Topics
علم کے حصول سے شعور وسیع ہوتا ہے جب
کہ فریب پر مبنی طرز فکر شعور کو محدود کر دیتی ہے۔ مثلاً مادی شعور کے ارتقا کی مثال یہ ہے کہ بچہ الف ب پ ، ABCDاور 123 کو قبول کر لیتا ہے اور اسکول کے دس
سالوں کے دوران نویں کلاس میں پہنچ کر یہ سیکھتا ہے کہ اللہ نے مینڈک اور آدمی کے
اندر ایک جیسی مشینری رکھی ہے ۔ گھر اور اسکول دونوں جگہ اسے بتایا جاتا ہے کہ
آدمی اشرف المخلوقات ہے۔
جب مینڈک اور آدمی کی مشینری ایک سی
ہے مثلاً دل ، جگر ، دماغ ، پھیپھڑے ، مثانہ وغیرہ تو کیا یہ آدمی کے امتیاز کی
وجہ ہو سکتی ہے؟ اگر آدمی کو مینڈک کے بارے میں معلومات ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اماں
مینڈک نے بھی اپنے بچے کو بتایا ہو کہ اللہ نے ہمیں اور ہر مخلوق کو آنکھ ، ناک ،
کان ، دل ، جگر اور دماغ دیا ہے۔
جب بچہ روحانی استاد کے پاس آتا ہے تو
استاد بتاتے ہیں کہ نوعِ آدم کی فضیلت وہ علم ہے جس کی بنیاد پر فرشتوں نے اسے
سجدہ کیا اور جس سے زمین و آسمان کا علم حاصل ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں تفکر سے شعور کو جِلا
ملتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ،
”کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے
کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی
مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور
شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔“ (ابراہیم : ۲۴)
پاکیزہ درخت سے دماغ میں راہ نما کی
تصویر بنی۔ درخت کا کردار ماں اور باپ کا ہے۔ اس میں پھول پھل لگتے ہیں اور یہ
سایہ دیتا ہے۔ راہ نما یا استاد بھی ماں کی طرح تخلیق کا ذریعہ بنتا ہے، وہ اپنی
نگرانی میں کوئلے کو تراش کر ہیرا بناتا ہے اور باپ کی طرح شفیق و مہربان ہوتا ہے۔
درخت راہ نما کی مانند ہے اور پتّے مثلِ شاگرد ہیں۔ پتّے درخت کا حصہ ہیں ، وہ نہ
خود کو اس سے علیحدہ کر سکتے ہیں اور نہ ایک درخت کا پتّا دوسرے سے جڑ سکتا ہے۔
ایک مرتبہ راہ نما نے فرمایا،
”میں پیر، منگل ، بدھ نہیں ہوں ۔ آپ سب
میرے شاگرد ہیں، میں آپ کا استاد ہوں اور دوست بھی ہوں۔
بزرگ راہ نما نے باطنی علوم کے ساتھ
دنیاوی علوم کو بھی اہمیت دی ہے اور چاہتے ہیں کہ لوگ جدید اور سائنسی علوم سیکھیں
اور نیوٹرل ذہن سے تحقیق و تلاش کریں۔
فی زمانہ بچے کا شعور تیزی سے بلوغت کے
درجات طے کرتا ہے۔ آج بچہ پیدا ہوتے ہی آنکھ کھول لیتا ہے جب کہ 20 سال قبل صورتِ
حال یہ تھی کہ بچہ دنیا میں پیدا ہونے کے پانچ سے دس دن بعد آنکھ کھولتا تھا۔
شعوری ارتقا کی وجہ سے پہلے کی بہ نسبت روحانی علوم کی تفہیم آج آسان ہے۔
راہ نما کے پاس متفرق شعبہ ہائے زندگی
سے لوگ آتے ہیں جن کا علم ، ذوق ، صلاحیتیں اور ذہنی استعداد مختلف ہوتی ہے ۔ کوئی
پیشے کے لحاظ سے سائنس دان ، پائلٹ ، ڈاکٹر ، انجینئر ، لیکچرار، پروفیسر ، بڑھئی
اور کوئی موچی ہوتا ہے۔ کوئی امیر ہوتا ہے ، کوئی غریب ، کوئی وسیع الذہن اور کوئی
تنگ نظر ہوتا ہے۔ کسی کے اٹھنے بیٹھنے، پہننے اوڑھنے اور بول چال میں وقار ہوتا ہے
اور کوئی ان آداب سے غافل۔ پھر ان سب کی ایک ساتھ کس طرح تربیت کی جاتی ہے؟
ان کی افتادِ طبع کو سامنے رکھ کر۔
تفکر سے آگہی ملی کہ افتادِ طبع شعور
کا دائرہ ہے جیسے مزاج، طبیعت اور سوچنے سمجھنے کا انداز۔ شعور کے جس دائرے میں
فرد کی نشونما ہوئی ہے، اسی کے مطابق شاگرد کی اٹھان یا تربیت ہوتی ہے۔ روحانی
استاد محدود شعور کو یکلخت ختم نہیں کرتے بلکہ آہستہ آہستہ ضرب لگاتے ہیں، مزاج
میں ٹھہراؤ پیدا کر کے آبا ؤ اجداد سے ملنے والی فریب پر مبنی طرز ِفکر سے آزاد
کرتے ہیں اور اپنی افتادطبع پر لے کر آتے ہیں جو صبر ، شکر ، یقین اللہ اور اس کے
رسول خاتم النبیین ﷺ کی محبت سے روشن ہے۔
اگر کسی کی طبیعت میں تیزی یا جذباتیت
ہے تو اسے نرمی اختیار کرنے کا کہا جاتا ہے۔ کسی کو تجربات سے گزار کر غصے کے اثر
