Topics
دسمبر 1995 ء کی ایک شام ، سرما کی
خنک ہوا کے دوش پر اڑتے پرندوں کا غول دیکھ کر گہری شناسائی کا احساس ہوا۔ پرندوں
کا منزل سے فاصلہ کم ہو رہا تھا اور میں ابھی راستے کی تلاش میں تھی۔ انہیں پکارا
، مجھے کہاں چھوڑے جاتے ہو ، آج آواز دے ہی دو ۔ شاید تمہارے قافلے میں شامل ہو کر
میں اس سر زمین میں داخل ہو جاؤں جہاں 'روشن یقین' ہوتا ہے۔
صبح ماموں کے گھر سے پمفلٹ آیا جو
لاہور میں کسی دارالمطالعہ کی افتتاحی تقریب کے بارے میں تھا۔ پمفلٹ پر 'مرکزی
پتہ' دیکھ کر دل نے کہا کہ خواب کی تعبیر کراچی میں ہے ۔ میں معلومات کے لیے والدہ
کے ہمراہ دارالمطالعہ گئی۔
منتظم سے کہا ، ممکن ہے باقاعدگی
سے نہ آسکوں ، کیا آپ کے بزرگ سے ملاقات ہو سکتی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ افتتاحی
تقریب کے موقع پر کراچی سے تشریف لائیں گے۔
پہلی ملاقات تھی۔ وہ سامنے بیٹھے
تھے۔
گفتگو کا موضوع ' خواتین کے حقوق'
تھا۔
میں نے اتنا پُرسکون چہرہ نہیں
دیکھا۔ ذہن کی اسکرین پر وہ دن آج بھی نقش ہے۔ عقیدت مند ان کی باتیں غور سے سن
رہے تھے ۔ میری حالت یہ تھی کہ میں انہیں دیکھ سکتی تھی یا سن سکتی تھی ۔ سننا اور
دیکھنا ایک ساتھ ممکن نہیں تھا ۔ دیکھتی تو کچھ سنائی نہ دیتا اور سنتی تو آنکھیں
بند ہو جاتیں۔
پہلی بار تجربہ ہوا کہ آواز کی
لہریں نور کی شعاعیں ہیں جو سماعت میں داخل ہوتی ہیں اور دل کو اللہ کی محبت سے
لبریز کر دیتی ہیں۔ بزرگ نے خواتین و حضرات کو اللہ کے کلام میں تفکر کی تلقین کی۔
خطاب کے بعد ملاقات کے لئے لوگ
قطار میں کھڑے تھے۔ میں بھی ان میں ایک تھی۔ ماحول پر ملکوتی مسکراہٹ محیط تھی۔
پتہ نہیں دل میں اتنا گداز کہاں سے آیا کہ ہچکی بندھ گئی۔ میری باری آئی ۔ انہوں
نے اشک بہنے کی وجہ پوچھی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کہوں ۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ
میں عرض کیا ، سکون کی تلاش ہے ۔ سکون نہیں ملتا۔
فرمایا ، کیوں نہیں ملتا سکون ؟
سوال پوچھ کر وہ اٹھے اور سب کو
سلام کر کے تشریف لے گئے۔ میں وہیں بیٹھی رہ گئی۔
کیوں نہیں ملتا سکون؟ الفاظ سماعت
میں داخل ہوتے ہی وجود میں ٹھنڈک پھیل گئی۔ احساس خوش گوار تھا اور دیر تک قائم
رہا۔ یاد داشت بتا رہی تھی کہ میں اس کیفیت سے پہلے گزر چکی ہو ں۔
بچپن میں کسی فلم میں لڑائی کا
منظر دیکھا جس سے ذہن پریشان ہو گیا اور دن میں آنکھوں کے سامنے اندھیرا آگیا۔ میں
