Topics
روحانیت شہر عشق ہے جس کے ہر ذرہ ریگ
، کوچہ و بازار، بام و در ، موسم و ماحول اور برگ و گل پر ایک ہی نام کندہ ہے۔
اللہ سے محبت کرنے والا صراط مستقیم پر گامزن ہو
جاتا ہے۔ مجھے اللہ سے محبت ہے البتہ وہم و گمان میں نہیں تھا کہ راہ حق کے آداب
سیکھنے کے لئے راہ نما کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل ایسا معما ہے جو حل نہ ہو سکا۔ جب سے
دل نے اپنی طرف متوجہ کیا ، اس کی حفاظت مشکل ہو گئی۔ دل اور دماغ میں عجیب کھیل
شروع ہو گیا کہ کوئی شے اچھی لگتی ، ساتھ ہی اندر میں ناپ تول شروع ہو جاتا کہ
پسندیدگی کس حد تک ہے۔ طبیعت کو گوارا نہیں تھا کہ الوژن خیال تکرار کر کے پختہ ہو
جائے۔ میں نے رشتے ناتے اور خاندانی باتوں میں غیر ضروری دلچسپی نہیں لی۔ اللہ کی
محبت میں بہت احتیاط سے کام لیتی تھی ۔ جس شے میں دلچسپی بڑھتی، خوف زدہ ہو کر الگ
ہو جاتی ۔ تو ازن قائم رکھنے کا فن نہیں آتا تھا ۔ اس عادت سے اکثر شعور کو تکلیف
پہنچتی مگر دوسری طرف محبت کی مسکراہٹ بڑھ جاتی ۔ سہیلیوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ
سے کوئی امید نہ رکھیں، میں بے وفا ہوں ۔ دراصل میں دل کی گہرائی سے کسی کو چاہ
نہیں سکتی تھی۔ جب احساس ہوا کہ سلیٹی رنگ کا گول شیشہ جس میں چہرہ دیکھتی ہوں اور
سنبھال سنبھال کر رکھتی ہوں، کچھ زیادہ عزیز ہو گیا ہے تو شیشہ فرش پر دے مارا-
ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا۔ کر چیاں کوڑے دان میں ڈال دیں۔ یہ رکاوٹ بھی دور ہوئی ۔
رہن سہن سخت تھا۔ 168 گھنٹوں میں صرف ایک گھنٹا
ٹی وی دیکھنے کی اجازت تھی۔ اکیلے آنے جانے پر پابندی تھی ۔ امی کو کسی پر اعتبار
نہیں تھا اس لئے ہر سہیلی میری اور امی کی مشتر کہ سہیلی تھی۔ بلکہ مجھ سے زیادہ
وہ امی کی سہیلی ہوتی کیوں کہ میں جلد اکتا جاتی تھی ، امی نہیں اکتاتی تھیں۔
مولوی صاحب آتے تھے جو صرف عربی
پڑھاتے تھے۔ میں ترجمے کے ساتھ پڑھنا چاہتی تھی۔ سوال کرنا منع تھا مگر طبیعت میرے
ہاتھوں مجبور تھی۔ کچھ سوالات پوچھے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ اللہ کے راز ہیں
اور اللہ اپنے رموز میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ میں نے پوچھا، وہ کون سا علم ہے جس
کی بنا پر فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا ؟ جواب سے تسلی نہیں ہوئی اور جستجو بڑھ گئی۔
سوالات اہمیت اختیار کر گئے۔ میں گیارہویں جماعت میں تھی۔ جواب کی تلاش میں کئی
کتابیں پڑھیں ، سب کی تفہیم مختلف تھی۔ پریشان ہو جاتی کہ علم ایک ہے پھر سمجھنے
والوں کی سوچ میں اختلاف کیوں ہے؟ دل پر بوجھ آگیا۔
رویے عکاسی کرتے ہیں کہ ہم نے عبادات اور
