Topics

پانی کیا ہے ؟ ۔ ستمبر ۲۰۲۱ء

 

موسلا دھار بارش تھی۔ بوندیں قطار میں ترتیب اور توازن کے ساتھ تھیں۔ کوئی بوند ایسی نہیں تھی جو دوسری بوند میں پیوست ہو۔ سب کی اپنی جگہ اور مقام تھا۔ ترتیب اور رفتار کی وجہ سے نظریہ آرہا تھا کہ بوندیں زمین کی طرف لہروں کی شکل میں آرہی ہیں ۔ لہریں ایک دوسرے کے اتنے قریب تھیں کہ ان میں فاصلے کا اندازہ نہ ہو سکا۔

پہلی مرتبہ اس نظر سے بارش کا نظارہ کیا۔

برسات سے خیالات کو جلا اور ذہن کو نئے رحجانات ملتے ہیں۔ ایسے میں اشعار کی آمد فطری عمل تھا البتہ کبھی یہ نہیں سوچا کہ بارش کیا ہے۔

پانی کی اسکرین پر یکایک ایک چہرہ روشن ہوا اور بارش روشن بوندیں بن گئیں ۔۔ وہ ملاقات یاد آئی جب روشن چہرہ ہستی کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہوئی تو قلب پر سکون کی پھوار ہو رہی تھی۔

راہ نما کسی سے فرمارہے تھے،

” بارش اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ جب پانی میں جذر آتا ہے تو لہریں چالیس چالیس فٹ اوپر اٹھتی ہیں ۔ ہوا لہروں کو توڑتی ہے اور پانی کے مالیکیول (سالمات) بخارات بن کر اڑجاتے ہیں۔ ہوا ایسے ایسے لہروں کو توڑتی ہے۔“

انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے ہوا کے طرز عمل کی وضاحت کی، محسوس ہوا کہ سمندر میرے سامنے ہے اور میں لہروں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ وہ فرمارہے تھے کہ،

”سمندر کا پانی انتہائی کڑوا ہوتا ہے اس لئے پینے کے قابل نہیں ہوتا۔ ہوائیں اس پانی کو توڑتی ہیں ، اس عمل سے نمک نکل جاتا ہے اور پانی ہلکا ہو کر اوپر کی طرف جاتا ہے۔ اللہ کی شان ہے کہ یہی پانی بارش کی شکل میں برستا ہے تو میٹھا ہوتا ہے ۔ یہ جو ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہم پیتے ہیں ، اگر اللہ اسے کھارا کر دے تو کون ہے جو ٹھنڈا اور میٹھا پانی لے آئے۔۔؟

” ان سے کہو ، کبھی تم نے یہ سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لادے گا؟“ (الملک : ۳۰)

ذہن الفاظ پر مرکوز تھا اور دماغ کی اسکرین پر تصویریں بن رہی تھیں ۔ انہوں نے فرمایا،

”ایک پانی زم زم ہے۔ اس کی پیدائش اللہ کی عجیب شان ہے۔ اس کا چشمہ ایک پیغمبر کی ایڑیاں رگڑنے سے ظاہر ہوا اور آج تک جاری ہے۔ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں ، استعمال کرتے ہیں اور جاتے ہوئے مقدس پانی ساتھ لے جاتے ہیں ۔ پائپ لائن کے ذریعے زم زم مدینہ منورہ بھی پہنچتا ہے۔ اتنے استعمال کے باوجود نہ یہ پانی خشک ہوا اور نہ روانی میں کمی آئی۔ زم زم کی تاثیر یہ ہے کہ جس نیت سے پیئیں ، ویسا نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ پیاس کے علاوہ یہ بھوک کا بھی نعم البدل ہے۔“

20 سال پہلے کی ایک صبح کا ذکر ہے۔ راہ نما خانقاہ کی سیر کر رہے تھے ۔ زمین سے ایک پتّا اٹھایا اور سورج کے سامنے کر کے اس طرح دیکھا جس طرح روشنی میں ایکسرے دیکھا جاتا ہے، فرمایا،

”مادی وجود پانی پر قائم ہے۔ پانی نکل جائے تو وجود معدوم ہو جائے گا۔ یہ دیکھو پتّے کے اندر گراف دکھائی دے رہا ہے۔ جہاں گراف کی لکیریں نظر آرہی ہیں ، یہ نشاندہی ہے کہ یہاں پانی ہے ۔ پانی خشک ہوگا، پتّا سوکھ جائے گا۔ یعنی پتّے کا وجود معدوم ہو جائے گا ۔ بالکل اسی طرح ہر شے میں گراف ہے۔ ہوا میں بھی گراف ہے۔“

اس کے بعد فرمایا کہ قرآن کریم پڑھا کریں اور آیات پر تفکر کیا کریں ، اللہ نے وضاحت کے ساتھ تخلیقی قوانین بیان فرمائے ہیں۔

