Topics

فرماں برداری کی اسپیس ۔عرفانہ شہزاد ۔ اپریل ۲۰۲۲

 

راہ نما نے اپنی تربیت کے زمانے کا ایک واقعہ سنایا، ان کی زبانی پڑھئے۔

”میرے مرشد کریم کہیں تشریف لے گئے تھے کہ ایک صاحب ان سے ملنے آئے۔ ان کو مہمان خانے میں بٹھایا۔ میری جیب میں مٹھائی تھی جو جنت سے آتی تھی۔ مٹھائی ان کو دی جسے کھاتے ہی وہ سو گئے۔مرشد کریم کے آنے کا وقت ہوا تو ان صاحب کو جگایا، وہ نہیں اٹھے اور سوتے رہے۔ مرشد کریم کی تصرف سے ہوش میں آئے۔ مرشد کریم نے مجھے مٹھائی کھانے سے منع فرما دیا۔“

محفل برخاست ہوئی تو کچھ لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ ان صاحب کو ہی مٹھائی کیوں کھلائی، کسی اور کو کیوں نہیں اور میں سوچ رہی تھی کہ ،

۱۔ مٹھائی راہ نما تک کس طرح پہنچتی تھی؟                                   

۲۔ جنت کے حواس زمین کے حواس سے الگ ہیں پھر راہ نما وہاں کی مٹھائی کھانے کے باوجود زندگی کے معمولات کیسے انجام دیتے تھے جب کہ وہ صاحب بے ہوش ہو گئے؟

اندر میں آواز نے کہا ، جنت میں رہنے کے میکانزم پر غور کرو۔ وہاں جس شے کے بارے میں سوچا جائے ، فاصلہ زیر بحث نہیں آتا، شے حاضر ہو جاتی ہے۔ بات ارادے میں قوت سے واقفیت کی ہے۔ صاحب ِ علم خواتین و حضرات پر وہ حواس غالب ہوتے ہیں جن میں فاصلے کی قید نہیں۔ حواس میں تبدیلی سے بندہ ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقل ہوتا ہے۔ خواب اس کی واضح مثال ہے ۔ منتقلی کے لئے جس سواری کی ضرورت ہے، وہ حواس ہیں۔

جنت فرماں برداری کے حواس کا نام ہے اور دنیا۔۔ نافرمانی کے حواس کا نتیجہ ہے۔ جنت میں نافرمانی کی وجہ سے ہم اس دنیا میں ائے ہیں اور ایک خاص مدت تک زمین میں ٹھہرنا ہے۔

 

اللہ نے فرمایا ہے کہ ،

” ہم نے کہا، تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔“ (البقرۃ : ۳۸)

اس آیت میں زمین میں رہ کر جنت کے حواس سے واقف ہونے کا قانون ہے۔ جب بندہ اللہ کی فرماں برداری کرتا ہے تو وہ خوف اور غم سے دور ہو جاتا ہے جس طرح جنت میں رہتا ہے۔ زمین پر رہتے ہوئے جنت کے حواس اس پر غالب ہو جاتے ہیں۔ وہ جو چاہتا ہے ، اللہ کے حکم سے اس کے لئے حاضر ہو جاتا ہے۔

راہ نما فرماتے ہیں، فرماں بردار ذہن کا مطلب اللہ سے مستحکم ربط اور اللہ پر ایمان ہے۔

قرآن کریم میں تفکر کیا جائے تو فہم ملتی ہے کہ ایمان یقین ہے اور یقین اس نگاہ کا روشن ہونا ہے جو matter کے پسِ پردہ دیکھتی ہے۔

”اے ایمان والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو۔“

(البقرۃ : ۲۰۸)

اللہ سے ربط میں استقامت اس وقت ممکن ہے جب بندہ ہر معاملے میں اللہ پر توکل کرے اور اللہ کی رضا میں راضی رہے۔

