Topics

اللہ کے دوست۔جون ۲۰۲۵ء

 

کائناتی شعور غم و خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ یہ وہ شعور ہے جس میں نوعیں ایک دوسرے سے مانوس ہیں اور سب میں خیر کی مقداریں ہیں۔ اس کے برعکس انفرادی شعور میں خیر کے ساتھ شر کی مقداروں کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ جب آدمی درندے سے خوفزدہ ہوتا ہے تو خوف کی بنیاد پر درندہ غالب آجاتا ہے اور جب آدمی اپنی نوعی حیثیت (آدمی کی نوعی حیثیت ”انسان“ ہے۔ انسان احسنِ تقویم ہے۔ قارئین ۔۔۔ بتائیے ، احسنِ تقویم کیا ہے؟) سے واقف ہوتا ہے اور واقفیت علم و عمل کے دائرے میں داخل ہوتی ہے تو درندہ تعظیم بجا لاتا ہے۔

ابتدائی دنوں کا واقعہ ہے۔۔ خیال نے متنبہ کیا کہ آج کوئی انہونی پیش آ سکتی ہے۔ فکر ہوئی کہ کیا کروں۔ خانقاہ کے سبزہ زار اور کیاریوں کا جائزہ لے کر تسلی کی کہ وہاں نوعِ حیوانات میں سے کوئی مخلوق چھپی ہوئی نہ ہو۔ بے چینی ہر لمحہ بڑھتی رہی لیکن اظہار نہیں کیا۔ دن چوکس سپاہی کی طرح گزارا۔ راہ نما شام کی سیر سے لوٹے تو دیکھا کہ ایک بِھڑ ان کی پیشانی پہ بیٹھنے کی کوشش میں ہے۔ ان کے ساتھ موجود بھائی نے اسے دور کیا۔ جاتے ہوئے بِھڑ نے میرے ہاتھ پر ڈنک ماردیا۔ راہ نما نے پوچھا ، کیا تھا؟ عرض کیا ، بِھڑ ہے۔ یہ فرماتے ہوئے آگے بڑھ گئے، ”سلام کرنے آئی ہوگی۔“ آدمی کے لئے موذی مخلوقات خیر کے پیکر انسان کے لیے خیر ہیں۔ ذہن نے کہا، تم نے محدود پیمانے میں اطلاع قبول کی جو درست نہیں ہے۔

قدرت کا نظام ہے کہ فرشتوں کے ساتھ ساتھ ، اللہ کے نیک بندے جن کو اللہ نے دوست فرمایا ہے اور جو فی الارضِ خلیفہ کے منصب سے واقف ہیں ، مخلوقات کو انسپائر کرتے ہیں۔ مرشد کریم فرماتے ہیں، ”اگر آپ کو کسی جانور سے ڈر لگتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے اندر حیوانیت موجود ہے۔“ ذہن تلاش میں ہے کہ بِھڑ کی آمد کی اطلاع 12 گھنٹ قبل موصول ہونا کیا تھا ؟ قارئین بہن بھائیوں سے سوال ہے کہ ہم اصل کی بجائے اطلاعات کے متضاد معانی کیوں قبول کرتے ہیں؟ یہ کون سی طرز فکر ہے؟ اُس وقت مجھے چینی قوم کا خیال آیا جس کے بارے میں ابدالِ حق قلندر بابا اولیاؒ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی محب الوطن قوم ہے کہ سب کا سب انسپائریشن قبول کرلیتی ہے۔ سیاق و سباق میں جائیں تو ابدالِ حق نے یہ بات اُس وقت فرمائی جب چین نوزائدہ ملک تھا اور اُس کے پیشِ نظر ایک مقصد تھا کہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے۔ اس کے لیے وہ تندہی سے مصروفِ کار تھے۔ قدرت انساپئریشن پر عمل کرنے والوں کی معاون ہے۔

ایک نشست میں راہ نما نے فرمایا، ”درندے اور جانور میری بات سمجھتے ہیں، آدمی نہیں سمھتے۔“ حآضرین کو سانپ سونگھ گیا۔ بات ایسی تھی کہ سب کے سر جھک گئے۔ یہ الفاظ آدمی کے اسفل سافلین میں ہونے کو بیان کرتے ہیں۔ نوعِ آدم جس کو اللہ نے احسن ِ تقویم بنایا ہے ، نافرمانی کے زون اسفل سافلین میں چلی جائے تو اس کی حیثیت سوالیہ نشان ہے۔ یہاں سے آدمی اور انسان میں فرق واضح ہوتا ہے۔ انسان کائنات کے تخلیقی فارمولوں کا امین ہے جب کہ آدمی کو تخلیقی فارمولوں کی خبر نہیں ہے۔ جتنی مخلوقات ہیں ، کائناتی شعور میں زندگی گزارتی ہیں۔ اسفل سافلین کو قبول کرنے والا آدمی انفرادی سوچ کے تابع ہے۔

