Topics
فضا جو خالی نظر آتی ہے ، روشنی سے بنا
ہوا گراف ہے جس کے کنارے ملے ہوئے ہیں۔ زمین و آسمان کے خلا میں ہر تخلیق روشنی کے
گراف پر بنی ہوئی ہے اور اسی میں غیب ظاہر غیب ہوتی ہے ۔ روشنی کا گراف ایسا نیٹ
ورک ہے جس میں تخلیقات ایک دوسرے کی روشنی قبول کرتی ہیں۔
خلا زندگی کا اہم جز ہے ۔ یہ اصل سے
دوری کی بنا پر ظاہر ہوا ہے لہذا خلا کو تسخیر کر کے (اصل سے دوری ختم کر کے) آدمی
شرفِ انسانیت حاصل کر سکتا ہے۔
زندگی حواس پر قائم ہے۔ ہر کام سماعت و
بصارت ، فہم ، احساس اور گویائی کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ شک سے متاثر ذہن حق بات
سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے محروم ہوتا ہے کیوں کہ شک کی وجہ سے اندر میں صحیح
بات تک پہنچنے کے لئے خلا یعنی دوری واقع ہو جاتی ہے۔
ہر تخلیق خود سپردگی کے میکانزم پر عمل
پیرا ہے مگر نوعِ آدم میں ایک طبقہ جسے آدمی کہتے ہیں، نظام میں خلا پیدا
کرنے کی کوشش کر کے کائناتی فضا میں منفی ارتعاش کا باعث بنتا ہے جس کا نتیجہ
اضطراب اور تباہی ہے۔
سائنسی ارتقا اور علمی برتری کا دعوٰی
کرنے والے آدم زاد نے ایسے تجربات کر لئے ہیں جن سے زمین میں میگنیٹک فورس
(مقناطیسی قوت) داخل کی جا سکتی ہے۔ یہ عمل زمینی نظام میں عدم توازن کا سبب ہے ۔ HAARP ٹیکنا لوجی اس کی ایک مثال ہے۔ ماہرین نے
کرۂ ارض کو تحقیق کے لحاظ سے کئی حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ زمین کے
کرۂ ہوائی کا اوپری خطہ جو 48 کلو میٹر سے
965 کلو میٹر اونچائی تک پھیلا ہوا ہے ، اس میں سے بجلی گزر سکتی ہے۔ انہوں نے اسے
”آیونی کرے“ کا نام دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست
الاسکا میں ہارپ ٹیکنا لوجی کے آلے کے ذریعے 2.7 سے 10 میگا ہرٹز کی ریڈ یائی لہروں کو 3.6 میگا واٹ کی طاقت سے آیونی کرے میں بھیجا جا سکتا ہے جس سے وہاں
پر بری مقدار میں حدت پیدا کر کے زمین کے موسم میں غیر معمولی تبدیلی کی جا سکتی
ہے۔ مثلاً کسی خطے میں گلیشیر کو پگھلا کر مصنوعی بارشوں سے سیلاب کی صورت ِ حال
پیدا کی جا سکتی ہے تو دوسری طرف کسی خطے کو بارش سے محروم کر کے قحط کے حالات بھی
پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ اس ٹیکنا لوجی کے لئے لگائے گئے انٹینا کی مدد سے فضا میں
ٹنوں کے حساب سے توانائی داخل کرنے سے ELF لہریں پیدا کی جاتی ہیں جو فضا میں محو پرواز جہاز کے انجن کو
پگھلا سکتی ہیں۔ ان کا رخ زمین کی طرف موڑنے سے جنگلوں میں آگ لگائی جا سکتی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں
موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں رونما ہونے والی تباہ کاریوں کا ایک سبب ہارپ ٹیکنا
لوجی ہے۔
ہر شے تغیر سے گزر تی ہے مگر تغیر