ایک کا ہو کر رہے تو غلام کی بھی عزت ہوتی ہے کہ فلاں کا تابع دار ہے۔ ربط۔ یقین ہے یعنی جو کچھ ہوتا ہے، خالق و مالک اللہ کے چاہنے سے ہوتا ہے اور بہترین ہوتا ہے۔ توکل کی روشنی بندے کو جنت کے حواس میں داخل کر دیتی ہے۔

فرد حالات کو مرضی کے مطابق دیکھنے پر بضد ہو تو گھٹن اور خواہشات کی قید میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔ راہ نما نے سکھایا کہ جس طرح کائنات متحرک ہے، آپ بھی حرکت میں رہیں ، کوشش میں کوتاہی نہ کریں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

حال یہ ہے کہ ہم برائی کو نظر انداز کر کے اچھائی کی اسپیس میں داخل ہوتے ہیں پھر واپس برائی کی اسپیس میں لوٹ جاتے ہیں اگر اندر کی روشنی میں غوروفکر کر کے اس نکتے کو سمجھ لیں کہ ہم کس کا حکم مانتے ہیں اور کس کا حکم ماننا چاہیے تو غلطی پر غلطی نہیں دہرائیں گے۔

ایک مرتبہ راہ نما نے فرمایا کہ ،

”بندہ جب اللہ کی رضا کو زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے تو اس کے اندر سے شر نکل جاتا ہے اور شیطان کا اس پر زور نہیں چلتا۔“

کسی خاتون نے عرض کیا کہ مجھے وسوسے بہت آتے ہیں ، کیا کروں؟

راہ نما نے فرمایا ، نہ مانو شیطان کی۔ جیسے تم اپنے شوہر کی نہیں مانتیں۔ اس کی بھی نا مانو۔

خاتون حیران ہو گئیں کہ شیطان کی انسپائریشن کو رد کرنا اتنا آسان ہے۔

قرآن کریم میں غوروفکر کے دوران وسوسوں کے حوالے سے ایک آیت پڑھی اور ذہن نشین کر لی۔ اس میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ جن لوگوں کے قلب صاف ہیں ، وہ میل برداشت نہیں کرتے اور قلب پر پڑنے والے دھول کے ذرّے پر بھی چوکنّا ہو جاتے ہیں۔

”حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو جائے تو فوراً چونکنے ہو جاتے ہیں پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لئے صحیح طریقِ کار کیا ہے۔“

(الاعراف : ۲۰۱)

مہربان بزرگ کا یہ فرمان کہ اگر کسی کو ایک بار اچھا کہہ دو تو پھر برا مت کہو، اس طرف اشارہ ہے کہ جب ایک مرتبہ فرماں برداری کی اسپیس میں داخل ہو جاؤ تو پھر نافرمانی کی اسپیس میں واپس مت جاؤ۔ فرماں بردار ذہن تغیر پسند نہیں ہوتا۔ تغیر پسندی رنگ بدلتی ہے، فرماں بردار ذہن متغیر رنگوں سے بے نیاز ہوتا ہے۔

نبی رحمت خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا ذہن مبارک اعلیٰ و ارفع ہے۔ آپ ﷺ نے رشتہ داروں اور مکہ کے قرب و جوار کے لوگوں کے ساتھ اچھائی کی اور اس پر قائم رہے۔ اہلِ مکہ کی جانب سے بے پناہ اذیتیں برداشت کیں لیکن اپنی ذات کے لئے جوابی کاروائی نہیں کی۔ فتح مکہ کے بعد وہ تمام لوگ آپ ﷺ کے تابع ہو گئے۔

