Topics

ماں اور بیٹا۔ فروری ۲۰۲۵ء

 

سرزمینِ حجاز پہ بیت اللہ شریف وقار اور جلال کے میکانزم پر قائم ہے۔ والہانہ شکر کہ رحمٰن و رحیم اللہ نے ایک بار پھر برکت والے گھر کی زیارت سے نوازا۔ حسنِ کعبہ کی تاب نہ لاتے ہوئے نگاہیں چندھیا گئیں۔

اے عظمت والے گھر کے رب! اپنا عرفان عطا فرما۔

اشکوں کے ہدیے جمالِ الٰہی کی نذر۔

زلیخا نے مصر کی خواتین کو دیدارِ یوسفؑ کے لیے مدعو کیا تو یقین تھا کہ حسِ یوسفؑ دیکھتے ہی سب خواتین اس کی طرح صاحبِ عشق ہو جائیں گی۔ سوچتی ہوں کہ جس نے یوسفؑ کو تخلیق کیا، اس کے اپنے حسن کا کیا عالم ہوگا!

اے حواس سے ماورا ہستی! محبت سے موجزن دل آپ کے حضور سجدے میں ہے۔ معرفت سے نواز کر محبت کو قبولیت عطا فرما۔

اشک بہے تو کوہِ گراں سے گزر گئے۔ محبت دیکھتی ہے کہ طلب میں خلوص ہے یا کھوٹ۔ خلوص یہ ہے کہ اللہ کو دنیاوی اغراض کے لیے نہ چاہو۔ اللہ نے پیدا کیا ہے اور وہم و گمان سے زیادہ رزق کا انتظام کیا ہے۔ اللہ کو اللہ کے لیے چاہو۔ اللہ سے اللہ کو مانگو۔

میں نے کعبہ سے سرگوشی کی، اے بابرکت گھر! ہم دونوں میں ایک قدرِ مشترک ہے۔ تمہیں اللہ نے اپنا گھر قرار دیا ہے اور میرے دل میں بھی اللہ بستا ہے۔ میری تمہاری دوستی پرانی ہے۔ میں اظہارِ حال کرنا چاہتی ہوں۔

میرے وصل میں ہجر کی چبھن ہے۔

قرار میں بے قراری ہے۔

زائرین تمہیں دیکھ کر بے قرار ہو جاتے ہیں۔

کیا تم بھی عشق میں بے قرار ہو؟

کعبہ نے جو کہا، دل نے محفوظ کر لیا۔ رسمِ دوستی ہے کہ راز کو افشا نہ کیا جائے۔

ایک بار استادِ محترم سالکین کی بڑی جماعت کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کے لیے مسجد الحرام میں حاضر تھے۔ سب سے فرمایا،

”اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے گھر کی زیارت کی سعادت بخشی ہے، شکر ادا کریں اور قلب کو ذکر میں مشغول کر دیں۔“

حرمِ پاک کے چپے چپے سے محبت کی لہریں پھوٹتی ہیں۔ ذہنی ربط اس گھر سے قائم ہوتا ہے تو مالِ ارض و سما کی رحمت سے طرزِ فکر رحمانی ہو جاتی ہے۔ طواف کے دوران محسوس ہوتا ہے کہ ہم پروانے ہیں جو منبعِ انوار و تجلیات پر نثار ہونا چاہتے ہیں اور دیوانہ وار پکارتے ہیں،

لبیک اللھم لبیک

حاضر ہوں، یا اللہ! میں حاضر ہوں۔

خانہ کعبہ آئینہ ہے۔ وہاں جا کر آدمی تکرار کے ساتھ جس کی طلب کرتا ہے، وہی اس کا محبوب ہے۔ زیارت کے لیے سب جاتے ہیں اور جانا چاہتے ہیں۔ جو نہیں جا سکے، دعا ہے کہ انہیں حاضری نصیب ہو، آمین۔

واقعہ پڑھا تھا کہ ایک صاحب کی باطنی نگاہ روشن ہوئی۔ انہوں نے دیکھا کہ حرمِ پاک میں اللہ تعالیٰ کی تجلی کا ظہور ہے۔ جو شخص اللہ سے دوستی کا طالب ہے، اس کو امان ہے۔ دوسری طرف ابلیس موقع کی تلاش میں ہے۔ جو شخص دنیاوی خواہشات اور منفی شے کا طلب گار ہے، اسے دیکھ کر ابلیس خوشی سے کہتا ہے کہ اس نے میری طلب کی ہے۔

ایک عزیز کو بیٹے سے بہت محبت تھی۔ وہ کہتے تھے کہ میں اپنا بت توڑ کر بیت اللہ شریف جاؤں گا۔ شب کے آخری حصے میں جاگ کر دعائیں کرتے کہ یا اللہ! جب میں تنہا ہوتا ہوں تو بیٹے کی فکر دامن گیر ہو جاتی ہے۔ آپ نے اسے سب کچھ عطا کیا ہے۔ یا اللہ! میرے دل میں اپنی محبت کو ہر محبت پر مقدم رکھ تاکہ میں بندگی کے حصار میں آ جاؤں۔۔ دعا قبول ہوئی۔

ان صاحب نے خواب دیکھا کہ دریا کنارے ایک بت ہے۔ انہوں نے ”اللہ اکبر“ کا نعرہ لگاتے ہوئے اسے ہتھوڑے سے توڑ دیا اور اپنا رخ دریا کی جانب موڑ لیا۔ خواب خوشی کی نوید تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی قید سے آزاد ہونے کے بعد میں نے جانا کہ دنیا کا سب سے حسین رشتہ اللہ کی بندگی ہے۔

