Topics

دونوں عالم کا دولہا ہمارا نبی ﷺ۔۔نومبر۔۲۰۱۹

11 ربیع الاول کی رات مسجد نبوی کے صحن میں چلتے ہوئے سرگوشی سنائی دی۔ ”اے میری دوست!“ میں چونک گئی کہ آس پاس بظاہر کوئی نہیں ہے پھر یہ سرگوشی کیسی؟ کس نے مجھے پکارا ہے؟

 سامنے روشن چاند مسکرا رہا تھا۔                

 میں نے پوچھا، اے میرے بوڑھے دوست! تم ہزاروں سال پرانے ہوتے ہوئے بھی اتنے خوش باش، جوان اور حسین کیسے ہو؟

چاند بولا تمہیں میرے حسن پر رشک ہے یا حسد؟

میں نے کہا، تم جانتے ہو اللہ کے فضل سے حسد میرے مزاج کا حصہ نہیں اور پھر دوست حسین ہو تو بندے کو اپنا آپ بھی اچھا لگتا ہے۔
چاند نے کہا، اچھا بتاؤ تم کیسی ہو؟

 میں نے کہا، پاؤں میں چھالے پڑے اور پھٹ گئے ہیں۔ جسم بے حال اور توازن بگڑ گیا ہے، خود کو گھسیٹ گھسیٹ کر چل رہی ہوں لیکن مسرور ہوں۔ جانتے ہو کہ حال جب بے حال ہو تو وصل کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اے دوست! کیا وہ مجھ سے کلام کریں گے؟

چاند پر بادل آ کر گزر گئے جیسے اس نے چند لمحوں کے لئے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے آنکھیں موند لی ہوں۔ لگتا تھا کہ میری طرح وہ بھی فراق میں جل رہا ہے۔

 میں نے کہا تم روز یہاں آتے ہو، دعا کرو وہ مجھ سے ہم کلام ہوں، میں لمحہ لمحہ منتظر ہوں۔

میری دوست! میں روز یہاں نہیں آتا، میں تو یہاں سے جاتا ہی نہیں ہوں۔ پیاسا کنوئیں کو چھوڑ کر کہاں جائے گا؟ دن موت اور رات حیات میں گزرتی ہے۔ یہ کہہ کر چاند نے بادل اوڑھ لیا۔ اسے بدلی میں چھپتا دیکھ کر میں بڑبڑائی، تم اچھے دوست ہو میں نے خواہش بیان کی اور تم چل دیئے؟

 دل نے کہا تم ان راہوں پر آج چل رہی ہو جب کہ چاند صدیوں سے اس راہ کا مسافر ہے اور جانتا ہے کہ وصل صرف دعاؤں سے نہیں، خود سے گزر کر ملتا ہے۔ بھیگی ہوئی رات تھی۔ شاید دن بھر فراق میں جلنے کے بعد رات جب رات سے ملی تو شبنم نے اس کی تسکین کی تاکہ فراق سے گزرنے کی سکت پیدا ہو۔ ایک بج رہا تھا۔ صحن نبوی میں پروانے موجود تھے۔ حسن و نور کی انتہا میں یہ منظر خواب در خواب محسوس ہوا۔ واپسی کے لئے مڑی۔ ہوٹل کی طرف جاتے ہوئے بے تابی سے بار بار چاروں طرف دیکھتے ہوئے خود سے پوچھ رہی تھی کہ کہاں ہیں رسول اللہ؟

 چاند نے چہرے سے بادل ہٹایا اور مسکراتا ہوا بولا، تمہارے دل میں! میں نے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ چاند سے کہا، ہاں! میرے دل میں ہیں اور دل خبر سے نظر بننے کا منتظر ہے۔ شاید تمہیں میری دھڑکنیں سنائی دے رہی ہوں۔ دیکھو دوست اب مجھے آواز نہیں دینا۔ ورنہ ان قدموں کے لئے آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ انشاء اللہ کل ملاقات ہوگی، اللہ حافظ۔

۱۲ ربیع الاول کی رات وہ بہت حسین پوشاک میں ظاہر ہوا۔مسجد نبویؐ کے چھوٹے  مینار سے نیچے  ہم نے ایک دوسرے کو مبارک باددی۔ پھر وہ مستانہ وار لیکن باادب مدحتِ رسولؐ  میں گم ہوگیا۔

