Topics

مقداریں ۔ اکتوبر ۲۰۲۱ء

 

راہ نما کا معمول تھا کہ جب دوسرے شہر تشریف لاتے ، تین شہر میں موجود ایک گھر میں اور باقی روز خانقاہ میں قیام فرماتے تھے۔ خانقاہ مرکزی شہر سے دور تھی ، اس طرح قریب دور سب آمد سے مستفیض ہوتے۔

ایک مرتبہ قریبی شہر کے دورے پر تشریف لے گئے۔ تیسرے روز شام کے وقت واپسی ہوئی۔شہر میں جہاں قیام تھا ، وہ گھر ہائی وے سے قریب تھا۔ سب کا خیال تھا کہ وہ شہر والے گھر میں جائیں گے جب کہ دل کہہ رہا تھا کہ وہ خانقاہ تشریف لائیں گے۔

خانقاہ مرکزی شہر سے فاصلے پر ہے ۔ اس دور میں وہاں جانے والا راستہ ٹوٹا پھوٹا اور ناہموار تھا۔ سفر کی تکان کے باوجود وہ خانقاہ تشریف لائے۔

حاضرین کے دل کی کلیاں گلاب ہو گئیں۔

انہوں نے فرمایا ، میرے دماغ میں گھڑی فکس ہے۔ آج یہاں کا وقت تھا، میں یہاں آگیا۔

شام گہری ہو چکی تھی۔ ہر طرف سکوت تھا۔ وہ کمرے میں تشریف فرما تھے اور ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا۔ فرمایا، اللہ اللہ کی آواز آرہی ہے ۔ پتہ نہیں کہاں سے آرہی ہے۔ پھر خود ہی جواب دیا، روح اللہ کو یاد کر رہی ہے ۔ وہاں موجود حاضرین نے سنا کہ اللہ اللہ کی صدا آرہی ہے۔

نماز فجر کے بعد مراقبہ سے قبل یاحی یا قیوم کا اجتماعی ذکر ہوتا ۔ ذکر سے پہلے ہدایات دی جاتی ہیں کہ یکسو ہو کر ، ذکر کروانے والے کی آواز سے آواز ملا کر پڑھیں۔ ذکر میں ”یاحی “ کی تان مختصر رکھ کر دل کی طرف توجہ کر کے ردھم میں ”یا قیوم“ پڑھیں۔ قیوم کہتے ہوئے ہونٹ سیٹی کی طرح گول ہوں۔ سانس جب تک روک سکیں ”قیوم“ کو طول دیں اور ”قیوم“ کے ”م“ پر اختتام کریں ۔ یاحی یا قیوم کی ادائیگی ایک سانس میں ہونی چاہیئے۔ اس دوران میں سانس کا اخراج منہ سے ہو۔ اگر کسی کو چھینک یا کھانسی آئے ، وہ باہر تشریف لے جائے تاکہ دیگر حاضرین کی یکسوئی میں خلل نہ آئے ۔ ورد کرتے ہوئے آواز ذکر کروانے والے کی آواز سے اونچی نہ ہو۔

اجتماعی ذکر کی ایک محفل میں فرمایا،

” جب شرکا باہمی ربط ، ردھم اور خوش الحانی کے ساتھ ذکر کرتے ہیں تو گروہدر گروہ فرشتے ذکر میں شامل ہوتے ہیں۔ ذکر انفرادی ہو یا اجتماعی ، یکسوئی کی مناسبت سے فرشتے آتے ہیں۔ کبھی ایک فرشتہ آتا ہے ، کبھی پانچ ، کبھی دس اور کبھی پچاس۔ فرشتے نورانی مخلوق ہیں اور عالمِ ملکوت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے قربت سے قلب میں انوار کا ذخیرہ ہوتا ہے اور عالمِ ملکوت کا شعور حاصل ہوتا ہے۔“

