Topics

حاضری کا پروٹوکول۔مارچ۔۲۰۲۵

 

ایک بھائی نے راہ نما سے عرض کیا کہ شک نے نوعِ انسانی کو نگل لیا ہ۔ ہم جس فضا میں سانس لیتے ہیں ، اس میں شک کی آمیزش ہے۔ اس سے کیسے محفوظ رہیں؟

آدمی برائی کا شکار ہوتا ہے تو زندگی اِدبار بن جاتی ہ۔ روحانی زندگی ملاوٹ سے آزاد قول و عمل ہے۔ جہاں ملاوٹ ہوتی ہے، ثقل (تعفن) کی گرفت مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ آزادی کا راستہ اچھائی ہے۔ اچھائی ثقل کی گرفت کو کمزور کر کے شعور کا لاشعور سے ہم کنار کرتی ہے۔

حال میں زندگی گزارتے ہوئے سابقہ زندگی کا ریکارڈ ساتھ ساتھ چلتا ہے کیوں کہ لمحۂ حاضر کی تعمیر سابقہ ریکارڈ کی تصویر ہے جو یاد داشت بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر بے دھیانی میں ہاتھ لگنے سے میز پہ رکھا ہوا گلاس گر کر چکنا چور ہو جاتا ہے۔ گلاس کو واپس نہیں لا سکے لیکن آئندہ کے لیے چوکنا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح شعوری زندگی کے بہت سے اعمال اور افعال ذہنی خلفشار کی وجہ سے انجام پاتے ہیں۔ اس میں جذباتی فیصلے شامل ہیں جن کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے تاہم غلطیوں کو دہرانے سے گریز کر کے ہم آئندہ کے لیے محتاط ہو جاتے ہیں۔

عادت تکرار اور تجربے سے پختہ ہوتی ہے۔ کوئی عزیز پوچھتا ہے کہ بہت دن بعد آئے تو ہم کہتے ہیں کہ مصروفیت کی وجہ سے وقت نہیں ملا جب کہ اس دوران ہم نے تمام ضروری کام انجام دیے اور جن سے ملنے کا دل چاہا ، ان سے ملاقات کی ۔ شعور میں جھوٹ کے نقوش بننے سے برائی کی آمیزش ہوتی ہے اور احساس نہیں ہوتا کہ ہم باتوںباتوں میں کس روانی سے غلط بیانی کرتے ہیں۔ نقوش اندر میں پرنٹ ہوتے ہیں جن کا بوجھ محسوس ہوتا ہے لیکن جھوٹ کو جھوٹ نہ سمجھنے کی وجہ سے اصلاح نہیں ہوتی۔ دوسری طرف اصلاحِ نفس کے طلب گار باریک بینی سے اپنے شب و روز کا جائزہ لیتے ہیں اور اخلاقی نقائص سے دور رہتے ہیں۔

استادِ محترم کی تعمیل شاگرد کی زندگی ہے ۔ پانچ وقت نماز اور اسباق کی پابندی ، قرآن کریم کو ترجمے کےساتھ سمجھ کر پڑھنا ، درود خضری اور یا حی یا قیوم کا کثرت سے ورد روز و شب کا حصہ ہے۔ تعمیلِ حکم سے فاصلے سمٹ جاتے ہیں اور حضوری حاصل ہوتی ہے۔

ایک مہینے سے خیال گردش میں تھا کہ خود کو منوانے کی خواہش دور ہو ، ذہن کھلے اور میں بزرگ استاد کی تعلیمات کی تصویر بن جاؤں۔ ایک روز مراقبہ میں منظر روشن ہوا ۔ دیکھا کہ دیو ہیکل سیاہ ہاتھی کھڑا ہے۔ اس پر سواری کے لیے تازہ پھولوں سے سجی کرسی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کرسی پر بیٹھ جاؤ۔ مجھے ہاتھی کی موجودگی ناگوار گزری۔ دل بیت اللہ شریف کی زیارت کے لیے بے قرار تھا۔ میں نے اسم ”اللہ“ پڑھ کر ہاتھی پر ضرب لگائی۔ وہ لڑکھڑایا اور گر کر مٹی کا ڈھیر بن گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ پتھر کا ہاتھی تھا ، اسم ”اللہ“ کی ضرب سے گرد کی طرح فضا میں بکھر گیا۔ اب نگاہ کے سامنے بیت اللہ شریف شان و شوکت سے جلوہ گر تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ دل نے کہا ہاتھی کو اسی مقام پر نیست و نابود ہونا چاہیئے تھا۔

