Topics
ایک سفر کے دوران تصور غالب ہوا کہ
اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔سانس کی بے آواز لےَ ”اللہ اللہ “ کی تکرار میں گم ہو گئی۔
بزرگ فرماتے ہیں خود شناسی خدا
شناسی ہے۔ خود سے واقف ہو کر ذہن سوال کرتا ہے کہ مجھے کس نے بنایا ، میرا خال کون
ہے اور زندگی کو قائم رکھنے کے لیے وسائل کا نظام کیسے جاری ہے ۔ اس طرح حقیقت کو
تلاش کرنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے۔
حضرت عیسیٰؑ فرماتے ہیں،
”مانگو، تو تم کو دیا جائے گا۔
ڈھونڈو تو پاؤ گے۔دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا کیوں کہ جو کوئی
مانگتا ہے ، اسے ملتا ہے ۔ جو ڈھونڈتا ہے ، وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے ، اس
کے لئے دروازہ کھولا جائے گا۔“
(انجیل ۔ متی ، باب ۷ : ۷۔۹)
ڈھونڈنے والا وصل سے آشنا ہو جاتا
ہے۔ شاہد ارض و سما بزرگ نے ایک نشست میں فرمایا،
” میں چاہتا ہوں کہ میرے بچوں
(قوم) کا ذہن وہ بیلٹ بن جائے جس پر کائنات حرکت کرتی ہے۔“
جسم خاک سے بنی گزرگاہ ہے جس پہ
رنگ و روغن سے آدمی شک میں مبتلا ہو جاتا ہے ورنہ اللہ سے اللہ تک سفر میں کوئی
منزل نہیں اس لئے کہ اللہ خود منزل ہے۔
” ہم اس کی رگِ جاں سے زیادہ اس سے
قریب ہیں۔“ قٓ : ۱۶)
حقیقت شناسی ذہن کا سفر ہے۔ جب
دلچسپی مادیت کے خمیر سے آزاد ہوتی ہے تو ذہن فطرت میں جذب ہوتا ہے اور جسم لطیف
ہو جاتا ہے اور فرد کا عمل اپنے آپ تک محدود نہیں رہتا ، وہ ارادی و غیر ارادی طور
پر مخلوق کی بھلائی کے بارے میں سوچتا ہے اور اللہ چاہے تو ایسا بندہ ”صاحب ِ
تصرف“ بن جاتا ہے۔
راہ نما نے ایک خاتون کو دعا دی،
”اللہ تمہیں مخدوم بنائے۔“
خاتون نے دریافت کیا کہ مخدوم کیا
ہے ہوتا ہے؟
انہوں نے فرمایا،
”مخدوم ۔ خدمت ہے ۔“
خدمت اعزاز ہے ۔ صاحب ِ خدمت یقین
کے نور سے معمور ہوتا ہے ، اس کے اندر اگر مگر کی بندش نہیں ہوتی ۔ وہ اللہ کے
بھروسے پر کام کرتا ہے اور بامراد ہوتا ہے۔
چند سال قبل ایک صاحب نے راہ نما
سے دریافت کیا کہ آپ فرماتے ہیں، اللہ سے اللہ کو مانگو ۔ کیسے پتہ چلے کہ اللہ مل
گیا ہے؟
انہوں نے فرمایا ،
( ” جب آپ کا ذہن ہر وقت اللہ کی
طرف لگا رہے ، ہعر کام سے پہلے اللہ کاخیال آئے ۔ جیسے کہ میں نہیں کھا رہا ، اللہ
کھلا رہا ہے۔ میں پانی نہیں پی رہا ، اللہ پلا رہا ہے تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ عمل
کیئر آف اللہ ہے،“
عشق الٰہی سے سر شار ایک خاتون نے
بتایا ، جانتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت ، ہر جگہ موجود ہیں ۔ دیدار کی خواہش
پیدا ہوئی اور روز بروز خیال میں شدت آتی رہی۔ بہت دن گزر گئے۔ دل اداس ہوا اور
گھر سے وحشت ہونے لگی۔
خواب میں دیکھا کہ گھر کی چھت چراغ
در چراغ روشن ہے۔ برابر والی چھت پہ نظر گئی تو وہاں بھی چراغاں تھا۔ گلی میں
جھانکا تو حدِ نظر تک روشن دیے نظر آئے۔
حیران ہوں کہ کیا ماجرا ہے۔
اتنے میں مُنادی ہوئی ،
”آج رات یہاں تجلی کا مظاہرہ
ہوگا۔“
یہ سن کر غشی طاری ہو گئی اور نیند