یکسو ہو کر زبان سے کسی اسم کی تکرار کی جائے (معنی و مفہوم ذہن میں رکھتے ہوئے) توکان آواز کو سنتے ہیں اور قلب میں تاثر قائم ہوتا ہے۔ مشق پختہ ہو جائے تو ذکر کی بازگشت اندر میں دور کرتی ہے ، اس طرح قلب جاری ہوتا ہے۔

راہ نما نے بتایا میری اماں کو بہت شوق تھا کہ دل جاری ہو جائے ۔ ایک روز اللہ نے انعام فرمایا اور دل جاری ہو گیا۔ میں بچہ تھا، بار بار اماں کے دل سے کان لگا کر سنتا تھا۔ بالآخر میں نے بھی دل کی آواز ”اللہ اللہ“ سنی۔

قرآن کریم میں غور و فکر سے آگہی ملتی ہے کہ آواز تخلیق کی ابتدا ہے۔ کُن کی آواز وہ بساط ہے جس پر کائنات کا قیام ہے۔ اس بساط پر نہ صرف تخلیقات کی اصل قائم ہے بلکہ اس کے تحت کائنات میں تغیرات کا سلسلہ جاری ہے۔

لاشعور میں تمام سمعی ریکارڈ موجود ہے جس کی وجہ سے ہم بلی ، شیر ، آدمی ، چمگارڈر اور چڑیا وغیرہ کی آواز میں تمیز کرتے ہیں ۔ آواز کو کان کے پردے سے دماغ تک پہنچانے والا نظام معطل ہو جائے تو باہر سے آنے والی آوازیں نہیں آتیں البتہ اندورنی آوازوں کا سلسلہ جاری ہے۔

علمائے باطن فرماتے ہیں کہ اصل (مرکزی ) حس ایک ہے ، باقی حواس اس ایک حس کی ذیلی تفصیلات ہیں۔ جس طرح انسان مادی آنکھ کے بغیر دیکھ سکتا ہے ، اسی طرح قوتِ سامعہ بھی مادی وسیلے کی احتیاج سے آزاد ہے۔

سماعت جن مقداروں پر قائم ہے ، اس کی فریکوئنسی معلوم ہو جائے تو فرد مخلوقات کی آواز میں مفہوم اخذ کر سکتا ہے جیسے پیغمبر سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی آواز سنی اور باتیں کیں۔

راہ نما بر آمدے میں چند افراد کے ہمراہ ناشتہ کر رہے تھے کہ نامانوس پرندوں کا غول آیا اور دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں چکر کاٹنے لگا۔ پرندوں کی چیخ و پکار نے گویا آسمان سر پر اٹھا لیا۔ مسلسل تین آبح یہی ہوتا رہا ۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ کوئی درخواست لے کر حاضر ہوئے ہیں۔

تیسری صبح راہ نما نے پوچھا ، پرندے کیا کہتے ہیں؟ پھر خود ہی توقف کے بعد فرمایا ، احتجاج کر رہے ہیں ۔ یہ سنتے ہی پرندے خاموش ہو گئے اور وہاں سے پروز کر گئے ۔ پھر نظر نہیں آئے۔

خاموش نظر آنے والی مخلوقات جیسے درخت ، پتھر ، ذرّات ، دیوار ، چھت اور پہاڑ سب باتیں کرتی ہیں۔ لہروں کے ذریعے ہم کلام ہوتی ہیں۔ ان کی آواز کی فریکوئنسی کا علم حاصل ہو جائے تو زبان سمجھ میں آجائے گی۔

یہ آواز کی دنیا ہے۔ آواز کی بساط پر ہر شے ایک جگہ موجود ہے ۔ اندر میں کہیں سے کوئی آواز آتی ہے اور خلا میں خلا گونجتی ہے۔ وہی آواز سنائی دیتی جس طرف ذہن متوجہ ہوتا ہے۔ دیکھنے کے لئے متوجہ ضروری ہے یعنی دیکھنا اندر میں آواز سے مشروط ہے۔ ذہن کائنات میں دور کرنے والی آوازوں کی طرف مرکوز ہو جائے تو قریب دور کا فرق ۔ فرق نہیں رہے گا۔