کے قانون میں تغیر نہیں۔ ہر لمحہ ۔ ہر لمحہ ہمارے اندر تغیر پیدا کرتا ہے۔ پیدائش کے بعد بچہ والدین کا محتاج ہوتا ہے
۔ 25 یا 30 سال بعد ماں باپ محتاجی کی حالت
میں چلے جاتے ہیں ۔ جسم اور شعور سب تگیر سے گزرتے ہیں لیکن حقیقت قائم بالذات ہے۔
حقیقت کا سراغ اندر میں انسان کو تلاش کرنے سے ملتا ہے جسے قرآن کریم میں روح کہا
گیا ہے۔ خود کو روح کی تحریکات کے سانچے میں ڈھالنا جسم اور روح کے درمیان موجود
خلا کی نفی ہے اور اس راستے کا پہلا سبق یقین ہے ، اس بات پر کہ ”ہر شے اللہ کی
طرف سے ہے۔“
مخلوق خلا در خلا تقسیم ہے۔ آنکھ ، کان
، ناک ، ہونٹ سب ایک جگہ پر ہیں مگر ان کے درمیان فاصلہ یا خلا ہے جس کی وجہ سے یہ
الگ الگ نظر آتے ہیں ۔ حقیقت میں خلا نہیں ہے۔ اس کی تفصیل سورۃ الاخلاص میں ہے۔
”کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہے ،۔ وہ بے
نیاز ہے ۔ نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹا اور نہ اس کا خاندان ہے ۔“
(الاخلاص : ۱۔۴)
ذات ِ الٰہی کو کسی طرح بیان نہیں کیا
جا سکتا۔
جس طرح زمین کی پلیٹیں پرت در پرت خلا
ہیں اسی طرح آسمان کی وسعتیں تہ در تہ خلا ہیں۔ زمین و آسمان دونوں مقامات پر
مخلوق آباد ہے ۔ ان پر غور کرنے سے ذہن اللہ کی بزرگی اور بڑائی میں جذب ہو جاتا
ہے اور ہر روئیں سے ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے ۔ اللہ اللہ۔
خلا دوری سے پیدا ہوتا ہے۔ جب حقیقت سے
دوری واقع ہوتی ہے تو طرز فکر میں خلا واقع ہونے سے شیطان وسوسہ بن کر داخل ہوتا
ہے۔ فرد کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے خیال میں اتنا راسخ ہو جائے کہ کسی قسم کی
مداخلت یا قوت اس کی طرز ِ فکر مقنا طیسی فیلڈ ( برقی میدان) کو متاثر نہ کر سکے ۔
راہ نما فرماتے ہیں،
”ہر فرد کے ستر ہزار پرت ہیں ۔ خلا کی
تقسیم کی مناسبت سے قدرت نے اسے مختلف پیراہن عطا کئے ہیں۔“
لباس کششِ ثقل کی مقداروں سے بنا ہے ۔
مٹی کے جسم میں کشش ِ ثقل کا فارمولا الگ ہے ۔ عالمِ اعراف میں کشش ِ ثقل کے
اجزائے ترکیبی مختلف ہیں۔ ان پوشاکوں پر یقین غالب آجائے تو خلا تسخیر ہو جاتا ہے۔
زندگی اطلاع پر قائم ہے ۔ اطلاع اپنی ساخت
میں رہتے ہوئے شکل بدلتی ہے ۔ ہر اطلاع عمدہ بیج ہے۔ جب زہن کی زمین کار ساز نہ ہو
تو بیج بار آور نہیں ہوتا ۔ ایک مرتبہ راہ نما نے فرمایا،
”اپنے دماغ کو اسٹور روم مت بنائیں۔“
آدمی دماغ میں غیر ضروری چیزوں کا وزن
اٹھائے پھرتا ہے۔ یہ کثافت اور ثقل ہے جس سے فرد اور اس کی اصل کے درمیان خلا
بڑھتا جاتا ہے۔ اگر توجہ اللہ کی نشانیوں میں مشغول رہے تو ذہن آزاد ہوتا ہے یعنی
دوری سے پیدا ہونے والا وزن بے وزن ہو جاتا ہے۔
نیکی کی اسپیس ہے اور گناہ کی بھی ۔
