Topics
اللہ کی محبت میں مخمور انسان کی
زندگی توازن کی اعلیٰ مثال ہے۔ ایک طرف نظامِ کائنات میں تفکر کر کے تخلیقی
فارمولوں میں تصرف کرتا ہے ، ساتھ ساتھ روز مرہ معمولات ذمہ داری سے انجام دیتا ہے
۔ روحانی انسان کی حیات اپنی ذات تک محدود نہیں، وہ ذات پات کی تفریق کے بغیر قولو
فعل سے معاشرے کی تربیت کر کے خلقِ خدا کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور ایثار
کرنا سکھاتا ہے ۔ روشن راستے پر سفر سے باعمل شخص کے لاشعور اور شعور کے تقاضے
پورے ہوتے ہیں۔
روحانی بندہ عام آدمی کی طرح
محسوسات اور تجربات سے گزرتا ہے لیکن اس کے اندر احساسِ ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے
طرز عمل عام فرد سے مختلف ہوتا ہے ۔ دنیا میں جتنے مسائل ہیں، سب کا بیج میں اور
ملکیت کا احساس ہے جب کہ روحانی انسان حق الیقین کے مرحلے میں مشاہدہ کر
لیتا ہے کہ خالق و مالک ، قادر و قدیر ، کفیل و جلیل ، رحمٰن و رحیم اور ہر شے پر
محیط صرف اللہ ہے۔
شاگرد استاد کا عکس ہوتا ہے ، عکس
نہ ہو تو شاگرد نہیں۔ شاگردوں میں اعلیٰ اوصاف کی بیداری کے لئے راہ نما فرماتے
ہیں،
”ہر وقت اپنی اصلاح پر نظر رکھیں۔
رات سونے سے قبل محاسبہ کریں۔ آج کا احتساب مستقبل کی راہ نمائی ہے۔“
مستقل بنیادوں پر محاسبہ سے جانب
دار بندہ غیر جانب دار ہو جاتا ہے ۔ ہر وقت خود کو کٹہرے میں کھڑا دیکھتا ہے۔ جب
اپنے خلاف گواہی دینا آسان ہو جائے تو انسان کی وہ صفت بیدار ہوتی ہے جو خالقِ
کائنات کو پسند ہے ۔۔ عجزو انکسار۔
بندہ پکار اٹھتا ہے ،
”اے رب ! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا
۔ اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں
گے۔“ (الاعراف : ۲۳)
احتساب کی مشق بھی کیا خوب ہے ۔ ہر
روز خود کو حرفِ غلط کی طرح مٹتے ہوئے دیکھتی ہوں ۔ جو مزہ ذات کی نفی میں ہے ،
خود نمائی میں نہیں۔
مٹتے مٹتے روز و شب حال یہ اپنا
ہوا
رہ گئی بس ایک آنسو اور وہ بھی بہہ
گیا
سونے سے قبل دن بھر ہونے والے
کاموں کا حساب کتاب کرتے ہوئے شرحِ خسارہ نکال رہی تھی ، پرکھ کا پیمانہ نور اور
نار کی مقداریں تھا۔ نور سکون اور نار اضطراب ہے۔ اندر میں آواز نے کہا کہ مقداروں
میں توازن ہے لیکن تمہارا ترازو اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے ۔ سمجھ میں آیا کہ کیوں
کہا جاتا ہے آدمی اپنی جنت دوزخ ساتھ لئے پھرتا ہے۔ اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا
کی ۔ خیال آیا کہ نار سے محفوظ رہنے کے لئے نور میں داخل ہو۔
نور سے غافل جو لوگ ہوتے ہیں
ان کے اپنے ہی روگ ہوتے ہیں
ان کے قہقوں میں راگنی غم کی
ان کی خوشیوں میں سوگ ہوتے ہیں
نور کو جان لینے والوں کے
