Topics
بہت دنوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ روح عالمِ وارفتگی میں
مصروفِ طواف ہے۔
راہ نما کی دعاؤں کے طفیل ارضِ مقدس سے بلاوا آیا۔ اللہ
اور اس کے محبوب خاتم النبیین ﷺ کے در پر حاضر ہونے کا جوشِ جنوں اتنا تھا کہ محبت
کا سفر امتحان بن گیا۔ سفر کے دوران ایک لمحہ ایسا آیا جب میں نے سوچا کہ محبت
اندر میں ہے پھر سفر کیسا؟
اندر میں سے جواب آیا، محبت یقین ہے اور یقین راسخ ہونے
کے لیے سفر ضروری ہے۔
دنیا صرف ظاہر نہیں ہے، اس کی اصل باطن ہے۔ بظاہر فرد
دنیا کے ظاہر میں رہتا ہے لیکن سفر باطن میں کرتا ہے جیسے گاڑی سڑک پر ہوتی ہے اور
اس کی رفتار گیئر کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ مسافر قدم در قدم سڑک پر چلتا ہے لیکن
منزل ذہن میں ہوتی ہے۔۔ یہی مثال زائر کی ہے۔ جب وہ بیت اللہ کا طواف کرتا ہے تو
اس کی روح محبت میں سجدہ ریز ہوتی ہے۔
ارضِ مقدس کا سفر اندر کے یقین کو شعور میں منتقل کرنے
کا سفر ہے۔ محبت و یقین کے اس سفر میں حرارت ہے اور ٹھنڈک بھی۔
خالقِ کائنات نے فرمایا ہے،
”پھر اپنا میل کچیل اتاریں اور اپنی منتیں پوری کریں
اور اس آزاد گھر کا طواف کریں۔“ (الحج : ۲۹)
”آزاد گھر“ میں لبیک کہتی ہوئی حاضر ہوئی۔ آزادی کا
جبّہ پہنے ہوئے اب میں بھی آزاد تھی۔ ہر فکر اور ہر ملال سے آزاد۔ بس مالکِ کُل کو
دیکھنے کی چاہ تھی۔ یہاں آنے والا نیت کے مطابق مراد پاتا ہے۔ دنیا کے طالب دنیا
مانگنے آتے ہیں اور طالبِ حق قرب پاتے ہیں۔
بیت اللہ کی مقناطیسی لہریں زائرین خواتین و حضرات کو
اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ امن والے شہر میں قیام کی دس راتیں ایک لمحے میں سما گئیں
اور وہ لمحہ پیاس بن گیا جس کی سیرابی کے لیے دریا بھی ناکافی ہے۔
مکہ مکرمہ کے روح پرور لمحات سے فیض یاب ہو کر مدینہ
منورہ کی جانب عازمِ سفر ہوئی۔
مدینہ منورہ شہرِ محبت ہے۔ یہاں جا بجا محبت کے نشانات
ملتے ہیں۔ دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان ہوں تو ماضی کے لمحات شعور کی سطح
پر نمایاں ہو جاتے ہیں۔
گاڑی ہوٹل کے باہر رکی۔ میں تازہ دم ہوئی اور نبیِ رحمت
ﷺ کے در پر حاضری کے لیے مسجدِ نبویﷺ روانہ ہوئی۔ مکہ اور مدینہ میں دل کی جو
کیفیات ہوتی ہیں، وہ زیرِ قلم نہیں آ سکتیں۔
روضۂ رسولﷺ مقامِ ادب ہے جہاں بے قرار محبتیں قرار پاتی
ہیں اور دھڑکنیں نذرانۂ عشق پیش کرتی ہیں۔ ہر زائر کی آنکھ اشک بار تھی۔ عاشقانِ
رسولﷺ پر رحمت کی بارش ہوتی ہے اور دامن قرب کی دولت سے بھر جاتا ہے۔
درود و سلام پیش کرتے ہوئے رحمت کی بارش میں حواس۔۔۔ بے
حواس ہو گئے۔
مدینہ منورہ میں بیشتر وقت مسجدِ نبویﷺ میں گزرا۔ اس کے
بعد جو وقت ملتا، یہاں کی گلی کوچوں اور سبزہ زاروں کو آنکھوں میں جگہ دیتے گزر
جاتا۔
ایک اسکول کے میدان میں بچوں کو کھیلتے کودتے اور
شرارتیں کرتے دیکھا تو خیال آیا کہ بچے زمین کے جس خطے میں ہوں، ایک جیسے ہوتے
ہیں۔ انہیں محویت سے دیکھتی رہی۔ ان کی بریک ختم ہوئی تو وہ کلاسوں میں چلے گئے۔
