Topics

شعور کی اسپیس ۔ فروری ۲۰۲۲

 

مخلوق کے اندر ہر شے کی اسپیس ہے ۔ وہ جس شے سے چاہے ، واقف ہو سکتا ہے اور اس سے منشا کے مطابق کام لے سکتا ہے۔ ہر اسپیس صفات کے ساتھ متحرک ہوتی ہے۔ کمپیوٹر کی مثال سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔

کمپیوٹر کی اسکرین پر ہم کئی windows کھول سکتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں لکھا جائے تو کمپیوٹر کی اصطلاح میں ونڈو ایسی کھڑکی ہے جس سے ہمیں ایک نئی دنیا دیکھنے اور اس میں داخل ہونے کا موقع ملتا ہے اور ہم وہاں کی معلومات سے مستفید ہوتے ہیں۔ ہم ایک وقت میں کئی ونڈوز اور ہر ونڈو کے اندر متعدد ونڈوز کھول سکتے ہیں۔

دوسری مثال گھر کے نقشے کی ہے۔ نقشے میں plumbing  کی اسپیس دیکھنا چاہیں تو نظر آتا ہے کہ پانی کی لائن کہاں کہاں بچھائی گئی ہے اور نکاسی آب کے لیے پائپ لائنیں کن جگہوں پر ہیں۔ یہ سب اسپیس ہیں۔ اس طرح کئی ذیلی اسپیس پر مشتمل ایک اسپیس ہے۔

کمپیوٹر اور گھر کی طرح فرد بھی اسپیس ہے جس میں ایک سے زیادہ زون کھلنے کی وسعت اور صلاحیت ہے۔ اسپیس کسی بھی طرح کی ہو سکتی ہے جیسے محبت ، حسد ، خوشی ، غم ، جھوٹ ، سچ، تحقیق ، تفکر ، غفلت ، شکر ، نا شکری ، علم ، لاعلمی وغیرہ ۔ ہر اسپیس کا کوئی رنگ (صفت) ہے۔ جو اسپیس کھلتی ہے ، وہ صفات کے ساتھ متحرک ہوتی ہے۔ مثلاً صبر اور شکر کرنے سے زندگی کے ہر معاملے میں شکر اور صبر کا رنگ غالب ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ،

” اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، صبر اور نماز سے مدد لو ۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“  

(البقرۃ : ۱۵۳)

نیت بھی اسپیس ہے جو عمل کی اسپیس سے اہم ہے ۔ عمل انجام دیا گیا ہو یا نہیں ، نیت کی لہریں خون کے ذریعے پھیل کر جسم میں جذب ہوتی ہیں۔ عمل ۔ نیت میں ہی چھپا ہوتا ہے اس لئے نیت پوری تاثیر کے ساتھ خون میں شامل ہو جاتی ہے۔ عمل کی طرح مکافاتِ عمل بھی اسپیس ہے اس لئے مثبت چیزوں کو جگہ دیں تاکہ ذہن خوشی پیدا کرنے والے عوامل قبول کرے۔

رحمٰن و رحیم اللہ نے فرمایا ،

”اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے ۔“

(الانبیآء : ۱۰۵)

ذہن کو اللہ کی طرف مرکوز کر دیا جائے تو شیطانی انسپائریشن کو اسپیس بنانے کی جگہ نہیں ملتی۔ ایک موقع پر راہ نما نے فرمایا،

” ہر انسان کے لئے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی حیات طبیہ مشعل ِراہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ذہن رفیقِ اعلیٰ اللہ میں اتنا مرکوز تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ،

”وقت میں میرا اور اللہ کا ساتھ ہے“

رسول کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے تعلیم ملتی ہے کہ محض بری بات کا تذکرہ کرنے سے برائی کو اسپیس ملتی ہے۔ اچھی بات کریں کہ اچھی بات صدقہ ہے۔“

الٰہی قوانین کا احترام کرنے والے آزاد اسپیس میں سفر کرتے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا ہے 'سچ بولو' سچ میں تغیر نہیں ہے اس لئے سچ کی اسپیس لامحدود ہے اور اسے بقا حاصل ہے۔ اس کے برعکس جھوٹ کی اسپیس محدود ہے جسے چھپانے کے لئے ایک کے بعد جھوٹ بولنا پڑتا ہے جب کہ سچ ایک ہی کافی ہے۔

