Topics

روحانیت کی 23 کلاسیں ۔اکتوبر۔۲۰۲۲

                                        

مذہب ۔۔خالقِ واحد اللہ سے ربط کی تعلیم دیتا ہے اور ربط فرماں برداری سے قائم ہوتا ہے۔ فرماں برداری ان تمام ظاہری و باطنی احکام کی تعمیل ہے جن کا حکم آسمانی کتب اور آخری الہامی کتاب قرآن کریم میں دیا گیا ہے۔

ایک مرتبہ چہل قدمی کے دوران راہ نما نے فرمایا ، صلوٰۃ کی پابندی کرنی چاہیے اور وقت پر ادا کرنا افضل ہے۔ کیا وہاں لوگ قائم کرتے ہیں؟

وہاں سے ان کی مراد وہ شہر تھا جہاں سے ہم آئے تھے اور لوگ سے ان کا اشارہ شاگردوں کی طرف تھا ۔ پوچھنے کا مقصد اصلاح تھا۔

عرض کیا ، کچھ لوگ نماز کی پابندی کرتے ہیں جب کہ بیش تر لاپروائی برتتے ہیں۔

راہ نما نے فرمایا، لاپروائی کیوں ہے؟ کیا نماز کی ادائیگی ان پر معاف ہے؟ نماز روح سے واقف ہونے کا ذریعہ ہے ۔ اسی سے مومن کی معراج ہے۔ سلسلے کے قواعد و ضوابط کی شق ہے کہ نماز (صلوٰۃ) میں اللہ سے ربط قائم کریں۔ جب دیکھتا ہوں کہ لوگ اسباق نہیں پڑھتے  ، نماز میں کوتاہی کرتے ہیں  اور مراقبہ کا ذوق نہیں ہے تو یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ۔۔ بیعت کا مقصد منزل رسیدہ انسان کی راہ نمائی میں معرفت الٰہی حاصل کرنا ہے۔

ہم خاموش رہے مگر یہ جان کر تکلیف پہنچی کہ اللہ سے محبت کرنے والا ایک بندہ اپنے دن رات ہمارے لئے وقف کر کے ہمیں اللہ سے قریب کرنا چاہتا ہے لیکن ہم غافل ہیں۔

فرمایا ، ایک فرد فوج میں شمولیت کے لئے اکیڈمی میں داخلہ لیتا ہے لیکن وہ drill (مشق) میں حاضر نہیں ہوتا ۔ کیا وہ فوجی کہلائے گا؟

سب نے نفی میں سر ہلایا۔

انہوں نے فرمایا ، لوگوں نے روحانی اسکول کا نام خود پہ چسپاں کر رکھا ہے مگر پریکٹیکل نہیں کرتے پھر شکوہ کرتے ہیں کہ آنکھ نہیں کھلی ۔

کوشش ہوتی ہے کہ راہ نما کوئی بات سمجھائیں تو لکھ لوں اور بعد میں وقتاً وقتاً دہراتی رہوں۔ دہرانے سے ان کی کہی باتوں کا نقش گہرا ہوتا ہے اورذہن اسی طرز پر سوچنے سمجھنے لگتا ہے۔ ایک روز شاگرددوں سے فرمایا،

”جس طرح rank کی مناسبت سے فوجی کو پھول لگتے ہیں، اسی طرح سلسلے میں کوئی ایک پھول والا اور کوئی دو پھول والا ہوتا ہے۔“

ہر شاگرد کو اندر باہر اور آس پاس زندگی میں ان حقائق کو تلاش کرنا چاہیے جس کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ اس سے فکر کا دائرہ پھیلتا ہے اور شعور لاشعوری طرزوں سے آشنا ہوتا ہے۔

