Topics
انا للہ و انا الیہ رٰجعون
نقطہ تعطل کے بغیر حرکت میں ہے اور
ظاہر و باطن میں یکساں کام کرتا ہے ۔ یہ تعارف کے لئے نور اور پھر روشنی میں ظاہر
ہوتا ہے ۔ روشنی رنگین لباس اختراع کرتی ہے ۔ گوشت پوست نظر آنے والا جسم اسی لباس
کا مظہر ہے۔
تجلی امرِ ربی ہے ۔ رب کے امر کی
تعمیل مومن کی زندگی ہے۔ زندگی جب ”زندگی“ سے ملتی ہے تو نور علیٰ نُور ہو جاتی ہے
۔ ایسے بندے کا شعور تمام مخلوقات کے شعور پہ غالب رہتا ہے۔ وہ عمر کے مختصر ترین
وقفے میں اپنی نوع اور دیگر نوعوں کی فلاح و خیر خواہی کا انتظام کر کے جاتا ہے۔
اس کی رعنائی کو قائم رکھنے کے لئے فیض کا چشمہ جاری رہتا ہے ۔ ایسی عظیم المرتبت
ہستی ، امام سلسلہ عظیمیہ ابدالِ حق حسن اخرٰٰ سیّد محمد عظیم برخیا المعروف حضور
قلندر بابا اولیا ؒ کے نورِ نظر اور ہمارے راہ نما حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ
ہیں۔
ایک ملاقات میں فرمایا،
”میں چھپ بھی گیا تو رہوں گا۔“
میں بندی ناچیز ایک ذرّہ بے مقدار
ہوں جو وصل اور دیدار کی حسرت میں تڑپتا ، سسکتا ، بے قرار یہاں سے وہاں سر پٹختا
رہا۔
عزق و ہجر کی داستان طویل ہوتی
ہے۔عاشق ایک آہِ ناتمام میں صبح سے شام اور شام سے رات کرتا ہے ۔ جب ہجر کی رات
کٹتی ہے، سجدہ شکر بجا لاتا ہے پھر آہِ سرد سے نئے دن کا آغاز کرتا ہے ۔ اُس محبت
کی منزل کیا ہے جو وصل میں ہجر کی کسک محسوس کرے؟
ریت ہاتھوں سے سرکتی رہی اور میں
دامنِ دل چاک کرتی رہی۔ وقت کہاں سے چلا ، کہاں گیا ، کچھ خبر نہیں۔ نگاہ ، نگاہ
سے ہٹی نہیں۔ دردِ دل تھما نہیں۔
سلسلہ میں آئی تو لوگ سمجھتے تھے
کہ میرا تعلق کراچی سے ہے ۔ لوگ ٹھیک سمجھتے تھے۔ میں دل ہی دل میں ”اُن“ سے ہم
کلام ہوتی ،
؎
جلا وطن ہوگئے ہیں تیرے شہر کی قسم
رہتا ہے تو جہاں ، وہی اپنا مسکن
ایک روز قریب بلا کر تسلّی دی۔
فرمایا ،
”میں جہاں کہیں بھی ہوں ، تم میری
بیٹی ہو ، میرے ساتھ ہو ۔“
اے راہِ عدم کے مسافرو ! جان لو کہ
ہمارے راہ نما لامکانی تھے۔ لامکانی ہیں۔
آؤ! ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر لا
مکاں کا سفر کریں۔ وصالِ یار کے لئے ناسوت کے مکاں کو مغلوب کر کے ”زماں“ کے تابع
ہو جائیں۔
اسی دن کے لئے فرمایا،
مجھ سے ملنے کے لئے کارڈ (پاس)
بنوالیں ۔“
ایسا مت سوچئے کہ ہم نے وقت ضائع
کیا اور کچھ حاصل نہ کیا۔ خود سے مایوس نہ ہوں ۔ ہمارا سر مایۂ جان تو وہ خود ہیں
جن کی محبت کی مشعل ایک ایک دل میں فروزاں ہے۔ احساسِ محبت کو جِلا رہی ہے ، بڑھا
رہی ہے اور وصل کی تڑپ کو لامکاں تک پہنچا رہی ہے۔
پہلی بار راہ نما سے ملی تو محبت
کو نورانی نقش و نگار میں دیکھا ۔ ادب و احترام بڑھ گیا۔ میں نے نیاز مندی سے سر
جھکالیا۔ انہوں نے ہمیں اللہ اور اللہ کے محبوب خاتم النبیین رسول اللہﷺ سے محبت
کرنا سکھائی اور بتایا،
با ادب بانصیب
بے ادب بے
نصیب
