Topics

عورت کا مقام۔جنوری ۔۲۰۲۱

 

دماغ میں دیکھا کہ دروازے پر کوئی آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ دستک ہوا نے دی ہے اور اس کے ہاتھ میں سفید رنگ لفافہ ہے۔ لفافہ کھولا، صفحے کے وسط میں تحریر تھا: ”خواتین علم حاصل کریں تاکہ اپنے حقوق و فرائض اور منصب سے واقف ہوں۔“ بیدار ہونے کے بعد بہت دیر تک اس بات پر غور کیا۔ فہم میں یہ بات آئی کہ کرہ ارض پر مادرانہ نظام جب گردشِ زمانہ سے پدرانہ نظام میں تبدیل ہوا تو عورت ہر قدم پر پسپا ہو گئی۔ علم سے دور ہونے پر حکم رانی بھی چھن گئی۔ پھر جو مظالم ہوئے، تاریخ اس کی شاہد ہے۔

خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ”علم حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے۔“ عورت اور مرد کے ساتھ چلنے سے معاشرہ چلتا ہے ورنہ ابتری پھیل جاتی ہے۔ دونوں مل کر نسل پروان چڑھاتے ہیں، ان کی تربیت سے زمین پر مستقبل کے حالات کا تعین ہوتا ہے۔ اچھی تربیت، اچھا مستقبل اور بری تربیت سے فساد پھیلتا ہے۔ ظاہری علوم کو اہمیت دے کر باطنی علوم نظر انداز کر دیں تو آدمی اور حیوان میں فرق نہیں رہتا۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے آدمی، انسانیت کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔

 عرصہ دراز سے عورت کے ناقص العقل ہونے کا اتنا چرچا ہوا ہے کہ پڑھی لکھی خواتین بھی وہم کا شکار ہو گئی ہیں کہ شاید وہ ناقص العقل ہیں۔ بزرگ راہ نما نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ خواتین خود شناسی حاصل کریں تاکہ خودشناسی علمی شاہراہ بن جائے۔

 راہ نما نے خواتین کو کھویا ہوا مقام دلانے، فکر و تدبر پیدا کرنے اور روحانی علوم سکھانے کے لئے نصاب ترتیب دیا، درس گاہیں اور لائبریریاں تعمیر کیں اور خواتین کے لئے علیحدہ شعبہ قائم کر کے انتظامی امور کا نگران بنایا۔ وہ فرماتے ہیں:

" جب مرد و عورت میں روح ایک ہے تو عورت آسمانوں میں پرواز کیوں نہیں کر سکتی؟ جب آدمی شعور سے نکل کر لاشعور میں زندگی کا بڑا حصہ گزارتا ہے تو قدرت نے عورت کو بھی یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ تاریخ میں ایسے واقعات ہیں جب خواتین کو خواب و بیداری میں بشارتیں ملیں۔ ان میں بڑی مثال بی بی آمنہ کی ہے جن کو خواب میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی پیدائش کی بشارت ملی۔"

 قدرت کا اصول ہے کہ جب مرد نا انصافی کرتا ہے، ظلم کا نظام قائم کر کے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اقتدار کی باگ ڈور صنفِ نازک کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ راہ نما نے تقریباً 22 سال پہلے پیشین گوئی کر دی تھی کہ زمین کی بیلٹ تبدیل ہو رہی ہے اور اگلا دور خواتین کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب اقتدار خواتین کے ہاتھ میں آئے گا تو انہیں چاہئے کہ اللہ کی فرماں بردار بنیں اور قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھ کر اس پر تفکر کریں اور حقوق و فرائض سے آگاہ ہوں۔ ناموافق حالات میں بیٹھے رہنے کے بجائے خواتین کو اپنے حصے کا دیا روشن کرنا چاہئے۔ خواتین میں صلاحیتیں مردوں سے کم نہیں۔

 قرآن کریم میں ارشاد ہے:

 ”بے شک فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور قناعت کرنے والے مرد اور قناعت کرنے والی عورتیں اور صادق مرد اور صادق عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں، ان کے لئے اللہ نے بخشش اور اجرِ عظیم رکھا ہے۔“ (الاحزاب: 35)

