Topics

مکافاتِ عمل۔ ستمبر ۲۰۲۳ء

 

قرآنِ کریم میں ارشاد ہے،

”آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔“ (الرحمٰن : ۷)

نظامِ کائنات پر غور کرتی ہوں تو ہر طرف اس آیت کی منظر کشی ہے۔ میزان کا نظام کس طرح کام کرتا ہے، قرآنِ کریم میں تفصیل ہے،

”پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی، وہ اس کو دیکھ لے گا۔“ (الزّلزال : ۷۔۸)

ہر عقیدے کے لوگوں کا سزا اور جزا کے نظام پر یقین ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سزا اور جزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آخرت میں ملتی ہے اور کسی کا یقین ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں جزا و سزا کا نظام ہے۔

میں جہاں ملازمت کرتی تھی، وہاں دفتر میں ایک صاحب کا موت کے بعد کی زندگی پر یقین نہیں تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اچھے برے عمل کی سزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے۔ بہت محتاط رہتے تھے کہ ان سے کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ ایک بار ٹیکسی میں بیٹھے تو دیکھا کہ ان سے پہلے مسافر پچھلی نشست پر دو ریال چھوڑ گیا ہے۔ مسافر کا تعاقب کیا اور ٹیکسی والے کو تین ریال کرایہ ادا کر کے رقم اس تک پہنچائی کہ وبالِ جان نہ بن جائے۔

واقعہ سن کر ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آئی تو انہوں نے وضاحت کی میرے رشتہ دار اس طرح کی غلطیوں سے نقصان بھگت چکے ہیں۔

ماضی کے اوراق میں سے یہ باتیں حافظے کی سطح پر ظاہر ہوئیں تو میں نے سوچا کہ ہر فرد کسی نہ کسی عقیدے پر زندگی گزارتا ہے۔ عقیدہ ایسی عینک ہے جو غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط دکھا سکتا ہے۔ درست عقائد سے سوچ کو جِلا ملتی ہے ورنہ حیات کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔

اخلاقی قدریں ہر معاشرے میں یکساں ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ تکلیف پہنچانے کا نتیجہ تکلیف ہے اور لوگوں کے لیے راحت کا سبب بننے سے راحت ملتی ہے۔ یہ بھی دیکھا ہے کہ جب مظلوم کو انصاف نہ ملے تو ظلم کرنے والا سرکشی میں بڑھ کر فرعونیت کی تصویر بن جاتا ہے۔ ظالم کو اس کی غلطی کا احساس دلانا اور مظلوم کی داد رسی کرنا انسانیت کے اصول ہیں ورنہ مکافاتِ عمل کا قانون ہمہ وقت سرگرمِ عمل ہے۔

ایک مرتبہ راہ نما نے فرمایا،

”والدین کی غلطیوں کی سزا اولاد کو ملتی ہے۔“

میں نے عرض کیا، اللہ رحمٰن و رحیم ہے پھر ایک کی سزا دوسرے کو ملنے والی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ انہوں نے سمجھایا،

”اولاد والدین کے وسائل استعمال کرتی ہے اس لیے وراثت میں عمل کا نتیجہ ہے۔“

بندگی یہ ہے کہ جس نوعیت کی غلطی سرزد ہو، اسی راستے سے پلٹ کر بندہ اللہ کی بارگاہ میں جھک جائے اور معافی کا طلب گار ہو تو نسلوں کا قرض اتر جاتا ہے اور اولاد ماں باپ کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنے سے محفوظ ہو جاتی ہے۔

اندر باہر اور آس پاس حالات پر غور کرنے سے تاثر یہ ملتا ہے کہ ہم نے مکافاتِ عمل کے نظام کو نہیں سمجھا اور جس وجہ سے تکلیف سے گزرتے ہیں، اسی عمل کو دہراتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دنیا میں ذلت اور آخرت میں رسوائی ملتی ہے۔ یہ طرزِ عمل بھی عام ہے کہ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر ہم کہتے ہیں کہ یہ اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے۔ سوچتی ہوں کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے کہ کسی کی تکلیف مکافاتِ عمل ہے یا آزمائش؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں،

”کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں؟ مگر اس پر بھی توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔“ (التوبہ : ۱۲۶)

ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کی آزمائش دوسرے کی مکافات بن جاتی ہے۔ ایک خاتون کے بارے میں اس کی سسرالی بہن نے کہا، اس کی شادی کو دو سال ہو چکے ہیں لیکن یہ اب تک اولاد سے محروم ہے۔ یقیناً یہ بانجھ ہے۔

ایسے تبصرے بے حسی کی علامت ہیں اور دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ فرد ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر پُرسکون زندگی سے دور ہو جاتا ہے۔ اللہ کے فضل سے کچھ عرصے بعد بے اولاد خاتون کی گود بھر گئی۔ جس خاتون نے تبصرہ کیا تھا، انہوں نے اصلاح نہیں کی اور اپنے رویوں کی وجہ سے مسائل میں الجھی رہیں۔

بندہ حد سے تجاوز کرنے پر قانون کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ مکافات کا قانون بہت سخت ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ دوسروں کو اپنے قول و فعل سے تکلیف پہنچانے والوں کے ساتھ بڑے لرزہ خیز واقعات پیش آتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض خطائیں قبر کے اندر تک پیچھا کرتی ہیں۔

