Topics
رات کا آخری پہر اختتام پذیر تھا۔ میں نے ایک بار پھر
پکارا، اے خانقاہ کی حسین رات!
قدرت مجھے فقیر کے در پر لائی ہے جو میرے حواس کو تیرے
حواس سے ہم آغوش کر کے شعور کے لیے بند راستے کھولے گا اور میری ویران راتوں کو
اللہ کی یاد سے آباد کر دے گا۔
یہ سن کر رات شبنم بنی اور شبنم ماحول کے پیراہن میں
جذب ہو گئی۔
بھائی میرے ساتھ جاگ رہا تھا۔ رات نے اس پر کیا راز
افشا کیے، میں نہیں جانتی البتہ خاموشی بتا رہی تھی کہ شب نے اسے بھی بیدار کیا
ہے۔
صبح کی روشنی پھوٹتے ہی سورج کی کرنیں اس خطۂ زمین پر
ایسے نچھاور ہوئیں جیسے ہر طرف سونا بکھر گیا ہو۔ رات کی چاندنی سنہری چادر میں
تبدیل ہو گئی۔ کچھ دیر میں سنہری پردہ چاک ہوا تو ہنستے مسکراتے ہزار ہا رنگ
پھولوں کے چہرے نمایاں ہو گئے۔ جا بجا پھولوں سے بھرے ہوئے پودے تھے جیسے پھولوں
کی ٹوکریاں نفاست سے رکھی ہوئی ہوں۔ فضا خوشبو سے مسحور تھی۔
فجر کی اذان ہوتے ہی میں نے وضو کر کے نماز پڑھی۔ راہ
نما کی ہدایت کے مطابق نماز میں پڑھی جانے والی سورتوں کا ترجمہ پہلے سے یاد کر
لیا تھا جس سے یکسوئی قائم ہوئی۔
نمازِ فجر کے بعد ایک بار پھر باغ میں آئی۔ مسحور کن
فضا میں مخملی گھاس کے قالین پہ پیر رکھتے ہی محسوس ہوا کہ جسم لطیف ہو کر خود
بخود آگے بڑھ رہا ہے یا زمین پیروں سے لپٹ کر مجھے دھکیل رہی ہے۔ ہر منظر اور
احساس میں فطرت کے قوانین تھے۔ میرے چاروں طرف درخت، درختوں کے نیچے کیاریاں اور
کیاریوں میں قسم قسم کے پھول تھے۔ بعض درختوں کی شاخیں پھلوں کی کثرت سے جھکی ہوئی
تھیں جب کہ ڈالیوں پر خوش رنگ پرندے صبح کا گیت گا رہے تھے۔
گھاس پر چیکو کا دانہ ملا جو پک کر درخت سے گرا تھا۔
اٹھا کر کھایا۔ مٹھاس سے بھرپور تھا۔ آگے بڑھی تو عنابی رنگ دانے فرش پر جا بجا
بکھرے ہوئے تھے۔ پتہ نہیں کون سا پھل تھا۔ چکھا تو نرم تھا اور مزے میں خوش
ذائقہ۔۔۔ ترش کی آمیزش بھی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ بادام کا درخت ہے۔ گٹھلی توڑنے
سے سفید رنگ بادام نکلتا ہے جو ذائقے میں عام بادام سے مختلف اور نرم ہے۔
سیر کے دوران کبھی روپہلی دھوپ چھا جاتی، کبھی بادل
سایہ بن کر گزرتے۔ ہواؤں میں مستی سے درختوں کی شاخیں دل نشین انداز میں ایسے جھک
جاتیں جیسے آنے والوں کو خوش آمدید کہہ رہی ہوں۔ تتلیاں پھولوں کے ساتھ اٹکھیلیوں
میں مصروف تھیں۔ ہاتھ بڑھا کر ایک تتلی پکڑی۔ رنگین پروں کا ریشمی لمس محسوس کیا
تو خدشہ ہوا کہ کہیں زخمی نہ ہو جائے، فوراً چھوڑ دی۔ وہ قریب پھول پر جا بیٹھی
اور میں مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ لگتا تھا کہ پودے، درخت اور پھل یہاں کی مٹی
میں نمو کے لیے بے تاب ہیں۔ اللہ والے جہاں ڈیرا ڈالتے ہیں، وہاں کی مٹی، فضا اور
ان میں بسنے والی مخلوقات خوشبو محسوس کر لیتی ہیں۔
حضرت علامہ اقبالؔ کے اشعار ذہن میں آئے،
تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت
فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
ترستی ہے نِگاہِ نارسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے انہی خلوت گزینوں میں
خانقاہ میں وسیع و عریض برآمدے کے ساتھ دو منزلہ
خوبصورت عمارت ہے جس میں متعدد کمرے ہیں۔ ان کمروں میں دفاتر ہیں۔ کچھ کمرے علاج
معالجے اور کچھ مطالعہ و تحقیق کے لیے مختص ہیں۔ میں اس عمارت کے سامنے سے ایسے
گزری جیسے برسوں کا سفر لمحوں میں طے کیا ہو۔