راہ نما کی توجہ سے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ طرزِ فکر کے ٹیڑھ پن سے فرد تصویر کو مسخ شدہ دیکھتا ہے۔ طرزِ فکر میں کجی ہو لیکن وظائف کی وجہ سے قلب کی دنیا چند لمحوں کے لئے روشن ہو جائے تو فرد جو کچھ دیکھتا ہے ، اس کو برداشت کرنے کا ظرف نہیں رکھتا اور منزل پر پہنچنے سے پہلے راستے کے مناظر میں کھو جاتا ہے۔

جن خواتین و حضرات کے پیشِ نظر عرفانِ الٰہی کی بجائے دنیا طلبی ہوتی ہے، وہ خود کو منوانے اور کشف و کرامات میں کھو کر راستہ گم کر دیتے ہیں۔ جب تک طرزِ فکر کی کجی دور نہیں ہوتی ، تصوف کا پہلا حرف اور سبق پردے میں رہتا ہے ۔ جیسے دنیاوی تعلیم کے لئے ابجد بنیاد ہیں ، تصوّف کی بنیاد اللہ ہے۔

بعض اوقات استاد تربیت سے گزارنے کے لیے شعور سے ماورا مناظر کی جھلک دکھاتا ہے۔ شاگرد کی طرز فکر ناپختہ ہو تو بہکنے کا اندیشہ ہوتا ہے، وہ خود کو معتبر تصور کرنے لگتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ،

”کیا آپ ﷺ نے ان کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی اور ستائش خود کرتے ہیں؟ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاکیزہ کرتا ہے۔ کسی ایک پر دھاگے کے برابر ظلم نہ کیا جائے گا۔“ (النساء : ۴۹)

عمل اچھا ہو لیکن مقصد نفی سے گزرے بغیر اثبات ہو تو راستہ کھوٹا ہو جاتا ہے۔ راہ نما نے کسی کے استفسار پر ایک صاحب کے چلے جانے کی وجہ بتائی،

”ان کا مجھ سے یہاں (سینے پر دل کی جگہ تھپتھپاتے ہوئے) کا تعلق نہیں تھا۔“

زندگی کی ہر حرکت فرد کے خیالات کا نقش ہے اس لئے پُرسکون زندگی گزارنے کے لیے ذہنی وسعت اور خیالات کی پاکیزگی ناگزیر ہے۔ خیال لاشعور کی شعور کو اطلاع ہے۔ اطلاع کو ہو بہو قبول کرنے سے فرماں برداری کا راستہ تیزی سے طے ہوتا ہے۔ خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ خیال میں خراش پسند نہیں فرماتے اسی لئے ہر نماز میں انعام یافتہ لوگوں کے اختیار کئے ہوئے راستے پر چلنے اور قائم رہنے کی دعا ہے۔

”ہدایت دیجئے صراطِ مستقیم کی۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر آپ نے انعام فرمایا۔“ (الفاتحہ : ۵۔۶)

صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کے لئے اللہ کی بندگی اور اللہ سے مدد مانگنا ادنیٰ سے اعلیٰ زندگی میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ راہ نما فرماتے ہین،

”اعلیٰ خیالات کا تعلق انسانی اقدار سے ہے جس کا دوسرا نام عقلِ سلیم ہے۔“

طرزِ فکر عینک ہے۔ عینک کا شیشہ صاف نہ ہو تو نظر پر دباؤ پڑتا ہے اور مناظر کے درمیان خلا پیدا ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ ہر شے دوسری شے سے الگ ہے۔ اسے الگ الگ اشیا کے درمیان مخفی رشتہ نظر نہیں آتا جس نے ہر دو شے میں تعلق قائم رکھا ہے ۔ عینک کا شیشہ (طرزِ فکر) صاف اور روشن ہو تو۔۔۔؟

استاد کی طرز فکر کو قبول کرنے اور اسباق کی پابندی سے باطن کی صفائی ہوتی ہے۔ شاگرد جب استاد کا رنگ قبول کرتا ہے تو خاندان اور معاشرے کا رنگ مغلوب ہو جاتا ہے ۔ وہ رنگ جس سے جنت کا لباس اتر گیا اور طرزِ فکر میں شک اور نافرمانی کا زہر پھیل گیا۔