عوام الناس میں نیک بندوں کی موجودگی باغ و بہار جیسی ہے جو طبیعت کے لئے خوش گوار ہے، بنجر زمین کو زرخیز بناتی ہے اور زرخیز زمین میں صد رنگ پھول کھلتے ہیں۔ بہار کی آمد سے پتھر بھی مختلف زاویوں سے اپنے حسن کا اظہار کرتے ہیں۔ خود کو خدمتِ خلق کے لئے وقف کرنے والے اللہ کے دوست کا فرمان ہے:

" عورت کو سماج میں جائز مقام دیا جائے تو یہ گھروں میں ڈپریشن، الجھنیں اور بڑھتے ہوئے خواتین میں نفسیاتی مسائل کا تدارک ہے۔ یہ اصلاحی تحریک بھی ہے جس کے ذریعے موجودہ اور آئندہ نسلوں کو سکون و آشتی کا ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ "

 عورت اور مرد کی ذمہ داریاں مختلف ہونے کے ساتھ مشترک ہیں۔ ایک موقع پر فرمایا: آبادی کے تناسب سے خواتین کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے۔ حقوق کے سلسلے میں ان کی راہ نمائی نہ کی گئی تو آبادی کا بڑا حصہ بے کار ہو جائے گا اور جو طاقت مرد و خواتین کے اتحاد سے ملنی چاہئے، معاشرہ اس سے محروم رہے گا۔ اللہ نے مرد اور عورت کو جو حقوق عطا کئے ہیں، مردوں کو چاہئے کہ وہ حقوق عورتوں کو منتقل کریں اور عورتوں کو چاہئے کہ اللہ نے مردوں کو جو حقوق عطا کئے ہیں، ان کا احترام کریں اور یہ اس وقت ممکن ہے جب ذہن میں یہ بات راسخ ہو کہ تخلیقی نظام کے تحت عورت اور مرد الگ الگ روپ ہیں مگر ان میں روح ایک ہے۔"

 راہ نما نے اولیاء اللہ خواتین کی حیات کو نمایاں کیا تاکہ موجودہ اور آنے والے ادوار کو معلوم ہو کہ خواتین بھی روحانی صلاحیتوں کی امین ہیں۔ راہ نما کی حیثیت ماں اور باپ کی ہے۔ خواتین و حضرات کے پیچیدہ اور نفسیاتی مسائل بھی ان کے پیش نظر رہے۔ ایک نشست میں فرمایا:

”مردوں میں نسوانیت آرہی ہے۔“

 عرض کیا، اس کی کیا وجہ ہے؟

فرمایا، عورتوں کا کردار مردوں کو اور مردوں کا کردار عورتوں کو منتقل ہو رہا ہے۔

 فی زمانہ خواتین زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں لہٰذا تعلیمی معیار کے مطابق رشتے کی تلاش میں بہت سی خواتین بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکی ہیں۔ راہ نما نے ایک معروف اخبار کے فورم پر گفتگو کے دوران خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا،

" بچیوں کے رشتوں کا معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ایک وقت تھا جب دادا،نانا عالم ، فاضل اور اعلیٰ عہدوں پر فائز جب کہ نانی ، دادی ان پڑھ ہوا کرتی تھیں۔آج کی خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنے سے کم پڑھَ لکھے لڑکوں کو قبول کریں البتہ یہ ضرور دیکھیں لڑکا محنتی ہو اور ذمہ داری اٹھا سکتا ہو۔ شادی کے سلسلے میں معیار بنا لیا گیا ہے کہ لڑکا ڈاکٹر ہو، انجینئر ہو، مال دار ہو یا لڑکی بہت جہیز لے کر آئے۔ جبکہ اہمیت رکھنے والی باتیں یہ ہیں کہ لڑکا شریف ہو، معاشی ضروریات پوری کرنے کا جذبہ ہو، محنتی اور صحت مند ہو۔اگر لڑکے کی آمدنی کم ہے تو اللہ اس میں اضافہ کرنے پر قادر ہے۔ لڑکے کو سوچنا چاہئے کہ لڑکی گھر گرہستی سے واقف ہو اور اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق اولاد کی تربیت کرسکتی ہو۔"

