Topics
خوب صورت نظر آنا فطری خواہش ہے۔ ہم
پرندوں کے دل فریب رنگوں اور خوب صورتی کا تذکرہ کرتے ہیں، سوچتی ہوں کہ کیا انہیں
اپنی خوب صورتی کا ادراک ہے؟ یقیناً ہے اس لئے کہ جب ہم پالتو پرندے کو توصیفی
نگاہوں سے دیکھتے ہیں تو وہ ناز و انداز دکھاتا ہے۔
راہ نما کے پاس
مسائل کے حل کے لئے حاضر ہونے والوں میں کچھ لوگ ایسے تھے جو خوب صورتی کا عمل
معلوم کرنا چاہتے تھے۔ وہ کسی کو حوروں والا عمل ، کسی کو گلاب کے پھول کا تصور
اور کسی کو گلابی روشنیوں کا مراقبہ تجویز فرماتے۔ دل چاہتا تھا کہ میں بھی اس عمل
کی اجازت لوں مگر ہر ملاقات میں پوچھنا بھول جاتی تھی۔
یوں چند سال گزر
گئے۔
ایک روز میں حاضر
تھی۔ انہوں نے فرمایا ، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ
”اللہ خوب صورت
ہے اور خوب صورتی کو پسند فرماتا ہے۔“
آدمی بال سنوارتا
رہتا ہے ، سر پہ دو بال رہ جائیں ، انہیں بھی سنوارتا رہتا ہے۔ خواتین کے پرس میں
چھوٹا آئینہ ہوتا ہے ، وہ پرس سے بار بار آئینہ نکال کر دیکھتی ہیں۔
ہمت کر کے عرض
کیا کہ حضور ! خوب صورتی کا راز کیا ہے؟ میں بھی خوب صورت بننا چاہتی ہوں ، اس کے
لئے کیا کروں؟
فرمایا ، آپ معاف
کر دیا کریں۔
سوچا تھا کہ
حوروں والے عمل کی اجازت مل جائے گی مگر جواب خواہش کے برعکس ملا۔ خیال آیا کہ میں
بھلا کس کو معاف کروں گی، میرے ساتھ کبھی کسی نے برا نہیں کیا۔ یوں خوب صورتی کا
عمل التوا میں پڑ گیا ۔
جب معاف کرنے کا
وقت آیا تو معاف کرنے میں الحمد للہ کبھی تردّد نہیں ہوا ، فوراً معاف کر دیا لیکن
یہ بات ذہن سے نکل گئی کہ معاف کرنے سے بندہ خوبصورت ہو جاتا ہے۔
روحانیت میں سالک
کی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ ہر کام اللہ کی خاطر یعنی کیئر آف اللہ کرے۔
کئی سال بعد راہ
نما کی بات یاد آئی تو میں نے معافی اور خوب صورتی کے مابین تعلق تلاش کیا۔ تفکر
سے معلوم ہوا کہ معاف کرنے سے آدمی کے اندر کچھ نہیں رہتا، صرف وہی رہتا ہے جو
اللہ چاہتا ہے۔ اس طرح بندہ خوب صورت ہو جاتا ہے اور یہی خوب صورتی کا راز ہے۔
معافی کے متضاد
عمل غصہ اور انتقام ہے جس سے آدمی برائیوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ معاف کرنے سے
چہرے پر نرمی آتی ہے ، ذہن زمین کی کشش سے گریز کرتا ہے اور نورانیت پیدا ہوتی ہے
، فرد کے اندر لاشعور سے واقف ہونے کی جستجو اور جدو جہد میں اضافہ ہوتا ہے، یہ
جدوجہد کشش بن جاتی ہے جسے لوگ محسوس کرتے ہیں اور گرویدہ ہو جاتے ہیں۔
میں نے ایک سروے
کیا جس میں معافی کے بارے میں لوگوں کے تاثرات لئے۔
ایک صاحب نے کہا
، میرے نزدیک معاف کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے ، خاص طور پر ان لوگوں کو معاف
کرنا جو جھوٹ بولتے اور منافقت کرتے ہیں ۔ ان کو معاف کیسے کر سکتا ہوں؟
بعض افراد کی
رائے تھی کہ کچھ لوگوں کو معاف کرنا آسان اور کچھ کو مشکل ہے۔
پوچھا ، معافی تو
معافی ہے پھر تضاد کیسا؟
انہوں نے کہا ،
جن سے قلبی وابستگی ہوتی ہے ، ہم انہیں جلد معاف کر دیتے ہیں البتہ ان لوگوں کو
معاف کرنا مشکل ہوتا ہے جن کے رویے ہمیں تھکا دیتے ہیں ۔ سروے سے پتا چلا کہ
۱۔ معاف کرنے کے
لئے ظرف درکار ہے۔
۲۔ معاف نہ کرنے
کا نقصان ہمیں خود بھگتنا پڑتا ہے کیوں کہ ہم ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز کر
کے انتقام کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔
۳۔ معاف نہ کرنے
والے لوگ اپنی زندگی اور سماج میں تنہا رہ جاتے ہیں۔
سروے میں معافی
کے یہ فوائد بتائے گئے۔
۱۔ جسم کا
مدافعتی نظام طاقتور ہوتا ہے۔
۲۔ معاف کرنا
ہمیں ہر طرح کے حالات کو قبول کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ہمدردی ، ایثار اور امید کے
چراغ روشن رکھنا سکھاتا ہے۔
۳۔ تناؤ اور بے
چینی ختم ہوتی ہے ۔ اعصابی امراض ، ہائی اور لو بلڈ پریشر ، دل کے امراض اور کینسر