پانی کا بہنا ، بخارات بن کر اڑنا ، شدید ٹکراؤ سے اس کے مالیکیولز ٹوٹنا ، بجلی پیدا ہونا یہ سب ضابطے اور قاعدے کے تحت ہے ۔ ارشادِ الٰہی ہے،

” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرا دیا۔ ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں ۔“  ( امؤمنون  : ۱۸)

 پانی کیا ہے ؟ پانی باطن میں نور اور ظاہر میں تغیر ہے مگر یہ تغیر ان لوگوں کے لئے ہے جن کو نور کا مشاہدہ نہیں۔ پانی کا مادی مظاہرہ تین حالتوں میں نظر آتا ہے ۔ ٹھوس ، مائع ، گیس ۔۔ پانی میں تغیر کے مختلف اجزا ہیں۔ ہر تخلیق ان تین حالتوں سے گزرتی ہے ۔ غالب حالت کی مناسبت سے پانی ہیئت اور مقام بدلتا ہے۔

سیر کے دوران مسکراتے ہوئے انہوں نے متوجہ کیا کہ پانی کی فطرت نشیب میں بہنا ہے پھر یہ اوپر کی طرف کیوں جاتا ہے؟

میں نے تفکر کیا تو سمجھ میں آیا کہ پانی کی اصل سے وصل چاہتا اور بالآخر جہاں سے آیا ہے ، وہاں لوٹ جاتا ہے۔

تحقیق و تلاش پانی کو بے رنگ ، بے بو اور بے ذائقہ سیال کہتی اور اس کا فارمولا H2O بتاتی ہے جب کہ حقیقت ، مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ پانی کا مخصوص رنگ ، بو اور ذائقہ ہے۔ کتاب ”لوح و قلم“ میں پانی کا فارمولا لکھا ہے۔

پانی = حس سفید رنگ + آبی + پتلا + بکھرنے والی + عکاس+ پھیکا+ حس بو+ ہر قسم کی صوت (آواز) + آرپار + ہلکا+ سرد+گرم+حرکت کلی +بہنا+ اڑنا +چپک

اس فارمولے کو سمجھنے کے لئے تحقیق و تلاش (سائنس ) کو لاشعور سے رجوع کرنا ہوگا۔

راہ نما فرمارہے ہیں کہ اگر پانی H2O سے بنتا ہے پھر دنیا میں اس کی قلت کیوں ہو رہی ہے؟ آکسیجن اور ہائیڈروجن سے پانی کیوں نہیں بنا لیتے؟

غور کریں تو پانی ”نفی“ کی اعلیٰ مثال ہے۔ پانی اپنی نفی اس طرح کرتا ہے کہ خود کو چھپا کر ہر سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ پانی کا ایک وصف جوڑنا ہے۔ یہ ربط کاذریعہ ہے۔ ربط سے نقش و نگار واضح ہوتے ہیں ۔ جب پانی خشک ہوتا ہے تو خلیات کھل جاتے ہیں اور نقش و نگار نظر نہیں آتے۔

اللہ تعالیٰ نے اسراف سے منع فرمایا ہے اور میانہ روی کی تاکید کی ہے۔ پانی کے استعمال میں معاشرتی سطح پر ہم بے جا اسراف دیکھتے ہیں ۔ ٹونٹی کھلی ہے تو کھلی رہ جاتی ہے۔ نل سے پانی کی تیز دھار میں برتن دھلتے ہیں، جس دوران برتنوں پر صابن لگایا جاتا ہے اس وقت بھی نل کھلا رہتا ہے ۔ کپڑے دھوتے ہوئے پانی ضائع کیا جاتا ہے۔ ٹنکی بھر جاتی ہے لیکن موٹر بند کرنا بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے پانی ٹنکی سے باہر آتا ہے اور گلی میں بہتا ہے۔

ایک مرتبہ راہ نما نے کسی کو صفائی کے دوران پانی ضائع کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ، بالٹی بھر گئی ہے ، پانی ضائع مت کرو ، اس کا حساب دینا ہو گا۔

خوشی میں آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور غم میں دریا بہتے ہیں۔ آنسو بھی پانی ہے ۔ ایک موقع پر صاحبَ علم و دانش نے فرمایا،

”پہاڑ جب اللہ کی یاد میں روتے ہیں تو چشمے جاری ہو جاتے ہیں ۔ اللہ نے پہاڑوں میں قیمتی معدنیات اور جواہر رکھے ہیں۔“

پہاڑ (پتھر ) اور آدمی کی نرمی و سختی کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہے ،

”پھر اس کے اور تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گئے بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض خشیت الٰہی سے گر پڑتے ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانو۔“    (البقرۃ  :  ۷۴)

