Topics

علم اور مشاہدہ ۔مئی ۔۲۰۲۳

 

خیال ظاہر ہوا اور مجھے چونکا دیا۔

میں نے کہا ، نہیں نہیں ، وہ کہاں ، میں کہاں!

اس دوران میں دیوار پہ بیٹھے پرندے سے نظر ملی ۔۔ وہ پر پھڑ پھڑاتا ہوا اڑ گیا۔ گھبرا گئی کہ کیا اس نے اندر میں میری بات سن لی ہے؟ چھت پر گئی تو ہوا گنگنا رہی تھی ۔ دور کیاریوں میں سجے پھولوں پہ مسکان تھی جیسے سب کو خبر ہو گئی ہو۔ وہ خیال جو زبان پر نہیں آیا، اسے کس نے نشر کیا ؟ جس خیال کی تاثیر سارے عالم میں محسوس ہو ، اس کا مظاہرہ لازمی ہے۔

راہ نما فرماتے ہیں ، قوتِ مشاہدہ نہ ہو تو فرد ماورائی دنیا میں داخل نہیں ہو سکتا۔

علم مشاہدے کے بغیر ادھورا ہے اور مشاہدے تک پہنچنے کی راہ تجربہ ہے ۔ مشاہدہ یقین کی حدود میں داخل ہو جائے تو تعمیر ہے۔ بہت کم خوش نصیب یقین کی معراج کو پاتے ہیں۔

”اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ اس کے حضور سجدہ بجا لاؤ اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے۔“      (الحجر  :  ۹۸۔۹۹)

ایک مرتبہ طالبات و طلبا راہ نما سے ملاقات کے لئے عازمِ سفر ہوئے۔ ریل گاڑی میں اوپر والی برتھ پہ ایک صاحبہ سو رہی تھیں ۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھیں اور بتایا کہ میں سوتے ہوئے برتھ سے گرنے والی تھی کہ راہ نما تشریف لائے اور مہربان ماں کی طرح گرنے سے بچایا۔ نیند میں دوبارہ گرنے والی تھی کہ انہوں نے  اوپر کو دھکیل دیا۔ تیسری مرتبہ ایسا ہونے پر تنبیہ فرمائی، خود کو سنبھالو، اب گریں تو ہم نہیں آئیں گے۔

پھر کیا ہوا؟ سب نے بے ساختہ پوچھا۔

وہ کہتی ہیں کہ میں دوبارہ نہیں گری۔

خاص بندے کی بات عام نہیں ہوتی اسی لئے دہرائی جاتی ہے۔ شاگرد اگر سبق نہ سیکھے تو وہی صورت حال روپ بدل کر درپیش ہوتی ہے۔ استاد بار بار مواقع فراہم کرتے ہیں لیکن سیکھنے والے کم ہوتے ہیں ۔ حالات خواہ کتنے معمولی کیوں نہ ہوں ، غور کرنا چاہیئے کہ ایسا کیوں ہوا اور تکرار کیوں ہو رہی ہے۔

استاد کی بات کامیابی کی کنجی ہے۔ کنجی ہمیشہ گہرائی میں جا کر قفل کھولتی ہے۔ شعور ارتقا کی بلندی پر جب لاشعور سے یکجا ہوتا ہے تو حکمت کے موتی ظاہر ہوتے ہیں۔

ایک صاحب نے بتایا کہ جب میں نو عمر تھا تو ایک روحانی تقریب میں شرکت سے پہلے راہ نما کے آرام کے خیال سے ان کو مشورہ دیا کہ اگر مناسب ہو تو آپ اسٹیج کی بجائے پہلی صف میں تشریف رکھئے تا کہ تھکن طاری نہ ہو۔

