Topics
فروری کے آخری ایام تھے ۔ بارش سے
فضا نکھر گئی تھی، درخت اور پھول پتّوں کے چہرے دھل گئے تھے ۔ اس دوران راہ نما کی
آمد کی اطلاع ملی۔ استقبال کے لئے سب دل و جان سے حاضر تھے۔ عقیدت مندوں میں وہ
لوگ بھی تھے جن کی پہلی ملاقات تھی۔ ہجوم میں ادھیڑ عمر خاتون پر نظر پڑی جو بار
بار پلّو سے آنسو صاف کر رہی تھیں۔ وہ بھی عقیدت مندوں میں شامل تھیں۔
بے شک اللہ کے دوست رنگ و نسل سے
بے نیاز ہیں۔ ذہن سے نکلنے والے الفاظ کی روشن لہریں دلوں کو منور کر دیتی ہیں۔
الفاظ میں سچائی کی خوش بو پھیلتی ہے، لوگ کھنچے چلے آتے ہیں۔ خوش بو دل میں بسانے کے لئے خلوص درکار ہے۔
جس روز تشریف آوری تھی ، عقیدت مند
بہن بھائیوں کے لئے عیدکا سماں تھا۔ مہربان راہ نما شیشے کے اس پار ہجوم میں سے
ایسے ظاہر ہوئے جیسے چاند بدلیوں کی اوٹ سے نکلتا ہے۔
دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ فضا
میں بلند کر کے سب کے سلام کا جواب دیا۔ ہال میں جاتے ہوئے وہ ہمارے پاس رکے ،
میرے ساتھ کھڑی خاتون کے سر پر دست شفقت رکھا ، حال احوال دریافت فرمایا اور دعا
دیتے آگے بڑھ گئے۔
یہ وہی خاتون تھیں جو بار بار پلّو
سے آنسو صاف کر رہی تھیں۔ توجہ پاتے ہی آنسوؤں کی روانی تیز ہوگئی تاہم اب اضطراب
اور اندیشوں کی جگہ چہرے پر سکون تھا۔
عقیدت مند ایک دوسرے کو بہن بھائی
کہہ کر پکارتے ہیں ۔ سب کا خیال تھا کہ میرا تعلق اس شہر سے ہے جہاں مہربان بزرگ
رہتے ہیں۔ سن کر اچھا لگا۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے حلقے میں شامل ہوئے زیادہ عرصہ
نہیں ہوا تھا لیکن نسبت پرانی تھی۔
اللہ نے حقیقت اور تغیر سے واقف
کروانے کے لئے ہمیں اپنے نیک بندے سے ملا دیا تھا۔ بے شک اللہ کے دوست زندگی کو
بندگی بنا کر حق الیقین میں داخل کرتے ہیں۔
راہ نما سے مل کر معلوم ہوا کہ
روشن ذہن ہستیوں کا زاویۂ نظر ، فکر و سوچ ، رویے اور قول و عمل عام لوگوں سے
مختلف ہے۔ عام آدمی کی طرز فکر کی اساس شک ہے جس سے ذہن ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتا ہے
، اخلاقی انحطاط واقع ہوتا ہے اور ذاتی مفاد کا تشخص غالب آجاتا ہے جب کہ باطنی
علوم سے واقف لوگوں کی طرز زندگی قرآن کریم کے مطابق ”یقین“ پر قائم ہے۔
روشن ذہن ہستی جہاں جاتی ہے ، خوشی
پھیل جاتی ہے ۔ ان کی ہر بات میں اللہ کا ذکر ہے ، ہر لفظ بندگی کے دائرے میں ہے ۔
ان کی باتیں سن کر ذہن اللہ کی نشانیوں پر تفکر میں مشغول ہو جاتا ہے اور وسوسے
دور ہوتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:
” فقیر کو جہاں کا حکم ہو ، وہاں
ٹھہرتا ہے ۔“
جب کبھی تشریف لاتے ، معلوم نہیں
آنے کی خبر کیسے پھیل جاتی ۔ قرب و جوار سے سائل آتے ، مسائل میں گرفتار ، دل
گرفتہ و شکستہ ، امیر غریب ، مفلوک الحال ، غرض ہر مکتبِ فکر اور رنگ و نسل کے لوگ