معاملات کو ایک دوسرے سے الگ سمجھ لیا ہے۔ عبادت کسی اور کی ہوتی ہے اور معاملات
اپنی مرضی سے طے کئے جاتے ہیں۔ عبادت کی روح کو سمجھا جائے تو معاملات آسان ہو جاتے ہیں کیوں کہ
عبادت میں اجتماعیت کی تربیت ہے۔ اسلامیات کے پیریڈ میں میں نے آیت پڑھائی ،
" اور جو کوئی مومن کو قتل کرے،
اس کا بدلہ جہنم ہے کہ ہمیشہ اس میں رہے اور اس پر اللہ کا غضب ہوا اور اس پر لعنت
ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ (النساء: ۹۳)
میں سوچتی ہوں کہ ہم جان کی قدر نہیں
کرتےمگر وہ ایک جان اللہ کے ہاں کتنی مقدم ہے۔بعض اوقات کسی کی زبان کا نشتر مار
ڈالتا ہے لیکن خون رستا ہے نہ چوٹ نظر آتی ہے۔ یہ نا پسندیدہ عمل ہے۔ ہم اللہ کے
احکامات میں سے اپنے مفاد کی بات پر عمل کرتے ہیں اور باقی چھوڑ دیتے ہیں۔ قرآن
کریم میں ہے کہ دین میں پورے داخل ہو جاؤ۔ عبادت ( بندگی ) صرف اعضا کی حرکت نہیں
۔ یہ بھی عبادت نہیں کہ پیشانی زمین پر اور دل میں کوئی اور چھپا ہوا ہو۔ دل اللہ
کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے تو پیشانی از خود جھک جاتی ہے۔ سڑک پر چلتے ہوئے اللہ
کا تصور بے قرار کر دے اور آنسو دریا بن جائیں تو کیا یہ عبادت نہیں؟
میں خود سے سوال کرتی ہوں کہ جب تک
فکری، ذہنی اور جسمانی توانائی کے ساتھ سیدھا راستہ اختیار نہ کیا جائے تو کیا
منزل پر پہنچا جا سکتا ہے؟ لاعلمی قانون توڑنے کا جواز نہیں اور عشق قانون سیکھنے
کا محتاج نہیں۔ عشق چنگاری ہے جو سرکش رویوں اور انا سے بھر پور وجود کو جلا دیتی
ہے۔ یہ ارتقائے حیات کا پہلا زینہ ہے جس پر چل کر بندہ بندگی کے رشتے میں بندھ
جاتا ہے۔
خواب
میں دیکھا۔ بادل چھٹتے ہی سنگ مرمر کا سفید فرش دکھائی دیا جس پر حضرت سید علی
ہجویری المعروف داتا گنج بخش کھڑے ہیں۔ انہوں نے کتاب دی جس کے سرورق پر موٹے حروف
میں کشف المحجوب لکھا تھا۔ آنکھ کھلنے پر نام لکھ لیا مگر ذہن کتاب تلاش کرنے کی
طرف نہیں گیا۔ خواب کے تقریبا سال بعد لاہور ائیر پورٹ پر بک اسٹور میں کشف المجوب
دیکھ کر اچھل پڑی۔ خواب والی کتاب! یہ فارسی زبان میں تھی۔ تلاش کرنے سے اردو
ترجمہ مل گیا۔ دیباچے میں حضرت نظام الدین اولیا کا ارشاد گرامی ہے: اگر کسی کا
پیر نہ ہو تو ایسا شخص جب اس کتاب کا مطالعہ کرے گا تو اس کو پیر کامل مل جائے گا۔
جب بھی کتاب کھولتی، مسحور کن خوش بو گھر میں پھیل جاتی۔ کتاب بند کرتی، خوش بو کم
ہوتے ہوتے غائب ہو جاتی۔ ابتدا میں خوش بو صرف مجھے محسوس ہوئی، بعد میں دوسروں نے
بھی محسوس کی اور تلاش کیا کہ کہاں سے آرہی ہے۔ میں نے انجان بنتے ہوئے کسی سے ذکر
نہیں کیا۔ ایک روز گھر میں مہمان آئے ۔ پھپھو نے مجھ سے کہا، کوئی کتاب پڑھ کر