جواب میں انہوں نے فرمایا ، کیا میں آخری صف میں بیٹھ جاؤں؟

ان صاحب نے سمجھا کہ پچھلی صف میں بیٹھنے والے غور سے بات سنتے ہیں ، پہلی صف والے نہیں۔ چند سال گزرنے کے بعد احساس ہوا کہ پہلی صف میں بیٹھنے والوں کی توجہ اسٹیج کے سوا کہیں نہیں جاتی جب کہ پچھلی صف والوں کی توجہ مختلف صفوں سے گزر کر آگے بڑھتی ہے اور دائیں بائیں دیکھنے سے بھٹک جاتی ہے ۔ آج وہی صاحب کفِ افسوس ملتے ہوئے کہتے ہیں کہ 30 سال گزرنے کے بعد راہ نما کی بات سمجھ میں آئی ۔ تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ میرے اندر تعمیلِ حکم کم تھی۔ نادانی کی بنا پر میری نظر میں اپنا مقام پہلی صف اور راہ نما کا آخری صف میں تھا یعنی میں نے ان کے حکم کے آگے اپنی سمجھ کو مقدم رکھا ۔ انہوں نے میری طرزِ فکر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا میں آخری صف میں بیٹھ جاؤں؟

استاد وہ ہے جو اندر میں دیکھنا سکھائے۔

آزمائش کا تجزیہ کیا جائے تو اس سے نبرد آزما ہونے کے سارے سبق اس میں موجود ہوتے ہیں ۔ چوں کہ اسباق پر دھیان نہیں دیا جاتا اس لئے آزمائش مشکل ہو جاتی ہے۔

روحانیت میں شاگرد استاد کی سکت سے مشاہدہ کرتا ہے۔ شاگرد خود سے مشاہدہ نہیں کرتا ، استاد شاگرد کی سکت کے مطابق مشاہدہ کرواتا ہے۔

کسی بھائی نے عرض کیا ، آج میں نے قالین کو سانس لیتے ہوئے دیکھا ۔

فرمایا ، آپ نے دیکھا نہیں ، آپ کو دکھایا گیا۔  دیکھنا یہ ہے کہ جب چاہا ، دیکھ لیا۔

خواب دیکھا کہ ایک خاتون سڑک پر گر گئی ہیں اور آس پاس سے گاڑیاں گزر رہی ہیں۔ میں دوڑتی ہوئی جاتی ہوں ، سہارا دے کر اٹھاتی ہوں اور گلے لگا کر تسلی دیتی ہوں۔ بیدار ہونے پر غور کیا کہ خواب میں کیا اشارہ ہے۔

اس روز سہیلی اور بچوں کے ہمراہ شہر میں قائم اولڈ ہوم جانے کا پروگرام تھا۔ وہاں ان خواتین سے ملاقات ہوئی جو گھر سے بے گھر کر دی گئی تھیں۔ ایک ماں کو جوان بیٹے نے کراچی سے ریل گاڑی میں بٹھا کر کہا، اماں! لاہور چلی جاؤ، وہاں ادارے بہت ہیں ۔ ذیابیطس کی مریضہ ایک خاتون کو دسمبر کی سرد رات میں بیٹا کسی مزار پر چھوڑ کر چلا گیا۔ وہ سردی سے ٹھٹھرتی رہیں ، کوئی اللہ کا بندہ انہیں اولڈ ہوم لے آیا۔

کسی خاتون کو شوہر ، کسی کو بیٹا ، کسی کو بھائی اور ایک خاتون کو بہن چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ درد بھری داستانیں تھیں جنہیں سننے کی تاب نہ تھی۔

ہمارے ساتھ موجود ایک صاحبہ نے بے حسی پر ان خواتین کے گھر والوں کو بد دعا دی تو ماؤں نے تڑپ کے کہا ، اللہ نہ کرے کہ ہمارے بچوں کو تکلیف پہنچے ، ہم ان کے لئے دعاگو ہیں۔

