Topics

استغنا کی صفت ۔اگست۲۰۲۳

 

ایک روز راہ نما نے فرمایا ، مال و دولت اللہ کی راہ میں  خرچ کرنے سے استغنا پیدا ہوتا ہے۔

ان کی بات سن کر میں نے خود سے کہا ، تم اس وقت سچی پیر وکار بن سکتی ہو جب لالچ سے آزاد ہو جاؤ۔ کہاوت مشہور ہے،

مایا تیرے تین نام

پرسو ، پرسا ، پرس رام                      

آدمی مایا (دولت) کو خود سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ دولت آنے سے معاشرے میں حیثیت بدل جاتی ہے۔ اب لوگوں میں پرسو کے حقیق نام سے مشہور شخص پرسا کہلاتا ہے اور جب اس کا شمار امرا میں ہونے لگے تو وہ پرس رام بننے کے فریب میں مبتلا ہو کر سمجھتا ہے کہ عزت دولت سے ملتی ہے۔ نظامِ قدرت میں سب برابر ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا،

”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو۔“ 

(آل عمران :۹۲)

 نیکی سے شر رخصت ہو جاتا ہے۔ مال کو فتنہ اس لئے کہا گیا ہے کہ آدمی بقا کے لئے مال پر بھروسا کرتا ہے ۔ مال کی ایک شکل اولاد ہے۔

دنیا میں سب سے قیمتی متاع اللہ اور مخلوق کا رشتہ ہے۔ اللہ پیدا کرتا ہے اور زندگی کو قائم رکھنے کے لئے وسائل عطا کرتا ہے۔۔ وسائل پیدا ہوتے اور ختم ہوتے ہیں لیکن۔۔ وسائل تخلیق کرنے والی ذات دائمی ہے۔

ایک خدا ترس خاتون کے شوہر کی فیکٹری بند ہو گئی۔ وہ اکثر روتے ہوئے غربت سے پناہ مانگتی تھیں۔ راہ نما نے ان کو پیغام بھجوایا،

”جب یہ خیال آئے کہ میں غریب ہوجاؤں گی تو لاحول پڑھیں ۔۔ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ آج تک کسی شے کی کمی نہیں ہوئی، ان شاء اللہ ، آئندہ بھی ضرورت پوری ہوں گی۔“

ہر شخص کو یہ تجربہ ہے کہ نو مہینے ماں کے پیٹ میں غذا فراہم ہونا ، پیدائش کے بعد سوا دو سال تک ماں کا سینہ دودھ کا چشمہ بن جانا اور اس کے بعد بھی بچے کے لئے وسائل فراہم ہونا ، سب اللہ کی رحمت اور قدرت کا مظاہرہ ہے۔

وسائل سے ذہن ہٹا کر خالق پر بھروسا کرنے سے حواس نورانی ہوتے ہیں، زمین کی چپک سے نکلنا اور کششِ ثقل سے آزاد ہونا آسان ہو جاتا ہے اور سکون کی لہریں تابع ہو جاتی ہیں۔

راہ نما نے اپنے والد کا واقعہ سنایا۔

”ہمارے ابا کے آم کے پیڑ تھے۔ ایک پیڑ غریبوں کے لئے وقف تھا۔ ہم بچوں سے کہا گیا تھا کہ اس درخت کا پھل توڑ نہیں سکتے، زمین پہ گرا ہوا پھل کھا سکتے ہو۔“

جائیداد کے تنازعے میں پیسہ اور رشتہ آمنے سامنے آجاتے ہیں ۔ سائلین جب ان کے پاس  ایسے معاملات لے کر آتے ہیں تو راہ نما رشتہ بچانے کو ترجیح دینے کی نصیحت فرماتے ہیں۔

ایک نشست میں انہوں نے اپنا واقعہ سنایا کہ جب حساب کتاب کے معاملے میں تعلق خراب ہونے کی نوبت آئی تو  وہ اپنی کپڑے کی دکان کاروبار میں شریک دوست کے حوالے کر کے دوسرے شہر چلے گئے تھے۔

میں نے حیرت سے پوچھا ، آپ نے اپنی چیز کیسے کسی کو دے دی؟

فرمایا ، یہ مرشد کریم کا فیض ہے۔

میری شادی کے بعد کی بات ہے کہ کسی نے ایک قطۂ زمین کے بدلے ہمیں رقم ادا کرنی تھی۔ کہا گیا کہ رقم کی ادائیگی جلد کر دی جائے گی لیکن بعد میں حالات مختلف ہو گئے اور تعلق خراب ہونے کی نوبت آگئی۔

راہ نما نے ہمیں اس معاملے سے دستبردار ہونے کا کہا، ہمیں رقم کی اشد ضرورت تھی لیکن ان کی بات سن کر نہ جانے کیوں مجھ پہ سرشاری طاری ہو گئی۔ ملاقات سے واپسی پر ذہن نے ملکیت کے تصور سے آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کے حکم کی تعمیل سے روح کے ساتھ جسم میں بھی لطافت کا احساس ہوا جیسے قفس سے رہائی پر کوئی پرندہ فضا میں پرواز کرتے ہوئے آزادی سے سر شار ہوتا ہے۔

راہ نما وراثت کی تقسیم کے سلسلے میں لوگوں سے  فرماتے ہیں کہ اپنی زندگی میں وصیت کردو ورنہ قبر میں پریشان ہو گے۔

ہمارے پڑوس میں ایک صاحب قریب المرگ تھے۔ ان کے گھر سے ایک خاتون آئیں اور بتایا کہ ہمارے ابو کوئی مارتا ہے لیکن دکھائی نہیں دیتا ۔ ہم کیا کریں؟