رنگ کیا ہے؟ تصوف کی اصطلاح میں رنگ سے مراد دوری ہے۔ زمین پر جتنے رنگ ہیں ، یہ اصل کے اوپر غلاف ہیں۔ ان کی صفت میں تغیر ہے۔ بچپن ، جوانی اور بڑھاپا رنگ ہیں۔ ہر چھوٹی بڑی مخلوق ان ادوار سے گزرتی ہے۔صرف ایک رنگ ایسا ہے جو دوری یعنی تغیر سے پاک ہے۔ قرآن کریم میں اسے ”صبغتہ اللہ “ کہا گیا ہے۔ اللہ کا رنگ۔

فرماں برداری جنت اور خوشی کا شعور ہے۔

ایک پانچ سالہ بچے نے راہ نما کو خواب سنایا، میں جنت میں گیا اور وہاں اماں کو تلاش کیا۔ وہ نظر نہیں ائیں تو گھبرا کر رونے لگا اور فرشتوں سے کہا مجھے اماں کے پاس لے جائیں۔ وہ مجھے واپس دنیا میں اماں کے پاس لے آئے۔

راہ نما نے خواب توجہ سے سنا اور مسکراتے ہوئے بچے سے فرمایا ، جب جنت میں جاؤ تو اماں کو ساتھ لے جانا۔

مراقبہ میں یکسو تھی۔ دیکھا۔ بزرگ کھڑے ہیں، کندھوں پر سبز دو شالہ ہے۔ دو شالہ جنت کا سبزہ ہے جو جنت کے راستے کی نشاندہی ہے۔ میں اندرداخل ہوئی۔ سامنے سیدھا راستہ ہے ۔ جس کے دونوں اطراف گہرے سبز درخت ہیں۔ آبشاریں اور نہریں ہیں۔ ہرن کلانچیں بھرتا ہوا دائیں سے بائیں گیا۔ محسوس ہوا کہ ایک ہرن بہت غور سے مجھے دیکھ رہا ہے لیکن میں نے توجہ نہیں کی۔ پھر برق رفتاری سے آگے بڑھی یہاں تک کہ خلا میں داخل ہوگئی۔

کسی کے لئے مال و دولت اور جاہ و منصب جنت ہے اور کسی کی جنت اولاد ہے۔ جس نے خود ساختہ جنت بنا لی ، وہ حقیقی جنت میں داخل نہیں ہوتا۔ مال اور اولاد کی محبت دنیا کی ریت ہے اور اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دونوں فتنہ ہیں۔

”اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لئے بہت کچھ ہے۔   (الانفال : ۲۸)

یہ محبت فرماں برداری کے دماغ سے دور لے جاتی ہے۔ دو مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔

۱۔ ایک خاتون بڑھاپے میں سب کچھ بھول گئیں، اپنا بیٹا ندیم یاد رہا۔ آخر تک کہتی رہیں کہ ہائے میرا ندیم آگیا ، ہائے میرا ندیم آگیا۔

۲۔  ایک اماں بی ، جو اب حیات ہیں ، کے دو بیٹے ہیں۔ دونوں

دونوں خواتین نے جس دماغ کا زیادہ استعمال کیا ، وہ خوشی اور رنج میں غالب ہو گیا۔

اللہ کے دوست دیکھنے کی حقیقی طرزوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں تاکہ ہم مفروضہ سوچ کو ترک کر دیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سوچ جو دکھاتی ہے ہم وہ دیکھتے ہیں اور جو ہم دیکھتے ہیں، وہ مادی خول ہے جیسے چڑیا ، آدمی ، انگور ۔ فرماں برداری کا دماغ چڑیا ، آدمی اور انگور کو نہیں دیکھتا ، وہ اس روشنی کو دیکھتا ہے جو اساس ہے۔

سچ کیا ہے ، دیکھنے کے لئے سلیٹ یعنی دل کی تختی صاف کرنا ضروری ہے ۔ ورق پر پہلے سے تحریر ہو تو اس کے اوپر کچھ نہیں لکھ سکتے۔