بے شک ماں کی محبت کا نعم البدل نہیں۔

اولڈ ہوم میں تمام خواتین نانی دادی تھیں۔ ہمارے بچوں نے ان کی تکلیف کو بہت محسوس کیا اور کہا کہ ہم نانی، دادی سے ملنے دوبارہ آئیں گے اور پاکٹ منی سے ان کے لئے چوڑیاں اور تحائف خریدیں گے۔

اولڈ ہوم کا دورہ کرنے سے ہمارے مزاج میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ۔ اس سے قبل ہم اس اذیت سے واقف نہ تھے۔

چند روز قبل بیٹے کے ساتھ ایک غریب بستی کا سروے کیا۔ محنت کش لوگوں کی بستی میں ایسے افراد سے ملاقات ہوئی جو پانچ ہزار روپے ماہانہ کرائے پر ایک کمرے کے گھر میں رہتے تھے۔ غسل خانہ اور باورچی خانہ اسی کمرے میں تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ لوگ تنگ دستی میں بھی امیر اور متوسط طبقے سے زیادہ بے فکر ، صحت مند اور خوش تھے۔ ہم ماں بیٹا جب یہاں سے روانہ ہوئے تو زبان پر اللہ کی حمد اور شکر تھا۔ اپنا گھر اور زندگی جنت محسوس ہوئی۔

زندگی حالات و واقعات کی زنجیر ہے۔ کڑی سے کڑی جڑتی ہے اور حالات سنورتے ہیں۔ تجربات سے سبق نہ سیکھنے والا خود کو تسخیر نہیں کر سکتا ۔ کسی شے کو اندر باہر سے جاننا ، صفات سے آگاہی ہونا اور اس کی کیفیت کو محسوس کرنے اور دیکھ لینے کا نام مشاہدہ ہے۔ مشاہداتی دنیا میں داخل ہونے کے لئے ارتعاش کی اہمیت سے واقف ضروری ہے ۔ خوشی غم، بھوک پیاس ، سننا دیکھنا ۔۔ ہر تقاضا ارتعاش ہے۔

جن دنوں دبئی میں قیام تھا ، دفتر کے اسٹاف کے ساتھ دبئی لائبریری کا دورہ کیا۔ لائبریری کے صحن میں فوٹو سیشن کے دوران اچانک دل ماحول سے اچاٹ ہو گیا۔ میں سب سے معذرت کر کے ہال کی طرف آئی جہاں چاروں جانب شیلف میں قرینے سے کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ خیال آیا کہ اوپر والے خانے سے کوئی کتاب اٹھائی جائے۔ جوتے اتارے ، کرسی کھینچی اور اس پر کھڑی ہو کر ہاتھ جس کتاب تک پہنچا، وہ اٹھا لی۔ کتاب کا سرورق دیکھ کر ہاتھ کپکپا گئے اور آنکھیں پانی بن گئیں۔ یہ راہ نما کی کتاب ”تجلیات“ کا عربی زبان میں ترجمہ تھا۔ اس سے قبل میرے علم میں یہ بات نہیں تھی کہ ان کی کوئی کتاب دبئی لائبریری میں موجود ہے۔

دل انجانے ارتعاش کو محسوس کرتے ہوئے مجھے لائبریری کے اس حصے میں لے آیا تھا۔ یہ محبت اور نسبت کی وائبریشن تھی جس سے میں بندھی ہوئی تھی۔

محبت میں بہت تڑپ ہے ۔ کہتے ہیں کہ پرندہ چکور چاند کو چھونے کی آس میں بلندی کی جانب پرواز کرتا ہے اور عالمِ وارفتگی میں نگاہ منزل پر مرکوز رکھتے ہوئے اپنی ہستی کھو دیتا ہے۔

یاد  ہے کہ ایک مرتبہ کسی صاحب کے سوال کے جواب میں راہ نما نے فرمایا تھا،

”ہر چکور ایک جیسا نہیں ہوتا ورنہ چکور کی نسل ختم ہو جائے گی۔“

Topics