جیسے مہلک مرض سے محفوظ رکھتا ہے۔
جب والد صاحب کی
رائے لی تو انہوں نے کہا، میرے نزدیک معاف کرنا سب سے آسان کام ہے، اسی وقت جان
چھوٹ جاتی ہے۔
معاف کرنے والے
لوگ جانتے ہیں کہ یہ جذبہ ایک عظیم نعمت ہے جو آدمی کو فکر و آلام سے آزاد کر دیتی
ہے۔ راہ نما
فرماتے ہیں کہ
”ہر شخص کے چہرے
پر معصومیت کا پردہ ہوتا ہے۔ غصہ کرنے ، جھگڑا لو اور معاف نہ کرنے والے کے چہرے
سے پردہ ہٹ جاتا
ہے ۔“
ایسے لوگ بھی
دیکھے جو سالہا سال سے خاندانی دشمنی کا سامنا کرنے کے باوجود معاف کرنے کا ظرف
رکھتے تھے
اور ان افراد سے
بھی ملاقات ہوئی جو معمولی باتوں کو دل میں رکھ کر تمام عمر معاف نہ کرنے کا ارادہ
رکھتے ہیں۔
اللہ ” تواب اور رحیم“ ہے۔۔ ہماری کوتاہیوں کو
درگزر فرماتا ہے اور ہمیں بھی لوگوں کو معاف کرنے کی
تاکید کرتا ہے۔
”البتہ جو شخص
صبر سے کام لے اور در گزر کرے تو یہ بڑے اولوالعزم کاموں میں سے ہے۔“
(الشوریٰ : ۴۳)
ایک موقع پر
مہربان بزرگ نے فرمایا،
”آپ کو کسی نے 20
سال پہلے کوئی تکلیف پہنچائی ، اسے یاد کر کے 20 سال پہلے کے لمحے میں لوٹ جاتے
ہیں اور
اس تکلیف کو
موجودہ لمحے میں خود پہ طاری کر لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا دشمن کامیاب
ہے۔“
یہ سن کر مجھے
اسکول کے زمانے کی بات یاد آئی ۔ میں اسکول بس میں بیٹھی تھی۔ ساتھ والی نشست پر
ایک
حسین لڑکی تھی۔
بس میں ساری لڑکیاں اس کی خوبصورتی سے متاثر تھیں۔ میں نے وقت پوچھا تو اس نے ترش
لہجے میں منہ ٹیڑھا کر کے کہا، اپنی گھڑی کیوں نہیں لائیں؟ اور وقت بھی بتا دیا۔
بدصورتی کی یہ
تصویر مجھے مدتوں یاد رہی۔ کیوں یاد رہی؟
کیوں کہ میں نے
اسے معاف نہیں کیا۔
مجھے سبکی اور
توہین محسوس ہوئی تھی۔
یہ آدمی کی
کمزوری ہے کہ وہ دوسروں کے رویوں کے آئینے میں خود کو دیکھتا ہے ۔ اگر میں اس کے
رویے کو اہمیت نہ دیتی تو وہ بات اسی وقت ختم ہو جاتی لیکن میں نے نادانی میں اس
بات کو زندہ رکھا۔ نقصان میرا ہوا۔ منہ اس نے بگاڑا اور میں نے اس لمحے کو یادداشت
میں محفوظ کر کے اپنے دل میں کدورت پیدا کی۔
ایک مرتبہ صاحب
علم و فہم نے فرمایا، جن کے دل صاف ہوتے ہیں ، ان کے چہرے خوب صورت ہوتے ہیں۔
خوب صورتی کو عموماً رنگ سے منسوب کیا جاتا ہے حالاں کہ یہ سرا سر
باطنی صفت ہے۔
کسی موقع پر راہ
نما نے فرمایا ، عام طور سے گورے رنگ کو خوب صورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے حالاں
کہ سیاہ رنگ کی چمک میں زیادہ کشش ہے۔ لوگ کالے یا گورے رنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ
اس ہالے کی وجہ سے حسین نظر آتے ہیں جو ہر فرد کے گرد ہوتا ہے۔ سیاہ یا مشکی رنگ
کے گرد نیلگوں ہالہ کشش کا باعث ہے ۔ یہ ہر ایک کو دکھائی نہیں دیتا لیکن لوگ اس
کے تاثرات محسوس کرتے ہیں ۔ پھر انہوں نے ایک معروف بزرگ کا نام لیا کہ ان میں کشش
کی ایک وجہ مُشکی رنگ کے گرد نیلگوں ہالہ تھا۔
حسن کا ذکر ہوتا
ہے تو حوروں سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ حور اور غلمان جنت کے مکین ہیں۔ وہ اتنے پُر
کشش اور حسین کیوں ہیں؟ کیوں کہ وہ جنت کے حواس میں رہتے ہیں۔ جنت کی فضا نورانی
ہے اور نورانی لہریں ربط کا کام کرتی ہیں۔ زمین و آسمان کی بساط نور ہے۔ نور نے ہر
شے کو ربط میں رکھا ہے اور ربط ہی کشش ہے۔ ہر شے متضاد رخ سے پہچانی جاتی ہے اس
لئے کشش کو سمجھنے کا دوسرا زاویہ گریز ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گریز بھی کسی مقام
کے لئے کشش ہے۔ اس جملے پر غور کیجئے۔
معاف کرنا اور
معافی مانگنا احسن عمل ہے۔ معاف کرنے سے ذہن ہلکا ہوتا ہے، کثافت دور ہوتی ہے اور
کشش میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ معافی کا جذبہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آدمی کے ذہن میں
یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ اللہ نے معاف کرنے کے عمل کو پسند فرمایا ہے۔