سیدھے سارے اصول ہوتے ہیں
ظلمت ِ شب بڑی عمیق سہی
یدِ بیضا بھی طول ہوتے ہیں
ان کے قدموں میں بیٹھ کر دیکھا
نوحۂ غم خوشی میں ڈھلتا ہے
نوریوں کے جمال ہستی سے
رحمتوں کا نظام چلتا ہے۔
احتساب کے عمل سے نظر اپنی خطاؤں
پر مرکوز ہوتی ہے ، دوسروں کی کو تاہیاں نظر انداز ہو جاتی ہیں ۔ فرد اچھائیوں سے
بے نیاز ہونے لگتا ہے اور تسلیم و رضا کی تصویر بن جاتا ہے۔
سرد رات میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے
گرمی کے اسباب مہیا تھے۔ ہیٹر کے پاس بیٹھی تو آنکھوں میں طغیانی آگئی۔ ذہن کی
اسکرین پر گزشتہ زندگی کے شبو روز کی فلم چلنے لگی اور احتساب کا عمل شروع ہو گیا۔
رب العالمین اللہ کو پکارا،
اےرب ! آپ کی طلب میری زندگی ہے۔
محبت نے قلب کو گرفت میں لے رکھا ہے۔ امتحان سر پر آیا ، آپ کی رحمت نے سرخرو کیا
۔ میں نے نگاہوں کی چوری کی تو میں چور ہوئی ، غصہ کی، میں نار بن گئی ۔ کوتاہیوں
کے باوجود آپ نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا اور کثافت کو لطافت میں بدلنے کے لئے اپنا
فیضان جاری رکھا۔ آپ کی مہربانی ، رحمت اور محبت کی چادر اوڑھے میکانکی انداز میں
زندگی کی شاہراہ پر محو سفر رہی۔ اپنے لئے جو فیصلے میں نے کئے ، وہ میرے خلاف تھے
۔ یا اللہ! آپ نے کمالِ محبت سے میری اصلاح کی اور میرے غلط فیصلوں کے سنگین نتائج
سے مجھے بچایا۔ ورنہ میرا وہی حال ہوتا جس کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہے،
” تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہو
جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ۔“ (النحل : ۹۲)
یا اللہ ! آپ نے گھبراہٹ کے وقت
تسکین عطا فرمائی اور میں نے اس پر آپ کا شکر ادا نہ کیا ۔ بے شک بڑائی آپ ہی کو
زیب دیتی ہے۔
محاسبہ نے مجھے جھکنا اور معافی
مانگنا سکھایا اور میں سکون کی اتھاہ گہرائی سے واقف ہوئی۔
ایک نشست میں راہ نما نے کسی سے
فرمایا،
”ہمارا معاملہ الگ ہے ، خیال کی
بھی پکڑ ہو جاتی ہے۔“
یہ بات مجھے ماضی میں لے گئی۔
بارہویں جماعت میں فارسی کی مس نے پڑھایا تھا کہ عام لوگوں کی عمل پر اور خاص
لوگوں کی خیال پر پکڑ ہوتی ہے ۔
وضاحت جاننا چاہی تو مس نے کہا ، یہ ٹھیک ہےکہ
خیال پر پکڑ ہوتی ہے لیکن یہ بہت خاص لوگوں کی باتیں ہیں۔ دل نے کہا شاید میں اس
بات کو جانتی ہوں لیکن بیان کرنے سے قاصر ہوں کیوں کہ یہ محب اور محبوب کے معاملات
ہیں اور پھر دن اس دعا کی تکرار میں گزر گیا کہ یا للہ ! مجھے ایسے بندے سے ملا جو
آپ کو عزیز ہو۔ یا اللہ ! مجھے اس بندے سے ملا جس کے خیال کی حفاظت کی جاتی ہے۔ اے
قادرِ مطلق! چاہتی ہوں کہ مجھے بھی اپنی حفظ و امان میں رکھ۔ وہ صلاحیت عطا فرما
جو کیئر آف اللہ ہے۔