گناہ کی اسپیس بندے کو رب سے دور کر دیتی ہے ۔ توبہ کرنے پر معافی ملتی ہے اور
توبہ سچے دل سے کی گئی ہو تو پھر ذہن نافرمانی کی طرف نہیں جاتا۔
ایک مرتبہ راہ نما سے عرض کیا ، کیا
برائی کے ارتکاب سے پیدا ہونے والا خلا
توبہ کرنے سے ختم ہو جاتا ہے؟
انہوں نے فرمایا ، نہیں ۔ ختم نہیں
ہوتا۔ اس کے اوپر معافی کی مہر لگ جاتی ہے۔
بات یہ سمجھ میں آئی کہ توبہ کے ساتھ
معافی کا عمل ریکارڈ ہو جاتا ہے۔
اللہ کے نیک بندوں کا ظرف ہے کہ کسی
بندے کی پرانی تصویر اچھی نہ ہو تو اس کو پرانی تصویر نہیں دکھاتے ، ماضی پر پردہ
رکھتے ہیں۔ ہمیشہ ایسی بات کرتے ہیں کہ بندہ خود اپنا محاسبہ کر کے برائی سے محفوظ
رہنے کی کوشش کرے ۔
ایک مرتبہ راہ نما نے فرمایا،
”میٹھے پانی کے کنوئیں دور ہوتے ہیں
اور کڑوے پانی کے کنوئیں نزدیک ، آدمی عجلت میں کڑوے کنوئیں سے پانی پی لیتا ہے ۔“
کوئی بندہ بھلائی کی اسپیس میں داخل
ہوتا ہے تو سراپا خیر بن جاتا ہے اور اللہ کو خیر پسند ہے۔
مشیت اطلاع (حکم) کی سورت میں کائنات
کے خلا میں سفر کر رہی ہے۔ اس کی حرکت سے زمانہ کروٹ لیتا ہے اور ادوار بدلتے ہیں۔
خلا میں آبدایاں دیکھیں جن میں سرخی
مائل نارنجی اینٹوں والے خوب صورت گھر تھے اور گھروں میں قمقمے روشن تھے۔
مراقبہ میں دیکھا کہ بادلوں کے بیچ خلا
میں ایک تخت معلق ہے جس پر ایک نوجوان بادشاہ طمطراق سے بیٹھا ہوا ہے۔ ایک کونے
میں دلہا دلہن بیٹھے ہیں ۔ میری توجہ ان کی جانب ہے۔ دلہن ہلکے گلابی نفیس عروسی
جوڑے میں ہے ، گلے میں نازک ہار ہے۔ دلہا بہترین وردی میں ملبوس ہے۔ اس کا لباس
میرے لئے باعث ِ حیرت ہے۔ دونوں کے چہرے ڈھکے ہوئے ہیں۔ یہ منظر استیج ڈرامے کی
طرح میرے سامنے تھا جس میں ایک کردار میرا تھا۔ بتایا گیا کہ دلہن ، دلہن ہونے کے
ساتھ دلہا بھی ہے اور دہری ذمہ داری نبھانے کے لئے عورت ظاہری اور باطنی دونوں رخ
سے کام کرے گی۔
اس منظر کا شعور پر بہت وزن پڑا۔ عورت
کو قدرت کی جانب سے سونپی گئی زمہ داری کے لئے سنجیدگی اور مستعدی سے تیار ہونا
چاہیئے۔
خلا کی تلاش کے دوران اندر میں نظر پڑی
تو ایک بڑا خالی قطعہ دیکھا ۔ اتنا بڑا خلا ؟
معلوم ہوا کہ جب میں کسی کام کا ارادہ
کرتی ہوں تو اسے رد کر دیتی ہوں اور یقین رکھتی ہوں کہ صرف اس ارادے پر فوری عمل
کرنا چاہیئے جو راہ نما کی طرف لے جائے ۔ ایک طرف یہ اچھی بات ہے مگر دوسری طرف یہ
مزاج میں کمزوری کی نشاندہی ہے کیوں کہ عام حالات میں روز مرہ امور سے متعلق جتنے
خیالات آتے ہیں، میں اکثر ٹال مٹول سے کام لیتی ہوں۔
ارادہ کر کے قائم نہ رہنا ذہن کی قوت
کا منتشر ہونا ہے ۔ یہ کمزوری ہر فرد میں ہے۔ اس طرح دوری کا خلا اپنی جانب
کھینچتا ہے اور ہم اس میں داخل ہو جاتے ہیں۔
ادراک ہوتے ہی میں اس کمزوری کی بیخ