 پانی کا شعور ہی اس کا لاشعور ہے۔

”موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا ، اس پتھر پر اپنا عصا مارو۔ فوراً اس بارہ چشمے بہہ نکلے ۔ ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا ۔“   (البقرۃ : ۶۰)

پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کا عمل اللہ کے حکم کے تابع تھا۔ ان کے ذہن کی لہروں کو پتھر کے اندر موجود پانی (شعور) نے سنا اور قبول کر کے مظاہرہ کیا۔

پانی الفاظ کی نرمی اور سختی کو محسوس کرتا ہے ۔ راہ نما نے شاگردوں کو اس بات کا مشاہدہ کروانے کے لئے تجربہ کروایا۔ تجربے کے مطابق جس پانی کی تعریف کی گئی ، وہ شفاف اور فرحت بخش تھا۔ جس پانی کی برائی کی گئی ، اس کا ذائقہ ہلکا کسیلا تھا یعنی شکل بدل گئی تھی۔

خالقِ کائنات کا ارشاد ہے،

”ہم نے اس قرآن کا سمجھنا آسان کر دیا ہے۔ہے کوئی سمجھنے والا؟“ ( القمر : ۱۷)

قرآن کریم میں پانی سے متعلق آیات ہیں۔ ہر آیت میں پانی کے قوانین ہیں۔

”وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کو چھ ایام میں اور اس کا عرش پانی پر تھا۔“   (ھود : ۷)

عرش کا پانی پر ہونا ، پانی کے باطنی وصف کا اظہار ہے۔ ایک نشست میں راہ نما نے فرمایا،

”عرش وہ بساط ہے جو آسمانوں کی بلندیوں سے اوپر ہے ۔ انسان چھ درجوں میں تقسیم اپنے حواس کی آگہی سے ایسا ذہن حاصل کر سکتا ہے جو تخلیق کا مقصد ہے۔ عرش پانی پر ہونا ، اس فکر کی جانب اشارہ ہے جس میں زمین پر انسان کی نیابت سے متعلق تخلیقی علوم موجود ہیں۔“

پانی میں عکس بنتا ہے ، یہ آئینے کا کام بھی انجام دیتا ہے ۔ جھیل ، تالاب یا چشموں کی سطح پر عکس کا بآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ کسی بوند ، قطرے یا بلبلے کو بغور دیکھیں تو اس میں کئی رنگ نظر آتے ہیں اور باریک بینی سے دیکھنے پر ماحول کا عکس دکھائی دیتا ہے ۔ اسی طرح پاکیزہ دل ، آبدار موتی کی مانند ہے جس میں اطلاعات عکس ریز ہوتی ہیں۔

ایک موقع پر فرمایا ، ہر خیال ایک تخلیق ہے، جب ہم کوئی بات سنتے ہیں یا خیال ذہن میں آتا ہے تو اندر میں تصویر بنتی ہے جیسے انگور ۔ پھر میری پیشانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ، دیکھو یہاں تصویر بنتی ہے ۔ ان کی بات سن کر ایسا لگا کہ انگور کا خوشہ ماتھے کا جھومر بن گیا ہے۔

عرض کیا ، جی ہاں ! تصویر بنتی ہے۔

انہوں نے فرمایا ، دل خوب جانتا ہے کہ کس شے کی تصویر ہے۔ اسی لئے اندھا آدمی جس نے چاند نہیں دیکھا ، باطن میں چاند کی ہیئت محسوس کرتا ہے اور اسے پہچانتا ہے۔

اندر میں کسی نے کہا ، پانی کے علوم حاصل کرو، یہ عرش کے علوم ہیں ۔ فکر کی رَو پانی پر چلتے چلتے، باطن میں جذب ہوگی اور شعور آگاہ ہوگا۔

پانی محبت کرنے والوں کو پیغام دیتا ہے کہ جہاں سے راستہ ملے ، محبوب کی طرف چل پڑو۔ یہ چھاٹی سے چھوٹی درز سے بھی گزر جاتا ہے اور جب زمین میں راستہ نہ ملے تو بخارات بن کر آسمان کی طرف پرواز کرتا ہے۔

پانی کو پانی کی آنکھ سے دیکھا جائے تو نظر کو وسعت ملے گی کیوں کہ جب پانی برستا ہے تو نہیں دیکھتا کہ یہ سمندر ہے ، پہاڑ ہے ، صحرا ہے، سبزہ ہے یا کیچڑ۔ سب کو سیراب کرتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پانی اس ہستی کے حکم پر سفر کر رہا ہے جس نے زمین و آسمان کو تخلیق کیا ہے۔ فرماں برداری کی وجہ سے پانی کے اندر وہ صلاحیت متحرک ہے جس سے رموز کھلتے ہیں۔

 

Topics