Topics

روحانی رابطہ ۔فروری۔۲۰۲۳

 

محبت کرنے والے کی کائنات اس کا محبوب ہے۔ ہجر اور وصل زندگی کی حالتیں ہیں جب کہ جدائی میں انتظار بھی وصل ہے۔ محبوب کے بغیر دونوں جہاں خس و خاشاک ہیں ۔ ایک موت یہ ہے کہ ذہن دوسرے عالم میں منتقل ہو لیکن قلب و جاں محبوب میں فنا ہو جائے تو اسے کیا کہیں گے؟ محبوب اس نگاہِ بیدار سے مخفی نہیں رہتا جس کا بند کھل ہو نا یکساں ہے۔ اگر یہ کیفیت حاصل ہو جائے تو محبت کو دوام ہے۔

نورِ محمد ﷺ جو در حقیقت نورِ محبت ہے ، وہ چھپا ہوا خزانہ ہے جس سے آگاہی کے لئے عدم سے وجود کا ظہور ہوا اور محبت کے اس راستے پر پوری کائنات رواں ہے۔ یہی وہ راستہ ہے ، ہر روحانی استاداپنے شاگرد کو جس کی تعلیم دیتا ہے۔

تمام مذاہب نے خالقِ کائنات اللہ کے ساتھ ربط کو اہمیت دی ہے۔ قرآن کریم میں رب سے ذہنی و قلبی ربط کا نظام ”صلوٰۃ “ ہے۔

”صلوٰۃ قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ تم اپنی عاقبت کے لئے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے، اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے۔ جو کچھ تم کرتے ہو ، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے۔“      (البقرۃ  ؛ ۱۱۰)

ہر شے خیال کی صورت میں اپنا اظہار  کرتی ہے۔ خیال کے تار ہلتے ہیں تو ذہن ارتعاش سے ہم آہنگ ہو کر تار میں مخفی پیغام پڑھتا ہے۔ پہلے آواز آتی ہے پھر تصویر نظر آتی ہے لہذا اندر باہر دیکھنے کے لئے سماعت کا قائم ہونا ، معین مقداروں کا وصف ہے۔

آواز رابطہ ہے جو فاصلوں کوسمیٹ لیتی ہے۔ روحانی رابطہ ریاضی کی طرح ہے، مشق کرتے رہو ، کھاتہ ٹھیک ہوتا جاتا ہے۔ خیال کو درست طرزوں میں قبول کرنا روحانی رابطے کی اولین صورت ہے ۔ مشق ہو جائے تو دل کا آئینہ شفاف ہوتا ہے جس میں ہر خیال روشن ہو جاتا ہے۔

اھدناالصراط المستقیم

جب رابطے کے تاروں میں ارتعاش ہوتا ہے تو جس لہر نے اس ارتعاش کو قبول کیا ، وہ حکم کی تکمیل میں معاون بن جاتی ہے۔ خیال آتے ہی مظاہرہ ہونے کا مطلب ہے کہ ربط کی لہروں نے خیال کی فریکوئنسی کو قبول کیا ہے۔

کوئی فرد الٰہی طرز فکر کی روشنی میں مخلوق کی فلاح کا ارادہ کرتا ہے تو زمین پر بڑے بڑے مظاہرے عمل میں آتے ہیں اور تعاون کے لئے خیر کا میکانزم متحرک ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب منفی قوتیں ایسے شخص کے خلاف حرکت میں آتی ہیں اور رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں لیکن قانونِ قدرت سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے منفی قوتوں کا ہر عمل عارضی ہے۔

روحانی رابطے کے لئے یکسوئی کی مشقوں سے قوتِ ارادی اور رفتار میں اضافہ ہوتا ہے ۔ غیر  جانب دار (نیوٹرل) طرز فکر کا حامل فرد اطلاع کو من وعن قبول کر کے ردِّ عمل سے آزاد ہو جاتا ہے جس سے اندر میں کشش اور شفا کی لہریں ذخیرہ ہوتی ہیں اور نگاہ کیمیا بن جاتی ہیں۔

ایک چلہ 'محبت؛ ہے جس میں تصورِ شیخ کے ساتھ ساتھ 40 دن تک غصہ سے دور رہنے کی مشق کی جاتی ہے اور اندر میں خلا محبت کی لہروں سے پُر ہوتا ہے ، کشش کی طاقتور لہریں مجتمع ہوتی ہیں جسے فضا میں اڑتا پرندہ بھی محسوس کرتا ہے اور پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے۔

ایک بہن نے بتایا کہ انہیں اہلِ خانہ کے ساتھ ہنگامی طور پر دوسرے شہر جانا پڑا جہاں راہ نما مقیم تھے مگر ملاقات کی کوئی صورت نہ تھی۔ بہن کا ہوٹل میں قیام تھا۔

وہ کھڑکی کے پاس کھڑی دل ہی دل میں رابطہ کر کے درخواست کر رہی تھیں کہ آپ اسی شہر میں ہیں ، ملاقات کے لئے بلا لیجئے۔

اگلے روز وہ اہلِ خانہ کے ہمراہ خانقاہ گئیں تو قدرت کا نظام دیکھیئے کہ راہ نما بھی اسی وقت خانقاہ میں داخل ہو رہے تھے۔

خاتون نے عرض کیا ، دل کی بات کہنے کو جی چاہتا ہے لیکن جھجک پردہ بن جاتی ہے۔

انہوں نے فرمایا ،

”آپ کو کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کی بات کہے بغیر مجھ تک پہنچتی ہے۔“