مجھے یاد آیا کہ میرے دادا جی عالم فاضل تھے جب کہ دادی اماں نے اکتسابی تعلیم حاصل نہیں کی  صرف قرآن کریم پڑھا تھا۔دادا جی اعلیٰ ذوق کے مالک تھے۔ لائبریری میں انگریزی، اردو اور فارسی کی نایاب کتب کا ذخیرہ تھا۔ ان کے مکتوبات خطاطی کا بہترین نمونہ اور زبان و بیان کے اعتبار سے ذوق کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک مکتوب کا کچھ حصہ یاد ہے جو دادا جی نے بیٹے کی پیدائش کی خبر سن کر دادی اماں کے نام لکھا۔ ان دنوں وہ شہر میں تھے جب کہ دادی اماں گاؤں میں۔

”صد شکر ہے اس رب کریم کا جس نے ہمیں بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ آپ نے بچے کا نام جلیل رکھا ہے۔ درخواست ہے کہ نام عبد القادر جلیل رکھئے کیوں کہ پیران پیر دستگیر شیخ عبد القادر جیلانی کی محبت ہمارے خون میں شامل ہے۔“

دادی اماں انگوٹھا لگاتی تھیں مگر دادا جی انہیں احترام سے مخاطب کرتے اور شستہ زبان میں گفتگو کرتے تھے۔ دونوں نے حد درجہ ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ بہترین ازدواجی زندگی گزاری۔

حیرت ہے کہ پہلے وقتوں میں مرد پڑھے لکھے اور خواتین ان پڑھ ہوتی تھیں لیکن دونوں خوش و خرم رہتے اور اچھی زندگی گزارتے تھے۔ دراصل اس وقت خاندانی نظام مضبوط تھا، تربیت اچھی تھی اور رشتوں میں ادب تھا۔ خواتین بظاہر ناخواندہ تھیں لیکن ماؤں نے انہیں شائستہ اور خوددار بنایا۔اور تربیت کے اصولوں سے بہرہ ور کیا تھا۔

 ایک دو پہر نیند کی دنیا میں دیکھا کہ کوئی بزرگ کشادہ چارپائی پر تشریف فرما ہیں۔ میں سلام کرنے قریب گئی تو سر پر دستِ شفقت رکھا، دعا دی اور کافی دیر باتیں کیں۔ رخصت ہونے لگی تو تحفے میں دو کتابیں دیں جو قدیم تھیں۔میں نے احتیاط سے کتابیں رکھیں کہ تحفہ نایاب ہے۔ پھر انہوں نے سیاہ رنگ قلم عطا کیا۔فرط مسرت سے سر کو خم دیتے ہوئے عرض کیا، آپ نے بہت تکف کیا۔ انہوں نے ایک اور قلم میری جانب بڑھایا جس کی روشنی سرخ تھی۔میں تشکر کے احساس سے مسرور ہوئی۔ ذہن میں آیا بزرگ جو عطا فرمائیں، خوش بختی کی علامت ہے۔ تحائف پر شکریہ ادا کیا۔

آنکھ کھلی تو ایسا لگا کہ انعام بیداری میں ملا ہے۔ اس خواب نے مجھے خواب میں بیدار کر دیا۔

میں نے کھڑکی کے قریب جا کر خاموشی کی زبان میں ہوا کو مخاطب کیا، اے ہوا! تم آزادی سے ہر جگہ آتی جاتی ہو۔ مکتوب کھڑکی کے ذریعے دے سکتی تھیں پھر خواب میں آکر گیٹ پر بلانے کا تکلف کیوں کیا؟

ہوا بولی، میں اصول و ضوابط کی پابند ہوں اور حکم کی تعمیل کرتی ہوں۔ گھنٹی بجنا، دروازے تک آنا اور دروازے کا کھلنا سب استعارے ہیں۔

ہوا کی بات سن کر ذہن یکسو ہو گیا۔

 (قسط: ۶)

Topics