Topics

یک رنگ راج دھانی ؟۔ دسمبر ۲۰۲۴ء

 

اخروٹ کا چھلکا اور مغز دو الگ چیزیں ہیں۔ چھلکا لکڑی کی چھوٹی گیند نظر آتا ہے اور مغز دماغی قوت کا خزانہ ہے۔ ذائقے میں میٹھا، نمکین اور کسیلا، اس میں روغن ہے اور بھربھرا پن بھی۔ یہ اخروٹ کی صفات ہیں۔ میری صفات کیا ہیں؟ میں اندر میں کیا ہوں؟ کیسی ہوں اور کون ہوں؟ اپنی کُنہ کو جاننے کی جستجو ہے۔ کائناتی ریکارڈ کو دیکھنا چاہتی ہوں جہاں سے میری تصویر زمین کی اسکرین پر پوزیٹو بن رہی ہے۔

میں نے آج تک خود کو نہیں دیکھا۔ جو دیکھا، کیفیات کے لبادے میں دیکھا۔ کبھی پُرسکون، کبھی بے سکون۔ کیفیات ایک نہیں تھیں۔ غصہ، نرمی، کیف، بے کیفی، رغبت، بیزاری، قرار، بے قراری۔ آئینے میں اپنی بدلتی ہوئی صورت سے بیزار تھی۔ منتظر تھی کہ دنیا سے رخصتی کا پروانہ آئے اور خیالات سے آزاد ہو جاؤں لیکن آزادی کہاں تھی! یہ دنیا، دوسری دنیا کی کھیتی ہے۔ جو بویا، وہاں کاٹنا ہے۔

ایک روز من کی دنیا میں لہریں داخل ہوتی محسوس ہوئیں جیسے کوئی متوجہ کر رہا ہو۔ لہریں کتابوں کے شیلف کی طرف لے گئیں جہاں قرآنِ کریم رکھا ہوا تھا۔ محسوس کیا کہ دل الہامی آیات کی نورانی لہروں میں جذب ہونا چاہتا ہے۔ اللہ کی کتاب کو سینے سے لگایا اور آنکھیں موند لیں۔ سانس کے زیرو بم میں ایک ہی صدا تھی، اللہ۔۔ اللہ۔۔ اللہ۔

راہ نما عقیدت مندوں سے فرماتے ہیں کہ سکون آشنا زندگی سے واقف ہونے کے لیے قرآنِ کریم کو ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھو اور سمجھنے والوں کے حلقے میں داخل ہو جاؤ۔ مجھ سے تعمیل میں دیر ہو گئی۔ دعا کی، ”یا اللہ! سمجھ کر پڑھنا سکھا دے۔“

لہریں سماعت بنیں، میں نے سنا،               

”بے شک ہم نے اس قرآن کو سمجھنا آسان کر دیا۔۔ ہے کوئی سمجھنے والا؟“ (القمر : ۱۷)

آدمی کیفیات کا مجموعہ ہے۔ بھوک لگتی ہے تو کھانا بن جاتا ہے۔ پیاس میں پانی کا روپ اختیار کر کے تشنگی دور کرنا چاہتا ہے۔ غصے میں غضب کا لباس پہن لیتا ہے، محبت میں ایثار کرتا ہے۔ ان میں کون سا روپ آدمی کا ہے؟

کچھ دن بیماری میں گزرے۔ کھانے پینے سے رغبت نہ رہی۔ جاننا چاہتی کہ کیا یہ میری کیفیت ہے، بھوک پیاس سے رغبت یا بیزاری کی؟ میں صحت ہوں یا بیماری؟ صحت اور بیماری بھی سراپا ہیں۔ صحت اچھی ہوتی ہے تو کھانے پینے کی آرزو کرتی ہے اور جب بیماری غالب آتی ہے تو جسم کھانے پینے سے گریز کرتا ہے۔ میں صحت اور بیماری کے تابع ہوں یا یہ دونوں میرے تابع ہیں، میں کون ہوں؟ اگر میں صحت ہوں تو بیمار کون ہے اور جب میں بیمار ہوتی ہوں تو صحت کہاں چلی جاتی ہے؟ تغیر کے دباؤ سے ذہن بھاری ہو گیا۔