نے کمرے میں بلب روشن کیا لیکن اندھیرا کم نہ ہوا ۔ مدد کے لئے اللہ کو پکارا۔
تھوڑی دیر میں جھماکا ہوا۔ ذہن کو اطلاع ملی کہ اللہ کے دوستوں کو خوف اور غم نہیں
ہوتا۔ اندھیرا چھٹ گیا۔ میں نے دوڑ کر قرآن کریم اٹھایا اور سینے سے لگایا ۔ وجود
میں ٹھنڈک اتر گئی۔ بے شک جو لوگ اللہ کا کلام پڑھتے ہیں اور اس میں تفکر کرتے ہیں
، وہ اللہ کے دوست بن جاتے ہیں اور اللہ کے دوستوں کو خوف اور غم نہیں ہوتا۔
”سن رکھو ! بے شک اللہ کے دوستوں
کو خوف ہوتا اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ۔“ (یونس : ۶۲)
بے وقوفی پر ہنسی آئی کہ کمرے کا
بلب روشن کر دیا لیکن دل کا اندھیرا دور نہیں کیا۔
بہت دنوں تک جسم میں لطافت غالب
رہی۔
دارالمطالعہ میں بزرگ کی کئی
کتابیں تھیں جن میں روحانی علوم پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ میں ایک کتاب گھر لائی اور
ابو کو دی۔ کتاب پڑھ کر وہ بہت متاثر ہوئے اور رائے دی کہ یہ کسی عام شخص کی تحریر
نہیں۔
ابو نے 18 ستمبر ء کو ہائیکورٹ کے
ہال میں بزرگ کے لیکچر کا انتظام کیا جس میں ، میں نے بھی شرکت کی۔ ہائیکورٹ کا
ہال وکلا اور دیگر شعبہ زندگی کے افراد سے بھرا ہوا تھا۔ کرسیاں کم پڑ گئیں۔ ہال
کے باہر بھی لوگ کھڑے ہمہ تن گوش تھے۔
گھر آکر ابو نے مجھ سے کہا کہ میں
نے ہال میں اتنے افراد کی موجودگی میں پہلی مرتبہ خاموشی اور تنظیم دیکھی۔
ہال میں انجان لوگ بھی از خود
خاموش اور با ادب تھے۔ دارالمطالعہ کی طرح یہاں بھی وہی عالم تھا۔ بزرگ کی بے نیاز
طبیعت اور نورانی کشش نے ہر ایک کو پُرسکون کر دیا۔
لیکچر ختم ہوا تو انہوں نے میرے
ابو سے فرمایا،
فاروقی صاحب ! سب اللہ کی دین ہے۔
چند دنوں بعد ڈرتے ڈرتے ابو سے
اجازت لی کہ بزرگ سمن آباد میں ٹھہرے ہوئے ہیں ، میں خدمت میں حاضر ہونا چاہتی
ہوں۔ یہ پہلی اجازت تھی جو والدین کے بغیر گھر سے باہر جانے کے لئے ملی۔
بزرگ سامنے تھے۔ انہوں نے سرمہ
لگایا ہوا تھا۔ میں نے سوچا کہ کاش سرمہ نہ لگاتے تاکہ آنکھوں کا اپنا رنگ نظر آتا
۔ انہوں نے فوراً انگلی آنکھ پر رکھی اور فرمایا ، رات کو آنکھیں دکھ رہی تھیں ،
سرمہ لگا لیا۔
میں نے گھبرا کر آس پاس دیکھا۔
سب میری سوچ سے بے خبر تھے۔
عرض کیا ، جناب ! بیعت ہونا چاہتی
ہوں۔
فرمایا ، والدین کی اجازت سے آؤ۔
ایک مائی صاحبہ کہتی تھیں کہ رب راضی ، سب راضی!