آج شکر ادا کرتی ہوں کہ میری کون
سی ایسی دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قبول نہ کی ہو۔
شام ہو رہی تھی۔ نشست ختم ہوتے ہی
آسمان پرقطار در قطار پرندے اپنے آشیانوں کی جانب محو سفر تھے جب کہ زمین پر
خانقاہ کے نورانی ماحول میں موجود لوگ نہ چاہتے ہوئے اپنے اپنے گھر جانے کی تیاری
کر رہے تھے۔ بیش تر چہرے سوچ میں گم خاموش تھے۔ لگتا تھا کہ اندر میں محاسبہ کی
کتاب کھل گئی ہے۔
دوپہر کا وقت تھا۔ میں اپنے تین
سالہ بیٹے کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ اس کی روشن چمک دار آنکھوں میں جھانکتے ہوئے
ایک خیال آیا اور لہر کی طرح گزر گیا۔ بچہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گیا تھا۔ بالآخر
بھاگتے بھاگتے تھک گیا اور میری گود میں آتے ہی سو گیا۔ مجھے بھی نیند آگئی۔
خواب میں دیکھا کہ موٹر سائیکل
کھڑی ہے اور بیٹا سرخ لباس پہنے اس پر بیٹا ہے۔ پیر لٹک رہے ہیں۔ میں نزدیک کھڑی
ہوں ۔ اس اثنا میں راہ نما تشریف لاتے ہیں، بچے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے برے
جلال سے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، ”اس پر بھروسا کرنا خطرناک ہے۔“
میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔ پہلی بار
ڈانٹ پڑی تھی۔ آنکھیں بارش بن گئیں ۔ بچے کو دیکھا جو گہری نیند میں تھا ، خود سے
سوال کیا کہ میں اس پر بھروسا کرتی ہوں ؟ خود کو بہت ٹٹولا کہ میں چھوٹے کمزور بچے
پر کیسے بھروسا کر سکتی ہوں ۔ سرزنش کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔
دن پریشانی کی نذر ہو گیا۔ رات کو
توے پر روٹی ڈال رہی تھی کہ منظر روشن ہوا ۔ کھیلتے ہوئے بچے کی چمک دار آنکھوں
میں جھانکتے ہوئے مجھے خیال آیا تھا کہ بچہ ذہین معلوم ہوتا ہے۔ شاید وہ کرے جو ہم
نہ کر سکے۔
راہِ سلوک میں شاگرد کا محاسبہ
استاد اور شاگرد کے درمیان راز ہوتا ہے ۔ تصحیح کی گئی تھی کہ بچوں کی اچھی تربیت
کروں اور توقعات نہ رکھوں تاکہ معاشرے میں اچھائی کا درخت نمایاں ہو۔
لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ ملاقات کو
دل چاہتا ہے مگر ہم اس قابل نہیں کہ استاد کے سامنے جائیں، جب کسی قابل ہو جائیں
گے تو ملاقات کے لئے جائیں گے۔ سوچتی ہوں کہ اگر یہی ملاقات کا معیار ہے تو شاگرد
ساری زندگی ملاقات کے قابل نہیں ہوگا ۔ محبت کا قابلیت سے کیا تعلق؟
غلطی پر ندامت اور اصلاح پر نظر
دوری حائل نہیں ہونے دیتی اور سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔
ایک روز کسی صاحب سے فرما رہے تھے،
”بیٹا ، ماضی کی غلطیوں کو دہرا کر
آنے والا وقت خراب نہیں کرتے ۔ ماضی کی غلطیوں کو سامنے رکھ کر مستقبل کو بہتر
بناتے ہیں۔“