سناؤ میں کشف المجوب لے آئی۔ کتاب کھولی، خوش بو پھیل گئی اور کمرے میں موجود
افراد نے بھی محسوس کی۔
پھپھو مجھے پیارے عرفان شاہ کہتی تھی۔ انہوں نے
کہا، عرفان شاہ ! تم نے کتاب کھولی اور کتاب سے خوش بو پھیل گئی۔ دن رات دعائیں
کرتی تھی کہ یا اللہ ! راہ نما سے ملا دے۔ والدہ سے کہا کہ بیعت ہونا ہے۔ ان کا
کہنا تھا یہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ تمہارے ابو جن دو بزرگوں کے عقیدت مند ہیں وہ
دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ والد صاحب کی چھٹی حس بیدار تھی۔ واقعات کا قبل از وقت
پتہ چل جاتا تھا۔ اکثر دن بھر پیش آنے والے واقعات ہمیں بتا کر ہائی کورٹ جاتے
تھے۔ مثال کے طور پر ایک روز اماں سے کہا کہ تمہاری بہن اور بہنوئی آ رہے ہیں۔
راستے میں کوئی مسئلہ ہو گیا ہے، گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں گے ۔ ارادہ تھا کہ ان
سے ملاقات کر کے دفتر جاؤں گا لیکن دیر ہو جائے گی۔ میرا سلام کہہ دینا۔ ایک گھنٹے
بعد خالہ خالو گھر پہنچے تو بتایا کہ گاڑی خراب ہوگئی تھی ورنہ جلدی پہنچ جاتے۔
دادی بتاتی تھیں کہ ابو بچپن سے ایسے تھے۔ گاؤں میں کسی کی چیز گم ہو جاتی تو ابو
کے پاس آتے تھے۔ ابو کہتے، فلاں کے پاس یا فلاں جگہ ہے۔ اور وہ چیز مل جاتی۔
میں پوچھتی تھی کہ ابو! آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟
وہ کہتے تھے کہ بیٹا! میں نہیں جانتا، بس جو خیال آتا ہے کہہ دیتا ہوں۔ میں نے
پوچھا، آپ نے بیعت کیوں نہیں کی؟ انہوں نے کہا، ہر طرف دکان داری ہے۔ اللہ کا بندہ
ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ ایسا بندہ جس کی قربت میں اللہ کے سوا کسی کا خیال نہ آئے
اور دل گواہی دے کہ یہ اللہ کا بندہ ہے۔ اور بیٹا! سچی بات یہ ہے کہ ہم طفل مکتب،
راہ نما کی شان کیا جانیں؟ ایسے بندے کا ملنا بڑے نصیب کی بات ہے۔ ابو نے بتایا کہ
چلتے پھرتے چیزیں روشن ہو جاتی تھیں اور میں روشنی میں بہت سی چیزیں دیکھ لیتا
تھا۔ تمہاری دادی ماہر امراض چشم کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے کہا، آنکھیں ٹھیک ہیں۔
میں سمجھتا تھا کہ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر کھوئے ہوئے لہجے میں گویا ہوئے۔
میں بہت بے فکر اور آزاد ذہن آدمی تھا۔ بس جب سے تم لوگ جوان ہوئے ہو، تمہاری فکر
میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ ماورائی صلاحیت دب گئی ہے۔ ہمارے خاندان میں بڑے بڑے بزرگ
گزرے ہیں لیکن،
وہ محفل اٹھ گئی جس دم مجھ تک دور جام آیا۔
مصرعہ
پڑھ کر خاموش ہو گئے، آنسو چھلکے اور تشنگی محرومی بن گئی۔
قرآن کریم میں لکھا ہے کہ گھر کے دروازوں سے آنا
