Topics

آئینہ ۔ اگست ۲۰۲۲

 

ایک نشست میں راہ نما نے فرمایا۔ روحانیت میں آئینہ اور طرزِ فکر کا قانون ایک ہے۔ فرد جیسا سوچتا ہے ، ویسا دیکھتا ہے۔

جب میں نے اس پر غور کیا تو عقدہ کھلا کہ یہ معنی و مفہوم کی دنیا ہے۔ شے انفارمیشن ہے۔ انفارمیشن سے واقف نہ ہوں تو دماغ میں نقش نہیں بنتا۔ بندہ انفارمیشن کو کھولنے کے بجائے اسے اپنی سوچ کا لباس پہناتا ہے اسی لئے آنکھ کے دیکھنے میں ابہام شامل ہو سکتا ہے لیکن دل کے دیکھنے میں ابہام شامل نہیں ہوتا کیوں کہ دل کا دیکھنا اندر میں دیکھنا ہے۔

آئینے کی اقسام ہیں۔ کوئی آئینہ شفاف ہوتا ہے مگر اس میں عکس دکھانے کے لئے عمدہ معیار کا شیشہ استعمال نہیں کیا گیا تو تصویر بگڑ جاتی ہے۔ ہر آئینہ عکس دیکھنے کے لئے نہیں بنتا۔ کچھ آئینے عکس کو چھپانے کے لئے بھی بنتے ہیں۔ عکس کو ہو بہو دیکھنے اور دکھانے کے لئے آئینے کے ساتھ نگاہ کی مقداروں کا متوازن ہونا ضروری ہے۔

نگاہ کمزور ہوتی ہے تو ڈاکٹر ایک کے بعد دوسرا لینس مریض کی آنکھوں پر لگاتا ہے ۔ جس نمبر کا لینس لگتا ہے وہ طرز فکر کے قائم مقام ہو جاتا ہے اور نظر وہ دیکھ لیتی ہے جو چشمے کے بغیر نظر نہیں آتا ۔ ہر شخص اس قانون سے واقف ہے کہ جب دیکھنے کا عمل شروع ہوتا ہے تو آنکھ کی پتلی میں موتی عکس قبول کرتا ہے۔ ہر آدمی کے لینس کا نمبر الگ ہے جس میں خاندانی اور معاشرتی پس منظر اہمیت رکھتا ہے۔

کہتے ہیں کہ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا ۔ درست ہے۔ یہ ہر چھوٹا بڑا داغ سامنے لے آتا ہے بعض اوقات آدمی آئینہ دیکھ کر خود فریبی میں مبتلا رہتا ہے اس لئے کہ اس نے آئینے میں خود کو الٹا دیکھا ہے۔ اگر طرز ِ فکر میں نقص ہے اور اس کا اعتراف کر لیا جائے تو ایسا فرد اصلاح چاہتا ہے اور خود کو بدلنے میں مزاحم نہیں ہوتا ۔ اس کی اصلاح ہو جاتی ہے۔

ایک عقیدت مند خوشی خوشی ملاقات کے لئے حاضر ہوا لیکن واپس جاتے ہوئے رونے لگا۔ وہ روتا تھا اور ایک ہی بات دہراتا تھا کہ میں آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔ راہ نما نے اس کے سر پہ دستِ شفقت رکھتے ہوئے فرمایا ،

”بیٹا ! میرا نیگیٹو تمہارے اندر ہے، اسے پازیٹو کرو۔“

اس کے آنسو رک گئے اور وہ دل کے آئینے میں تصویر سجائے رخصت ہوا۔

قلب میں تصویروں کا ہجوم ہو جائے تو نقوش واضح دکھائی نہیں دیتے۔ ساڑھے سات ارب تصویروں میں ایک تصویر کو دیکھنے کی مشق کرنی پڑتی ہے تب جا کر وہ ایک تصویر اربوں تصویروں میں اہم ہو جاتی ہے۔ تفکر میں گہرائی سے تصویر متحرک ہوتی ہے ، اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے اورفاصلے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ صاحبِ طریقت نے فرمایا،

