Topics
ہم خیال اور مظاہرے کے تانے بانے کے
درمیان زندگی گزارتے ہیں ۔ قدرت نے ہر فرد کو خیال کا بے بہا فیضان عطا کیا ہے ۔
اکثر لوگ سوچے سمجھے بغیر اس کا اسراف کرتے ہیں اور دھیان نہیں دیتے کہ مکافات ِ
عمل میں خیال کے اسراف کا بھی حساب ہے۔
خیال جب تصور کا لباس اوڑھتا ہے تو
آدمی اپنے اندر کے حزن و ملال یا مسرت و شادمانی کا رنگ خیال کی تصویروں میں بھر
کر ان میں کھو جاتا ہے اور ان کے زیر ِ اثر زندگی گزارتا ہے حالاں کہ خیال جس مقام
سے آیا ہے ۔۔ وہاں پشیمانی یا احساسِ زیاں نہیں ہے، وہ خوشی کا مقام ہے ۔ رنج کا
تعلق مادی دنیا سے ہے جس میں داخل ہونے کا راستہ نافرمانی سے کھلتا ہے جب کہ خوشی
کا تعلق آسمانی دنیا سے ہے۔
خوشی کی مقداروں تک رسائی ایسے تصور کے
ذریعے ممکن ہے جس میں ناخوشی نہ ہو۔ سمندر میں سے اصلی موتی نکال لانا اس وقت سہل
ہے جب فکر ، نظریہ اور جسم ایک ہو کر اندر کے سمندر میں اتریں۔
دسمبر 2003 کی ایک شب کھانے کے بعد راہ
نما نے حاضر شاگردوں سے فرمایا،
”مادی شعور اتنا محدود ہے کہ اردو کے
38 حروف تہجی اور انگریزی کے 26 حروف سے باہر نہیں سوچتا۔ انہی حروف سے الفاظ اور
جملے بناتا اور گفتگو کرتا ہے۔ دنیا میں رائج علوم اور ترقی کا دارو مدار ان
حروف پر ہے۔ اتنے محدود شعور سے ماورائی علوم نہیں سیکھے جا سکتے۔ دورِ حاضر
کی مصروفیات ، ہمارے معاشی معاملات اور
صحت ایسی ہے کہ پہلے وقتوں میں لوگ جو مجاہدے اور ریاضتیں کیا کرتے تھے ، موجودہ
طرزِ زندگی کے ساتھ ہم وہ نہیں کر سکتے۔“
پھر انہوں نے فرداً فرداً سب سے پوچھا
کہ آپ اللہ کے لئے کتنا وقت نکالتے ہیں ؟
دنیاوی علوم کے حصول کے لئے جتنا وقت دیا جاتا ہے، آپ اتنا وقت دیتے ہیں؟
کسی کا جواب تسلی بخش نہیں تھا۔
فرمایا،
” کیا اللہ کے علوم کی آپ کے نزدیک یہ
قدر ہے کہ آپ نے ان کی اہمیت دنیاوی علوم سے بھی کم کر دی؟ یہ کہاں کا انصاف ہے ،
آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو روحانیت بھی مل جائے اور ریاضت بھی نہ کرنی پڑے۔“
ہم سب خاموشی سے سن رہے تھے ۔ ضمیر کی
ملامت چہروں سے عیاں تھی ۔ راہ نما نے فرمایا ،
”میں نے اس پر بہت سوچا کہ روحانیت
کس طرح سیکھی جائے ۔ بہت سوچا تو اس کا
واحد طریقہ یہی سمجھ میں آیا کہ اگر کوئی تصورِ شیخ میں ڈوب جائے تو وہ روحانیت
سیکھ سکتا ہے۔ استاد کا تصور خود پر غالب کر لے ۔ جب شاگرد کو معلوم ہوتا ہے کہ
راہ نما اندر میں دیکھتا ہے تو شاگرد بھی ان کی راہ نمائی میں اندر دیکھنے کی کوشش
کرتا ہے ۔ اس طرح استاد کی صلاحیت شاگرد کی صلاحیت بن جاتی ہے ۔“
تصور میں ڈوبنے سے مراد یہ ہے کہ توجہ
ارادی اور غیر ارادی طور پر ہدف سے نہ ہٹے۔ اس کی مثال عام زندگی میں ملتی ہے ۔
محبت وہ جذبہ ہے کہ فرد ارادی اور غیر ارادی طور پر اس کے اختیار میں رہنا چاہتا
ہے اور چاہے بھی تو محبوب کے تصور سے آزاد نہیں ہوتا ۔ تصور عمارت ہے جس پر محبت
استوار ہوتی ہے۔ جب سالک آگہی کے سفر پر نکلتا ہے اور کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس
کی بنیاد تصورِ شیخ ہے۔ عمارت بنیاد کے بغیر کھڑی نہیں رہتی ، اسی طرح تصورِ شیخ
سے سالک کی طرزِ فکر بنتی ہے۔
قرب کے بغیر عشق نا ممکن ہے اور بہترین
قرب ذہن و دل کا ہے۔ تربیت جب فنائیت کے مرتبے پر فائز شیخ (مرشد) کے محفوظ ہاتھوں