حاضر خدمت ہوتے۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہر ایک یقین سے سرشار واپس جاتا۔ خوف ،
اندیشوں اور مہیب وسوسوں کے بادل چھٹ جاتے ۔ خشک چہرے با رونق اور کرخت لہجے نرم
ہو جاتے۔ محسوس کیا کہ انے والوں کے ذہن کی لہریں کچھ وقت کے لئے ایک سی ہو جاتی
ہیں اور سب اصلاحِ حال کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ تلقین فرماتے کہ ،
”ہر لمحہ اللہ کو حاضر و ناظر جان
کر زندگی گزارو اور ذہن نشین کر لو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے ۔“
راہ نما حد درجے مہمان نواز ہیں ،
لنگر کا اہتمام کر کے خوش ہوتے ہیں ۔ دستر خوان وسیع ہے۔ روحانی استاد کے معمولات
سے بہت کچھ سیکھا ۔ چند انمول موتی آپ کی نذر ہیں۔
انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے
اکثر لنگر ہال تشریف لاتے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے لنگر ہال میں دیگوں کے برابر میں
دیگچی رکھی ہوئی دیکھی۔
استفسار پر انتظامی رکن نے بتایا
کہ بعض اوقات انتظامیہ کے لیے کھانا نہیں بچتا اس لئے پہلے سے الگ کر لیا جاتا ہے۔
وجہ سن کر نہایت خفگی کا اظہار
فرمایا اور حکم دیا ، ” جو کھانا الگ کیا ہے ، واپس دیگ میں ڈالیں اور آئندہ اس
طرز ِ عمل سے گریز کریں۔ کبھی مت سوچیں کہ ہمارے لئے کھانا نہیں بچے گا۔ یہ سوچ
ذہن کو محدود کر دیتی ہے۔ اللہ بے حساب رزق عطا فرماتا ہے اور آدمی ذہن چوری کر کے
حساب کتاب میں لگ جاتا ہے۔“
مہمانوں کی خاطر داری کے ضمن میں
خاص ہدایت تھی کہ دستر خوان لگانے میں عجلت کریں اور دستر خوان اٹھانے میں تاخیر۔
شکر یا چینی چائے یا قہوہ میں
ڈالتے ہوئے پرچ پر گر جائے تو نا پسند فرماتے ہیں ۔ ایک مرتبہ فرمایا، یہ جلد بازی
کی نشانی ہے۔
ان کے سامنے کوئی چائے میں شکر ملا
رہا تھا تو ہدایت دی، چمچ کو اینٹی کلاک وائز ہلانا چاہیئے۔
بات سمجھنے کے لئے ان کی تحریریں
پڑھیں تو معلوم ہوا کہ کائنات میں حرکت کی دو سمتیں ہیں۔ حرکت کا ظاہری رخ کلاک
وائز یعنی گھڑی کے موافق اور باطنی رخ اینٹی کلاک وائز یعنی گھڑی کے مخالف رخ پر
حرکت میں ہے۔کلاک وائز حرکت سے اسپیس پھیلتی ہے اور وقت کی رفتار کم ہو جاتی ہے جس
سے فکشن شعور تخلیق ہوتا ہے۔ اینٹی کلاک وائز حرکت سے اسپیس سمٹتی ہے ، وقت کی
رفتار تیز ہوتی ہے اور لاشعور بیدار ہوتا ہے ۔ غورو فکر سے حرکت کا رخ اینٹی کلاک
وائز ہو جاتا ہے اور ذہنی صلاحیت بیدار ہوتی ہے ۔ جتنی ایجادات و تخلیقات ہوتی ہیں
، فرد کو معلوم ہو یا معلوم نہ ہو ، غورو فکر کے دوران اس کے ذہن کی حرکت اینٹی
کلاک وائز ہو جاتی ہے۔
علم دوست ہستی کی باتیں گہری ہیں
اور کائناتی قوانین سے پردہ اٹھاتی ہیں ۔ سوچنے سمجھنے والوں کے لئے ان میں اشارے
ہیں۔
عید پر مہمانوں کے لئے کھانا تیار
