سالک کا روحانی استاد سے ذہنی ارتباط ہو
جائے تو مزاج بدل جاتا ہے، فرسودہ روایات پیچھے رہ جاتی ہیں اور وہ خود کو کائنات
کے ہر ذرّے سے ہم رشتہ سمجھتا ہے۔ گفتگو کا معیار شائستہ اور رکھ رکھاؤ میں نفاست
آ جاتی ہے۔ مزاج میں تحمل پیدا ہوتا ہے اور ذہن اللہ کی نشانیوں کی طرف متوجہ ہو
جاتا ہے۔
میں خانقاہ میں پھول پودوں کے درمیان
بیٹھی تھی کہ ایک صاحبہ نے اپنے تجربات بیان کیے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے ساتھ تکلیف
دہ واقعہ پیش آیا۔ جس نے سنا، ہمدردی کا اظہار کیا اور کسی کی آنکھوں میں آنسو بھی
آئے۔ میں نے صبر سے تکلیف کا سامنا کیا اور ثابت قدم رہی۔ لوگ میری استقامت پر
حیران تھے۔ آپ جانتی ہیں کہ کس خیال نے مجھے ثابت قدم رکھا؟
میں نے پوچھا، کس خیال نے؟
ان صاحبہ نے کہا، ایک مرتبہ راہ نما نے
مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر آپ اس دنیا اور یہاں کے بعد کی دنیا میں خوش رہنا چاہتی
ہیں تو اس خیال کو ذہن میں نقش کر لیں کہ شب و روز سوتے جاگتے نگرانی میں ہوں۔
علمِ حضوری حقیقت پسند طرز ہے۔ سالک راحت
اور تکلیف دونوں سے گزرتا ہے لیکن اس کا ذہن ان دونوں حالتوں میں احساسِ قرب سے
متصل رہتا ہے۔
ایک صاحب کو ان کے بھائی نے کاروبار سے
بے دخل کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ الحمد اللہ، روحانی استاد نے تربیت ایسی کی کہ میں
ضمیر کے خلاف کام کرنے سے دور رہا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ دوستی
کے لیے دوست وصف اختیار کرنا ضروری ہے۔ اگر دوست کی یقین کی دنیا روشن ہو تو دوستی
کا تقاضا پورا کرنے کے لیے تم بھی یقین کی دنیا روشن کرو۔
بھائی نے بتایا کہ وراثت میں اپنے حصے سے
بے دخل کیے جانے پر سوچتا تھا کہ اللہ میری مدد فرمائے گا۔ تین سال اعصاب شکن حالات
سے گزرنے کے بعد ایک ادارے میں ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔
انٹرویو والے روز کئی امیدوار تھے جن کو دیکھ کر میں پریشان ہو گیا۔ اتنے میں
نگاہوں کے سامنے ایک چہرہ روشن ہوا۔ یہ یقین کا چہرہ تھا۔ میں مطمئن اور پُرسکون
ہو گیا۔ اللہ کے فضل سے میرا انتخاب ہو گیا۔
ایک صاحب نے راہ نما کو اپنی روحانی
کیفیت بتائی کہ میں مراقبہ کر رہا تھا کہ ذہن یکسو ہوتے ہی ایک جملے کی گونج سنائی
دی۔
”جو کچھ بھی ہو، سامنے ہو، مکمل ہو اور
اس کے متعلق علم ہو کہ یہ کس طرح ہوا ہے۔“
راہ نما نے تصدیق فرمائی، ”ایسا ہی ہے۔“
جملے کی وضاحت میں فرمایا،
”آنکھیں کھلی رکھو، ہر قدم سوچ سمجھ کر
اٹھاؤ، پاگلوں کی طرح مت چلو اور اگر قدم اٹھا لو تو پھر پیچھے مت ہٹاؤ۔“
یہ ذہن کا ذہن سے ربط تھا۔ روحانی استاد
سالک کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ جب سالک اسباق کی پابندی کرتا ہے تو اس کے ذہن میں سکت
کے مطابق اُن اطلاعات کا عکس پڑتا ہے جس جانب روحانی استاد متوجہ ہیں۔
اطلاع کرنٹ کی شکل میں دستک دیتی ہے۔ اس
میں وہم یا شک کی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہ ہم ہیں جو اطلاع میں وہم کو گنجائش دیتے
ہیں تو وہم پھیل کر ایسے رنگ روپ میں نظر آتا ہے کہ دماغ کی اسکرین طلسم کدہ بن
جاتی ہے۔ دوسری جانب حضوری میں یکسوئی سے خیالات میں بیرونی عناصر کی آمیزش نہیں
ہوتی۔ قرآن کریم میں حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کی صفت بیان ہوئی ہے،
”جب وہ اپنے رب کے حضور قلبِ سلیم لے کر
آیا۔“ (الصّٰفّٰت : ۸۴)
اللہ کے دوست اللہ سے محبت کرتے ہیں اور پیغمبرانِ
کرام علیہم السلام کی طرزِ فکر کے مطابق جدوجہد کرتے ہیں۔ وہ شاگردوں کی تربیت بھی
اسی طرز پر کرتے ہیں۔ راہ نما فرماتے ہیں،
”اللہ کے دوستوں سے لمحہ بہ لمحہ ذہنی
قربت کے نتیجے میں سالک کو علم کی ایک سطر ملتی ہے جس پر وہ گھنٹوں تفکر کرتا ہے۔“
غور و فکر سے آشکار ہوا کہ علمِ حضوری کی
ایک سطر میں اتنی وسعت ہے کہ یکسوئی کے مطابق سالک پر علوم کی جہتوں کا انکشاف
ہوتا ہے۔
ایک تربیتی نشست میں فرمایا،
”روحانیت سیکھنا انتہائی مشکل ہے اور
روحانیت سیکھنا بہت آسان ہے۔ شاگرد کو روحانیت سیکھنے میں اس لیے وقت لگتا ہے کیوں
کہ وہ استاد کی بات کو اپنے محدود ذہن سے سمجھنا چاہتا ہے لیکن اگر وہ ذہنی طور پر
خود کو سپرد کر دے تو استاد کی بات سمجھنا نہایت آسان ہو جاتا ہے۔“