عمارت کے ایک جانب خوب صورت چھت والے مستطیل کمرے کی
اپنی روحانی اہمیت ہے۔ پتہ چلا کہ برسوں پہلے جب یہ جگہ جنگل تھی اور آس پاس آبادی
کا نام و نشان نہیں تھا، تب اللہ کے دوست نے اس مقام پر جھونپڑی تعمیر کر کے
خانقاہ کی بنیاد رکھی۔
اس مقام کی وسعت پر حیرت ہوئی۔ جتنے لوگ سما جائیں،
تنگی کا احساس نہیں ہوتا۔ لگتا ہے کہ زمین نے اس خطے پر اپنا باطنی رخ ظاہر کر دیا
ہے۔ یہاں آنے والے خواتین و حضرات اللہ کی محبت میں ڈوب جاتے ہیں۔ الحمد اللہ اس
صحت بخش فضا میں زندگی کے تمام وسائل موجود ہیں۔ میں نے یہاں برکت کا مشاہدہ کیا۔
دنیا میں جنت کی یادگاریں ہیں اور دوزخ کے طبقات کی
نشانیاں بھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زمین کی سیر کا حکم دیا ہے تاکہ ہم
زمانے کے آثار و احوال سے سبق سیکھیں۔
”ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے
والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔“ (الانعام : ۱۰)
میں نے زندگی کا کچھ عرصہ سلطنتِ عمان میں گزارا ہے۔
وہاں قیام کے دوران تاریخی مقامات کی سیر کی۔ ان میں سے کئی جائے عبرت ہیں۔
عمان میں ایک علاقہ تنوف (کھنڈرات) ہے جو دو شہروں نزوا
اور بہلا کے درمیان واقع ہے۔ تنوف تازہ پانی کے جھرنوں کے ساتھ کھنڈرات (اطلال
تنوف) کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہاں پر تباہی کے آثار اور ویرانی دیکھ کر رونگٹے کھڑے
ہو گئے۔ البتہ آثار بتا رہے تھے کہ یہ عمارتیں اپنے زمانے میں طرزِ تعمیر کا عظیم
شاہکار ہوں گی۔
یہاں شمالی مہرہ کے ریت کے تودوں میں، شہر ”ارم ذات
العماد“ اور اس کے قرب و جوار کے علاقے دبے ہوئے ہیں۔ یہ حضرت ہودؑ کی قومِ عاد
تھی۔ قومِ عاد کو قومِ ارم بھی کہتے ہیں۔ وادیِ برہوت کا رتیلا میدان شمالی مہرہ
سے ہوتا ہوا عمان سے جا ملتا ہے۔ تصور کیجیے کہ ریت کے اس وسیع و عریض سمندر میں
قومِ عاد کا وہ شہر دبا ہوا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں،
”تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا،
اونچے ستونوں والے عادِ ارم کے ساتھ۔ جن کی مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا
نہیں کی گئی۔“ (الفجر : ۶۔۸)
یہ جگہ اب وسیع و عریض صحرا ہے جسے احقاف کہتے ہیں۔
احقاف حقف کی جمع ہے۔ لغوی معنی ”ریت کے بلند و بالا ٹیلے“ کے ہیں۔ عبرت ناک مقام
پر باریک ریت کے ہزاروں فٹ اونچے تہہ بہ تہہ پہاڑ ہیں۔ عذاب سے متاثر اس وادی میں
کتنی وحشت ہے، اندازہ یہاں آ کر ہی ہو سکتا ہے۔ اہلِ دنیا کے لیے یہ مقام نشانی ہے
کہ جب قومیں نافرمان ہو جاتی ہیں تو ان کی تعمیر کردہ عظیم الشان عمارتیں ہی ان کا
مدفن بن جاتی ہیں۔ بھیانک وادی کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی زمانے میں یہ
دنیا کا سب سے زیادہ سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں پھلوں اور پھولوں کے وسیع
باغات، ٹھنڈے پانی کے چشمے، آبشاریں اور بلند و بالا عمارتیں تھیں، مالدار، طاقتور
اور شاندار تمدن رکھنے والی قوم آباد تھی۔ ان کی معاشی حالت مستحکم تھی مگر جہالت،
باطل اقوال، فاسد خیالات اور اعمالِ بد نے ان کو تباہ کر دیا اور وہ تاابد عبرت کا
نمونہ بن گئیں۔
وادی کو دیکھتے ہی مجھ پر لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ زبان
خاموش تھی مگر قلب کلمہ طیبہ کا ورد کر رہا تھا۔ احساس ہوا کہ جب پیغمبرانِ کرام