خیال آیا کہ مجھے بھی سب کے بجائے
رب کو راضی کرنا چاہیئے۔ گھر جاتے وقت انہوں نے شفقت سے پوچھا ، بیٹی! آپ بھی جا
رہی ہیں؟ جی چاہا کہ زمین قدم جکڑ لے اور میں یہیں رہ جاؤں۔
جو جس غرض سے آیا ، اس ملاقات میں
سب کی مرادیں پوری ہوتے دیکھیں ۔ کچھ لوگ خاموش بیٹھے تھے۔ شاید ہجوم میں دل کی
بات زبان پر لانے سے گریزاں تھے۔ میں نے کہا ، اے دل! اللہ والوں کی مجلس میں
احتیاط اور ادب ہو کہ یہاں خیال کی آہٹیں بھی سنی جاتی ہیں۔ دل کے آئینے کو صاف
رکھنا تا کہ صاحب ِ محفل کی فکر عکس ریز ہو۔
بزرگ نے دارالمطالعہ کی منتظم کی
تعریف کی کہ انہوں نے افتاحی تقریب کے انعقاد کے لئے بہت کام کیا ہے۔ دل بچے کی
طرح للچایا کہ کاش یہ شفقت مجھے بھی نصیب ہو۔ یہاں سب ایک دوسرے کے اپنے ہیں اور
میں غیر ہوں۔ سلام کر کے اٹھی تو میری طرف اشارہ کر کے انہوں نے حاضرین سے فرمایا،
ان کے ابا نے بہت کام کیا ہے۔
حیرت ہوئی کہ میرے ابو نے ایسا کون
سا کام کیا ہے جو بزرگ کو معلوم ہے اور گھر والے بے خبر ہیں۔
گھر پہنچ کر ابو سے تذکرہ کیا تو
وہ چونک گئے۔
انہوں نے بتایا ، ہائیکورٹ کے ہال
میں لیکچر کے انعقاد سے تین روز پہلے میں دفتر میں صبح سے شام تک مصنف کا تعارفی
نوٹ جو کتاب کی پشت پر موجود تھا ، کاغزوں پر اپنے ہاتھ سے لکھتا رہا۔ فوٹو کاپی
نہیں کروائی۔ تعارفی نوٹ لے کر وکلا اور جج صاحبان کے دفاتر گیا اور ذاتی طور پر
علمی نشست میں شرکت کی دعوت دی۔ پیشِ نظر جذبہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک
آفاقی پیغام پہنچے۔
ابو کی بات سن کر میں دل ہی دل میں
مسکرا دی۔ وہ جو کہتے تھے کہ میرا دل کوئی جیت نہ سکا۔ ملاقات سے قبل روشنی کے
ہالے میں بند ہو گئے۔
ابو نے کہا ، تمہاری بات سن کر
مجھے یقین ہو گیا ہے کہ وہ صاحبِ اسرار ہیں کیوں کہ بیٹی! میں نے اس بات کا ذکر
کسی سے نہیں کیا۔
ان باتوں کے بعد بھی بیعت کی اجازت
لینا مشکل تھا ۔ اپنی کم فہمی کی بنا پر سوچتی رہی کہ کیا حرج تھا جو وہ مجھے بیعت
کر لیتے۔ میری موجودگی میں انہوں نے ایک صاحبہ کو بیعت کیا اور فرمایا ۔ آپ کا
راستہ (گھر میں) سب سے الگ ہے۔
ان کے حکم کی وجہ کئی سال بعد سمجھ
آئی۔ وہ میرے پورے گھر کو روشن لڑی میں پرونا چاہتے تھے۔جن خاتون سے کہا تھا کہ آپ
کا راستہ سب سے الگ ہے، وہ خاتون میری اچھی سہیلی بن گئیں اور آج بھی ان کا راستہ
اپنے خاندان میں سب سے الگ ہے۔
بیعت کی شرط پوری کرنے کے لیے چارو
ناچارابو سے بات کی۔ وہ کہنے لگے ، کیا ضرورت ہے؟ حالاں کہ ابو ہمارے اکتسابی علوم