میں راہ نما کی کتاب ”روحانی علاج“ لے کر ان کے گھر گئی۔ مریض بستر پر تھا۔ پاؤں سوج کر کُپا ہو گئے تھے اور جسم پر نیل کے نشانات تھے ۔ وہ ہر تھوڑی دیر بعد روتے ہوئے کہتے کہ مجھے کوئی مارتا ہے، مجھے کوئی مارتا ہے۔

اس وقت خیال آیا کہ ضرور ان صاحب وراثت میں حق تلفی ہوئی ہے جس کی وجہ سے نزع کا عالم طویل ہے۔ بات درست نکلی۔

وراثت کا مسئلہ حل ہو گیا۔ سرہانے بیٹھ کر کئی مرتبہ سورہ یٰسٓ پڑھی گئی۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے اور مستقل سو گئے۔

خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے محنت کرنے والے کو اللہ کا دوست فرمایا ہے۔ جو شخص اپنے ذریعہ معاش کے ساتھ انصاف نہیں کرتا ،  اس کے رزق میں حلال کی تاثیر مغلوب ہو جاتی ہے۔

ہر شعبے میں حلال و حرام کی تمیز ضروری ہے۔ اساتذہ قوم کے نوجوانوں کی ذہنی آبیاری نہ کریں تو یہ منصب سے خیانت ہے۔ جو لوگ دفاتر میں اوقات ِ کار کی پابندی نہیں کرتے، وہ رزق میں آمیزش کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر علاج کے شعبے کو محض معاش کا ذریعہ سمجھ لے تو اب وہ مسیحا نہیں۔ جج کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہ ہو اور وکیل سچ کو جھوٹ کے لبادے میں چھپائے تو یہ اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔

اگر ہر فرد خود کو ضمیر کے آگے جواب دہ سمجھے تو معاشرے میں اچھے عمل کا بیج بو سکتا ہے۔

میرے مرحوم والد صاحب کو رشوت رد کرنے کے نتیجے میں کبھی کبھار سنگین نتائج کی دھمکیاں ملتی تھیں ۔ وہ گھر میں خبر نہ ہونے دیتے، پریشانی ٹلنے کے بعد بتاتے تھے۔

مجھے بچپن میں ایسے خواب بھی نظر آتے تھے جن میں کہا جاتا تھا کہ ابا کے نام کا صدقہ کرو۔

والدہ صدقہ کیا کرتی تھیں۔

والد صاحب فرماتے تھے کہ میں موت کے لئےہر وقت تیار ہوں ، ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں، میں مؤکل کی طرف سے چائے پینا بھی رشوت سمجھتا ہوں اور قانونی مشورہ دینا میرے نزدیک خدمتِ خلق ہے۔

رزق کا تعلق معاش سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہی کہ آدمی حرکت میں رہے۔

ایک موقع پر راہ نما نے فرمایا،

”آدمی اپنی مرضی سے کسی کو پانچ ہزار روپے دیتا ہے اور خوش ہوتا ہے لیکن اگر سو روپے بھی کھو جائیں یا چوری ہو جائیں تو پریشان ہو جاتا ہے کیوں کہ اس میں اُس کی مرضی شامل نہیں تھی۔“

انہوں نے یہ قانون بھی سمجھایا ،

”جس طرح اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح فضول خرچی اور بندوں کے حقوق پورے نہ کرنے سے کٹوتی ہوتی ہے۔ ہر آدمی کے دونوں کاندھوں پر ایک ایک فرشتہ مقرر ہے۔ ایک فرشتہ وہ اعمال لکھتا ہے جو اللہ اور اللہ کے محبوب آخری نبیﷺ کی تعلیم کے خلاف ہیں اور دوسرا فرشتہ وہ اعمال لکھتا ہے جو اللہ اور رسول کریم ﷺ کی تعلیم کے مطابق ہیں۔“

بڑوں کی دیکھا دیکھی آج بھی بچہ سوچتا کہ پیسے ہوں گے تو اپنی مرضی کی چیز خرید کر کھاؤں گا۔ یہ خیال نہیں آتا اللہ کھلاتا ہے۔

میں ایک 10 سالہ بچے سے اس کی سب سے بڑی خواہش پوچھی۔ اس نے کہا ، آنٹی ! میں ہر وقت پیسہ کمانے کے طریقے سوچتا ہوں۔

راہ نما چھوٹے بڑے بچوں کو سورۃ الاخلاص کی تلاوت فرما کر صفتِ صمدیت کی طرف متوجہ کرتے ہیں تاکہ توکل کا نقش غالب آجائے۔

ایک صاحبِ ثروت خاتون بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ کو بستر ِ مرگ پر عرصہ گزر گیا ۔ اس دوران میں خاندان کے کئی صحت مند اور جوان لوگ دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اماں کی حالت جوں کی توں تھی۔ ایک صاحبِ دانا نے تجویز کیا کہ ان  کی جائیداد ، زیورات اور سرمایہ انہیں دکھایا جائے۔ گھر والوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ دیکھ کر کہ میری سب چیزیں موجود ہیں ، اطمینان ہوا اور روح قفسِ عنصری چھوڑ گئی۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

ہر فرد پر دوسرے فرد کے حقوق ہیں۔ فرائض پورے کرنے والے افراد میں استغنا کی صفت غالب آجاتی ہے جب کہ فرائض سے غفلت برتنے سے آدمی زمین کا بوجھ بن جاتا ہے۔


 

Topics