مکانی فاصلوں کی وجہ سے اکثر خیال
آتا تھا کہ زندگی نے وفا نہ کی اور میں ملے بغیر دارِ فانی سے رخصت ہوگئی تو کیا
ہوگا۔راہ نما کی کتاب ”روحانی علاج“ میرے پاس آئی۔ پہلی بار کوئی وظیفہ پڑھا ۔ عزم
و یقین اور اخلاص سے ”قبولیتِ دعا“ والا عمل شروع کیا۔ بیمار رہنے لگی کہ اشارہ
ہوا ۔ ہمارے پاس آؤ۔
سلام کے لئے کراچی حاضر ہوئی۔
انہوں نے سر پہ دستِ شفقت رکھتے
ہوئے دریافت کیا ، کیا پڑھ رہی ہو بیٹی؟
مجھ پہ نقاہت طاری تھی۔ بات کرتے
ہوئے بے ساختہ قدموں میں سر رکھ دیا اور عرض کیا، یہاں سے جانے کے بعد بھی آپ کے
ساتھ رہنے کے لئے وظیفہ پڑھ رہی ہوں۔
مہربان باپ نے فرمایا،
”اللہ کو موت کی دعا پسند نہیں۔
آئندہ ایسا نہ کرنا۔ خاتم النبیین پاک ﷺ تشریف لے گئے تو صحابہ کرام رہے۔ انہوں نے
اللہ کے پیغام کو پھیلایا ۔ حضور قلندر بابا اولیاؒ تشریف لے گئے تو میں رہا۔ میرے
مرشد نے مجھ سے فرمایا تھا کہ تم میرے بعد رہو گے اور سلسلہ کا کم کرو گے۔ جب میں
نہیں رہوں گا تو آپ سب میرے بچے سلسلہ کا کام کریں گے۔“
روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں ۔ وہ
تسلی دیتے رہے۔ انہوں نے اپنی جائے نماز دی۔ میں نے نماز پڑھی تو دل کو سکون ملا۔
ایک روز شام کی سیر پر جانے سے قبل
میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا،
”یہ روحانیت بری عجیب چیز ہے۔ لوگ
کہتے ہیں کہ ابا جی دنیا دار نہیں ہیں۔“
پھر مسکراتے ہوئے فرمایا،
” میں کہتا ہوں ، مجھ سے زیادہ
دنیا دار کون ہوگا؟ خادمین حاضر باش کھڑے ہیں ، سواری باہر موجود ہے ، دنیا کے ہر
ملک میں میرے بچے رہتے ہیں ۔ جس کمرے میں میری تصویر ہے۔ وہ کمرا میرا ہے۔“
اللہ کے دوست سے اتنی گہری بات سن
کر میں سوچ میں گم ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ دنیا داروں کی نظر میں دنیاداری کی تعریف
کچھ اور ہے اور طالبِ حق کے لئے دنیا داری کیا ہے ، ان کی بات سے سمجھ میں آیا کہ
اللہ کی رضا کے مطابق دنیا میں رہنا اور لوگوں کے دلوں میں اللہ کی محبت کو جگانا،
دنیا میں رہنے کے آداب ہیں۔
ایک بھائی سے 20 سال بعد ملاقات
ہوئی۔ کہنے لگے ، میں آپ کو جانتا ہوں لیکن آپ مجھے نہیں پہچانتیں۔ میں آپ کی راہ
نما سے ملاقات میں سب سے زیادہ حائل ہونے کی کوشش کرتا تھا پھر ان کے حکم پر آپ کو
بلاتا تھا۔
دبلے پتلے نحیف و نزار × (بہت کمزور اور لاغر) شخص سے
شناسائی کی لہر محسوس نہ ہوئی تو انہوں نے کہا ، میں وہی ہوں جو لحیم شحیم× ( توانا ،تنو مند) ہوا کرتا تھا۔
نام بتایا تو ذہن میں جھماکا ہوا۔ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر حیرت ہوئی ۔۔ وہ حال
نہ ہو حلیہ۔
ایسا کیا ہوا کہ اتنا بدل گئے۔
بھائی نے کہا ، میں نے راہ نما سے
درخواست کی تھی کہ کچھ ایسا انتظام فرما دیں کہ ہر وات آپ کے ہمراہ رہوں۔
راہ نما نے مٹھاس بھری آواز میں
فرمایا،
”مرید ۔۔ مرشد کے دل میں رہتا ہے