مدینہ منورہ وہ قطعۂ ارض ہے جہاں حضور اکرمﷺ نے ہجرت
فرمائی تو رہتی دنیا تک اس شہر کی پہچان مدینۃ النبیﷺ ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہاں
ایک فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی جس کی نظیر دنیا میں نہیں۔ دل حضور پاکﷺ کی رحمت کو
محسوس کر کے تشکر، محبت اور عقیدت سے معمور ہو گیا۔
راہ نما فرماتے ہیں کہ وہاں اذانیں ہوتی ہیں تو سماں
محوِ رقص ہو جاتا ہے۔
اللہ نے نوعِ آدم کو اختیار عطا کیا ہے کہ وہ کثیف یا
لطیف حواس اختیار کر سکتی ہے۔ جب فکر مقاماتِ مقدسہ کے انوار قبول کرتی ہے تو مادی
حواس پر نورانی حواس غالب آ جاتے ہیں۔ مدینہ کی نور علیٰ نور فضا میں اندر میں وہ
آوازیں سنیں کہ حواس انوار میں جذب ہو گئے۔
مخلوق حواس کا مجموعہ ہے۔ سننے، دیکھنے، بولنے اور
چھونے کی حس کا تعلق محسوسات سے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فرد کو فرد نظر آتا ہے،
محسوسات اور جذبات نظر نہیں آتے۔ وہ شکل و صورت دیکھنے سے مانوس ہے جب کہ جذبات و
محسوسات کی بھی شکل و صورت ہے لیکن فرد دھیان نہیں دیتا۔
خاکی، ناری اور نوری ہر وجود ایک محسوساتی دنیا ہے۔ یہ
محسوسات ہی ہیں جو فرشتے کو فرشتہ، جنات کو جن، پرندے کو پرندہ، آدمی کو آدمی اور
انسان کو انسان بناتے ہیں۔ ان کی حرکت سے آدمی زندہ اور قائم رہتا ہے۔
حواس میں تبدیلی اور تغیر نہیں ہے۔ جب تغیر سے متاثر
ذہن ان کو استعمال کرتا ہے تو اپنی لاعلمی کو نظر انداز کر کے سمجھتا ہے کہ حواس
میں تغیر ہے لیکن تغیر سے محفوظ ذہن حواس کی مدد سے Reality دیکھتا ہے۔ حواس کی نوعیت روحانی ہے اور ان
کی تخلیق کا مقصد خالقِ کائنات کا دیدار ہے۔ جب آدمی پیدائش کے ازلی مقصد کو بھول
کر حواس کی حرکت کو جسم کی حرکت سمجھتا ہے تو دیکھنے سننے کی طرز بدل جاتی ہے۔
مادی حواس مادے (Matter)
کی دنیا میں سفر کرتے ہیں ۔۔ یہ شے کے اندر دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کیوں کہ
مادے کی حیثیت لباس ہے۔
زمین پر آنے کے بعد آدمی حواس کا صحیح استعمال بھول گیا
ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں جب کہ وہ کسی کے دکھانے کو دیکھ رہا
ہے۔ اسے سماعت عطا کی گئی ہے جس کے ذریعے وہ سن رہا ہے یعنی کسی کے سننے کو سن رہا
ہے۔ اس طرح دیکھنے اور سننے میں مٹی کے تشخص (میں) کی آمیزش نہیں ہوتی اور حواس
نور کی دنیا میں سفر کرتے ہیں۔
نورانی حواس کائناتی حواس ہیں جو تمام حواس کے یکساں
ہونے یعنی ایک فریکوئنسی میں سفر کی نشاندہی کرتے ہیں۔
میں نے ہوٹل میں اپنے کمرے کا دبیز پردہ ہٹایا اور
کھڑکی کھولی تو سڑک کے اس پار عمارتوں کے پیچھے محبت مسکرا رہی تھی۔
یہ جبلِ احد ہے۔۔۔ محبت کا پہاڑ جس کے بارے میں رسول
اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے،
”احد کو مجھ سے اور مجھے احد سے پیار ہے۔“
میں نے طمانیت سے آنکھیں بند کیں اور دل کی زبان میں اس
سے مخاطب ہوئی۔
”اے محبت کی قدیم یادگار! تم یقیناً محبوب کے احساس میں