کے لئے اچھے سے اچھے استاد کا انتخاب کرتے تھے پھر روحانی علوم میں پس و پیش کیوں؟
جب انہیں بتایا کہ بزرگ نے فرمایا ہے کہ والدین کی اجازت سے آؤ تو وہ خاموش ہو
گئے۔
کچھ توقف کے بعد کہا، بیٹی! یہ
بزرگ اللہ کے بندے ہیں۔ انہوں نے تمہیں سیدھی راہ دکھائی ہے۔ میری طرف سے اجازت
ہے۔
تیسری ملاقات تھی۔ بھائی کے ہمراہ
سمن آباد روانہ ہوئی۔ اس زمانے میں تیز رنگوں سے دل گھبراتا تھا اور زیادہ تر سفید
سوتی لباس پہنتی تھی۔ ذہن میں آیا کہ نیا جوڑا پہننا چاہیئے۔ نیا سفید جوڑا نہیں
تھا۔ مجبوراً نیلے جوڑے کا انتخاب کیا۔
ملاقات کے وقت بے ساختہ آنسو بہنے
لگے۔ گھبرا کر بھائی کو دیکھا ، وہ بھی آنسو صاف کر رہا تھا۔
بزرگ براہِ راست مجھ سے مخاطب
ہوئے:
”بیٹی! ٹھہرے ہوئے پانی میں بد بو
ہوتی ہے ۔ کوئی چھڑی کی مدد سے ہلائے تو بدبو اڑتی ہے۔ بار بار ہلانے سے بد بو دور
ہو جاتی ہے۔ اگر آپ ایک راستے سے گزر رہی ہیں جہاں مردہ کتّا پڑا ہے ، آپ کیا کریں
گی؟ آپ راستہ نہیں بدلیں گی ، ناک پر رومال رکھ کر گزر جائیں گی۔“
الفاظ ذہن میں نقش ہو گئے ۔
انہوں نے پوچھا ، سونے کا بسکٹ
دیکھا ہے؟
بصد احترام عرض کیا ، جی دیکھا ہے۔
سونے کا بسکٹ کسی کو ماتھے پر
سجاتے دیکھا ہے؟
عرض کیا ،جی نہیں۔
کبھی سنار کو زیور بناتے دیکھا ہے؟
جواب نفی میں تھا۔ انہوں نے فرمایا
،
”سنار پہلے سونا پگھلاتا ہے۔ آنچ
دیتا ہے ۔ سنار کے پاس چھوٹی ہتھوڑی ہوتی ہے۔ وہ ہتھوڑی سے ہلکی ضربیں لگاتا ہے
اور جھومر بنا لیتا ہے جسے ماتھے پر سجایا جاتا ہے۔ روحانیت کوئی آسان کام نہیں۔
لوہے کے چنے چبانے کا نام ہے۔ جب لوہے کے چنے چبائیں گے تو دانت بھی گریں گے۔“
اشکوں کی بارش تھی۔
آج رونے کی وجہ نہیں پوچھی۔
غور سے دیکھتے ہوئے فرمایا، یہ بھی
تربیت ہے کہ آپ سفید پہننا چاہیں، آپ کو نیلا پہنا دیا جائے۔
میں نے تیزی سے سر اٹھا کر انہیں
دیکھا۔
انہوں نے نظر انداز کرتے ہوئے
پوچھا ، آپ یہیں ہیں نا؟ یہ فرما کر اندر تشریف لے گئے۔
رش بڑھ رہا تھا ۔ کسی نے ہمیں اندر
آنے کو کہا۔ ہجوم کی وجہ سے دروازے کے پاس بیٹھ گئی۔ آنسو رکنا بھول گئے تھے۔
دروازے پر ہاتھ رکھ دیا۔ کہیں پڑھے ہوئے سنہری الفاظ یاد آئے ۔
” ایک در پکڑ اور مضبوط پکڑ اور
اپنے پر اس کی دہلیز پر جلا دے۔“
دل سے پکارا ۔ اے میرے پرور دگار !
صد شکر ہے کہ آپ نے اپنے دوست ، اپنے بندے سے ملایا۔ مدت سے روح آپ کی دید کی
پیاسی ہے۔ مجھے اپنی راہ میں ثابت قدم رکھ اور منزل آشنا کر دے۔
میں نے اپنے پر اس دہلیز پر جلا
دیئے!