اللہ کے دوست ہمیشہ حوصلہ بڑھاتے
ہیں تکہ مایوسی غالب نہ ہو۔ مایوس آدمی نمایاں کام انجام نہیں دے سکتا ، زندگی
ادبار بن جاتی ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ مایوسی کفر ہے ۔
ایک بار راہ نما نے فرمایا،
”تربیت کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ
غلطی پر فوراً پکڑ کی جائے اور سزا دی جائے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ معاف کر دیا
جائے اور بار بار معاف کیا جائے کہ کبھی شاگرد شرمندہ ہوگا اور اپنی اصلاح کرے گا
۔ میں نے تربیت کے لئے دوسرا طریقہ اختیار کیا ہے۔ فقیر کا سینہ سمندر ہے ، تمام
نالے اس میں گرتے ہیں اور وہ ان کو پاک صاف کر کے دریا بنا دیتا ہے۔“
اللہ کے دوست تربیت کرتے ہیں تو
ذہن و فکر کی کثافتیں ، لطافتوں میں ڈھل جاتی ہیں۔
ایک مرتبہ درخواست کی کہ ایسا
طریقہ تجویز فرما دیں کہ میں ہر وقت وہ کام کروں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔
انہوں نے فرمایا،
”پہلے خیال پر عمل کرنا شروع کر دو
اور جو کام کرو ، اللہ کے بھروسے پر کرو۔“
میں نے سوچا کہ خیال کیا ہے؟
لغت کے مطابق خیال کے لفظی معانی
ایسی قوت کے ہیں جو محسوسات کی صورتیں ان کے غائب ہونے کے بعد محفوظ رکھتی ہیں۔
باطنی علوم کی روشنی میں خیال
لاشعور کی زبان ہے جو اطلاع ِ عام کی حیثیت رکھتا ہے۔ لاشعور ، شعور کو شے یا کام
کے بارے میں خبر دیتا ہے کہ ایسا کرو اور ایسا نہیں کرو۔
زندگی کسی عالم میں خیال سے آزاد
نہیں۔ ہر خیال مخصوص نقش و نگار اور مکمل تصویری پیغام پر مشتمل ہے جسے ہم قبول
کرتے یا رد کرتے ہیں۔ بیداری میں پیغام خیال کی شکل میں نظر آتا ہے جب کہ خواب میں
خیال مظہر بن جاتا ہے۔
پہلے خیال کو قبول کرنے کی صلاحیت
مسلسل اور متواتر مشق سے حاصل ہوتی ہے ۔ پہلا خیال لطیف ہوتا ہے۔فرد یکسو ہو اور
ذہن وسوسوں کے ہجوم سے خالی ہو جائے تو لاشعور کا عکس واضح ہوتا ہے ۔
۱۔ پے در پے یا متواتر خیالات کی
وجہ سے پہلے خیال کو شناخت کرنا مشکل ہوتا ہے اور اطلاع اصل حالت میں شعور کی گرفت
میں نہیں آتی۔
۲۔ پہلا خیال غیر جانب دار ہوتا ہے
مگر وسوسے میں مبتلا شخص تفریق نہیں کر پاتا کہ پہلا خیال کون سا ہے ۔ وہ خیال کے
برعکس اپنی محدود فکر کو دیکھتا ہے اور عمل کرتا ہے۔ پہلے خیال سے واقف شخص اند ر
کی آواز پر لبیک کہتا ہے ، سکون کو سمجھتا ہے اور بے چینی پر خبردار ہو جاتا ہے۔
خواب میں خیال کی طرف متوجہ ہونے
میں ذاتی ارادہ زیر بحث نہیں آتا بلکہ جو خیال آرہا ہے ، فرد اس پر عمل کرتا ہے۔
یہ بات ضرور ہے کہ اگر طرز فکر میں الوژن (فریبِ نظر) ہو تو خواب کی دنیا پردہ بن
جاتی ہے ، صرف وہ باتیں یاد رہتی ہیں جن کے نقوش گہرے ہیں۔
(قسط : ۸)