”یا اللہ! رحم فرما، تغیر سے نجات دے، مجھے میری اصل سے ملا دے۔“

ہم پُر فریب کیفیات کے زیرِ اثر اور دوسروں سے متاثر ہو کر جیتے ہیں۔ کسی کے اندر کی فلم ہمارے اندر چلنے لگتی ہے، اس کا غصہ ہمارے سکون کو بے ترتیب کر دیتا ہے تو کسی کی نرمی محبت کی تصویر بنا دیتی ہے۔ کیا ہم چابی والا کھلونا ہیں کہ چابی بھر دی جائے، ہم اس کے مطابق حرکت کرتے ہیں، ٹوٹتے ہیں، بنتے ہیں پھر ٹوٹتے پھر کچھ بن جاتے ہیں پھر ٹوٹتے ہیں اور بکھر جاتے ہیں۔ برسوں پہلے کی بات آج سمجھ میں آئی، دانائے راز نے فرمایا تھا، ”دنیا مغلوب کرنی پڑتی ہے۔“

راز روشن ہوا کہ ذات سے واقف ہونے کے لیے بدلتی ہوئی کیفیات کو مغلوب کرنا پڑتا ہے۔ دانائے راز نے یہ بھی فرمایا، ”دنیا کو مغلوب کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آدمی پسند ناپسند سے نکل آئے اور اللہ کی پسند کو ترجیح دے۔“

آنکھیں بند کیں تو نگاہ اندر میں اتر گئی۔ دیکھا کہ سیاہ پانی سے بھرے ہوئے سمندر پر ایک پرندہ پرواز کر رہا ہے۔ پانی کا رنگ بدلا۔ سیاہ سے سفید اور سفید سے سنہرا مگر پرندے کی اڑان میں فرق نہیں آیا۔ انکشاف ہوا کہ پرندہ پانی کے تغیر سے متاثر نہیں ہوا۔ اس نے سمندر میں سیاہی، سفیدی اور سنہرے پن کے ادل بدل کو خود پر غالب کرنے کی بجائے پرواز پر توجہ مرکوز رکھی۔ ادراک مجھ سے کہتا ہے کہ تم اندر باہر دو میں تقسیم ہو۔ باہر رنگوں کا طلسم ہے، اندر یک رنگ راج دھانی ہے۔

سورۃ الدھر کی ابتدائی آیات یاد آئیں۔

”انسان پر زمانے میں ایک وقت ایسا گزرا ہے جب وہ ناقابلِ تذکرہ تھا۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔“ (الدھر : ۱، ۲)

سماعت و بصارت اللہ نے عطا کی ہے یعنی حواس اللہ نے عطا کیے ہیں۔ اللہ چاہتا ہے کہ ہم ان حواس سے مخلوط نطفے کی صفات کا اثر قبول کرنے کی بجائے اس ہستی کے تابع ہو کر زندگی گزاریں جس نے کان کو سننے والا، آنکھ کو دیکھنے والا، زبان کو بولنے والا، دماغ کو ریکارڈ اور دل کو تحریکات اور حواس کا مرکز بنایا ہے۔

جب سے قرآنِ کریم کو ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھنا شروع کیا، کیفیات بدل گئیں۔ بے قراری کو قرار آ گیا، اضطراب سکون میں داخل ہوا اور دوری کا خلا۔۔ خلا نہ رہا۔ ہر طرف اللہ کی محبت محیط دیکھی۔ محسوس کیا کہ میں جہاں بھی ہوں، اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ اس احساس سے زندگی ادب کے دائرے میں داخل ہو گئی ہے۔

