Topics

عالمِ نزع ۔مئی ۔۲۰۲۱

 

راہ نما کا معمول تھا کہ نماز ِ فجر سے قبل قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے ۔ مسجد سے واپسی پر 45 منٹ ٹہلتے اور ناشتے کے بعد علمی مصروفیات کا آغاز ہوتا۔ جب وہ پُر سوز آواز میں تلاوت کرتے ، سماں بندھ جاتا ۔ اللہ کے دوست کی آواز میں کلام پاک کی آیات فضا میں نشر ہوتیں تو ماحول میں سکوت چھا جاتا ، دل میں سکون کی لہریں دور کرتیں اور نورانی آیات کا مفہوم جاننے کا ذوق بیدار ہوتا ۔ پرندے اور حشرات خاموش ہو جاتے ، درخت دم سادھے کھڑے رہتے اور ہر شے وجد میں دکھائی دیتی ۔ دل چاہتا تھا کہ کاش وقت تھم جائے اور زندگی ان لمحوں کی نذر ہو جائے۔

ایک صبح ماحول پر ناقابلِ فہم اداسی طاری تھی۔ راہ نما نے آج معمول سے زیادہ وقت تلاوت کی۔ میرے اندر خاموشی اتر گئی۔ خیال آیا کہ آج کوئی اِدھر سے اُدھر جا رہا ہے۔

یکم دسمبر 2006ء میرے لیے نوید لایا۔ اس روز میرا پہلا بچہ پیدا ہوا ۔ راہ نما ہمیشہ فرماتے ہیں کہ خوش رہنے والے لوگ جنتی ہیں ۔ آدمی دنیا میں جس طرز فکر میں جیتا ہے ، اسی طرز فکر کے ساتھ دوسری دنیا میں اٹھتا ہے ۔ جسم خاک کا پیوند بنتا ہے اور سوچ آگے منتقل ہو جاتی ہے ۔ میں سوچتی تھی کہ طرز فکر کے ساتھ مرنے والے کے آخری الفاظ جو اس کی زبان پر یا دل میں ہیں، کیا وہ دوسری دنیا میں منتقل ہوتے ہیں؟

صبح دس بجے آپریشن کے لئے بے ہوشی (عارضی موت) سے قبل یکسو ہو کر چند الفاظ دہرانے لگی۔ میں تجربہ کرنا چاہتی تھی کہ اگر زندہ رہی تو ہوش میں انے کے بعد یہ الفاظ حافظے میں رہتے ہیں یا نہیں؟ کیفیت یہ تھی کہ اگر اللہ نے قسمت میں اس دنیا میں رہنا لکھا ہے تو خواہش تھی کہ مجھے یاد رہے بے ہوشی کے دوران میں نے کن مقامات کی سیر کی ، کیفیات کیا تھیں اور آپریشن کا عمل ان کیفیات پر کیسے اثر انداز ہوا؟

انجیکشن لگانے کے پہلے ذہن بٹانے کے لئے ڈاکٹر نے کہا، بی بی ۔۔ یہ آپریشن تھیڑ ہے ، یہاں کبھی کوئی اتنا تیار ہو کر نہیں آیا۔

میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آنکھیں بند کر کے دل میں الفاظ دہراتی رہی پھر غیر محسوس طور پر بے ہوشی کی نیند میں ذہن بہت دور نکل گیا۔

بچپن میں سنا تھا کہ مرنے کے بعد اللہ سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ سن کر مجھے موت کا سفر سب سے دلکش محسوس ہوا۔ ذہن اندر ہی اندر سفر کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ موت کے دلکش سفر پر از خود روانہ ہونا ممنوع ہے، مذہب نے اس کی اجازت نہیں دی مگر یہ ضرور ہے کہ ملاقات کے لیے تیاری پہلے سے کی جانی چایئے ، کیا معلوم کب بلاوا آجائے۔ یہ سفر تو محبوب کے بلاوے کا ہے۔

”ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔“

ذہن نے تلاش کیا کہ نیند کے علاوہ موت سے ملتی جلتی حالت کون سی ہے تاکہ موت کی کیفیت کا مشاہدہ ہو۔ آیا موت خوش ذائقہ ہے یا بد ذائقہ؟ اس کا ذائقہ کڑوا ہے ، میٹھا ہے یا ترش ہے؟

مسجد سے واپس آنے کے بعد راہ نما خاموش تھے۔ انہوں نے معمول سے کم ناشتا کیا اور کمرے میں تشریف لے گئے ۔ سوچا کہ دریافت کروں آج کون دنیا سے جا رہا ہے لیکن حوصلہ نہیں ہوا۔

نماز مغرب سے کچھ دیر قبل اطلاع ملی کہ دور دراز رہنے والے ایک رکن کا انتقال ہو گیا ہے۔

بچہ دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو کان میں اذان دے کر شعور کو تعلیم دی جاتی ہے کہ اللہ سب بڑا ہے ، اللہ کی بندگی کرو ، حضرت محمد ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں ، اللہ سے ربط اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم میں فلاح ہے۔ پیدائش کے وقت دیا جانے والا یہ پیغام اس دنیا میں موت تک زندگی کا سبق ہے۔ دیگر مذاہب کے لوگ اپنے دستور کے مطابق بچے کو دنیا میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

احساس ہوا کہ راہ نما جانتے تھے کہ کوئی عالمِ نزع میں ہے، زندگی کی مقداریں پوری ہوگئی ہیں اور اب وقتِ رخصت ہے تو انہوں نے کسی کی آسانی کے لئے آج معمول سے زیادہ تلاوت کی۔

آپریشن کے چند گھنٹوں بعد مجھے ہوش آیا۔ اسپتال سے ملحق مسجد میں جمعہ کا خطبہ جاری تھا۔ہوش میں آئی تو ذہن انہی الفاظ کو دہرا رہا تھا، بے ہوش ہونے سے قبل جن کا ورد کیا تھا۔

میں مسکرادی۔ گویا دوسرے عالم میں طرز فکر کے ساتھ الفاظ بھی منتقل ہوتے ہیں۔

الفاظ مفہوم کا لباس ہیں۔ نیت وہ قوت ہے جس کےتمام پہلو لباس کے تانے بانے میں مخفی ہوتے ہیں ۔ مادی دنیا میں الفاظ میں مخفی قوت یعنی نیت ، عمل کے پس پردہ کام کرتی ہے۔

عمل میں اخلاص نہ ہو تو الفاظ کا خول ٹوٹ جاتا ہے ۔ چوں کہ ایسے فرد کے الفاظ کی ماہیت ِ قلب دھوکے اور عمل دکھاوے پر مبنی ہے لہذا مرنے کے بعد بھی اس کے حواس منتشر رہتے ہیں۔اسے موت سے پہلے کا وقت اور الفاظ یاد رہتے ہیں لیکن اس یاد داشت میں سکون نہیں ہوتا ۔ ناسوت کی فلم آنکھوں کے سامنے نشر ہوتی ہے جسے دیکھ کر وہ بد حواس ہو جاتا ہے اور اذیت محسوس کرتا ہے۔

جن کی نیت میں خلوص اور اعمال میں سچائی ہے وہ یہاں رہتے ہوئے اور یہاں سے جانے کے بعد بھی خوش رہتے ہیں۔

راہ نما فرماتے ہیں کہ مرنے والے کا لواحقین کے ساتھ 30 سال تک رابطہ رہتا ہے ۔ جب رشتہ دار ایصلاِ ثواب کرتے ہیں تو فرشتے مرحومین کو یہ عمل تحائف کی شکل میں پہنچاتے ہیں۔ ذکر اذکار ، بلا تفریق خلقِ خدا کو کھانا کھلانا اور مدد کرنا ۔ ان تحائف سے مرحومین خوش ہوتے ہیں۔

مرحوم رشتہ داروں کو بھول جائیں تو وہ کچھ عرصہ یاد دہانی کراتے ہیں پھر اپنی دنیا میں مشغول ہو جاتے ہیں ، اور رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔

راہ نما نے واقعہ سنایا،              

”ایک خاتون کا انتقال ہوا ۔ بچے ایصالِ ثواب کے لئے غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے۔ فرشتے وہ کھانا دوسری دنیا میں خاتون کے سامنے بڑی تھال میں پیش کرتے تھے کہ بچوں نے آپ کے لئے بھیجا ہے۔ وہ خوش ہوتی تھیں۔ ایک بار فرشتوں نے کھانے کے ساتھ زرق برق جوڑے ، خوش بو اور دوسری اشیا پیش کیں۔ وہ ان چیزوں کو دیک دیکھ کر خوش ہوتی تھیں۔ دراصل جب وہ اس دنیا میں تھیں تو انہیں غریب بچیوں کی شادی میں حصہ لینے کا بہت شوق تھا ۔ اطلاع ملتی کہ فلاں کی شادی ہے تو وہ مالی حیثیت کے مطابق خاموشی سے تیاری شروع کر دیتیں اور شادی سے پہلے لڑکی کے گھر دے آتیں۔ جب بچوں نے ایصالِ ثواب کے لیے اس عمل کو دہرایا تو دوسری دنیا میں ان کی والدہ کی خوشی دیدنی تھی۔“

فرد کروٹ لیتا ہے۔ کروٹ کےایک طرف زندگی موت اور دوسری طرف موت زندگی بنتی ہے ، روح کا سفر جاری رہتا ہے ۔ روح خالق کے امر میں سے ہے اور امر نافذ العمل ہے۔

ایک بار گھاس پر ٹہلتے ہوئے پیروں کے نیچے جڑی بوٹی آگئی اور منہ کڑوا ہو گیا۔ حیرت ہوئی جڑی بوٹی پیر سے مس ہوئی اور ذائقہ زبان نےمحسوس کیا۔ کیا پیروں کے ذریعے لمس محسوس ہوتا ہے؟ غورو فکر سے میں یہ سمجھی کہ ہر تخلیق روشنی کے دائرے میں بند ہے۔ چہل قدمی کرتے ہوئے ذہن یکسو تھا اس لئے جب جڑی بوٹی کی روشنی میرے احساس میں جذب ہوئی تو زبان نے اس کا ذائقہ یعنی کڑواہٹ محسوس کی۔ میں اس نتیجے پر پہنچی کہ پیر نے زبان کا کام کیا۔

جسم اعضا کے ربط کا نام ہے۔ ذائقے کے لحاظ سے ہمیں ناک ، کان اور گلے میں واضح طور پر ربط محسوس ہوتا ہے۔ سب کو تجربہ ہے کہ آنکھ یا کان میں دوا ڈالنے سے منہ کڑوا ہو جاتا ہے۔

دماغ ذائقے کی اطلاع فراہم نہ کرے تو زبان ہوتے ہوئے ذائقہ محسوس نہیں ہوتا اور خیال نہ آئے تو دماغ کی موجودگی میں اطلاعات کا سلسلہ معطل ہو جاتا ہے ۔ دو نتائج اخذ ہوئے۔

۱۔ زبان ذائقہ محسوس نہیں کرتی اور نہ دماغ اطلاع قبول کرتا ہے ، احساسات کا مقام کوئی اور ہے۔

۲۔ جسمانی اعضا کی کار کردگی انفرادی ہے اور اجتماعی بھی ۔ ہر عضو کا اپنا فعل ہے اور جتنے اعضا ہیں ، ان کی صفات ہر عضو میں موجود ہیں۔

جسم کو کائنات تصور کیا جائے تو حواس کی حیثیت مختلف جہانوں کی ہے اور خدوخال اس جہاں میں داخل ہونے کے دروازے ہیں جیسے بولنے کا جہاں ، چکھنے کا جہاں، سوچنے کا جہاں ۔ ان میں داخل ہونے کے دروازے الگ الگ ہیں جن کو ہم آنکھ ، کان ، ناک وغیرہ کہتے ہیں۔ ایک دروازہ ایسا ہے جس کا کردار اجتماعی ہے۔ روحانیت میں اسے مشترک حس کا نام دیا گیا ہے۔ اس حس سے تمام حواس سیراب ہوتے ہیں۔