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبیؐ

سب سے بالا و والا ہمارا نبیؐ

اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبیؐ

دونوں عالم کا دولہا ہمارا نبی ؐ

 میں نے آواز سے آواز ملائی۔

 بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں،

شمع لے کر آیا ہمارا نبی،

 جس کے تلووں کا دھوون ہے آبِ حیات،

ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبیؐ

 ہم دونوں خود سے بے خبر مدینے والے کے قرب کے متمنی تھے اور وجد میں پڑھ رہے تھے:

غم زدوں کو رضا مژدہ دیجئے کہ ہے،

بے کسوں کا سہارا ہمارا نبیؐ

 اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبیؐ

 سب سے بالا و والا ہمارا نبیؐ

 رخسار پر موتی لرز رہے تھے۔ مجھے بے قرار دیکھ کر چاند نے انجان بنتے ہوئے پوچھا، کیا ہوا؟

 میں نے بھی پردہ رکھا اور کہا، کچھ نہیں بس کوئی یاد آگیا۔ پیارے چاند تمہیں پتہ ہے یہاں آنے سے پہلے جب میں نے بیت اللہ شریف کی زیارت کی تو ایک وقت ایسا آیا کہ وہاں جھلی و نور کا ہال محسوس ہوا۔ دل نے کہا کہ یہ ہو بہو میرے دوست جیسا ہے۔ نورانی فضا میں سکون اور حسن و جمال نے مجھے بے خود کر دیا۔ آنکھیں ٹھہر گئیں، دیکھتے ہی دیکھتے جسم و جان سب اس میں جذب ہو گیا، کچھ باقی نہ بچا۔ پھر کسی آواز نے جگایا اور دوری حائل ہو گئی۔

چاند نے سرگوشی کی، ایسا دوست کون ہے جس کا حسن بیت اللہ جیسا ہے؟ میں نے کہا، ہر بات کا جواب ضروری نہیں ہوتا۔ بس کسی نے آواز دی، ہوش آیا تو لوگ مجھ سے ٹکراتے ہوئے گزرے، میں گرتے گرتے سنبھلی کسی نے مجھے تھام لیا تھا۔

میں نے آہستہ آواز میں چاند سے کہا،

 ”ان مقدس مقامات میں عشق و معرفت کا خزانہ مخفی ہے جس کی لو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور پروانے جوق در جوق بے تاب و بے قرار آ رہے ہیں۔ آ رہے ہیں، قربان ہو رہے ہیں اور قربان ہو کر واپس جا رہے ہیں لیکن جانے والا وہ نہیں جو یہاں آیا تھا۔ اگر وہی ہے تو پھر وہ یہاں آیا ہی نہیں

چاند بے ساختہ بول اٹھا، واہ سبحان اللہ! تم نے رموزِ عشق بیان کر دیا۔۔۔ دل کو دل کی راہ دکھا دی۔ حسین دوست! صرف پڑھنے لکھنے سے بات سمجھ میں نہیں آتی۔ بات لفظوں کے اندر اترنے سے، اندر میں روشنی کے وقوف سے دکھائی دیتی ہے۔ جو آگ سے گزرا نہیں، وہ کیا بتائے گا کہ تپش کیا ہے؟ جو پیاس کی شدت سے نہیں گزرا، اسے کیا علم کہ سیرابی کیا ہے!

چاند نے گہرا سانس لیا۔ ایک بار پھر آنکھیں موند لیں اور آہ بھرتے ہوئے بولا، اللہ کا کرم ہے کہ اس نے مجھے دنیا میں ضوفشانی تقسیم کرنے اور ٹھنڈی لہریں  پہچانے کی ذمہ داری دی۔ میں جس کے گھر کا چاند ہوں، اس کے محبوب کے در پر رہتا ہوں۔

اس رمز پر میں مسکرائی اور کہا، بے شک سب پر اللہ کا کرم ہے۔ مجھ ناچیز کو یہاں آنے کی توفیق دی اور وسائل کا انتظام فرمایا۔