”اللہ ہمیں اپنی اور کتنی قربت دے ؟ اس کا فرمان ہے کہ میں تمہاری رگِ جاں سے زیادہ قریب ہوں ۔ حال یہ ہے کہ کسی کو فرصت نہیں کہ اپنے اندر میں آئینہ دیکھے۔“

مادی طرزوں میں آئینے کی تعریف یہ ہے کہ شفاف ہموار سطح جس کے پیچھے دھات کی ملمع کاری کی جاتی ہے ، اسے آئینہ کہتے ہیں۔ روشنی آئینے پر پڑتی ہے تو شیشے کے اندر سے گزر کر دھات کی باریک تہ تک پہنچتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تہ آئینے میں داخل ہونے والی روشنی میں موجود کسی رنگ کو جذب نہیں کرتی بلکہ ان کو خاص سمت میں منعکس کر دیتی ہے جس سے ہم خود کو آئینے میں دیکھتے ہیں۔

اس بات کو مدِ نظر رکھیں تو سوال یہ ہے کہ آئینے کی طرح برف تمام رنگ منعکس کر دیتی ہے، اپنے اندر کوئی رنگ جذب نہیں کرتی پھر ہم برف میں اپنا عکس کیوں نہیں دیکھتے ۔۔؟

برف کی سطح ناہموار ہوتی ہے۔ اس کے پیچھے دھات یا سیندور کی تہ نہیں ہوتی اس لئے روشنی جب برف پر پڑتی ہے تو برف کے ذرّات اسے تمام سمتوں میں منعکس یعنی منتشر کر دیتے ہیں جس سے دیکھنے والے کو اپنا عکس نظر نہیں آتا۔

یہ سوال زیر ِ بحث آسکتا ہے کہ آئینے کا رنگ کیا ہے؟ تحقیق و تلاش (سائنس) بتاتی ہے کہ کسی شے کا رنگ وہی نظر آتا ہے جسے وہ منعکس کرتی ہے۔ کوئی شے سورج کی کرنوں میں موجود سارے رنگوں کو جذب کر لے، سوائے نیلے رنگ کے توشے کا رنگ نیلا نظر آتاہے ۔ اسی طرح پکا ہوا آم زرد اس لئے نظر آتا ہے کہ وہ سورج کی روشنی میں موجود سارے رنگ جذب کر کے صرف زرد رنگ منعکس کرتا ہے۔

جو شے کوئی رنگ جذب نہیں کرتی ، وہ سفید نظر آتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سفید رنگ کی بھی سمتیں ہیں۔ کپڑے کا سفید رنگ ، بالوں کا سفید رنگ ، چاندنی کا رنگ ، دودھ کا سفید رنگ ، بادلوں کا سفید رنگ سب الگ ہیں۔ کالا رنگ تمام رنگوں کو جذب کر لیتا ہے ، یہ کسی رنگ کو منعکس نہیں کرتا اس لئے ہمیں کالا نظر آتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ چاندی ایسی دھات ہے جو 95 فی صد روشنی کو منعکس کرتی ہے۔ ایلومینیم 90 فی صد روشنی جب کہ لکڑی روشنی کو منعکس نہیں کرتی۔ ہر وہ چیز جو روشنی کو منعکس یعنی واپس کر دے، آئینہ ہے۔

حدیثِ رسولﷺ ہے،

”مومن ، مومن کا آئینہ ہے۔“

مومن کی صفات آئینے جیسی ہیں۔ وہ شفاف ہوتا ہے، ہر کوئی اس میں اپنا عکس دیکھ سکتا ہے۔ آئینہ سمندر ہے، جس میں سب کے راز دفن ہوتے ہیں لیکن وہ کسی کا عکس کسی پر نہیں کھولتا۔

راہ نما فرماتے ہیں،

”فقیر کا سینہ سمندر ہے۔ سارے نالے اس میں گرتے ہیں اور صاف شفاف ہو کر رواں دواں ہو جاتے ہیں۔“

ایک صاحب نے بزرگ راہ نما کی تصویر کھینچنے کی غرض سے کیمرہ نکالا تو انہوں نے فرمایا،