حیات کی روشنی وجود میں قیام کرتی ہے تو فرد زندگی کا مزہ چکھتا ہے ، موت کی روشنی وجود پر چھانے لگے تو فرد موت کا ذائقہ محسوس کرتا ہے ۔ زندگی اور موت فرد کے ساتھ رہتے ہیں اور ہر لمحہ غالب مغلوب ہوتے ہیں۔لمحے پر موت وارد ہوتی ہے تو دوسرا لمحہ آتا ہے ۔ پہلا دن رخصت ہوتا ہے تو دوسرا دن زندگی بن جاتا ہے ۔

” رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں ۔ بے جان میں سے جان دار کو نکالتا ہے اور جاندار میں سے جان کو اور جسے چاہتا ہے ، بے حساب رزق دیتا ہے ۔“  (آل عمران : ۲۷)

اصل حس ایک ہے جس سے باقی حواس کا ادراک ہوتا ہے ۔ اس حس میں نقش و نگار مغلوب ہوتے ہیں۔ مثلا! اطلاع جب آتی ہے تو وہ صرف سماعت یا بصارت کے لیے نہیں آتی، اس میں خون کی گردش سے دل کی دھڑکن تک پورے جسم کے لئے معلومات ہوتی ہیں ۔ استاد مشترک حس سے متعارف کروانے کے لئے شاگرد کو چھوٹے بڑے تجربات سے گزارتا ہے تا کہ شعور فریبِ نظر کی حقیقت سے واقف ہو۔

حواس کی گہرائی میں نور کی لہریں متحرک ہیں۔ ذہن گہرائی میں کام کرتا ہے تو عقل کے خلا میں نور داخل ہوتا ہے اور حواس میں پھیل جاتا ہے ۔ نتیجے میں عقل نورِ فراست سے لبریز ہوتی ہے اور حواس شے کی اصل کا احاطہ کر لیتے ہیں ، نگاہ الوژن سے نکل آتی ہے اور اعمال خرابیوں سے پاک ہو جاتے ہیں یعنی جسم کی مشین جس مقصد کے لئے بنائی گئی ہے اس کا درست استعمال ہونے لگتا ہے۔

ہر عضو باشعور اور ایک دوسرے سے منسلک ہے۔ بنانے والے نے اعضا کے خلیات میں حافظے کے خلیات بھی رکھے ہیں۔

”آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ، ان کے ہاتھ ہم سے بیان کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے۔“   (یسٓ : ۶۵)

ایک نشست میں راہ نما نے فرمایا،

” مرنے کے بعد جس جہاں میں جانا ہے ، مرنے سے پہلے اس جہاں سے واقف ہو جائیں تا کہ موت کا خوف نکل جائے۔ ان دیکھی چیزوں کا خوف زیادہ ہوتا ہے ۔ جس جگہ گئے نہیں ، وہاں جانے سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ کس قسم کا موسم اور ماحول ہوگا ، شب و روز کیسے ہوں گے۔ یہ اصول ہے کہ جس چیز کو آپ نے دیکھ لیا اس کے بارے میں وسوسہ ختم ہو جائے گا ، موت کے بعد کی دنیا ہم نے نہیں دیکھی ، اس لیے موت سے ڈرتے ہیں۔ مر جاؤ مرنے سے پہلے کا مطلب یہ ہے کہ مرنے سے پہلے رنے کے بعد جہاں جانا ہے اس زندگی سے متعارف ہو جاؤ۔ وہاں کی بو دو باش، وہاں کے شب و روز سے اچھی طرح واقفیت حاصل کر لو ۔ واقفیت کا طریقہ خواب کی دنیا پر تفکر کرنا ہے جب جسم عارضی طور پر معطل ہو جاتا ہے لیکن نیند میں زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ وہاں زندگی اسی طرح قائم ہے جس طرح اس دنیا میں ہے لیکن وہ دنیا سراب نہیں ہے ۔“      (قسط : ۱۰)


Topics