سے جاگتے ہی بیداری سجدہ بن گئی ۔ خواب کے بعد سے مجھ پر سکون کی لہریں محیط ہیں۔
کسی صاحب نے بتایا کہ جب سے راہ
نما نے مجھ پر شکر کے رموز آشکار فرمائے ہیں، دریائے ناپید ا کنار میں آگیا۔ ہر
طرف سے انعام و اکرام کی بارش ہوتی ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ
رہے ہیں۔
میں (راقم الحروف) جہاں جاتی ہوں
اور جس سے بات کرتی ہوں۔ ایک دنیا بے سکونی میں مبتلا ہے ۔ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ
سے دوری کے نقوش گہرے ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ بڑوں سے زیادہ بچوں کو نفسیاتی مسائل
در پیش ہیں جس کی وجہ تربیت نہ ہونا ہے۔ ماں باپ کی غفلت کے باعث مذہب کی تعلیمات
سے نا واقف اور اللہ سے دور ہیں۔ یہ زمین کی بقا کے لئے لمحۂ فکر ہے۔ ما ں باپ کو
چاہیے کہ موبائل فون اور ٹیلی ویژن کو غیر ضروری وقت دینے کی بجائے بچوں کی
مصروفیات کا حصہ بنیں اور ان کی باتیں توجہ سے سنیں ۔ خود سے پوچھیں کہ سکون اس
راستے میں ہے جو اللہ کی طرف لے جاتا ہے یا وہ راستہ جو ہم نے اختیار کیا ہے؟
راہ نما بچوں کو نظر انداز نہیں
کرتے، انہیں بڑوں سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، انتہائی شفقت سے پیش آتے ہیں ، کھجور
کھلاتے ہیں، سر پہ ہاتھ رکھتے ہیں ، دعا دیتے ہیں جس سے بچوں کے ذہن میں انسیت
سایہ بن جاتی ہے اور وہ بار بار اپنے اماں ابا سے کہتے ہیں کہ ہمیں بابا جی کو
سلام کرنے لے جائیں۔
بزرگ راہ نما نے تصوف پہ جہاں Ph.D. سطح کی کتب تحریر فرمائی ہیں ، وہاں بچوں کی علمی ضروریات کا بھی
خیال رکھا ہے ۔ ان کے لئے درسی قاعدہ ، انبیا کرام علیہم السلام اور اولیاء اللہ
کے قصص اور سبق آموز کہانیاں تحریر کی ہیں۔ انہوں نے بچوں کے قاعدے میں رائج طریق
سے یکسر مختلف ، الف سے آم یا انار کی جگہ الف سے اللہ کا تصور پیش کیا ہے۔
راہ نما کے شاگرد بہن بھائی کا
درجہ رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔
ایک بھائی نے بتایا کہ وہ سمجھتے
تھے ۔ صرف اس شخص کے پاس پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے جسے باپ کی طرف سے ورثہ ملا ہو ۔
ایک روز راہ نما نے فرمایا کہ محنت کرو اور کمائی میں سے اللہ کی مخلوق کا حق ادا
کرو۔
میں نے حسبِ استطاعت صدقہ و خیرات
کی ، کسی کو کھانا کھلایا ، پیاسے کو پانی پلایا ، پریشان حال کے پاس کچھ وقت بیٹھ
کر دل جوئی کی ، بیمار کی عیادت کی ، آس پاس لوگوں کے احساسات کا خیال رکھا۔ رزق
میں برکت ہوئی۔ اللہ کے کرم سے آج ہر نعمت میسر ہے۔ بے شک بندوں کونعمتوں سے محروم
رکھنا بے نیاز رب کو گوارہ نہیں۔ یہ ہم ہیں جو محنت اور رزق میں برکت کے اصول پر
عمل نہیں کرتے۔
اے آلِ داؤدؑ ! عمل کرو شکر کے
طریقے پر۔ میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔“ (سبا
:۱۳)
اللہ کا نظام ہے کہ مخلوق دوسری
مخلوق کے کام ائے ، آرام و آسائش اور کھانے پینے کا اہتمام کرے ، بھوکوں کو کھانا
کھلائے ، لوگوں کی مدد کرے ، صحت کے معاملات اور تعلیم کے میدان میں ان کے ساتھ