ایک صبح بھینسوں کا ریوڑ دیکھا جو مستانی چال چلتے ہوئے چرواہے کے آگے آگے جا رہی تھیں۔ فکر نے کہا کہ چرواہا ان بھینسوں کا نہ صرف رکھوالا ہے بلکہ ان کا استاد بھی ہے ۔ وہ گائیں ، بھینسیں اور بکریاں جن کے ساتھ چرواہا ہوتا ہے، ان کا طرزِ زندگی اپنی نوع کے ان ساتھیوں سے مختلف ہوتا ہے جو چرواہے کے بغیر رہتے ہیں ۔ چرواہا سیر پر لے جاتا ہے ، کھانا کھلاتا ہے ، نہر کنارے لے جا کر پانی پلاتا ہے، مالش کرتا ہے ، نہلاتا ہے ، گرمی سردی اور صحت کا خیال رکھتا ہے ، مختصر یہ کہ مویشیوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

چرواہے کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والے جانور شتر بے مہار نہیں ہوتے، وہ حکم ماننے کے آداب سے واقف ہوتے ہیں۔ چرواہا سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے اور لڑنے نہیں دیتا۔ ایک آواز پر سارے جانور اس کی جانب آجاتے ہیں۔ چرواہے کے بغیر رہنے والے جانور کو جنگلی یا درندہ کہا جاتا ہے لیکن جب ان جنگلی بھینسوں ، بھیڑوں ، بکریوں اور کتوں کو چرواہے کی نگرانی میں دیا جائے تو کیسے تابع دار ہوجاتے ہیں۔

جس طرح مخلوق کے دنیا میں پیدا ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے والدین کا سسٹم بنایا ہے، اسی طرح آدمی کو انسانیت کی معراج تک پہنچنے کے لئے ایسے استاد کی ضرورت ہے جو آدابِ منزل سے واقف اور منزل رسیدہ ہو۔

خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ نے فرمایا،

”کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یوں ہی  مہمل ×  (بے کار ، ترک کیا ہوا) چھوڑ دیا جائے گا؟“   

(القیٰمتہ   : ۳۶)

محض بیعت ہونا اہم نہیں ، بیعت ہونے کے بعد اس پر قائم رہنا اہم ہے۔ اندر میں سے آواز آئی کہ بیعت کے قوانین کو سمجھنا ہے تو ”بیعتِ رضوان“ پر غور کرو۔

کتاب ” خاتم النبیین محمد رسول اللہﷺ ، جلد اوّل “ میں بیعت رضوان کا باب کھولا ۔۔ ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کی تو فکر نے محدود سوچ سے نکل کر پرواز کی اور دورانِ پرواز بتایا کہ بیعت کا پہلا اور آخری قانون وفا داری ہے۔

وفا داری کا مطلب کسی کا ہو جانا ہے، اس کے معاملے میں شک سے دور رہنا ہے ، بات سمجھ میں آئے نہ آئے ، خلوص ِ دل سے تعمیل کرنی ہے ۔ بیعت دراصل استاد اور شاگرد کے درمیان ربط ہے ۔ ایک نشست میں فرمایا،

”ایک شاگرد ، استاد کے قریب رہتا ہے ، ان کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، کھانا کھاتا ہے لیکن ذہنی طور پر استاد کی طرف متوجہ نہیں رہتا، وہ قریب رہ کر بھی دور ہے۔ ایک شاگرد جو بظاہر دور ہے لیکن استاد کے کہے پر عمل کرتا ہے ، اسباق کی پابندی کرتا ہے اور ذہنی طور پر استاد کی طرف متوجہ رہتا ہے ، وہ ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود قریب ہے۔“

روحانیت کا پہلا سبق یقین ہے ۔ وسوسے اور شک سے آزاد ذہن۔ یقین کے مراتب کے حصول اور مستقل مزاجی کے لئے باطنی سائنس میں رنگ و روشنی سے بھی مدد لی جاتی ہے اور نیلی روشنی کا مراقبہ تجویز کیا جاتا ہے۔

ایک خاتون بہت پریشان تھیں ۔ انہوں نے ہدایت کے مطابق نیلی روشنی کا مراقبہ کیا جس سے ذہن میں پریشانی کی لہریں منتشر ہو گئیں اور یقین کی قوت یک جان ہوئی ۔ نیلی روشنی کے غلبے سے چہرہ پھول جیسا ہو گیا۔