ہو رہا تھا۔ انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے تشریف لائے، میز پر خالی پلیٹیں رکھی
تھیں ۔ پلیٹ اٹھائی۔ گیلی تھی باقی پلیٹوں کا بھی یہی حال تھا۔ جب تک ڈیوٹی پر
مامور اراکین قریب آتے ، انہوں نے کپڑا اٹھا کر پلیٹیں خشک کرنا شروع کر دیں۔ یہ
خاموش الفاظ میں انتظامی ارکان کے لیے ہدایت تھی کہ کھانے کے لیے خشک برتن استعمال
کرنے چاہیئں۔
کسی تقریب کے موقع پر دریاں اور
چاندنیاں بچھائی جا رہی تھیں۔ کچھ دریوں پر شکنیں تھیں، کچھ صاف نہیں تھیں۔ متعلقہ
فرد کو قریب بلایا اور پوچھا ، یہ کیا ہے؟ ایسی دریاں کیوں استعمال کی جا رہی ہیں
، صفائی کا خیال کیوں نہیں رکھا؟
اس نے عرض کیا ، جن صاحب کی زمہ
داری تھی ، میں نے مطلع کیا تھا لیکن وہ کہہ رہے تھے کہ دریاں چاندنیوں سے چھپ
جائیں گی۔
راہ نما نے فرمایا ، ٹھیک ہے ! آپ
نئے کپڑوں کے نیچے پھٹی پرانی اور میلی بنیان پہن لیا کریں ، کسی کو نظر نہیں آئے
گی۔
1994ء کی ایک نشست میں فرمایا کہ
مخلوقات آپس میں ہم رشتہ ہیں۔ پھر شہنشاہ ہفت اقلیم بابا تاج الدین ناگپوری ؒ کا
واقعہ سنایا ۔ فرمایا ،
دستر خوان پر پھل رکھے ہوئے تھے۔
بابا تاج الدین ؒ نے ایک قاش چکھتے
ہی فرمایا ، ” یہ پھل اس جگہ کا ہے جہاں کوئی مردہ دفن تھا۔“
سب کے ہاتھ رک گئے۔
بابا تاج الدین ؒ نے حاضرین سے
پوچھا ، آپ لوگوں نے محسوس نہی کیا کہ ذائقہ مختلف ہے؟
کھانے میں شریک افراد نے تھال میں
سے قاش اٹھا کر چکھی اور واپس رکھ دی۔ ان میں سے ایک صاحب نے ذائقہ سمجھنے کی کوشش
میں ایک اور قاش اٹھائی۔ نانا تاج الدین ؒ بغور دیکھ رہے تھے۔ بے ساختہ مسکرا دیئے
اور ازراہِ تفنن فرمایا، یہ تو مُردوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
ہر فرد کہانی کا کردار ، اور خود
ایک کہانی ہے۔ کرداروں کے اکٹھا ہونے سے معاشرہ بنتا ہے۔ اللہ کے دوست چاہتے ہیں
کہ لوگوں کا ذہن مسائل سے ہٹ کر علم کی طرف متوجہ ہو۔ میری دانست میں یہ واقعہ
سنانے کا مقصد حاضرین کو نظام کائنات کی طرف متوجہ کرنا تھا ۔ واقعہ سن کر میں نے
سوچا کہ اتنے لوگوں میں ایک فرد کو ہی ذائقہ غیر معمولی کیوں محسوس ہوا اور انہوں
نے بتا دیا کہ پھل نے کس مٹی میں نشو نما پائی۔
باطنی علوم کے ماہرین خدمتِ خلق پر
مامور اور کُن فیکون کے راز دار ہیں، جتنا اللہ نے چاہا ۔ اللہ کے عطا کردہ علم کے
ذریعے وہ خدمتِ خلق کرتے ہیں، لا علاج بیماریوں کے تد ارک کے ساتھ پیچیدہ بیماریوں
کا سبب بتاتے ہیں۔
بارہا ایسا ہوا کہ جس مریض کو
ڈاکٹر نے لا علاج قرار دیا ، اس نے اللہ کے فضل سے شفا پائی ۔ ایک شام چند لوگ
بوڑھی خاتون کو چارپائی پر لے کر آئے جو درد کی شدت سے کراہ رہی تھی۔
صاحبِ خدمت نے دم کیا اور دیکھنے
والوں نے دیکھاکہ چارپائی پر آنے والی مریضہ خود چل کر واپس گئی۔
میں سوچتی رہ گئی کہ مسیحائی اور
کیا ہوتی ہے !
تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ علاج
معالجہ کے اوقات میں خاص کیفیت طاری ہوتی ہے اور خلافِ معمول باتیں بھی نشر ہوتی
ہیں۔
ایک بھائی بہت خوش ہو کر واقعہ
سناتے تھے کہ جب میں ایک مسئلے کے سلسلے میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو دیکھتے ہی
فرمایا ،
”۔۔۔۔۔ صاحب ، آپ آگئے۔“
حالاں کہ پہلی ملاقات تھی اور میں
نے اس وقت تک نام نہیں بتایا تھا۔
کوئی خاتون مسئلہ لے کر حاضر ہوئیں
تو مسئلہ سنے بغیر علاج بتا دیا۔ وہ رونے لگیں کہ میں نے کچھ کہا نہیں اور آپ نے
بات سنے بغیر علاج بتا دیا۔
فرمایا ، بی بی ! آپ لوگ تشریف
لاتے ہیں ، ذہن میں نقوش ابھرتے ہیں۔
جمعۃ المبارک تھا۔ نوبیاہتا جو ڑا
سلام کرنے حاضر ہوا۔ دلہن نے آٹوگراف کے لیے ڈائری پیش کی ۔ ڈائری لیتے ہئوے چہرے
پر فکر کے آثار نمایاں ہوئے۔ کچھ تحریر فرمایا اور ڈائری بند کر کے واپس کر دی۔
دلہن نے خوشی خوشی سب کو ڈائری میں تحریر دکھائی۔ میں نے دیکھی ۔ آٹو گراف خلافِ
معمول تھا۔ صفحے کے وسط میں تحریر تھا،
ملک الموت بضد ہے کہ جان لے کے
ٹلوں
سر بسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے
انہوں نے مخلوق کی خد مت میں صبح
اور رات نہیں دیکھی۔ انتظامیہ کو ہدایت تھی کہ لوگ دور دراز سے مجھ سے ملنے آتے
ہیں ، ان کا احترام کریں ۔ محفل میں بیٹھ کر سیکھا کہ امیر غریب کا فرق مٹا کر ہر
شخص کو اہمیت دی جائے۔
ایک روز مسکراتے ہوئے فرمایا ، ہر
ایک کے اوقات کار مقرر ہیں۔ پھل فروش ، سبزی فروش اور موچی کے بھی اوقات کار ہیں
لیکن فقیر کے کام کے اوقات مقرر نہیں۔
مسئلہ چھوٹا ہو یا بڑا ، آلودہ
پانی کی مانند ہے جس کا تعفن زندگی میں جمود پیدا کر دیتا ہے ۔ علم دوست ہستی
چاہتی ہے کہ لوگوں کا ذہن مسائل سے ہٹ کر علم کی طعرف متوجہ ہو جائے تاکہ مسائل ،
مسائل نہ رہیں۔ انہوں نے لوگوں کی ذہنی سکت کے مطابق مختلف زاویوں سے سب کو ایک
پیغام دیا ہے کہ اپنی اصل سے واقف ہو جاؤ اور ہمیشہ خوش رہو۔
ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ذہن مسائل
سے ہٹ کر فکر کی گہرائیوں میں گم ہوا تو خواب میں ”عظیم المرتبت ہستی خاتم الانبیا
ﷺ “ کی زیارت ہوئی۔
میں دہلیز پر کھڑی توجہ کی منتظر
تھی۔
اس اثنا میں مقدس ہستی کی جانب سے
رومال اڑتا ہوا میری جانب آیا جسے قبول کرنے کے لئے میں نے دونوں ہاتھ پھیلا دیئے۔
سماعتوں میں دلنشین آواز گونجی ،
”رومال دھو کر لاؤ“
قسمت پر رشک آیا ، خوشی سے بے
تحاشا رونے لگی اور کہا ، یا اللہ ! تیرا شکر ہے اور آنکھ کھل گئی۔
بیدار ہونے پر دھڑکن تیز اور چہرہ
آنسوؤں سے تر تھا۔ حیران و پریشان تھی کہ زیارت خواب میں ہوئی اور آنکھیں بیداری
میں تر ہیں۔ یا الٰہی! یہ ماجرا کیا ہے؟ واقعہ یہاں پیش آیا یا وہاں؟
اگلے چند ہفتوں میں ایسے کئی خواب نظر آئے جس سے روح سر شار ہوگئی اور
دل نے دیکھ لیا کہ خواب بیداری کا عکس ہے ۔ زہن بیداری میں جس جانب متوجہ ہوتا ہے
، خواب میں نقوش واضح ہو جاتے ہیں ۔ کہیں بیداری خواب بنتی ہے اور کہیں خواب
بیداری بن جاتا ہے۔
استاد محترم کے ساتھ سفر کا موقع
ملا تو ایسے واقعات مشاہدہ بنے جس سے مادیت پسند ماحول سے ملنے والی طرز فکر پر
ضرب پڑی ۔ اسلام اباد میں قیام کے دوران ایک خاتون نے عرض کیا، دعا کیجئے خانہ
کعبہ میں حاضری کی سعادت نسیب ہو ۔
خاتون بتاتی ہیں کہ میں نے جیسے ہی
درخواست کی ، اس لمحے میری آنکھیں بند ہوئیں اور خود کو خانہ کعبہ میں میزاب رحمت
کے نیچے موجود پایا ۔ دل خوشی اور تشکر کے جذبات سے معمور ہو گیا۔ دیدارِ کعبہ سے
دل کو سیراب کر رہی تھی کہ رش کے باعث دھکا لگا اور آنکھ کھل گئی۔ راہ نما کی جانب
دیکھا تو چہرے پر دل آویز مسکاراہٹ تھی۔ وہ دوسرے سائل کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
(قسط : ۷)