گم ہو اسی لیے تمہاری شادابی قائم ہے، میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں۔“
میں ہوٹل میں کم ہی آتی تھی۔ جس علاقے میں رہائش تھی،
وہاں جبلِ احد سڑک سے نظر نہیں آتا۔ رہائش تیسری منزل پر تھی۔ کھڑکی سے پردہ ہٹاتے
ہی احد سامنے ہوتا۔
مدینہ منورہ کی نورانی سرزمین پر کسی شے سے اجنبیت
محسوس نہیں ہوتی۔ وہاں کی مٹی کی خوشبو شعور کو لاشعور سے روشناس کرتی ہے۔ پودوں
کے لمس کو محسوس کرتی تو انجانی مہک اندر میں اتر کر ایک ہونے کا احساس پیدا کرتی
تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وقت تھم گیا ہے۔ دیارِ نبیﷺ میں سردیوں کی دھوپ کئی بار
دیکھی لیکن موسمِ گرما کی تمازت پہلی بار محسوس کی۔
دھوپ میں نکلتے ہی ایک عظیم ہستی کی یاد آتی اور سرد آہ
کے ساتھ گرم آنسو فضا میں تحلیل ہو جاتے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا۔۔ یہ موسم کی
مہربانی تھی یا میری خوش نصیبی کہ ایک روز میں یہاں کی دھوپ میں مسجدِ بلالؓ کی
جانب کھینچتی چلی گئی۔ دل اس جذبے کو سمجھنے کے لیے بے قرار تھا جس نے حضرت بلال
حبشیؓ کو صحرائے عرب کے ریگ زار پہ پگھلتے ہوئے وجود سے ایک اللہ کی صدا بلند کرنے
کا عزم پیدا کر دیا تھا۔ تکلیف کی شدت سے وہ بے ہوش ہو جاتے اور ہوش میں آتے تو
اندر سے اللہ اللہ کی آواز کانوں میں رس گھولتی۔
حضرت بلالؓ جو غلام ابنِ غلام تھے، ان کے خاندان میں
توحید پرستی کا شائبہ نہ تھا۔ انہیں خدائے واحد کا اقرار اور اس کے محبوب آخری
نبیﷺ کی دعوت میں ایسی کشش محسوس ہوئی کہ ان کی دنیا ہی بدل گئی۔ یہ رسول اللہ ﷺ
کی نگاہِ محبت تھی جو حضرت بلالؓ کے اندر یقین کی قندیل بن گئی۔ رسول اللہ ﷺ کی
محبت نے ان کے اندر میں نور سے متعارف کروایا جس کی لطافت۔۔۔ صحرا کی تمازت پر
غالب آ گئی۔
حضرت بلال حبشیؓ نے زندگی غلامی میں بسر کی تھی۔ وہ
تابع داری سے واقف تھے۔ ان کے اندر چوں و چرا نہیں تھی۔ حضور پاکﷺ کا ”مخلوق دوست“
پیغام سن کر فرماں برداری کی مرکزیت بدل گئی۔ اللہ کی معرفت فرماں بردار ذہن سے
حاصل ہوتی ہے۔ ایک اللہ کے در کو پکڑنے والا بندہ خوف و غم پر غالب آ جاتا ہے۔
مسجدِ بلالؓ میں داخل ہوئی، نفل نماز ادا کرنے کے بعد
محبت و عقیدت سے مراقب ہوگئی۔ الحمد اللہ۔۔ نورانی ہستیوں کی زیارت ہوئی جن میں سے
ایک اسلام کے پہلے مؤذن تھے۔ انہوں نے کھجور، اناج، قسم قسم کے میوے اور چمک دار
جواہر تحفے میں دیے۔
میں نے خود کو سفید کبوتر کی شکل میں دیکھا۔ نورانی
ہستیاں سفید کبوتر کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔ یہ ناقابلِ بیان منظر تھا۔
سجدۂ شکر بجا
لائی۔
اس ناچیز پر اللہ تعالیٰ کے لاشمار انعامات ہیں۔ ہمیشہ
حسرت رہی کہ رب کی بارگاہ میں کوئی تحفہ پیش کروں لیکن بندہ رب کو خود سپردگی اور
فرماں برداری کے علاوہ کیا تحفہ پیش کر سکتا ہے! احساسِ تشکر نے اشعار کا روپ
دھارا جن کو چن کر میں نے نظم پرولی۔ ایک شعر یہ ہے:
دامن میں اپنے کیا جو نذرِ حضور کرتے
ہم چل پڑے جنوں میں سر پہ اٹھائے سجدے