سے نکالا جاتا ہے اور کسی کو صبر کرنا سکھایا جاتا ہے اور یہ باتیں اشارتاً فرمائی
جاتی ہیں۔ تعمیل سے طبیعت اور مزاج تبدیل ہوتا ہے اور شاگرد کا اپنا رنگ باقی نہیں
رہتا، وہ استاد کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔
ایک خاتون نے پوچھا کہ باطنی علوم حاصل
کرنے سے مزاج میں بہت تبدیلی آجاتی ہے، شوق اور ذوق بدل جاتا ہے ، جن کے ساتھ پہلے
زیادہ اٹھتے بیٹھتے تھے، اب ان سے ذہن نہیں ملتا ۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
انہوں نے فرمایا ، کیا آپ نے کبھی
دیکھا ہے کہ بکری آئے اور بھیڑوں میں بیٹھ جائے؟ بکری ہمیشہ بکری کے ریوڑ میں بیٹھے
گی اور بھیڑ ہمیشہ بھیڑوں میں بیٹھے گا۔
ایک صاحب نے عرض کیا ، حضور! کوشش کے
باوجود اور اسباق میں ناغہ ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
راہ نما نے پوچھا ، آپ دفتر کا ناغہ
کرتے ہیں؟
ان صاحب نے عرض کیا ، نہیں۔
فرمایا ، دفتر میں ناغہ اس لئے نہیں
کرتے کہ تنخواہ کٹ جاتی ہے۔ یہاں بھی اگر کہہ دیا جائے کہ مراقبہ کرو گے تو کھانا
ملے گا تب دیکھنا ناغہ ہوتا ہے یا نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اہمیت نہیں ہے۔
غور و فکر اور سوال و جواب کی نشست
تھی۔میں نے بزرگ راہ نما سے عرض کیا، آپ ایثار کی بہت تلقین فرماتے ہیں۔ محسوس
ہوتا ہے کہ روحانیت کا پہلا اور آخری سبق ایثار ہے۔ کیا میں نے ٹھیک سمجھا؟ وہ
مسکرائے اور فرمایا،
' جو جتنا ہوم ورک کرتا ہے ، وہ
اتنا اچھا دوست ثابت ہوتا ہے۔ آپ تعمیل
کریں گی تو درس و تدریس کی پہلی صف ، دوسری صف یا تیسری صف میں بیٹھیں گی۔ جو
ایثار کرے گا ، وہی سوچے گا کہ اگر میں نے ایثار کیا تو میرے پاس کچھ نہیں رہے۔
ایثار کا مقصد کیا ہے؟ یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے ، وہ آپ کا نہیں ہے۔ جب آپ کا
کچھ نہیں ہے تو اسے دوسروں میں تقسیم کرتے ہوئے تکلیف نہیں ہوگی۔ ایثار آتا ہی
دوستی میں ہے۔ اب پیری مریدی میں کیا ہوگا؟ شاگرد سوچے گا میرے بہت احسان ہیں۔
دوستی میں احسان بھی ہوتے ہیں لیکن وہ نظر نہیں آتے۔ آدمی یہ سوچتا رہتا ہے کہ میں
دوست کے لیے کیا کروں۔ جب آپ ایثار کرتے ہیں اور دوسروں کو دیتے ہیں تو آپ خالی
نہیں ہوتے۔ مٹکا کی طرح بھر جاتے ہیں مگر آپ کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔“
ان کی
مسکراہٹ گہری ہوئی اور فرمایا،
”ایثار کرتے جاؤ ، ایثار کرتے جاؤ۔“
پھر دھیمی آواز میں گویا ہوئے،
”اصل میں استاد ہی ایثار کرواتے ہیں
اور نظارے بھی وہی کرواتے ہیں۔“
کچھ توقف کے بعد فرمایا،
”میرے پاس ایک صاحب آئے ، کہنے لگے کہ
مجھے اتنے سال ہو گئے ہیں ۔ میں نے خانقاہ (سلسلہ) کی بہت خدمت کی ہے۔مجھے ابھی تک
کچھ نہیں ملا۔ آپ مجھے خلیفہ بنا دیں۔ میں نے ان صاحب سے کہا، کَسوت لے آؤ، میں
تمہیں ابھی خلیفہ بنا دیتا ہوں۔“
یہ سن کر وہاں موجود لوگ مسکرادیئے۔ انہوں نے فرمایا،
”کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اتنے سال
ہو گئے ، بیعت کی ، داخلہ لیا مگر؟ وہ کوئی کام تو کرتے نہیں پھر ان کی ترقی کیا
ہوگی؟ یہ ایسا ہے کہ آپ گھر میں اماں سے کہیں کہ بستہ تیار کریں اور یونیفارم دیں،
میں اسکول جا رہا ہوں۔ اسکول پہنچ گئے
لیکن آپ نے املا یاد کیا نہ خوش خطی کی بس اسکول کا ماحول دیکھا، کھیلے کودے اور
واپس آگئے۔ بیعت کا احترام نہ کرنے والوں کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ جب ایسے لوگ
میرے پاس آتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ کَسوت لے آؤ، میں تمہیں نائی بنا دوں۔ نائی
سے مراد ہے کہ تمہاری تراش خراش کر دوں لیکن تم تو تراش خراش کروانے کے لئے تیار
نہیں ہو۔ اس بات کو ہم کتنی مرتبہ کتابوں میں لکھ چکے ہیں کہ میٹرک کی تعلیم کے
لیے آپ اتنے گھنٹے نکال لیتے ہیں لیکن روحانی تعلیم کے لئے دس منٹ نہیں نکالتے۔“