ایک صاحب راہ نما کے پاس حاضر ہوئے اور مسئلہ بیان کیا کہ کسی ادارے نے ان سے کام کروانے کے بعد معاوضہ دینے سے انکار کر دیا۔ رقم لاکھوں میں تھی۔ وہ صاحب عدالت میں مقدمہ جیت گئے مگر ادارہ ادائیگی میں پس و پیش سے کام لے رہا تھا۔ راہ نما نے ان سے فرمایا،

”آپ کو اسی شہر میں کام کرنا ہے، اس طرح دشمنی ہو جائے گی، آپ رقم چھوڑ دیں۔“

وہ صاحب بتاتے ہیں کہ نو سال بعد اجرت نہ دینے والے ادارے کا سربراہ عالمِ ناسوت سے رخصت ہوا تو گھر میں ناچاقی کے سبب اس کا جسم تین دن مردہ خانے میں رہا۔ اس دوران مرحوم مسلسل تین رات اس صاحب کے خواب میں آئے۔ جسم پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا اور سینے پر نشان تھے۔ وہ معافی کی التجا کر رہے تھے۔

انہوں نے جب بیوی کو بتایا کہ میں تین دن سے ایک ہی خواب دیکھ رہا ہوں تو بیوی نے کہا، آئیے، دونوں مل کر اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہم نے آپ کے محبوب آخری نبیﷺ کے صدقے اس شخص کے ذمے اپنی رقم معاف کر دی۔

اگلے روز اخبار میں مرحوم کی نمازِ جنازہ کی خبر پڑھی۔ دوبارہ یہ خواب نظر نہیں آیا۔

چند سال قبل خیال آیا کہ جب قتل جیسے قبیح فعل کا خون بہا ہے تو پھر ہر برائی کا تاوان ہوگا۔ حقوق العباد کا معاملہ بہت نازک ہے، چھوٹی خطا بڑی فصیل بن جاتی ہے لیکن کفارہ ادا کر کے محبت کی راہیں ہموار کی جائیں تو سودا اچھا ہے۔ اس خیال کے زیرِ اثر اگر مجھے کسی بات پہ غصہ آتا ہے تو میں فوراً آٹا یا کھانے کی کوئی چیز خیرات کرتی ہوں۔ غیبت ہو جائے تو وضو کرتی ہوں۔

ایک روز میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ دل نے کہا کہ تاوان کی رقم یا شے بھی تو اللہ دیتا ہے، غلطیاں دہرانے کی بجائے جذبات پر قابو پانا سیکھو۔ رفتہ رفتہ مزاج میں تبدیلی آئی۔

مخلوق رنگوں کا گلدستہ ہے جس میں سے ایک پھول کا گرنا بھی قدرت کو گوارا نہیں۔ قدرت ٹوٹی ہوئی شاخ کی بھی حفاظت کرتی ہے جب تک کہ اس دنیا میں اس کا وقت پورا نہ ہو جائے۔

پیغمبر حضرت یونسؑ درخت کے سوکھ جانے پر پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا،

”تم اس درخت کے اجڑنے پر رنجیدہ ہو لیکن تم نے یہ نہیں سوچا کہ نینوا جو ایک لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل شہر ہے، کیا مجھے اس کے برباد ہونے پر ناگواری نہیں ہوگی؟“

یہ اسباب کی دنیا ہے جس میں ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ درزی کپڑے سیتا ہے تو ہم کپڑے پہنتے ہیں، کسان فصل بوتا ہے اور ہم اناج کھاتے ہیں، ادویات کسی اور ذریعے سے ملتی ہیں۔ وسائل اللہ نے تخلیق کیے ہیں اور شے وسیلے کے ذریعے ملتی ہے۔ اس مقام پر ہم سے لغزش ہو جاتی ہے۔ ہم لوگوں کو وسائل کا ذریعہ سمجھنے کی بجائے وسائل کا سبب سمجھ لیتے ہیں جب کہ ہم خود بھی اسی زنجیر کی کڑی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اپنے عیبوں پر نظر رکھنے والا فرد دوسروں کے عیب نظر انداز کرتا ہے۔

ایک مرتبہ راہ نما نے فرمایا،

”اگر کوئی کسی کی تکلیف کا باعث بن گیا تو جب تک وہ اتنی ہی مقداروں میں تکلیف دیکھ نہیں لیتا، اس دنیا سے نہیں جاتا۔“

آدمی پر جو مصیبت آتی ہے، وہ اپنی وجہ سے ہے۔ اللہ رحمٰن و رحیم ہے۔ معاف فرماتا ہے۔ معافی کے نظام پر غور کرنے سے رُواں رُواں شکر گزاری کی تصویر بن جاتا ہے۔ اس دنیا کے معاملات یہیں نمٹا دیے جائیں تو یہاں سے جاتے ہوئے اندر میں بوجھ نہیں ہوتا اور دوسری دنیا خوشی کی تصویر بن جاتی ہے۔ معافی سے قبل صبر کا زون ہے۔ صبر سے بندے کو اللہ کا قرب ملتا ہے۔ اللہ نے انسان کو بدلہ لینے اور معاف کرنے کا اختیار عطا کیا ہے۔ اللہ کے قرب کو محسوس کرنے والا بندہ معاف کرنے کے عمل کو اپناتا ہے اور انتقام کی تکلیف سے آزاد ہو جاتا ہے۔


 

Topics