برسوں پہلے خانقاہ میں مور کا جوڑا آزادانہ گھومتا تھا۔ ایک روز فجر کی نماز کے بعد راہ نما مسجد سے خانقاہ تشریف لائے تو مور حاضر ہوا، پر پھیلائے اور رقص کرنے لگا۔ رقص میں سرشاری تھی۔ انہوں نے مور کو مخاطب کیا، ”نہیں کرو، تم تھک گئے ہوگے، میں نے دیکھ لیا ہے۔“ مور نے فی الفور پر سمیٹے اور ہٹ گیا۔ بزرگ راہ نما نے فرمایا، ”یہ روز اُسی وقت میرے پاس آتا ہے۔“ رقص نر مور کا خاصہ ہے۔ مادہ رقص نہیں کرتی۔ روحانی زبان میں بات کی جائے تو مور کا ہر پنکھ اور پنکھ میں ہر نقش ایک صلاحیت ہے۔ رقص محبت کی علامت ہے۔ جس سے محبت ہوتی ہے ، مور اس کے سامنے سر تعظیم سے سرِ تسلیمِ خم کر کے رنگ رنگ پروں کو اس خوب صورتی سے پھیلاتا اور سمیٹتا ہے جیسے صفات سمیت خود کو سرنڈر کر رہا ہو۔ مور کا دل اللہ کے دوست کی محبت سے سر شار تھا ۔ وہ ان کے انے کا انتظار کرتا تھا۔ انہوں نے محبت قبول کی اور فرمایا، ”نہیں کرو ، تھک گئے ہوگے۔“

پرندوں میں ایک جنس کوّا ہے۔ یہ تنہا کھانا نہیں کھاتا۔ کھانے سے قبل مخصوص آواز میں ساتھیوں کو شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ کوّا نہ صرف آدمیوں کے چہرے یاد رکھتا ہے بلکہ ساتھیوں کو بد اخلاق لوگوں سے خبر دار کرتا ہے۔ کوّا برادری کے کسی فرد کو آدمی سے تکلیف پہنچے تو مل کر بدلہ لیتے ہیں۔ ساتھی کی موت پر گریہ وزاری کرتے ہیں۔ ہمارے ایک کسان بھائی 40 سال پہلے کا واقعہ سناتے ہیں کہ انہوں نے فصل خراب کرنے پر غلیل سے کوّے کا نشانہ لیا۔ آج بھی جب وہ اپنے گاؤں جاتے ہیں ، چند کوّے انہیں دیکھ کر غصے کا اظہار کرتے ہیں اور سر پر چونچ مارنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ چیونٹیوں کا بھائی چارا ، خاندانی نظام اور منظم طریقے سے کام کرنا ضرب المثل ہے۔ جب چیونٹی خوراک تلاش کرتی ہے تو اکیلی کھاتی ہے نہ ساتھیوں سے چھپاتی ہے ۔ وہ راستے میں ایک قسم کا کیمیائی مادہ خارج کرتی ہوئی جاتی ہے، اشارہ ملتے ہی باقی چیونٹیاں اس جگہ پہنچتی ہیں جہاں سے پہلی چیونٹی نے غذا حاصل کی۔ پرندے طائر مائی کا انگریزی نام Shoebill ہے۔ مشہور ہے کہ اس کی آدمی سے دوستی صدیوں پرانی ہے۔ آدمی اس کے قریب آتا ہے تو یہ ایک پر توڑ کر تحفے میں پیش کرتا ہے۔

مرشد کریم نے واقعہ سنایا۔ ”ایک گلہری میرے پاس آنا چاہتی تھی اسے موقع نہیں ملتا تھا۔ کئی دن گزر گئے۔ ایک روز میرے کمرے کے باہر کوئی نہیں تھا، دروازہ تھوڑا کھلا ہوا تھا۔۔ گلہری بھاگتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ میرے پیر کا انگوٹھا منہ میں لیا ۔ ہلکا سا دبا کر چھوڑ دیا اور چلی گئی۔“ صاحبِ طریقت جانتے تھے کہ ننھی گلہری کئی روز سے قدم بوسی کی منتظر ہے۔ انہوں نے اس کی خوشی کا خیال رکھا۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہم آدمیوں سے زیادہ بصیرت جانوروں میں ہے جو اللہ کے دوستوں کو پہچانتے ہیں اور خدمت میں حاضر ہونے کی خواہش رکھتے ہیں جیسے شہنشاہ ہفت اقلیم نانا تاج الدین ناگپوری ؒ جنگل میں آرام فرمارہے تھے کہ انہوں نے ساتھ موجود لوگوں سے فرمایا ، شیر آئے گا ، جس کو شیر سے ڈر لگتا ہے ، وہ چلا جائے۔ کچھ دیر بعد شیر خدمت میں حاضر ہوا ، قدم بوسی کی اور لوٹ گیا۔ ریچھ خوں خوار درندہ ہے۔ نوچ کر کھاتا ہے لیکن مردار نہیں کھاتا۔ آدمی کچھ دیر سانس روک لے تو وہ اسے مردہ سمجھ کر چلا جاتا ہے۔ سدھایا ہوا ریچھ کرتب دکھاتا ہے اور رقص کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے۔