تعاون کرے۔
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ جھکنے
والے کے لئے ساری زمین سجدہ گاہ کیوں ہے؟
جب ہم”میں“ کی حدود سے باہر قدم
رکھتے ہیں تو لامحدودیت استقبال کرتی ہے۔
ہمسائے کی 16 سالہ لڑکی پر غیر
ملکی ثقافت کا رنگ غالب تھا۔ وہ ان کے ڈرامے شوق سے دیکھتی تھی اور رسومات سے
متاثر تھی۔ کہتی تھی کہ کاش! اللہ نظر آتا تو ہم سجتے سنورتے اور عبادت کرتے ۔
میں نے اسے پیار سمجھایا ،
(”ہر
مذہب نے پاکیزگی کا حکم دیا ہے ۔ عبادت سے پہلے قضو کرنا ، صاف ستھرے کپڑے پہننا
اور عمدہ خوشبو لگانا پاکیزگی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں پیدا کیا
ہے اور حواس عطا کئے ہیں ۔ ہم جہاں ہیں ، اللہ ہمارے ساتھ ہے ، دیکھ رہا ہے اور
اللہ کی توجہ سے ہم زندہ ہیں۔“)
وہ
بہت غور سے سن رہی تھی۔
میں
نے کہا ، ہم اللہ کو دیکھ سکتے ہیں لیکن دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اللہ کو
پکارنے والے کی پکار سنتا ہے اور دعا قبول کرتا ہے۔بیٹا ، یاد رکھو ! اللہ سے
زیادہ چاہنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ ستر ماؤں سے زیادہ مخلوق سے محبت کرتا ہے۔
میں
نے دیکھا کہ ہمسائے کی لڑکی پہ خمار چھا گیا اور پلکیں سجدہ ریز ہو گئیں۔
اس
کے جاتے ہی بزرگ راہ نما کی بات یاد آئی ۔ ایک نشست میں انہوں نے فرمایا،
”پلک
جھپکنے میں فرد کا ارادہ شامل نہیں ہوتا، خون کی گردش اور جسمانی فعلیت میں آدمی
کے شعور کا عمل دخل صفر ہے۔ اللہ کی واضح نشانی تو مخلوق خود ہے۔“
دنیا
میں جتنی عبادت گاہیں ہیں ، وہاں حاضر ہوتے وقت خواتین و حضرات آرائش کا خیال
رکھتے ہیں ، پاک صاف لباس پہن کر عمدہ خوشبو لگاتے ہیں ۔ عبادت کے لئے لطافت ضروری
ہے جو صفائی سے حاصل ہوتی ہے ، جسم اور ذہن ی صفائی۔ عبادت ظاہر و باطن کی
پاکیسزگی کا نام ہے اور پاکیزگی روشن ضمیری ہے۔
ایک روز راہ نما نے فرمایا،
”دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی اللہ
کا گھر ہے۔“
الفاظ پر غور کیا تو رموز روشن
ہوئے ۔ تصور میں بیت اللہ شریف کا منظر جلوۂ افروز ہوا۔ بے شک عبادت گاہیں شعور کو
باادب بنانے کا مرکز ہیں ۔ جیسے حج کے لئے جانے والے زائرین جب کعبہ شریف کے گرد
طواف کرتے ہیں تو وہ خود کو ادب اور اصول کا پابند کرتے ہیں۔ اگر طواف کے سات
چکروں کا حق ادا ہو تو زندگی ، بندگی ہے۔ بندہ طواف کرتے ہوئے رب العالمین اللہ کی
تکبیر بیان کرتا ہے ، اس کے حضور ، حاضر و ناظر ہونے کی گواہی دیتا ہے ۔ طواف کے
سات چکر معرفت کے سات باب ہیں۔
چند ماہ پہلے کا ذکر ہے ، مرتبۂ
احسان کا مراقبہ کرتے ہوئے اندر کی آنکھ روشن ہوئی۔
”بیت اللہ شریف کے دروازے کے قریب
کھڑی ہوں ۔ دروازے پر نورانی لہروں کی آبشار بہ رہی ہے۔ لہروں سے الفاظ بن رہے ہیں
اور سلائیڈ کی طرح گزر رہے ہیں۔ کوئی شیریں آواز میں پڑھ رہا تھا۔
السلام علیک السلام علیک
السلام علیک السلام علیک
ایک نظر میں آبشار روشن ہوتی اور
دوسری نظر میں روشنی السلام علیک کے الفاظ بن جاتی۔ دل نے گواہی دی کہ یہ قبولیت
کا اشارہ ہے۔