یہاں سے سفر کی ابتدا ہے اور انتہا
بھی ۔
اشک بہہ رہے تھے۔ چپکے چپکے آنسو
صاف کرتی رہی کہ کوئی دیکھ نہ لے لیکن مجھے وہاں کون جانتا تھا۔ اند میں آواز
گونجی۔ تجھے وہ جانتا ہے جس کے لئے تو بے قرار ہے اور تلاش میں یہاں پہنچی ہے۔ رش
ختم ہوا ۔ وہ سامنے تشریف فرما تھے۔
دور سے دیکھنے والی نظر بہت قریب
محسوس ہوئی۔
ایک خاتون نے میری جانب دیکھتے
ہوئے سوال کیا کہ یہ رونا دھونا تو ٹھیک نہیں۔
فرمایا ، رونا دھونا تو حالات کا
ہوتا ہے جسے اللہ پسند نہیں کرتے۔ یہ تو گداز ہے اور اللہ کو پسند ہے۔
ہمت بندھی اور میں قریب ہوگئی۔ وہ
آگاہ تھے کہ میں والدین کی اجازت سے آئی ہوں ۔ انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا اور
ہمیں بیعت کر لیا۔
وہاں سے اٹھی تو میرے اندر عزم اور
یقین تھا۔ باہر آتے ہی بھائی نے پوچھا ، کیوں رہ رہی تھیں؟
میں نے کہا ۔ تم کیوں رو رہے تھے؟
میری طرح اس کے پاس بھی جواب نہیں
تھا۔
ہم دونوں گلی کے ایک طرف سر جھکائے
کھڑے اس بات پر غور کر رہے تھے کہ یہاں سے جاتے ہوئے ہم وہ نہیں ہیں جو یہاں آنے
سے پہلے تھے۔
نظام بدلا تو کلام بھی بدل گیا۔
بیعت کے بعد جو پہلا کلام لکھا اس کے چند اشعار یہ ہیں،
تم کو دلبر بنا لیا ہم نے
اپنے مقصد کو پالیا ہم نے
جس کے مکھڑے پر کاروبار چمن
ایسا موسم چرا لیا ہم نے
تیرے بن کچھ نظر نہیں آتا
دل زیاں سے اٹھا لیا ہم نے
خامشی میں سکوں کے پہرے ہیں
شہر کو بن بنالیا ہم نے
اپنے پریتم کی خاکِ پا لے کر
من کا مندر سجا لیا ہم نے
ذہنی یکسوئی سے روشنیاں منتقل ہوتی
ہیں اور تزکیہ نفس کی داغ بیل پڑتی ہے۔ نتیجے میں سالک پر سے تساہل پسندی ، غفلت ،
حسد ، بغض ، کینہ ، تکبر اور دیگر ظلمات کے پرت اترتے ہیں یہاں تک کہ قلب کو قلبِ
سلیم کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور بندہ شیخ کی طرزِ فکر میں ڈھل کر اپنے معاملات اللہ
کے سپرد کر دیتا ہے۔ پھر طاغوتی طاقتوں سے ڈرتا ہے نہ کسی کے آگے جھکتا ہے ۔ عزم و
یقین کے راستے میں کوئی مشکل حائل نہیں ہوتی۔
با ادب ہونے سے روشن ضمیری ،
بردباری اور ہمت جیسے قلندرانہ اوصاف نمو پاتے ہیں ۔ اور ذہن یکسو ہو جائے تو دل
میں انوار و تجلیات موجزن ہو جاتی ہیں جن سے پروازِ فکر عالم ملکوت کی طرف صعود کرتی
ہے اور عشق کے سمندر میں فنا کو بقا ملتی ہے۔ ایسے بندے کی ذات مخلوقات کے لئے بے
لوث خدمت گار کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ ذہنی و قلبی رفاقت کے لئے مادی فاصلے
حذف ہو جاتے ہیں۔ بندہ جہاں ہو ، تصور سے قریب ہو جاتا ہے۔
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تربیت کے لئے
قربت کی کوئی اہمیت نہیں ۔ قول زبان زد عام ہے:
”اولیا ء اللہ کے ساتھ ایک لمحے کا
تقرب سو سالہ طاعت ِ بے ریا سے افضل ہے۔“
اہلِ دل کہتے ہیں کہ عشق ذکر سے
آگے اور مقام ہے۔ ناگاہ عشق دریائے محبت کی ایک موج ہے جو اللہ کی محبت کے رنگ میں
رنگ دیتی ہے ۔ اگر نسبت مضبوط ہے تو اللہ کے فضل و کرم اور حضور پاک ﷺ کی رحمت سے
سالک وسوسوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اخلاص اسے راستے سے وابستہ رکھتا ہے ورنہ تعلق
خاطر نہیں ہوتا۔ روحانیت میں باریکیاں بہت ہیں۔
یک مو اگر ہل جائے پاؤں
پھر کہیں ٹھور نہ ٹھاؤں
روحانیت شہرِ عشق ہے جس میں فریب
کاری کو دخل نہیں۔ اگر فریب ہے تو عشق نہیں ۔ فریب ظاہر کو سب کچھ سمجھنے سے پیدا
ہوتا ہے اور ظاہر میں الجھنے والا حقیقت سے دور ہو جاتا ہے۔
(قسط : ۲)