نے اپنی قوم کی تباہی دیکھی ہوگی تو کتنا درد محسوس کیا ہوگا۔ یہ سوچ کر دل بھر
آیا۔
آج اللہ کے دوست کی جائے مسکن کی سیر کے دوران کیسی
کیسی لطیف کیفیات کا ادراک ہوا، ساتھ ہی صدیوں پرانے عبرت ناک مناظر یاد آ گئے۔ دل
اظہارِ تشکر کے جذبے سے بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے
ایک دوست سے ملایا اور ان پر اپنی بے پناہ رحمت کا مشاہدہ بھی کروایا۔
پھر دیگر مصروفیات میں دن گزر گیا۔
اگلی صبح نمازِ فجر کے بعد راہ نما نے اجتماعی طور پر
یاحی یا قیوم کا ذکر کروایا۔ پھر مراقبہ ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے حاضرین سے مختصر
خطاب فرمایا۔ میں نے جلدی سے پرس سے ڈائری اور قلم نکالا اور لکھنا شروع کیا۔
انہوں نے فرمایا:
”قانون یہ ہے کہ جس طرح حقیقت دماغ کی اسکرین پر منتقل
ہوتی ہے اسی طرح فکشن حواس بھی دماغ کی اسکرین پر منتقل ہوتے ہیں۔ بات صرف اتنی ہے
کہ فکشن حواس کی منتقلی ہمیں پابندِ حواس میں قید رکھتی ہے اور غیر فکشن حواس کی
منتقلی ہمیں آزاد دنیا سے روشناس کراتی ہے۔ روحانی سلاسل کے اسباق، قواعد و ضوابط،
ذکر و فکر، اعمال و اشغال، تفکر، مراقبہ اور تصورِ شیخ کو بنظرِ غائر دیکھا جائے
تو ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ کسی ایک ہستی کو مرکزیت بنا کر بار بار دماغ کی
اسکرین پر منتقل کیا جاتا ہے۔ جتنا زیادہ ایک خیال یا ایک مرکزیت دماغ کی اسکرین
پر منعکس ہوتی ہے اسی مناسبت سے دماغ میں مخصوص پیٹرن بن جاتا ہے اور یہی پیٹرن
تصوف کی اصطلاح میں طرزِ فکر ہے۔ ہم جب استاد، پیر و مرشد یا شیخ کے اندر کام کرنے
والی روشنیاں ہمارے دماغ پر وارد ہوتی ہیں اور دماغ ان روشنیوں کو قبول کرتا ہے،
اس جہدِ مسلسل سے مرکزیت کا حصول نسبت ہے۔ روحانیت میں نسبت حاصل کرنے کا اہم
ذریعہ محبت و عشق کی لہریں ہیں۔ جس مناسبت سے لہریں دماغ میں جذب ہوتی ہیں اسی
مناسبت سے ذہن منتقل ہوتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ شیخ کے اندر کام کرنے
والی روشنیاں سالک میں منتقل ہو جاتی ہیں۔“
خطاب میں بظاہر ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ مجھے رونا
آئے لیکن آنسو مسلسل گر رہے تھے۔ خیال نے کہا کہ یہ نورانی الفاظ کی تاثیر ہے۔
جو کچھ فرمایا تھا، دن میں کئی بار پڑھا اور غور کیا۔
الفاظ کہہ رہے تھے کہ ہم جن باتوں، اشیا اور افراد میں دلچسپی لیتے ہیں، ان سے
نسبت قائم ہو جاتی ہے اور غیر محسوس طریقے سے ان کی روشنیاں ہمیں منتقل ہوتی ہیں۔
ان الفاظ کی روشنی میں اپنی زندگی کا جائزہ لیا اور آئندہ زندگی کا لائحہ عمل طے
کیا۔
تین دن گزر گئے۔ آج ہماری واپسی تھی۔ شعور اور لاشعور
گلے مل رہے تھے۔ ایک طرف لگتا تھا یہاں برسوں گزار دیے ہیں تو دوسری طرف محسوس ہوا
کہ ابھی آئی تھی اور ابھی چل دی۔ دل اداس تھا مگر خوشی اس بات کی تھی کہ نسبت قائم
ہوئی ہے۔ میں نے یہاں قیام کے دوران تین دن رات اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کیا
اور روح کو سرشار پایا۔ راہ نما نے ہماری توجہ اس جانب مبذول کی کہ دنیا مسافر
خانہ ہے۔ جس مقام پر رہو، اللہ کی یاد دل میں بسا لو، دل آباد رہے گا۔
جانے سے پہلے ہماری ان سے ملاقات ہوئی۔ مہربان راہ نما
نے ہم بھائی بہن کو زادِ راہ دیتے ہوئے فرمایا، کھاتے پیتے ہوئے جانا۔
پھر شفقت سے سر پر ہاتھ رکھ کر ہمیں دعائیں دیں اور
فرمایا، سب کو میری طرف سے دعا اور سلام کہنا۔
(قسط:
۵)