لیکن مرید کا آئنہ دل صاف نہ ہونے کی وجہ سے اسے نظر نہیں آتا کہ وہ کہاں ہے۔“
بھائی نے بتایا کہ میں خانقاہ چھوڑ
کے چلا گیا تھا۔ ساری جوانی سڑکوں کی خاک چھانتا رہا اور آج لحد کے سر ہانے بیٹھا
ہوں۔ دیکھو ! انہوں نے مجھے محروم نہیں رکھا۔
میرے بہن بھائیو! دل کے دریچے میں
دیکھئے اور بتایئے ، جب کوئی مشکل پیش آئی ، کیا مہربان دوست نے ساتھ نہیں دیا؟
ساتھ ہونے کا احساس نہیں دلایا؟ پھر اس قیامت کی گھڑی میں وہ ہمیں کیسے چھوڑ سکتے
ہیں ؟
علم دوست راہ نما کا روحانیت کی
نرسری اور پہلی جماعت سے لامتناہی مقامات تک کا روحانی ورثہ کتابوں اور آدیو ویڈیو
لیکچرز کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ ان کا ایک ایک دُرِ حکمت × ( حکمت کا موتی )ہمیں قبائے
دل میں سجا لینا چاہئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے
ہر شخص کی ذات بزرگ دوست کی تعلیمات کی تصویر بن جائے۔ ہمارے قلوب اور وجدان میں
دوست کی شخصیت کی گہری چھاپ ، ان سے والہانا عشق اور عقیدت موجود ہے۔
آیئے! اس مقدس ورثے کو نوجوان نسل
میں منتقل کریں تاکہ عشق و محبت اور ایثار کی لہروں کا سفر جاری رہے۔
کل ایک ماں اپنی 13 سال کی بچی کو
میرے پاس لے کر آئی۔ بچی کو کسی پل چین نہیں تھا رو رو کر ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
معصوم پھول نے میرے کان میں کہا ۔
آنٹی! کیا راہ نما مجھ سے ناراض ہیں جو انہوں نےمجھے اپنے پاس نہیں بلایا؟
میں نے بچی کا ماتھا چوما اور کہا
، ہرگز نہیں ! آپ تو ان کا پھول ہیں۔ آپ کے اندر ان کی محبت کی خوش بو ہے۔ وہ
مسکرانے لگی اور مطمئن ہو گئی جیسے اس نے راہ نما کی ذات کو اپنے اندر میں محسوس
کر لیا ہوا۔
بچی کی والدہ سے پوچھا کہ کیا اس
کی ظاہری طور پر ملاقات ہوئی تھی؟
ماں نے نفی میں سر ہلایا۔
میں نے ، آپ کی ذمہ داری ہے کہ جو
محبت و شفقت آپ کو عطا ہوئی ، اس بچی کے اندر منتقل کریں ۔ محبت قائم رہے گی ۔ ہم
نے اپنے فکر و عمل سے ہر قسم کے مشکل حالات میں ، آندھیوں اور طوفانوں میں چراغوں
کی حفاظت کرنی ہے۔ انہیں بجھنے نہیں دینا۔
شفیق راہ نما نے سب سے پہلے کراچی
میں خانقاہ تعمیر کی پھر اے شہر شہر اور ملک ملک پھیلایا، اس اصول پر کہ ہر خانقاہ
خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ سے محبت کی تعلیمات کا عکس
ہو اور وہاں آنے والوں کے اندر میں یقین کی دنیا روشن ہو۔
بزرگ راہ نما کی محبت ایسا مرکز ہے
جس پر سب متحد ہیں۔ ہر عظیمی بھائی ، بہن اور بچے مہربان دوست کے باغ کا انمول
پھول ہیں ۔ جس طرح پھولوں کے رنگ ، خوش بو اور خواص جدا جدا ہیں ۔ عظیمی باغ کا ہر
پھول نایاب اور گراں قدر ہے۔
عرض یہ ہے کہ ہمارے راہ نما سورج
ہیں اور ہم سب سورج مُکھی کا پھول۔ جب سورج لامتناہی افق پہ گردش کرتے ہوئے رُخ
بدلتا ہے تو سورج مکھی کے پھولوں کے چہرے بھی اُس سمت ہو جاتے ہیں۔