میں ہوتی ہے تو سالک کے اندر بے نیازی کے نقوش مستحکم ہوتے ہیں اور وہ سود و زیاں
کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔
جس طرح میڈیکل چیک اپ سے طبی نقائص
ظاہر ہوتے ہیں ، اسی طرح تصور شیخ ، سالک کے اخلاقی نقائص کو ظاہر کر دیتا ہے ۔
راست طرز ِ فکر کے حامل شخص کےتصور سے شخصی کمزوریوں کی نشاندہی ہوتی ہے اور سالک
کی کردار سازی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
جب راہ نما کا تصور قائم ہوتا ہے اور
وہ محبوب بن جاتا ہے پھر برائی کی جانب رغبت نہیں ہوتی۔ فنا فی الشیخ کے بعد شیخ
سالک کو فنا فی رسول ﷺ اور فنا فی اللہ کے راستے پر لے جاتا ہے۔
فرض کریں آپ ایسے کمرے میں موجود ہیں
جس کی چھت شیشے کی ہے ۔ شیشے پر خشک پتّے ، گرد و غبار اور خراشیں ہیں۔ سورج کی
روشنی اس پر پڑتی ہے اور آپ سر اٹھا کر چھت کو دیکھتے ہیں تو گرد و غبار نظر آتا
ہے۔ اسی طرح سالک یکسوئی کے ساتھ مراقب ہوتا ہے تو سب سے پہلے ذہن کی اسکرین پر وہ
نقوش عکس ریز ہوتے ہیں جن کے بارے میں وہ دن بھر غلطاں و پیچاں رہتا ہے ۔ یہ کیفیت
مسلسل ہو تو طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مراقبہ کی کیفیات مفقود رہتی ہیں ۔ کیفیت
کے حصول کے لئے راہ نما نصیحت فرماتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ خاموش رہیں۔ غیر ضروری مشاغل کو محدود کر کے ذہن کو تفکر کی طرف
راغب کریں اور یا حی یا قیوم کا ورد کریں تاکہ ذہن کی اسکرین مجلا رہے اور لاشعور
سے نزول ہونے والی روشنی کو آپ دیکھ سکیں اور محفوظ × (خوش ، مسرور ، شاداں)ہوں۔
میں نے مختلف عمر کے لوگوں سے جو
باقاعدگی سے مراقبہ کرتے ہیں ، پوچھا کہ انہوں نے اپنے اندر کیا تبدیلی محسوس کی؟
جوابات یہ ہیں،
۱۔ انتقام کا جذبہ ختم ہو گیا۔
۲۔ دنیا کی اہمیت ثانوی ہو گئی ہے۔
۳۔ منفی عمل سے کراہت ہوتی ہے۔
۴۔ ایک صاحب نے کہا کہ بیعت کے وقت
استاد کا پرت سالک سے جڑ جاتا ہے ۔ اس کنکشن سے طرزِ فکر بدلتی ہے اور ایسے خیالات
آتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے ۔ راہ نمائی آئی ہے۔
۵۔ ایک خاتون نے بتایا کہ پہلے میں
مغرور تھی اب میرے اندر عاجزی آگئی ہے۔
۶۔ چھٹی حس تیز ہو گئی ہے۔
۷۔ ناموافق حالات کو خوش دلی سے قبول
کرنے کی صلاحیت کا اظہار ہوا ہے۔
۸۔ اندر میں بے پناہ توانائی محسوس ہوتی ہے۔
۹۔ کسی نے بتایا کہ مزاج میں ٹھہراؤ
پیدا ہوا اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
۱۰ ۔ شکر گزاری مزاج کا حصہ بن گئی ہے۔
حسد ، لالچ اور غیبت سے ذہن ہٹ گیا ہے۔
مراقبہ کے دوران ذہن کھلا تو دیکھا کہ
راہ نما مٹی گوندھ رہے ہیں ۔ مٹی میں چمک دار حروف داخل ہو رہے ہیں ۔ دودھیا روشنی
مٹی میں پارے کی طرح ستاروں کی مانند نظر آئی پھر اس مٹی کو راہ نما نے ایک خاص
ترتیب دی۔ اس کے گلے میں سیاہی مائل سرخ ربن باندھا اور پلکوں پر اسی رنگ کا
مسکارا لگایا ۔ شعور مزید نہ دیکھ سکا۔
ادراک ہوا کہ جس جسم یا شعور کو دنیا
کی چپک ہوتی ہے ، وہ روحانی دنیا سے واقف نہیں ہوتا۔ جب حواس پر روحانی شعور (
لاشعور ) غالب ہوتا ہے تو مادی دنیا بے کشش ہو جاتی ہے۔
ایک بار راہ نما نے فرمایا،
”تصور ِ شیخ میں اتنا یکسو رہیں کہ