کنی میں مصروف ہو گئی۔ جس کام کا عزم کرتی ہوں ، اس پر قائم رہتی ہوں اور ہر ممکن
حد تک تکمیل میں کوشاں رہتی ہوں۔کھانے میں کیا پکے گا ، جس چیز کا پہلے خیال اتا
ہے ، وہ پکاتی ہوں۔ اس دوران میں پڑوس یا کہیں اور سے کھانا آجائے تو یہ ہمارے
ارادے پر اللہ کا ارداہ ہے، شکر ادا کر کے کھا لیتی ہوں۔
مستقل مزاجی اختیار کر کے ارادے کی قوت
سے مانوس ہو رہی ہوں ۔ شعور بہت مزا حمت کرتا ہے مگر ارادے پر قائم رہنے سے اس کی
گرفت ٹوٹ جاتی ہے۔
خلا کی نفی پر غورو فکر کے دوران مجھے بھائی کے ہمراہ ریل گاڑی کا
سفر یاد ایا۔ ایک الوداعی ملاقات میں راہ نما نے فرمایا،
”کھاتے پیتے جانا، آپ کا سفر بہت اچھا
گزرے گا۔“
ہم خوش تھے کہ بہترین یادوں کے ساتھ
اچھے سفر کی نوید لے کر جا رہے ہین۔
ٹکٹ پر لکھے نمبر کے مطابق ریل کے ڈبے
میں داخل ہوئے تو تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ گاڑی چلی۔ ٹکٹ چیکر نے مطلع کیا کہ آپ
کے ٹکٹ جعلی ہیں۔
یہ وہ ٹکٹ تھے جو مطلوبہ تاریخ کے
تکٹنہ ملنے پر بھائی نے قریب کھرے ایک شخص سے مہنگے داموں میں خریدے تھے۔
کم وبیش 24 گھنٹے کا سفر تھا۔ بھائی کے
چہرے پر پریشانی کی لہر دیکھتے ہوئے سر گوشی کی کہ ہم سے کہا گیا ہے کہ کھاتے پیتے
جانا ، سفر اچھا گزرے گا ۔ ہم روحانیت کے طالب علم ہیں اور روحانیت میں امتحان کا
وقت مقرر نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ امتحان ہو۔
بھائی کی پریشانی کافور ہوگئی۔
جتنے اسٹیشنوں پر ریل گاڑی رکی، ہم
نیچے اترے، کھایا پیا اور اپنے حال پہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ سفر اس آواز کی
گونج میں طے ہو گیا کہ آپ کا سفر اچھا گزرے گا، کھاتے پیتے جانا۔ یہ ہماری زندگی
کا بہترین سفر تھا۔
ہم نے طے کیا کہ اس بارے میں کسی کو
کچھ نہیں بتائیں گے کیوں کہ کوئی نہیں سمجھے گا اور آنے جانے پر پابندی عائد کر دی
جائے گی۔
اب یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک
گھنٹے کے سفر میں توجہ منتشر ہو جاتی ہے ، 24 گھنٹے کے سفر میں ذہن ایک
نقطے پر کیسے مرکوز رہا کہ پریشانی ، پریشانی نہ رہی۔
راہ نما کے بغیر منزل بے نشاں رہتی ہے۔
اگر سالارِ کارواں نہ ہو تو قافلے کے
مسافر راستہ بھٹک جاتے ہیں۔
ہمیں خلا پہ دسترس کا اصول سمجھایا گیا
تھا۔
ایک مرتبہ صاحبِ یقین نے فرمایا،
”خوش رہنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ شکر ادا
کریں ۔ ہماری 50 ، 60 سال کی زندگی ہے ، اس میں زیادہ وقت ناخوشی میں گزرتا ہے۔“
اللہ کو خوش رہنے والے لوگ پسند ہے۔
راہ نما نے سکھایا ہے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل
اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی اتباع لامحدود دائرہ ہے جس میں خلا نہیں۔ سالک اس
پر عمل کر کے خلا کو تسخیر کر سکتا ہے۔