باطنی علوم ذوق سے حاصل ہوتے ہیں ۔ ذہنی رجحانات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ فرد کیا کرنا چاہتا ہے ۔ نیت ، مشاغل اور ذوق کیسا ہے، وہ کشف و کرامات کا طالب ہے، خواہشات دنیا پرستی سے وابستہ ہیں یا باطنی اسکول میں داخلے کا مقصد اللہ کا عرفان ہے؟

ایک صاحب کو دیکھا جو راہ نما کے پاس بار بار بیعت کی غرض سے حاضر ِ خدمت ہوتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جہاں بیعت ہوں ، وہاں تعلیم کا نظام نہیں ہے ۔ راہ نما نے ان سے فرمایا کہ قانون یہ ہے ۔ ایک شخص دو جگہ بیعت نہیں ہو سکتا ۔ آپ قرآن کریم میں غورو فکر کریں ، سیرتِ طیبہ ﷺ کا مطالعہ کریں ، اللہ کا وعدہ ہے کہ جو اللہ کے لئے جدو جہد کرتا ہے ، اللہ اس کے لئے اپنے راستے کھول دیتا ہے۔

راہ نما کی ہر بات میں راز یا قانون ہے ، غیب کی دنیا سے واقف ہونے کا اشارہ ہے۔ فرمایا،

”ہمارے پاس لوگ دنیا مانگنے آتے ہیں ۔ اللہ کے لئے کوئی نہیں آتا۔“

بات سن کر دل کو دھچکا لگا ۔ حاضرین کی طرح میں نے بھی اندر میں دیکھا۔ ہم بیعت فارم میں سلسلے میں داخل ہونے کا مقصد ”اللہ کا عرفان“ لکھتے ہیں مگر بیعت ہونے کے بعد اسباق نہیں پڑھتے۔ آخر ہم کس لیے بار بار آتے ہیں؟

بچہ پہلی کلاس کا سبق نہ پڑھے ، دوسری کلاس میں نہیں جا سکتا ۔ روحانیت باقاعدہ پورا کورس ہے۔ اس کی کلاسیں ہیں۔ پہلی کلاس میں یہ بات شاگرد کو بتائی جاتی ہے کہ کائنات بنانے والی ہستی اللہ ہے ۔ کھانا پینا ، ہوا ، گیس اور تمام اشیاء اللہ نے دنیا کے لئے بنائی ہے۔

کائناتی پروگرام دیکھ کر جس طرح لوگوں نے اکتسابی علوم کلاسوں میں تقسیم کیا۔ روحانیت بھی کلاسوں میں تقسیم ہے۔ روحانیت کی 23 کلاسیں ہیں ۔ نجبا ، نقبا ، ابرار ، اخیار ، اوتاد ، مخدوم شاہ ولایت ، صاحب ِ خدمت ، اہلِ نظامت ، اہلِ تفصیل ، غوث ، مدار تفہیم ، قطب ، قطب ِ عالم ، قطب تفہیم ، قطب ِ تعلیم ، قطب ِ مدار ، قطب الاقطاب ، کوچک ابدال ، ابدال ِ حق ، ممثلین ، صدر الصدور سب ان کلاسوں کے نام ہیں۔

کتنی ہی عمدہ کیفیات اور اعلیٰ احساسات ہوں ، استاد کے بغیر وہ فراست بیدار نہیں ہوتی جو باطنی دنیا کو دیکھنے کے لیے درکار ہے۔ استاد شاگرد کے لڑکھڑاتے قدموں کو ہزار مرتبہ اٹھنا اور چلنا سکھاتا ہے اور اٹھنے والے کو گرنے کی تکلیف سے بھی گزارتا ہے تا کہ اس کے اندر میں استقامت پیدا ہو جائے۔

میں اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگتی تھی کہ اپنے نیک بندے سے ملا دے جو تیرا راستہ بتائے۔ یقین تھا کہ دعا قبول ہوگی۔

پہلے حقیقت سے واقفیت کا ذوق پیدا ہوا ، ذوق نے تلاش پر مائل کیا اور تلاش سے اللہ نے نیک بندے سے ملا دیا۔

 

 


Topics