منفی قوت کو اندر داخل ہونے کی اسپیس نہ ملے۔“
یہ بھی فرمایا ،
”
اللہ تعالیٰ نے دل کے دیکھنے کی تصدیق کی ہے ۔ جب حواس میں نورانیت غالب
ہوتی ہے تو باطنی تحریکات بڑھ جاتی ہیں اور بندہ اس جماعت میں شامل ہو جاتا ہے جس
نے اللہ کو پا لیا۔“
اللہ کی راہ پر قائم رہنے والی طرز فکر
کو بقا ہے۔
جب سے دنیا قائم ہے ، لاشمار لوگ دنیا
میں آئے اور چلے گئے۔ بیشتر فنا ہو کر گردو غبار بن گئے مگر جن لوگوں نے فرماں
برداری کی اور مخلوق کو اللہ کی معرفت کا پیغام دیا۔ ان کا نام و مقام ہمیشہ کے
لئے محترم ہو گیا۔
۱۰ اپریل ۲۰۰۵ء اتوار کا دن تھا۔ مرکزی
خانقاہ میں راہ نما نے ایک خطاب میں فرمایا،
”شعور کی طاقت کا دارو مدار زمان (Time) پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹائم
میں کیسے داخل ہوا جائے کہ شعور کی کمزوری دور ہو اور وہ طاقت حاصل کرے؟ ایک ہی
طریقہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہمہ وقت مرشد کے تصور کو خود پہ غالب رکھا جائے ۔ اسی
صورت میں ٹائم میں داخل ہوا جا سکتا ہے ۔ ٹائم میں بنیادی فیکٹر speed ہے۔ وقت میں داخل ہونا آسان کام نہیں ، یہ
ایسا جیسے چکی جس میں گیہوں کے دانے ڈالے جاتے ہیں ، وہ انہیں پیس کر آٹا بنا دیتی
ہے ۔ اب اس آٹے سے چاہیں تو دلیہ بنا لیں، چاہیں تو روٹی پکا لیں ۔ پیسنے سے پہلے
گیہوں کے دانے گیہوں کے دانے ہی رہیں گے، انہیں بوئیں گے تو پھر گیہوں سے گیہوں کے
دانے ہی نکلیں گے لیکن پسنے کے بعد گیہوں کے دانے ناصرف خود نئی تخلیق بن جاتے ہیں
بلکہ ان سے بے شمار نئی تخلیقات وجود میں آتی ہیں۔مثلاً آٹا ، دلیہ ، بسکٹ وغیرہ
اور یہی آٹا بہت سی چیزوں میں ملاوٹ کے کام آ سکتا ہے۔ ملاوٹ کے لئے استعمال ہونے
کے بعد بھی اس کی انفرادیت بطور آٹا قائم رہتی ہے ، اسی وجہ سے وہ چیز ملاوٹ والی
چیز کہلائے گی۔ مطلب یہ ہوا کہ آٹے کی انفرادیت قائم ہے۔ چکّی کی speed بہت ہوتی ہے۔ جب چکّی میں جائیں گے تو speed سے سمجھوتا کرنا ہوگا، خواہ چھلکے اتر جائیں
، گوشت پوست کٹ جائے ، چکّی کے چکر سے پھر فرار نہیں۔“
مراقبہ میں وقت کی پابندی بہت اہم ہے ۔
اسکول میں وقت گزرنے کے بعد کلاس میں داخل ہوں تو کلاس ختم ہو جاتی ہے اور سبق رہ
جاتا ہے۔ اسی طرح مراقبہ ایک روحانی کلاس ہے۔ استاد چار بجے کلاس میں آپ کا انتظار
کرتا ہے اور آپ وقت پہ حاضر نہ ہوں تو یہ بے ادبی اور علم کی ناقدری ہے۔
ایک طالب علم نے بتایا کہ خواب میں راہ
نما سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ مراقبہ کرتے ہیں؟
عرض کیا ، جی حضور! کرتا ہوں۔
پوچھا کتنے بجے ؟
میں نے کہا رات گیارہ بجے۔
فرمایا ، اچھا مجھ سے گیارہ بجے ملنے آنا
یہ بھی فرمایا کہ یا حی یا قیوم پڑھا کرو۔
مراقبہ میں شاگرد کی میلوں دور موجود
استاد سے ملاقات ہوتی ہے۔
ایک بہن نے بتایا کہ میں نے راہ نما سے
عرض کیا ، آپ سے ملاقات کے لئے بہت دعا کی ۔
وہ مسکرائے اور فرمایا،
” آپ مجھ سے گھر بیٹھے مراقبہ میں ملاقات
کر سکتی ہیں ۔ جب شاگرد مراقبہ میں ناغہ نہیں کرتا تو استاد پھونک مارتے ہیں۔ یہ
پھونک دراصل ایک کرنٹ ہے جس سے شاگرد کی استاد سے ملاقات ہو جاتی ہے اور جب مراقبہ
میں ترقی ہوتی ہے تو وہ شعور و لاشعور میں کسی بھی وقت جب چاہے ، اپنے استاد سے
ملاقات کر سکتا ہے۔“