اسپیس پر غور کر رہی تھی کہ خیال آیا ۔۔ ہم کہتے ہیں فلاں نے تکلیف پہنچائی مگر ہم نے اسے دل سے معاف کر دیا ۔ یہ کہتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ رنجش اور کدورت دل و دماغ سے مٹ گئی ہے۔ پھر اس فرد سے کبھی سامنا ہو تو اس کی وجہ سے ملنے والی ذہنی اذیت کا ہلکا عکس ذہن میں بنتا ہے۔ اگر حافظہ عکس کو نظر انداز کر دے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اسے واقعی معاف کر دیا ۔ لیکن اگر وہ تکلیف کی اسپیس کو پھر سے دہرانے لگے تو حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بظاہر معاف کیا لیکن معافی کا عمل باطنی طور پر مکمل نہیں ہوا اور ہمارے اندر معافی کی اسپیس نہیں بنی۔

تربیتی نشستوں میں شرکت اور مختلف اوقات میں راہ نما سے ہونے والی ملاقاتوں میں جو سنا ، اس سے سیکھنے کی کوشش کی کہ عمل اپنے لئے ہو یا دوسروں کے لئے ، ”میں“ کی نفی کرکے کیا جائے تو ذہن ہلکا رہتا ہے۔ اگر نیکی یاد رہ جائے تو پھر توقعات کی اسپیس بننا شروع ہوتی ہے۔

راہ نما فرماتے ہیں کہ گفتگو اس طرح کریں کہ 'ہم سے یہ کروالیا گیا' ۔ اس طرح ”میں“ کی نشونما نہیں ہوتی اور اعمال میں اخلاص رہتا ہے۔

جب شاگرد استاد کے حکم پر بلا چون و چرا عمل کرتا ہے تو اندر کی اسپیس کے رنگ ترتیب میں آتے ہیں یعنی نیوٹرل ہو جاتے ہیں کیوں کہ اندر میں اسپیس نیوٹرل ہے۔

ہم خیال کے ذریعے وقت کی بساط پر سفر کرتے ہیں۔ اسی غور وفکر میں مگن ، ایک روز حاضر ہوئی تو راہ نما نے فرمایا ،

”یہ ٹائم اینڈ اسپیس کچھ نہیں ہے۔“

مجھے یاد آیا کہ چند سال قبل انہوں نے اسی انداز میں فرمایا تھا ،

”یہ عزت ذلت کچھ نہیں ہے۔“

شعور بات میں گہرائی کو سمجھ نہ سکا ۔ کچھ روز بعد ذہن میں قرآن کریم کی آیت آئی،

”کہو ، خدایا ، ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کر دے۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔“

(آل عمران : ۲۶)

خیال نے کہا ، تمہارے ہاں عزت ذلت کے جو پیمانے ہیں ، وہ مفروضہ ہیں۔ یہ وہ پیمانے نہیں ہیں جو الہامی کتابوں میں بیان ہوئے ہیں۔

جیسے ہی اندر میں وجدان نے عزت ذلت کے بنائے ہوئے مفروضہ پیمانوں کی نفی کی ، شعور نے تابعداری میں سر جھکا دیا۔ اگلے لمحے ذہن پر وارد ہوا کہ ٹائم اور اسپیس کو جس طرح ہم سمجھتے ہیں وہ مفروضہ ہے ۔ اصل ٹائم اور اسپیس کیا ہے، یہ اللہ جانتا ہے اور اللہ نے اس کا علم الہامی کتابوں اور آخری آسمانی قرآن کریم میں دیا ہے۔

استاد محترم نے ایک ملاقات میں فرمایا ،

”جب تک حواس محدود سوچ کے زیر اثر رہتے ہیں، اسپیس کا علم حاصل نہیں ہوتا ، اصل علم خلا کا علم ہے ، جسے حاصل ہو جائے ، وہ تخلیقات میں تصرف کر سکتا ہے۔“

ایک موقع پر انہوں نے مثال سے سمجھایا،

” ٹائم اینڈ اسپیس کو اپنی مرضی سے گھٹایا بڑھایا جا سکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ دھاگا بکھرا ہوا ہے، اسے اکٹھا کر کے مٹھی میں بند کر لو ، اسپیس سمٹ جائے گی ۔ اسپیس ختم نہیں ہوتی، کم سے کم ہو جاتی ہے۔اسپیس مغلوب کر لو ، وقت غالب ہو جائے گا ۔“

پھر انہوں نے مشق کروائی ۔ تصور کرو کہ اپنے باورچی خانے میں کھانا بنا رہی ہو ، تم وہاں پہنچ جاؤ گی ۔ ابھی کر کے دیکھ لو۔

میں نے آنکھیں بند کیں

دیکھا کہ گھر ( جو دوسرے شہر میں ہے) کے باورچی خانے میں کھڑی ہوں۔

جب آنکھیں کھولیں تو پوچھا ، اب بتاؤ تم وہاں کیسے پہنچ گئیں اور واپس کیسے آئیں؟

پھر خود ہی جواب دیا ، بنیادی چیز خیال ہے۔ تم نے اپنے شہر میں ، اپنے گھر میں پلاؤ پکایا ہے۔ یہاں لہسن کی چٹنی بنی ہے ۔ بتاؤ پلاؤ کی خوش بو یہاں تک کیسے آگئی؟ اچھا پلاؤ اگر نہ بھی کھائیں ، اسے چھوئیں تو انگلیوں میں خوش بو آجاتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پلاؤ تو تم نے وہاں پکایا ، یہاں اس کی خوش بو کیسے آگئی؟