تقریباً 18 سال پہلے مجھے گھنٹیوں کی آواز سنائی دیتی تھی۔ ایک روز کالج سے گھر آئی تو کانوں میں جلترنگ ہوئی۔ آواز کا ماخذ تلاش کرنے کمرے سے باہر آئی۔ باہر خاموشی تھی ۔ اتنی مدہم اور میٹھی آوازیں تھیں کہ بیان سے باہر ہے۔ لگتا تھا کہ ہر شے گھنٹی کی صدا میں گم ہے۔

یکا یک احساس ہوا کہ آواز اندر میں سے آرہی ہے ۔ میں بیٹھ گئی اور خود کو آواز کے سپرد کر دیا۔ حواس پر خمار طاری تھا۔ آہستہ آہستہ آواز مدہم ہو کر معدوم ہو گئی۔

اکثر ایسا ہونے لگا ۔ گھنٹی بجنے سے کچھ دیر قبل اطلاع ملتی تھی۔ وقت اور دن کا حساب نہیں تھا۔ آواز اچانک آتی، کبھی سڑک پر چلتے ہوئے کبھی گھر میں۔ پیغام کیا تھا، سمجھ نہیں سکی ۔ اتنا ضرور ہوا کہ قوت ِ سماعت تیز ہو گئی ۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ گھنٹی کی صدا جیسے مجھ سے روٹھ گئی ہو۔

سوچتی ہوں کہ راہ نما سے ذکر کیوں نہیں کیا۔ دراصل جب ان سے ملاقات ہوتی ہے ، ہر بات کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے ، کچھ یاد نہیں رہتا۔

سالک منزل کی جانب قدم بڑھاتا ہے تو استاد کی آواز راہ نمائی کرتی ہے اور آگہی کے راستے کھلتے ہیں ۔ باطن کو نظر انداز کرنے والا شخص روحانی استاد کی آواز سے مستفیض نہیں ہوتا کیوں کہ استاد باطن کی جانب راہ نمائی کرتا ہے۔

ایک روز اطلاع آئی کہ رات کی آواز سنو۔ میں نے رات کو جاگنے کا عزم کیا۔

آدھی رات گزرنے کے بعد گہری خاموشی میں سماعت کی حد (رینج) بڑھی اور میں نے سنا کہ فلاں گھر سے ڈراما یا فلم اور کسی گھر سے لڑائی جھگڑے کی آوازیں آرہی ہیں۔ میں چونک گئی کیوں کہ یہاں تو دن کے اوقات میں آس پاس سے آوازیں نہیں آتیں۔

رات کی اصل آواز کیا ہے، میں نہیں سن سکی۔ البتہ رات نے پیغام دیا کہ جن لوگوں نے فکشن کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ، ان کے حواس پر غیر حقیقی طرز فکر غالب ہے۔ ڈرامے کی آواز سے یہ مفہوم اخذ کیا کہ ہم سب اپنی خود ساختہ دنیا میں مگن ہیں اور ذہن کے دیکھنے کو دیکھ رہے ہیں۔ لڑائی جھگڑوں کی آواز میں مفہوم تھا کہ ہم اپنے آپ ، عزیز و اقارب اور لوگوں کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں حالاں کہ ہم چاہیں تو خوشی کی آبیاری کر سکتے ہیں۔

ایک خاتون نے بچوں کے مسائل بیان کئے تو انہوں نے فرمایا ، اپنے اور بچوں کے اوقات کار درست کیجئے ۔ رات کو جلدی سونا چاہیئے اور صبح سویرے بیدار ہوں۔

خاتون نے عرض کیا، بچے جلدی نہیں سوتے۔

پوچھا، اتنی دیر جاگ کر کیا کرتے ہیں؟

خاتون نے بتایا ، انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں۔

فرمایا ، جب کسی شے کا غلط استعمال ہوتا ہے تو غلط طرز عم کی لہروں سے زمینی وباؤں اور آسمانی آفات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔


Topics