کئی سال پہلے کا ذکر ہے کہ لاہور کے جیلانی پارک میں پھولوں کی سالانہ نمائش کے موقع پر جشنِ بہاراں تھا۔ ان دنوں راہ نما لاہور میں تھے۔ عقیدت مندوں نے پھولوں کی نمائش میں شرکت کی درخواست کی۔ انہوں نے شفقت فرمائی۔ ہم نمائش میں پہنچے۔ پھولوں کی روشوں کے قریب میدان میں دائرے کی شکل میں ہجوم تھا۔ معلوم ہوا کہ ریچھ کا تماشا ہو رہا ہے۔ راہ نما چلتے چلتے ہجوم کے قریب ٹھہر گئے۔ عجیب منظر دیکھا ۔۔۔ درندہ ریچھ کرتب چھوڑ کر یک لخت پلٹا ، اللہ کے دوست کی طرف آیا اور دو پیروں پر کھڑے ہو کر آداب بجا لایا۔ راہ نما کی نگاہیں ریچھ پر تھیں اور ریچھ ہجوم سے بے نیاز راہ نما کی جانب متوجہ تھا۔۔ کبھی کرتب دکھاتا اور کبھی دیوانہ وار رقص کرتا۔ ریچھ کے مالک نے رسّی کھینچ کر سختی کرتے ہوئے دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی، وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔۔ دیوانہ وار جھومتا رہا۔ لوگ ریچھ کو بھول کر راہ نما کو تکنے لگے۔ ریچھ دیوانہ وار جھوم رہا تھا۔ جب مداری نے غصے میں آکر اس پر دنڈے برسانا شروع کئے تو ہمدرد و شفیق راہ نما کو ناگوار گزرا۔ اسے تنبیہ کی اور وہاں سے ہٹ گئے۔ یہ دیکھ کر دل نے کہا، ”درندے نے آدمیوں کے ہجوم کو متوجہ کیا کہ۔۔ انسان کی طرف دیکھو۔“

راہ نما نے ایک صبح خانقاہ کے ایک کارکن کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ وہ صاحب خوشی خوشی آئے ، یہ سوچتے ہوئے کہ بلاوا آیا ، پھول پھلواری کے حوالے سے کام کی رپورٹ خدمت میں پیش کروں گا۔ راہ نما نے ناگواری سے پوچھا ، کیا آپنے بوتل میں بچھو قید کیا ہے؟ ان صاحب کا چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ بہت نادم ہوئے اور اقرار کیا کہ چند روز پہلے بچھو نے کاٹ لیا تھا۔ بچھو سے تریاق بنانے کا ارادہ تھا کہ آئندہ اگر کسی کو کاٹے تو تریاق کام آ سکے۔ راہ نما جلال میں آگئے۔ فرمایا، ”آپ کو پتہ ہے کہ خانقاہ میں کسی بھی چیز کو قید کرنے کی ممانعت ہے۔ بچھو نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ آپ نے تین روز سے اسے قید کیا ہوا ہے اور وہ بھوکا پیاسا ہے۔ ابھی اسی وقت بچھو کو خانقاہ سے دور لے جا کر آزاد کریں اور اس سے معافی مانگیں۔ وہ صاحب بتاتے ہیں کہ میں نے بچھو کا خانقاہ سے فاصلے پر لے جا کر آزاد کیا اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا، مجھے معاف کر دو ، تمہیں بوتل میں قید کر کے بھول گیا تھا۔

لاہور میں قیام کی ایک اور یاد حافظے میں محفوظ ہے۔ ایک شام جگنو کبھی راہ نما کے کمرے کے دروازے پر جگمگاتا اور کبھی کھڑکی کی طرف آجاتا۔ بے قرار تھا۔ استادِ محترم نے اس بات کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا، ”جگنو آنا چاہتا ہے۔۔۔ یہاں لے آؤ۔“ بھائی نے ہاتھ بڑھایا تو جگنو فوراً ہتھیلی پہ بیٹھ گیا۔ کمرے میں آ کر ہتھیلی راہ نما کے سامنے کی اور عرض کیا، حضور ! جگنو آگیا ہے۔ فرمایا، اسے یہیں چھوڑ دو۔ وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے عرض کیا ، لگتا ہے کہ جگنو باہر کیاریوں سے آیا ہے۔ فرمایا ، نہیں۔۔ یہ بہت دور سے آیا ہے۔ حاضرین نے دیکھا، جگنو نے ان کے گرد چند چکر لگائے پھر ایک طرف بیٹھ گیا۔ سوچتی ہوں کہ نوعِ جگنو کی نمائندگی کرنے والے جگنو کو اللہ تعالیٰ نے بصیرت بخشی اسی لئے اس نے ”بہت دور“ سے پُنور بندے کی لہروں کو محسوس کیا اور سفر کر کے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دل نے کہا، ”جگنو نے روشنی کا طواف کیا۔“

 

Topics