ہمارے قریب سے کوئی گزرا۔ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ جانتے ہو وہ ساری کتابیں زندہ ہو گئیں جو ہم پڑھتے تھے کہ اللہ کا گھر ایسا ہے اور حضور کا گھر ایسا ہے۔ یہاں آکر گھر کو دیکھنے کی زیارت نصیب ہوتی ہے اور وہ سارے جذبات محسوس ہوتے ہیں جن کا ذکر کتابوں میں ہے اور یہاں سے آنے والے لوگ ہمیں بتاتے ہیں۔ شکر ہے رب کا کہ اس نے ہمیں یہاں بلا کر مقدس مقامات کی زیارت کروائی ورنہ سب کتابوں میں رہ جاتا۔

تم ٹھیک کہتے ہو بھائی۔ دوسرا بولا۔۔۔ اور اللہ رسول نے ہمیں یہاں بلا کر ایسے ایسے کھانے کھلا دیئے جو ساری حیاتی ہم نے نہ سنے نہ کھائے۔

سادہ لوح دیہاتیوں کی گفتگو سن کر چاند نے ادھ کھلی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میں مسکرا دی۔ وہ باتیں کرتے ہوئے آگے نکل گئے اور میں آہستہ آہستہ پاؤں گھسیٹتے ہوئے چلتی رہی۔

چاند بولا، بلانے والا ہر طرح کے لوگوں کو بلاتا ہے۔ میں خاموشی سے دیکھتا رہتا ہوں۔ کچھ لوگ یہاں برہنہ پا سر کے بل چلتے ہوئے آتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جنہوں نے جوتے کی قیمت سر سے زیادہ لگارکھی ہے۔ فکر ہوتی ہے کہ جوتے کھو نہ جائیں۔ جانتی ہو ایسے میں مجھے وہ بات یاد آتی ہے کہ

حضرت موسیٰ آگ کی تلاش میں نکلے تو اللہ نے ان سے فرمایا، ”اے موسیٰ! جوتے اتار دے، تو وادی مقدس طویٰ میں ہے۔

12 ربیع الاول کی رات ڈھل رہی تھی۔ مسجد نبوی کی خمار طاری کرنے والی فضا ایسی جیسے نور کی چادر پھیلی ہوئی ہو۔ اللہ کے محبوب کے در پر ملائکہ حاضر باش رہتے ہیں اور درود و سلام بھیجتے ہیں کہ اللہ نے ملائکہ اور مومنوں پر لازم فرمایا ہے کہ وہ اللہ کے محبوب پر درود و سلام بھیجیں۔ مگر آج 12 ربیع الاول کی رات کی بات اور تھی۔ لگتا تھا کہ زمین و آسمان میں چراغاں اور درود و سلام کے ترانے ہیں۔

نوری محفل پر چادر تنی نور کی

 نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے

 چاندنی میں ہیں ڈوبے ہوئے دو جہاں

 کون جلوہ نما آج کی رات ہے

 ابرِ رحمت ہیں محفل پہ چھائے ہوئے

 آسمان سے ملائک ہیں آئے ہوئے

 خود محمد ﷺ ہیں تشریف لائے ہوئے

 کس قدر جاں فزا آج کی رات ہے

 اس طرف نور ہے اس طرف نور ہے

 سارا عالم مسرت سے معمور ہے

 جس کو دیکھو وہی آج مسرور ہے

 مہک اٹھی فضا آج کی رات ہے

میرے اوپر درودوسلام سایہ فگن تھے۔ چاند اپنےدائرے میں تھا اور اللہ کی حمد اور اس کے محبوب کی محبت میں نثار والہانہ گردش کر رہا تھا۔

اگلے روز مسجد نبوی میں حاضر نہ ہوسکی جس کا سخت افسوس رہا۔ حالات ایسے بنے جیسے مدینے میں رہتے ہوئے مدینے والے کی مسجد سے دور رکھ کر وصل کی تڑپ کو بڑھایا جا رہا ہو۔

بے شک روح کے لئے زمانی و مکانی فاصلے معنی نہیں رکھتے مگر میری روح ابھی تک جسم کی قید میں تھی اور جسم زمانی و مکانی فاصلوں کو سب کچھ سمجھتا ہے۔میں دور رہ کر بھی مست و بے خود رہی۔

اگلے روز مدینہ منورہ کی ٹھنڈی اور پر فضا رات ایک بجے جب میں درود و سلام پڑھ کر ہوٹل جانے کے لئے روانہ ہوئی کہ چاند کی آواز آئی:

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبیؐ

سب سے بالا و والا ہمارا نبیؐ

اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبیؐ

دونوں عالم کا دولہا ہمارا نبیؐ

میں نے کہا، دوست! آج تم دیر سے آئے ہو۔ میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ کل ملاقات ہوگی۔

اس نے کہا، میں یہیں تھا۔ گنبدِ خضرا کے سائے تلے میری چاندنی معدوم ہو جاتی ہے۔ جس کے نور سے چاند پُر نور ہے، وہاں کیا تذکرہ؟

میں نے پوچھا، تمہیں کیا بے قرار رکھتا ہے؟

اس نے کہا، دائرے میں آجاؤ، جواب مل جائے گا۔ صدیوں لمبی عمر رکھنے والا یہ بوڑھا چاند گہرا بھی بہت تھا۔ اور پھر وہ بدلی میں چھپ گیا۔

اگلی ملاقات میں اسے دیکھتے ہی بول پڑی، اے رات کو آنے والے دوست! تم جانتے ہو جب میں یہاں آتی ہوں تو ہوٹل میں بہت کم ٹھہرتی ہوں، مکہ میں وقت حرمِ پاک تو مدینے میں مسجد نبوی میں گزرتا ہے۔ ہر لمحہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ مجھے بلا رہے ہیں، کبھی اپنے در پر تو کبھی اپنے محبوب کے در پر۔ محبوب کا در بھی تو محبت کا در ہے۔ اور محبوب اپنے محب پر نثار ہے۔ یہ ایسا دائرہ ہے کہ جو ایک بار اس میں داخل ہو جائے، گم ہو جاتا ہے۔

چاند نے مجھے گہری نظر سے دیکھا اور بولا، آج بہت چہک رہی ہو لگتا ہے شیطان کو مات دے کر آئی ہو۔

میں ہنس دی اور کہا، ہاں بھئی کسی نے کہا ہے،

 پل بنا کے سو مت جانا

دریا آخر دریا ہے

 تم نے کہا تھا کہ دائرے میں آجاؤ۔ مجھے دنیا کے تکون سے نکل کر کائنات کے دائرے میں داخل ہونا ہے اور اس میں واحد رکاوٹ میں خود ہوں۔ جو شے اللہ سے واقف ہونے میں رکاوٹ بن جائے، وہی شیطان ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری نشانیوں پر غور کرو۔

اللہ جانتا ہے کہ میں کون ہوں۔ بس مسجد نبوی کی ٹھنڈی چھاؤں میں، میں نے سیکھا کہ دائرے میں داخل ہونے کا ذریعہ عشق ہے اور عشق کا مرکز دنیا نہیں، محبوب ہے۔

جمعے کی شام نماز کے بعد روضہ رسول سے رخصت ہوتے ہوئے الوداعی سلام کے وقت نظر اٹھ نہیں سکی۔ میں نے توجہ دل کی گہرائی میں مرکوز کر کے ایک بہت ضروری بات کی اور کانپتے ہونٹوں کے ساتھ باب السلام کو بوسہ دیتے ہوئے واپس لوٹ رہی تھی کہ مجھے پیغام مل گیا۔ روح شاد اور جسم آباد ہو گیا۔ محبت نے محبت کا سلام بھیجا تھا اور آنکھیں پانی بن گئی تھیں۔

میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور درود و سلام پڑھتے ہوئے روانہ ہوئی۔

دور احد کی چوٹیوں کو بادل چوم رہے تھے۔ مجھے لگا میں بس میں نہیں بیٹھی بلکہ ان بادلوں کا حصہ ہوں اور منزل کی طرف رواں دواں ہوں۔ سامنے چاند آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ میں نے کہا، اے چاند! تمہاری طرح میں بھی بے قرار تھی اور ہوں مگر اب لگتا ہے ساری زمین بیت اللہ ہے اور میں اس کا طواف کر رہی ہوں۔ اے چاند! درود و سلام پڑھو کہ اللہ کے محبوب کا دیدار ہوا اور وہ ہمیں دل کے اس مقام سے متعارف کرادیں جہاں اللہ بستا ہے۔

 

 

Topics