Topics
ہر حال میں اطمینان کے ساتھ راضی رہنا
اور حرص سے بچنا قناعت ہے جو خواہشات کے بھپرے ہوئے دریا کے آگے بند باندھ دیتی
ہے۔ قناعت کی ابتدا و انتہا شکر گزاری ہے جو یقین کو بیدار کر کے ذہن کو اس خیال
پر قائم کر دیتی ہے کہ حالات پہ قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ کی گرفت ہے۔ قرآنِ کریم
میں ارشاد ہے،
”اور یہ کہ اس نے غنی کیا اور قناعت دی۔“
(النجم : ۴۸)
قناعت میں وسعت ہے۔ یہ دستیاب وسائل میں
خوش دلی کے ساتھ زندگی کے امکانات سے استفادہ کرنا سکھاتی ہے، کفایت شعاری، توکل
اور ہر حال میں شاکر رکھتی ہے۔ قناعت کی ضد بخل ہے جس میں وسائل کی فراوانی کے
باوجود ضرورت پر خرچ نہیں کیا جاتا۔
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ
قناعت اور اعتدال کا حسین امتزاج ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ عام حالات کے علاوہ آپ ﷺ نے
غزوات اور معاہدوں میں بھی قناعت کا مظاہرہ فرمایا۔ معاہدہ حدیبیہ کے وقت صلح کی
شرائط میں انتہائی تحمل کی مثال قائم کی جس کے دور رس نتائج ہوئے۔ آپ ﷺ سماجی و
معاشی بائیکاٹ اور جان کو درپیش خطرات میں ثابت قدم رہے اور عظیم فتوحات سے ہمکنار
ہوئے۔ رسولِ کریم ﷺ نے فتح میں بھی اعتدال کی مثال قائم کی اور دنیا کے تمام
انسانوں کو پیغام دیا کہ حالات استغنا، یقین اور جدوجہد میں ثابت قدمی سے سازگار
ہوتے ہیں۔
ذہن اسمائے الٰہی پر غور و فکر میں یکسو
ہوا تو محسوس کیا کہ قناعت کی لہریں اندر میں منتقل ہو رہی ہیں اور روز و شب میں
ٹھہراؤ آ گیا ہے، حالاں کہ شب و روز میں کوئی تبدیلی نہیں تھی، یہ ذہن کی کیفیت
تھی جس کو میں نے اندر باہر غالب محسوس کیا۔ انکشاف ہوا کہ اتنی عمر دنیا میں گزار
کر بھی میں اس دنیا سے واقف نہیں ہوں بلکہ Illusion (وہم) کیفیات کے
آئینے میں گزر رہی ہوں۔ ذہن میں الجھے ہوئے خیالات کا ہجوم ہوتا ہے تو شب و روز
الجھ جاتے ہیں اور جب قناعت سے روشناسی ہوتی ہے تو آدمی سمندر بن جاتا ہے جس میں
ماحول میں موجود چیزوں اور جذبات کے نقوش ٹھہرتے نہیں بلکہ بہتے ہیں۔ سمجھ میں آتا
ہے کہ جب تک ہم اپنی وسعت سے واقف نہیں ہوتے، کسی چیز کو دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے،
سن کر بھی نہیں سنتے اور محسوس کرتے ہوئے بھی محسوس نہیں کرتے کہ جو فرد اپنی وسعت
سے لاعلم ہے وہ کسی کا ادراک کیسے کرے!
فطرت کے مطابق زندگی گزارنے والے کے مزاج
میں فطرت جیسی وسعت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اندر روشنی کے بہاؤ میں خلل واقع نہیں
ہوتا جس کی وجہ سے حواس کی ترتیب، کائنات میں دَور کرنے والی لہروں کے مطابق ہو
جاتی ہے پھر محسوس ہوتا ہے کہ ہر شے ٹھہری ہوئی ہے جب کہ ہر چیز حرکت میں ہے۔ راز
کی بات ہے کہ یہ ٹھہراؤ فطرت سے ہم آہنگی کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔ توکل و قناعت
سے آفاقی روشنی طرزِ فکر میں جذب ہوتی ہے اور بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آنکھیں بند
کر کے سوچیے کہ کیا آپ اپنے حالات سے مطمئن ہیں؟ جواب ہاں میں ہے تو غور کیجیے کہ
مسائل آپ کے ساتھ بھی ہیں پھر بے فکری کیوں ہے اور اطمینان کیسا ہے؟؟
سبب قناعت اور شکر گزاری ہے۔ ان کی وجہ
سے زندگی میں برکت ہے۔ دوسروں کے حالات سے اپنا موازنہ کرنے والا ہمیشہ ناخوش رہتا
ہے اور ناشکری کرتا ہے۔ ہر صفت کسی دوسری صفت سے منسلک ہے۔ قناعت کی دولت صبر کا
انعام ہے۔
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، صبر اور
صلوٰۃ سے مدد لو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ (البقرۃ : ۱۵۳)
صبر قناعت کا ایک نام ہے۔ اس سے واقف نفس
اطمینانِ قلب کے درجے کو پہنچتا ہے۔ علم ہوا کہ اعتدال اور توکل کا راستہ ہی صراطِ
مستقیم ہے اور یہی نفسِ مطمئنہ ہے۔ اسی سے لاشعوری کیفیات غالب آتی ہیں اور روحانی
بالیدگی حاصل ہوتی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
”اے اطمینان پانے والی روح! اپنے
پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔“ (الفجر : ۲۷، ۲۸)
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سنت پر قائم
ہستیاں فطری اوصاف کی تصویر ہیں۔ ایک بار بزرگ استاد کی اہلیہ سے دریافت کیا کہ
استادِ محترم کو کھانے میں کیا پسند ہے؟
انہوں نے فرمایا، ”ان کے مزاج میں حد
درجہ قناعت ہے۔ ہمیشہ راضی برضا رہتے ہیں۔“
مجھے یاد ہے کہ بزرگ راہ نما نے خانقاہ
کے باورچی خانے کے انتظامات کفایت شعاری سے چلانے کے لیے ہدایت فرمائی کہ راشن دو
حصوں میں تقسیم کر لیا کرو۔ ایک حصہ روزمرہ استعمال کے لیے اور دوسرا حصہ اسٹور
میں رکھ دیا کرو۔ پہلا حصہ ختم ہونے کو ہو تو بقدرِ ضرورت اسٹور مین سے درکار اشیا
نکال کر اس میں شامل کرو۔ ہدایت پر عمل کرنے سے اشیائے ضرورت میں کبھی کمی نہیں
ہوئی۔
ایک صاحب نے بتایا کہ راہ نما نے مجھے
اہم ذمہ داری سونپی جس کے لیے بظاہر وسائل نہیں تھے۔ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ
وسائل نہیں ہیں تو کام کیسے ہوگا۔
انہوں نے پوچھا، ”تمہارے ذہن میں اس کام
کی اہمیت ہے یا نہیں؟“
میں نے عرض کیا، اہمیت ہے۔
فرمایا، ”اس کام کو کرنا ہے یا نہیں؟“
عرض کیا، جی کرنا ہے۔
انہوں نے فرمایا، ”اگر کام کرنا ہے تو
کرنا ہے۔ وسائل کو مت دیکھو۔ جو دستیاب وسائل ہیں، ان کے ساتھ کم سے کم خرچ میں
کام مکمل کرنے کی کوشش کرو۔ جب تک وسائل ہیں کام کرتے رہو، وسائل نہیں ہوں گے تو
بیٹھ جانا۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں تھا اور سب کچھ ہو گیا۔“
الفاظ ذہن میں نقش ہو گئے۔ اکثر تنہائی
میں ان کے الفاظ دہراتے ہوئے یقین حاصل ہوا کہ وسائل میں کشادگی آئی ہے۔ دل مطمئن
ہو گیا اور اللہ کا نام لے کر پراجیکٹ کا آغاز کر دیا۔ نہ جانے کہاں کہاں سے وسائل
مہیا ہوئے اور کام احسن طریقے سے تکمیل کو پہنچا۔
ایک بہن نے بتایا کہ میرے سسرال کا رہن
سہن میکے سے یکسر مختلف تھا۔ شادی کے بعد ذہنی سکون نہیں ملا۔ ماں باپ بیٹی کو
آباد دیکھنا چاہتے ہیں لیکن حالات اس نہج پر پہنچے کہ والدہ نے خلع لینے کا مشورہ
دیا۔ شوہر اچھے تھے، میں نے رشتہ نبھانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ شادی ایک بار
ہوتی ہے اور میری شادی ہو چکی ہے۔
ایک روز سسرال والوں نے ہم میاں بیوی کو
بچوں سمیت گھر بدر کر دیا۔ ہمیں بڑے گھر سے بہت چھوٹے گھر منتقل ہونا پڑا لیکن ہم
نے ہمت نہیں ہاری۔ حوصلے سے کام لیا۔ شوہر صبح شام رزقِ حلال میں مصروف رہتے۔ صبر
کے ساتھ روکھی سوکھی کھا کر گزارا کیا اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے مشکل وقت گزر
گیا۔ آج شہر کے مرکز میں دو کنال سے بڑا ذاتی گھر ہے، اللہ کا شکر ہے کہ بچوں کے
فرائض سے سبکدوش ہو چکی ہوں۔ ماشاء اللہ، سارے بچے صاحبِ زکوٰۃ ہیں اور اپنے اپنے
گھروں میں خوش و خرم ہیں۔
بہن کہتی ہیں کہ نشیب و فراز کے اس سفر
میں راہ نما نے سکھایا ہے کہ جب آدمی مصیبت میں مبتلا ہو اور زندگی ادبار بن جائے
تو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر قناعت کے ساتھ ثابت قدم رہنے سے بنجر زمین زرخیز ہوتی
ہے۔
دو دن سے محسوس ہو رہا تھا کہ پیشانی میں
نورانی لہریں جذب ہو رہی ہیں۔ الحمد للہ، وقت کی پابندی کے ساتھ اسباق پڑھتی ہوں
اور درودِ شریف کا ورد کرتی ہوں۔
ایک روز قسمت نے یاوری کی اور مراقبہ میں
نورانی سراپا خاتون کا دیدار ہوا۔ معلوم ہوا کہ خاتونِ جنت بی بی فاطمہؓ ہیں۔ ان
کی نورانی لہریں فکر و نظر کو سیراب کر رہی تھیں۔ سر ادب سے جھک گیا۔۔ دیر تک خمار
رہا۔
مراقبہ کے بعد حضرت فاطمہ الزہراؑ کی
مبارک حیات کا بغور مطالعہ کیا جس میں صبر و قناعت، ایثار اور محبت کی عظیم مثالیں
ہیں۔ مثالی بیٹی اور بہن، عظیم ماں اور بیوی کی حیثیت سے وہ ہر فرد کے لیے رول
ماڈل ہیں۔ رسولِ کریم ﷺ نے انہیں خاتونِ جنت فرمایا ہے۔
محسوس کیا کہ اعلیٰ اوصاف پر تفکر اور ان
کو اختیار کرنے سے ہمارا تعلق نیک صفات کی حامل ہستیوں سے استوار ہوتا ہے یعنی ان
کی طرزِ فکر منتقل ہوتی ہے۔