نیکی ہے، نہ یہ کہ تم گھروں میں دیواریں پھلانگ کر داخل ہو۔ اور نیکی یہ نہیں کہ
تم گھروں میں آؤ پیچھے سے، بلکہ نیکی یہ ہے کہ تقوی اختیار کرو اور گھروں میں
دروازوں سے آؤ۔ (البقرۃ: ۱۸۹)
اللہ تعالی کے نظام میں ہر شے کا
قانون اور ہر کام کے آداب ہیں۔ اگر کوئی اللہ کے دربار میں داخل ہونا چاہتا ہے تو
اسے وسیلہ تلاش کرنا ہوگا۔
اور اس تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو اور اس
کی راہ میں جدو جہد کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ ( المائده : ۳۵)
مرید راہ سے واقف نہیں ہوتا اس لئے
بہک سکتا ہے جب کہ راہ نما منزل رسیدہ ہوتا ہے۔ راستے کی بھول بھلیوں اور شیطان کے
شکنجے سے نکلنے میں مرید کی مدد کرتا ہے۔ روحانیت شہر عشق ہے اور اس وادی میں
اترنے کے لئے اولین عمل خود سپردگی ہے۔ طلب صادق ہو تو بندہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔
کالج میں فنکشن تھا۔ اسٹیج سے نیچے
پھولوں کی پتیاں فرش پر بکھری ہوئی تھیں اور پیروں کے نیچے آرہی تھیں۔ کسی کو پھولوں
کی پروا نہیں تھی۔ دور کرسی پر بیٹھے ہوئے میں نے دیکھا کہ بھرے ہال میں سے ایک
لڑکی سبک رفتاری سے آئی اور زمین پر بکھرے پھول اکٹھے کر کے جھولی میں بھرنے لگی۔پھول
چنتے دیکھ کر میں اٹھی اور میں اس کے ساتھ پھول چننے میں شریک ہو گئی۔
تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے پوچھا۔
لڑکی نے بتایا، وجاہت۔ نام بتا کر بولی، پھول
محبت کی علامت ہیں، انہیں زمین پر نہیں ہونا چاہئے، ان کا احترام کرنا چاہئے۔
کیا مطلب؟ میرے ہاتھ رک گئے۔
وجاہت نے کہا، پھول ہمیں جن کی یاد
دلاتے ہیں، وہ پھولوں سے زیادہ پاک اور مقدس ہیں۔ اندر میں ہوک اٹھی اور آنکھیں
پانی بن گئیں۔ میں نے کہا، وجاہت! دعا کرنا مجھے بھی راہ نما مل جائے۔مدت سے
انتظار میں ہوں۔
وجاہت نے تعجب کا اظہار کیا، اچھا! میں بھی اس
راہ کی مسافر ہو اور راہ نما مل گیا ہے۔ وہ چلی گئی ۔میرے زخم تازہ ہوگئے۔ میں نے
آتے جاتے لوگوں کو دیکھنا شروع کیا کہ شاید راہ نما مل جائے۔ راہ نما صرف میری
تلاش تھے بلکہ بلکہ راز بھی تھے۔ ایسا راز
جس سے میں نا واقف تھی۔
ان ہی دنوں کی بات ہے کہ پڑھا سنا
مشاہدے میں آگیا۔ سچ ہے کہ مانگنے والا جب دل سے پکارتا ہے تو دینے والا وسیلہ بنا
دیتا ہے۔ خوابوں کی تصویریں بدل گئیں، ہر سمت شہنائیاں بجنے لگیں۔ خواب میں دیکھا۔
بڑا گیٹ ہے جس پر خانقاہ لکھا ہوا ہے۔ اندر داخل ہوتی ہوں۔ چلتے چلتے معلوم ہوتا
ہے کہ زندگی کی صرف ایک رات باقی ہے۔ سوچتی ہوں یہ رات عبادت میں گزاروں گی۔ سامنے
کمرا ہے جس کا دروازہ خوب صورت لکڑی سے بنایا گیا ہے۔ بند دروازہ کھولتی ہوں اور
اندر جا کر خود سے بے خود ہو جاتی ہوں۔
(قسط: 1)