”میری تصویر تمہارے دل کے آئینے میں نقش ہے پھر اس تصویر کی کیا ضرورت ہے؟“

ان صاحب نے کیمرہ بیگ میں رکھ لیا اور ہم سب نے دیکھا کہ ان کے چہرے پر قوس ِ قزح ظاہر ہو گئی تھی۔

شاگرد کے دل کے آئینے میں استاد کی تصویر نقش ہو جائے تو وہ استاد کا آئینہ بن جاتا ہے۔

آدھی رات بیت چکی تھی ، آدھی باقی تھی۔

آواز آئی۔ شیش محل۔

میں بیدار ہو گئی۔ خیال آیا کہ شیش محل میں فرد خود کو مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے۔ ایک وقت میں کوئی عکس اچھا اور کوئی خوفناک دکھائی دیتا ہے ۔ سوچا کہ شیش محل میں بیٹھ کر تجربہ اور مشاہدہ کرنا چاہیئے۔

وضو کر کے مراقب ہو گئی۔

شیش محل کا تصور گہرا ہوا تو حیرت انگیز منظر سامنے تھا۔ نگار خانے کے ہر آئینے اور آئینے کے ہر ٹکڑے میں ایک ہی چہرہ تھا اور وہ چہرہ راہ نما کا چہرہ تھا۔ بھول گئی کہ میں یہاں خود کو دیکھنے آئی تھی۔

تفکر میں وہ مقام آگیا تھا جب اندر میں آئینے ی حقیقت کو جاننے کی جستجو بڑھ گئی۔

ایک روز خیال آیا کہ ہر شے کی طرح ، آئینے کی بساط بھی نور ہے جس پر نقش و نگار کا مظاہرہ ہوتا ہے ۔ نور کیا ہے ۔؟ نور وہ لطیف روشنی ہے جو ناصرف دیکھتی ہے بلکہ دیگر روشنیوں کو بھی دکھانے کا ذریعہ ہے۔ بہت سی باتیں آدمی الفاظ کی حد تک جان لیتا ہے مگر مشاہدے کا سفر باقی رہتا ہے ۔ مشاہدہ نہ ہو تو علم کی تکمیل نہیں ہوتی۔

آئینہ اسکرین ہے اور اسکرین کا کام مظاہرہ ہے۔ اسکرین میں لا شمار نقوش کے خانے ہوتے ہیں جن میں لہریں محفوظ ہو جاتی ہیں۔اسکرین کی مناسبت سے جو چاہے فلم چلا دیں ، اسکرین آئینہ بن جاتی ہے۔ آئینے اور فلم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ وہی دکھاتے ہیں جو سامنے ہوتا ہے ۔ ہم سے پہلے آئینے کے سامنے جو لوگ کھڑے تھے ، یہ ہمیں ان کی تصویر نہیں دکھاتا البتہ ہمارے ماضی کی پوری فلم ہمیں دکھا دیتا ہے۔

مراقبہ میں دیکھا کہ رات کا وقت ہے ۔ میں سمندر کی لہروں سے لطف اندوز ہو رہی ہوں ۔ آسمان پر پورا چاند روشن ہے۔ جوں ہی چاند نے سمندر کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا ، اندھیرے دور ہو گئے اور چاندنی سے پانی جھلمل ہونے لگا۔ چاند کو چھونے کے لئے ہاتھ بڑھایا ، وہ نیچے آگیا جسے میں نے پکڑ لیا۔ چاند بے وزن تھا۔ میں نے اسے سمندر میں ڈبو دیا۔

اس کیفیت کا میرے تفکر سے کیا تعلق تھا، میں نہیں جانتی البتہ یہ معلوم تھا کہ جب ہم باطنی زندگی سے واقف ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو کیفیات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات دماغ پر دباؤ پڑتا ہے اور کچھ وقت کے بعد ذہن کھل جاتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ ذہن پر جمود طاری ہے۔ دراصل ان کے دماغ کی اسکرین پر ایک ہی عکس ٹھہر جاتا ہے جسے دماغ بار بار دہراتا ہے۔ جمود طاری ہونے سے خلیات سکڑتے ہیں اور دماغ کی اسکرین سے منسلک ٹیوبز چھوٹی ہو جاتی ہیں جس سے لہروں کی روانی متاثر ہوتی ہے اور بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