ایک صبح اٹھی اندر میں غیر معمولی تبدیلی کا انکشاف ہوا۔ ذہن خالی اور لطیف تھا۔ وجود خالی لفافے کی مانند اور اپنا آپ اجنبی ہو گیا۔ کاغذ قلم لے کر بیٹھی تو ذہن خالی۔۔ دور دور تک حروف کا نشان نہیں تھا۔ میں کہا ، خیال جو کہے گا لکھوں گی۔۔ خاموش رہتا ہے تو کاغذ خالی رہے گا۔

کیفیت یہ تھی کہ اک عالمِ بے خوف و خطر طاری تھا جیسے شام ہونے کو ہو اور میں گھر کا پتہ بھول گئی ہوں۔ زیست کا جو مقصد اور منزل تھی ، پل بھر میں جُنوں کا وہ سفر بھول گئی تھی۔ ایک خیال اس طرح محیط ہوا کہ میں کیا تھی اور کیا ہوں ، سب بھول گئی۔

کیفیت دیڑھ دن طاری رہی۔ ذہن میں جھماکا ہوا کہ خالی الذہنی میں داخل ہونے سے پہلے میں جنت کے دماغ پر تفکر کر رہی تھی جس نے ہر قسم کے زمینی دباؤ سے آزاد کیا۔ مشاہدہ ہوا کہ ذمہ داری چھوٹی ہو یا بڑی ، ذہن دباؤ سے آزاد رہنا چاہیئے۔ ذہنی دباؤ جنت کا دماغ نہیں ہے۔ جنت ایسے حواس کو نہیں جانتی جن میں دباؤ ہو۔

غور کیا جائے تو ”خیال“ ارادے کا قائم مقام ہے۔ فی زمانہ آدمی خیالات کے ہجوم میں گرفتار ہے۔ وہ ذہن کو ایسے خیال میں مصروف رکھتا ہے ۔ وہ ذہن کو ایسے خیال میں مصروف رکھتا ہے جس سے تعلق نہیں ہوتا یوں توانائی ضائع ہوتی ہے اور دنیا سے جانے کا وقت آجاتا ہے۔

باطنی علوم کے ماہرین ذہن خالی کرنے کے لئے سالکین کو ریاضت سے گزارتے ہیں جس کے بعد سالک کا ذہن ”یعنی اور لایعنی“ باتوں کو فلٹر (filter) کرنے کے قابل ہوتا ہے ، معرفت کے خیالات ذہن کا احاطہ کرتے ہیں اور تفکر زندگی بن جاتا ہے۔

ارادے سے تخلیق کس طرح ہوتی ہے، سوچ اس نقطے پر ٹھہر گئی۔ خواب میں جھلک دیکھی۔

”کسی جگہ پر کھڑی ہوں۔ ارادہ کرتی ہوں کہ سات طبق اوپر جانا ہے۔ خیال آتے ہی پرواز شروع ہوئی۔ فضا میں اڑتے ہوئے خوف محسوس ہوا مگر جلد ختم ہو گیا اور میں نے سات طبق پار کر لئے۔ سامنے گہرے سبز پتوں والا نہایت خوب صورت درخت ہے۔ درخت کی خوب صورتی میں کھو جاتی ہوں ۔ سوچتی ہوں کہ یہ پھولوں کے بغیر ہے، پھول ہونے چاہیئں۔ دائیں بائیں بازو پھیلاتے ہوئے کہتی ہوں ، اس پر پھول آجائیں۔ پھول نہیں آتے۔ حیرت ہوتی ہے کہ پھول کیوں نہیں آئے۔ اللہ کا نام لے کر کہا ، بہار کی ہوا چلے۔ اتنا کہنا تھا کہ ہوا چلی ، درخت دائیں بائیں جھومنے لگا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے سفید اور کاسنی رنگ کے چھوٹے چھوٹے حسین پھولوں سے درخت بھر گیا جیسے ہزاروں پُھلجھڑیاں ایک ساتھ جلا دی گئی ہوں۔“۔


Topics