اس کے بعد پوچھا، کسی کی کھوپڑی دیکھو تو کیا پتہ چلتا ہے کہ امیر کی ہے یا غریب کی؟

عرض کیا ، جی نہیں۔ پتہ ہی نہیں چلتا۔

انہوں نے پوچھا ، پھر دنیا کی کیا حقیقت ہے؟ اصل چیز تو روح ہے۔

بات سن کر مجھے یاد آیا کہ چند روز قبل میں فون پر سہیلی سے راہ نما کی کسی بات کا ذکر کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ پیاز کاٹ رہی تھی ۔ جیسا کہ ہوتا ہے ، میری آنکھوں سے پانی جاری تھا ۔ دوران گفتگو ایک وقت ایسا آیا جب پیاز کاٹنے کا احساس ذہن سے جاتا رہا۔

سہیلی نے مجھ سے پوچھا ، کیا پیاز کاٹ رہی ہو ؟

یہاں میری آنکھوں سے پانی جاری ہو گیا ہے اور پیاز کی بو آرہی ہے۔

اسے معلوم ہوا کہ میں واقعی پیاز کاٹ رہی ہوں تو ہم نے مل کر اس واقعہ پر تفکر کیا ۔ بات یہ تھی کہ دونوں کے ذہن کی فریکوئنسی ایک ہو گئی تھی۔ جب ذہن کا ذہن سے ربط ہوتا ہے تو ہم کسی چیز یا فرد کو اور جس ماحول میں وہ فرد ہے ، تمام محسوسات کے ساتھ محسوس کر لیتے ہیں۔

بچپن کی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے اشتیاق میں ، رات دن یکسو ہونے کی مشق کرتی تھی۔ بار بار گھر کے دروازے کی گھنٹی بجتی یا کسی نہ کسی وجہ سے یکسوئی میں خلل واقع ہو جاتا ۔ اس خیال میں سوتی کہ ملاقات ہو جائے۔ اس امید سے جاگتی کہ دیدار نصیب ہو۔ ہوا یہ کہ یکسوئی کی مشق سے ان دنوں اعراف میں موجود رشتہ داروں کو خواب میں دیکھنا شروع کیا۔ خواہش کچھ اور تھی اس لئے ایسے خوابوں میں تسلسل سے جھنجھلا گئی۔

میں نے کہا ، اے میرے اعراف میں رہنے والے رشتہ دارو! آپ کی بری مہربانی ، میرے پاس نہ آیا کریں۔ مجھے اللہ سے ملاقات کرنی ہے۔

خوابوں کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

دو تین روز بعد خوب صورت سفید کپڑوں میں ملبوس دادی اماں آئیں اور بڑی محبت سے کہا،

اری! مجھے نہ منع کرنا ، میں آیا کروں گی۔

میں نے کہا ، جی ٹھیک ہے۔

دادی سے پوچھا ، آپ جہاں رہتی ہیں ، کیا وہ آپ کے گھر آتے ہیں؟ کیا آپ نے دیکھا ہے؟

انہوں نے مسکراہٹ پر اکتفا کیا ۔

میں نے دادی اماں کو کھانا پیش کیا تو انہوں نے کہا، ہم یہ کھانا نہیں کھاتے ۔ پھر چھت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں، دیکھو ! میرا گھر یہاں قریب ہے۔

میں نے دیکھا ۔۔ ان کا چھوٹا سا صاف ستھرا گھر ہے، گھر کی چھت پر منڈیر ہے اور اس پورے علاقے میں اینٹوں اور سیمنٹ کے گھر ہیں۔

جاگنے کے بعد میں سوچ رہی تھی کہ میں نے اپنے گھر میں بیٹھ کر اعراف والوں کو التجا کی کہ خواب میں نہ آیا کریں۔ انہوں نے میری آواز وہاں کیسے سن لی ؟ مرحوم رشتہ داروں نے بات مان لی لیکن دادی اماں کی ذہنی وابستگی زیادہ تھی ، انہیں بات اچھی نہیں لگی ۔۔وہ آگئیں۔

اسپیس پر تفکر کرنے سے الحمد للہ ذہن یکسو ہوا ہے۔ اب بہت دن سے احساس غالب ہے کہ زندگی ٹھہر گئی ہے اور شعور ایک لمحے میں سمٹ گیا ہے اور ۔۔۔ وہ لمحہ اللہ کی یاد کا ہے۔


 

Topics