ایک بہن کہتی ہیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کی زیارت کے موقع پر لوگ شکرانے کے نوافل ادا کرتے تھے۔ میں نے بھی توبہ اور شکر کا ورد کیا کہ اللہ نے مجھ جیسی خطاکار کو بلا لیا ہے۔ ایک ہی دعا کرتی تھی کہ یا اللہ! میں آپ کی بندی ہوں اور آپ کی طرف لوٹنا چاہتی ہوں۔

عمرے کی ادائیگی میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم زائرین کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ایک صبح مسجدِ نبویﷺ میں حاضر تھی کہ خیال آیا، جنت البقیع کے قریبی صحن میں جانا چاہیے۔ ہو سکتا ہے میں وہاں کسی کے کام آ سکوں۔

وہاں گئی اور چشمِ تصور سے اس دور کو یاد کیا جب ان مقدس ہستیوں نے ترویجِ دین کے لیے ایثار اور قربانی کی تاریخ رقم کی۔ ابھی مجھے وہاں بیٹھے کچھ دیر ہوئی تھی کہ کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ مڑ کر دیکھا تو کوئی خاتون تھیں۔ انہوں نے ہچکچاتے ہوئے کہا، آج ہماری مکہ مکرمہ روانگی ہے۔ مجھے عمرے کی ادائیگی کا طریقہ بتا سکتی ہیں؟

میں نے کہا، جی ضرور۔ کیوں نہیں۔

ان کو سمجھاتے ہوئے ایسا لگا کہ میں حرمِ کعبہ میں حاضر ہو گئی ہوں۔ اس کے بعد چار چار، پانچ پانچ خواتین کی ٹولیاں آتیں اور عمرے کا طریقہ دریافت کرتیں۔ میں نماز کے اوقات میں مسجد آتی اور پھر واپس چلی جاتی۔ یہ سلسلہ شام تک جاری رہا۔ خواتین کو سمجھاتے ہوئے دل چاہتا تھا کہ ان میں محبتِ الٰہی کی شمع روشن کر دوں۔ اس دوران میں دیگر ممالک کی بہنوں سے بھی تعارف ہوا۔

ایک بار عمرے کے لیے جاتے ہوئے فلائٹ پہ میرے برابر میں ضعیف شخص بیٹھے تھے۔ انہوں نے احرام کی چادر کے ایک حصے سے سر ڈھانپ لیا۔ میں نے دریافت کیا، بابا جی! کیا آپ نے احرام باندھنے کی نیت کر لی ہے؟

انہوں نے کہا، جی بیٹی۔

میں نے کہا، عمرے کی ادائیگی سے قبل چہرہ ڈھانپنا ممنوع ہے۔ وہ عمرے کی ادائیگی کے طریقے سے واقف نہیں تھے۔ عربی میں تلبیہ یاد نہیں تھی۔ اس بات پر چہرہ بجھا ہوا تھا۔ بس یہ کہتے کہ شکر ہے ”سوہنے“ نے بلا لیا۔

طواف کرنے کا طریقہ سمجھاتے ہوئے بتایا کہ بابا جی! آپ کسی بھی زبان میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر سکتے ہیں۔ یہ سن کر ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ پریشانی دور ہوئی اور آنکھوں میں زندگی دوڑ گئی۔ راہ نما کی بات یاد آئی۔

”علم حیات اور لاعلمی موت ہے۔“

حج و عمرہ کے لیے احرام باندھنے سے لے کر حلق کروانا۔۔ نظم و ضبط کا مظہر ہے۔ فرد نظم و ضبط کی جیتی جاگتی تصویر ہوتا ہے۔ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے روضہ مبارک پر حاضری کے وقت ہر چہرہ شاداں و فرحاں، اللہ کے محبوب ﷺ سے راز و نیاز میں مصروف ہوتا ہے۔ عاجزانہ چال، دھیمی آواز اور لب پہ درود و سلام۔۔ دل میں سکون کی لہریں داخل ہو جاتی ہیں۔

الحمد للہ۔۔ اس بار بیٹا ہمراہ تھا۔ وہ سوال پوچھتا تھا، مطمئن کرنا میری ذمہ داری تھی۔ بیٹے نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے کہا، ایسا لگتا ہے، بارہا یہاں آیا ہوں۔ ہر مقام سے مانوس ہوں۔

روضۂ رسول ﷺ پر وہ پورا دن گنبدِ خضرا کو تکتا۔ بیٹے کو زائرین کو آبِ زم زم پلانے کی ڈیوٹی مل گئی۔ اس نے بتایا کہ یہاں آ کر حواس کی رفتار تیز ہو گئی ہے، لوگوں کے خیالات منتقل ہوتے ہیں، میں کسی کے اندر نہیں جھانکتا، از خود پتہ چلتا ہے کہ کوئی کیا چاہتا ہے اور میں حسبِ توفیق خدمت کرتا ہوں۔

یہ سب استادِ محترم کی شفقت اور تربیت کا نتیجہ تھا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔

عمرے کے دوران بہت سے لمحات ایسے آئے جب وقت کی شعوری تقسیم سمٹ گئی اور ہم ماں بیٹے نے شعور کے تینوں یونٹ ماضی، حال اور مستقبل کو یکجا محسوس کیا۔


 

Topics