ایک بھائی نے راہ نما سے عرض کیا کہ شک نے نوعِ انسانی کو نگل لیا ہے۔ ہم جس فضا میں سانس لیتے ہیں ، اس میں شک کی آمیزش ہے۔ اس سے کیسے محفوظ رہیں؟ راہ نما نے ان بھائی صاحب سے سوال کیا، آم کے درخت کے پاس امرود کا درخت ہوگا تو کیا اس کا ذائقہ امرود جیسا ہو گا؟ عرض کیا ، نہیں ۔ پوچھا، کیا اس کی شکل و صورت ، قدو قامت ، رنگ اور خواص امرود جیسے ہوں گے؟ عرض کیا ، جی نہیں۔ انہوں نے فرمایا ، آپ بھی آم کے درخت کی طرح ہوجائیں۔ وہ صاحب یہ تکرار کرتے ہوئے اٹھے، میں آم کا درخت ہوں۔ میں آم کا درخت ہوں۔ بعد میں ان صاحب نے ہمارے سامنے اپنے دوست سے کہا کہ بھائی ! بات یہ ہے کہ ام خود میں اتنا مصروف ہے ، اسے کیا خبر کہ برابر میں امرود کا درخت ہے یا انار کا ؟

ان صاحب کا واقعہ سن کر خیال آیا کہ اندر کی کثافت دور کرنا آسان ہے اور مشکل بھی۔ اللہ سے محبت ہے تو آسان ہے، دنیا سے محبت ہے تو مشکل ہے۔ شک ، ٹوہ میں رہنا ، غیبت ، بے حسی ، خود غرضی ، غصہ ، انتقام ، وسوسہ ، احساسِ برتری اور احساسِ کمتری تعفن ہیں۔ شب و روز ان میں گزرتے ہیں۔ ہمیں ان کی بدبو محسوس کیوں نہیں ہوتی؟ پاکیزہ نفوس خیرِ کثیر کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان سے محبت کی خوشبو آتی ہے۔

بزرگ استاد نے فرمایا،

”میرے مرشد کریم نے مجھے باوضو رہنے کی ہدایت کی تھی۔“

وضو بظاہر جسمانی طہارت ہے لیکن روحانی سائنس میں یہ وجدانی تحریکات کا ماخذ ہے۔ وضو سے فرد کے گرد خاص مقناطیسی میدان تخلیق ہوتا ہے جسے لوگ محسوس کرتے ہیں۔ باوضو رہنے سے اخلاقی اور ذہنی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔ وضو کو نماز تک محدود نہ کریں ، یہ اللہ کے حضور حاضری کا پروٹوکول ہے۔

آج ہر فرد مسائلستان بنا ہوا ہے کیوں کہ وہ ظاہری و باطنی پاکیزگی جس کا دوسرا نام سکون و مسرت ہے ، سے دور ہو گیا ہے۔ دروازے اور کھڑکیاں بند ہوں تو چور اندر نہیں آ سکتا۔ ہم اسے اندر آنے کا موقع دیتے ہیں اور سکون چوری ہونے پر مظلوم بن جاتے ہیں۔

ایک بہن نے اپنا واقعہ سنایا۔ ان کی زبانی سنئے:

بزرگ دوست نے مجھ سے پوچھا کہ دوسرے عالم میں آپ مجھے کیسے پہچانیں گی؟ میں نے عرض کیا ، حضور ! وہ تو بہت بڑا عالم ہے۔ میں آپ کو وہاں کیسے پہچان سکتی ہوں، آپ مجھے پہچان لیجئے گا۔ وہ مسکرائے۔ خاتون کہتی ہیں کہ میں سوال کی روح تک نہیں پہنچی۔ بعد میں غور کرنے پر ادراک ہوا کہ راہ نما نے میری توجہ نورِ بصیرت حاصل کرنے کی طرف مبذول کروائی تھی۔ جب تک نور کا مشاہدہ نہیں ہوتا، آدمی اس دنیا میں بھی اندھا ہے اور دوسری دنیا میں بھی اندھا رہتا ہے۔

علمِ روحانیت کا شاگرد بیداری کی حالت میں سکون سے آشنا ہو جائے تو خارج میں نظر آنے والی تحریکات سے ذہن ہٹتے ہی استاد کی نسبت سے قلبی تحریکات کا وقوف ہوتا ہے۔ محبت جب سرور بنتی ہے تو استاد کی زندگی ، شاگرد کی زندگی بن جاتی ہے ۔درسِ مکتب یہ ہے کہ شاگرد وہ ہےجو استاد کے نقشِ قدم پر چلتا ہے ، اس کا عکس بن جاتا ہے۔

کسی شخص نے ابدالِ حق قلندر بابا اولیاء ؒ سے شاگردِ رشید کی شکایت کی۔ انہوں نے فرمایا،

”یہ کام میں نہیں کر سکتا تو خواجہ صاحب کیسے کر سکتے ہیں؟“

ہوا یہ کہ استاد نے شاگرد کے اندر اپنی تصویر روشن دیکھی تو گواہی دی۔


 

Topics