ہر سعید شاگرد چاہتا ہے کہ استاد سے ظاہری رابطے کے علاوہ بھی حضوری نصیب ہو۔ ربط کی پہلی شرط استاد کی طرز فکر کا حصول ہے۔ جب شاگرد ظاہری اور باطنی پاکیزگی کے ساتھ استاد کی طرز ِ فکر کو جو اللہ اور خاتم النبیین حضور  پاک ﷺ کی اتباع سکھاتی ہے ، اپنے اوپر غالب کر لیتا ہے تو ربط قائم ہوتا ہے اور وہ ترقی کا زینہ طے کر کے حضوری میں داخل ہو جاتا ہے۔

ربط ہمیشہ مستحکم ہوتا ہے ۔ اگر اس میں تعطل ، کمزوری اور شک ہے تو یہ ربط نہیں ۔ شاگرد جیسے جیسے کثافت آمیز روشنی سے نکل کر روحانی استاد کی نورانی فریکوئنسی قبول کرتا ہے ، فاصلے سمٹتے ہیں اور قریب دور کا فرق بے معنی ہو جاتا ہے ۔

صاحب ِ یقین راہ نما فرماتے ہیں،

۱۔ اللہ کے سوا کسی سے توقع نہ رکھو۔

۲۔  معاف کر دو ۔

۳۔  خوش رہو۔

ان اصولوں پر عمل کرنے سے آدمی خوف اور غم سے آزاد ہو جاتا ہے۔

زندگی میں نشیب و فرراز آتے ہیں ۔ فرق یہ ہے کہ اب مشکلات سے گزرنا آگیا ہے کیوں کہ بار ہا اس تجربے سے گزر چکی ہوں کہ روحانی سفر میں اندھیرا عارضی ہے۔

بعض شاگرد استاد کی بات میں اپنے ذہن کی آمیزش کر کے حکم کی حکمت سے محروم رہتے ہیں۔ جب شاگرد اسباق پڑھتا ہے تو اسے چاہیئے کہ راہ نما کو روحانی کیفیات پیش کرے۔

 

ایک موقع پر فرمایا،

”بعض لوگ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں کارو بار آپ کے حکم کی تعمیل میں کیا پھر نقصان کیوں ہوا؟ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے کب مشورہ کیا ؟ وہ کہتے ہیں مراقبہ میں آپ سے اجازت لی تھی۔ ایسے افراد سے میں یہ کہتا ہوں کہ پھر مراقبہ میں ہی مجھ سے شکایت کرنی چاہیئے۔“

خواہشِ نفس اور معرفت ِ نفس مختلف حالتیں ہیں اور ضمیر بآسانی دونوں کی نشاندہی کر دیتا ہے لیکن کم لوگ اندر کی آواز سنتے ہیں۔

راہ نما نے ایک صاحب سے فرمایا ،

”یہاں رہتے ہوئے دوسرے عالمین میں مجھ سے ملاقات کے لیے کارڈ (پاس ) بنوا لو۔“

یہ استاد اور شاگرد کے رشتے کی سند ہے۔

جب یقین کا پیٹرن بنتا ہے تو عقلی دلائل صفر ہو جاتے ہیں۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سادہ خاتون کا دلچسپ احوال ان کی زبانی سنیے۔

” اپنی سہیلی کے ہمرا ہ راہ نما سے ملاقات کے لیے سفر پر روانہ ہوئی۔ بڑی خواہش تھی کہ کوئی تحفہ پیش کروں ۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ تحفہ راستے میں کھو گیا ہے۔ خالی ہاتھ ملاقات کرنا مناسب نہیں لگا کہ بزرگ ان باتوں سے بے نیاز ہیں مگر میرا دل نہیں مانا۔ ناچار التجا کی خدارا ملاقات نہ ہو۔ سہیلی کوئی تحفہ لے کر نہیں آئی تھی۔ وہ زور و شور سے ملاقات کے لیے دعاگو تھی جب کہ میں خضوع وخشوع سے فریاد کر رہی تھی کہ ملاقات نہ ہو۔ اگر سہیلی میرے خیالات سے آگاہ ہو جاتی تو مجھ سے قطع تعلق کر لیتی۔ تین یوم قیام کے باوجود ملاقات نہ ہو سکی۔ اس سے پہلے مجھے یقین نہیں تھا کہ میرا روحانی رابطہ ہے۔ ملاقات نہ ہونے سے یقین ہو گیا کہ رابطہ قائم ہے۔“

اس واقعہ کے بعد جب خاتون سے ملاقات ہوئی، میں نے ان کو ہمیشہ خوش دیکھا۔ کوئی بات ہوتی تو وہ بڑے یقین سے کہتیں کہ میرا رابطہ روحانی ہے ، میں نے جو کہا ، وہ سن لیا گیا۔

علمِ حصولی میں میں کم و بیش 25 سال کی عمر میں آدمی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو جاتا ہے ۔ اگر روحانیت میں اتنے سال بیت جانے کے بعد بھی استاد سے روحانی رابطہ قائم نہ ہو تو لمحہ فکریہ ہے کہ اتنے سال کہاں چلے گئے؟

دو دن طبیعت ناساز ہو تو تیسرے دن ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور جب تک طبیعت بہتر نہ ہو جائے ، علاج جاری رکھتے ہیں۔ اگر یہی عمل روحانیت میں بھی اختیار کیا جائے تو استاد سے ربط قائم ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔

منزل پر پہنچنے کے لئے ثابت قدمی ، یقین ، ذوق و شوق سے جدو جہد اور 'منزل ' سے ربط ضروری ہے۔ سفر میں آسانی اور کامیابی کے لئے بزرگ راہ نما نے بارہا فرمایا ہے،

”ضروری ہے کہ شاگرد وقت کی پابندی کے ساتھ استاد کی جانب سے دیئے گئے اسباق اور ہدایت پر عمل کرے۔“

 


 

Topics