فکری نشست میں راہ نما نے فرمایا،

”انسان کے دو رخ ہیں۔ دوسرے رخ کا نام آدمی ہے۔ آدمی مغلوب ہو جائے تو انسان غالب آ جاتا ہے۔ انسانی صفات کو غالب کرنے کا فارمولا یہ ہے کہ ہر کام بے غرض ہو کر اللہ کی خوشی کے لیے کیا جائے تو ذہن تقسیم نہیں ہوتا۔“

اللہ تعالیٰ کو ہر لمحہ حاضر جاننے سے بے ترتیب سوچوں سے نجات ملتی ہے۔ ایسی حالت میں خیال روشن ہو جاتا ہے۔ خیال کے دماغ پر وارد ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیال اور شعور کی رفتار ایک ہے اسی لیے فہم خیال کو قبول کرتی ہے لیکن تغیر میں الجھا ہوا آدمی لاشعوری رفتار (خیال) کے تسلسل کو قائم نہیں رکھتا۔

رحمت کی پھوار میں خیالات قلم بند کرتے وقت تخلیق کے دائرے فکر سے ہم آہنگ ہو رہے تھے۔ دل کی دھڑکن اللہ اللہ کر رہی تھی۔ میں نے اللہ اللہ کی صدا سنی۔ قارئین! کان اور آنکھیں بند کر کے توجہ دل میں مرکوز کر کے اللہ اللہ کیجیے، آواز آئے گی۔

سوتے جاگتے دیکھا کہ ہزاروں گھڑ سوار ظاہر ہوتے ہیں اور پلٹ جاتے ہیں۔ گھوڑوں کی ٹاپوں سے اٹھنے والی گرد بیٹھ جاتی ہے۔ محسوس ہوا گھڑ سوار منتشر خیالات ہیں جن کی یلغار سے گرد اڑتی ہے اور حقیقت کے آگے غبار پردہ بن جاتا ہے۔ کسی نے کہا، ان کے پلٹنے اور گرد بیٹھنے پر بھی غور کرو۔ Illusion خیالات کا لشکر بزدل اور کمزور ہے، شناخت ہونے پر پسپا ہو جاتا ہے۔

چند سال پہلے کا ذکر ہے جب راہ نما مختلف شہروں کا دورہ کرتے تھے، علمی نشستوں میں مشقیں کرواتے تھے۔ ایک مشق یہ ہے، ”بہترین صنّاعی بننے کی آرزو پیدا کیجیے اور اس کی مشق کیجیے۔ روزانہ کی رپورٹ میں خامیاں کم اور اعلیٰ صلاحیتوں کا گراف بلند ہوتا جائے گا۔“ مشق میں حصہ لینے والوں کی صلاحیتوں کا گراف بلند ہوا، صحیح اور غلط کا احساس ہوا اور بہترین صنّاعی کے منصب سے واقف ہونے کی آرزو پیدا ہوئی۔ نیند میں خیالات کی ترتیب واضح ہوئی اور رویائے صادقہ میں اضافہ ہوا۔

نیند کے ایک منظر میں دیکھا۔

”تیز بارش ہو رہی ہے۔ اللہ اللہ کی صدائیں بلند ہیں اور ہر صدا توانائی بن کر کائنات میں پھیل رہی ہے۔ بارش میں نومولود بچہ، سرسوں کا کھیت اور زرد پھول دیکھے۔“

اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ قرآنِ کریم کی فہم عطا فرما۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ نے قرآن کو سمجھنا آسان کر دیا ہے۔ میرا کام اتنا تھا کہ سمجھنے والوں کے حلقے میں داخل ہو جاؤں۔ وقت مقرر کر کے باقاعدگی سے قرآنِ کریم ترجمے کے ساتھ پڑھتی اور تفکر کرتی ہوں۔ اب جس شے کو دیکھتی ہوں، نیا مفہوم مظہر بن جاتا ہے۔


 

Topics