خلیہ کیا ہے؟ ہر خلیہ آئینہ ہے۔

دماغ میں خلیے چارج ہونے یا کھلنے کا مطلب ہے کہ vision بڑھ گیا او ر لینس طاقتور ہو گیا۔ جتنے تصویر خانے دماغ میں ہیں ، سب آئینے ہیں جو عکس کو قبول اور منعکس کرتے ہیں۔

خلیے کی طرح ہر ذرّہ آئینہ ہے۔ ذرّہ زمین پر گزرے ہوئے روز و شب کا امین ہے ۔ اہلِ نظر جب ذرّے کو دیکھتے ہیں تو زمین پر گزری ہوئی زندگی سامنے آجاتی ہے۔ ان کی نگاہ ذرّے میں کائنات اور کائنات کو ذرّہ (آئینہ) دیکھتی ہے اور جو کچھ دیکھتی ہے، اسے راز رکھتی ہے۔

تعجب ہوا کہ صاحب ِ شہود خواتین و حضرات علم کے رموز کو رموز کو مخفی کیوں رکھتے ہیں؟

یاد آیا ۔ ایک مرتبہ راہ نما نے فرمایا تھا،

”کسی چھچھورے کو راز کی کوئی بات پتہ لگ جائے تو اس کے پیٹ میں مروڑ شروع ہو جاتے ہیں۔ جب تک وہ کسی کو بتا نہیں دیتا اسے آرام نہیں ملتا۔ کیا اس شخص کو دوبارہ ایسی کوئی بات بتائی جائے گی ؟“

راز امانت ہوتا اور امانت اسے دی جاتی ہے جس کے خلیات میں امانت کی روشنیاں برداشت کرنے کی سکت پیدا ہو جائے۔

روحانی سلسلے میں داخل ہونے کے بعد سالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسباق پر پابندی سے عمل کرے اور ناغہ نہ کرے ۔

الحمد للہ۔۔میں پابندی سے مراقبہ کرتی ہوں۔ ایک روز مراقبہ میں دیکھا ۔۔۔ سیاہ آسمان پر روشن ستاروں کی محفل سجی ہے۔ ایک ستارہ زیادہ روشن اور سب میں بڑا ہے۔ستارے کو دیکھنے میں محو تھی کہ اتنے میں چاند نظر آیا۔ میں نے خود کو چاند کے اندر بادل کی شکل میں موجود دیکھا۔ وہ روشن ستارہ جس پہ بادل کی نگاہ مرکوز تھی، چاند کی سمت بڑھنے لگا۔ چاند تیزی سے گردش کرتا ہوا بادلوں کے ساتھ جارہا تھا۔ ستارے اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ آخر ایک ستارے نے چاند کے ہالے کو چھو لیا۔ میں یعنی بادل سفید دھوئیں کی شکل میں چاند سے باہر آئی۔ باہر آتے ہی چاند نارنجی رنگ کا ہوا اور پھٹ گیا۔ دھماکے اور بو سے جی متلانے لگا ۔ اس لمحے راہ نما قریب کھڑے نظر آئے۔ ان کے خاکی وجود نے پارے میں ایک قطرے کی شکل میں دیکھا جو سیپ میں جا کر موتی بن جاتا ہے۔ موتی کو دیکھتی رہی۔ موتی سے ہلکی سبز روشنی پھوٹنے لگی جو رفتہ رفتہ تیز دودھیا رنگ میں تبدیل ہو گئی۔ موتی بڑا ہونے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے روشن چاند بن گیا۔

مراقبہ ختم ہوا تو دماغ پر دباؤ محسوس ہوا۔

خیال نے کہا کہ اس عمل سے بندہ محدود وژن سے لامحدود وژن میں داخل ہو سکتا ہے۔۔


 

Topics