Topics
حیات آغاز سے انجام تک خیال پر قائم
ہے۔ آدمی خیال کے ارتعاش کو جس حد تک محسوس کرتا ہے، وہ اس کا مشاہدہ بن جاتا ہے۔
خیال خالص ہو یا اس میں تحریف کر دی
گئی ہو، یہ وہ کرنٹ یا قوت ہے جو فرد کے اندر جاری ارتعاش کو اپنے سانچے میں ڈھال
لیتا ہے۔ خیال ایک مکمل علم ہے اور علوم کے مظاہرے کا میڈیم بھی ۔ حقیقت تک رسائی
، کلامِ الٰہی کی لطافت اور گہرائی کا فہم اس امر پر منحصر ہے کہ فرد خیال کے علم
سے کتنا واقف ہے۔ ذہن نشین رہے کہ خیال کا عکس ہو بہو اس دماغ پر جگمگاتا ہے جس
میں پہلے سے کوئی چھاپ نہ ہو۔ بزرگ راہ نما کی بات یاد آئی۔ انہوں نے ایک مرتبہ
فرمایا،
”میری سلیٹ خالی تھی ، مرشد نے جو کہا
، اس پر نقش ہو گیا۔“
خیال سے جو مفہوم اخذ کیا جاتا ہے ، وہی مشاہدہ
بنتا ہے اور مشاہدہ نقش ہے ۔ اگر مفہوم لاشعور کے مطابق نہ ہو تو مشاہدہ معتبر
نہیں۔
روحانی استاد سکھاتے ہیں کہ ہر حال اور
ہر قال میں قلب کی اسکرین کو الوژن سے پاک رکھو۔ طریقہ یہ ہے کہ قلب استاد کی جانب
متوجہ رہے۔ استاد کا قلب اللہ کی نشانیوں میں مرکوز ہوتا ہے۔ ذہن ہم رنگ ہونے سے
استاد کی طرز فکر سالک کو منتقل ہوتی ہے اور وہ نسبت ملتی ہے جو علمِ حضوری کے لئے
ضروری ہے۔
ایک روز بزرگ راہ نما وضو کر کے اٹھے
تو خود کلامی کے انداز میں گویا ہوئے،
” کوئی نہیں پوچھتا کہ بھائی ، کون ہو
تم۔“
برسوں پہلے سنے گئے اس جملے کی آج بھی
اندر گونج ہوتی ہے۔
ایک صاحب کو دفتر میں سنگین صورتِ حال
کا سامنا ہوا ۔ وہ حاضر ہوئے تو راہ نما نے حل تجویز کرنے کے ساتھ فرمایا ،
”ایسا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ پیش آتا
ہے جن کی پیدائش کےوقت والدہ بیمار ہوں۔“
بات میرے علم میں آئی تو میں ششدر رہ
گئی کیوں کہ میری پیدائش کے فوراً بعد والدہ بیمار ہو گئی تھیں ، ان کو فالج ہوا
تھا۔
ایسے واقعات بھی ہیں کہ کوئی بیماری کی
سختی سے گزرا تو بزرگ راہ نما نے علمِ رُویا کے تحت خواب میں آکر مسیحائی فرمائی
اور مریض شفا یاب ہوا۔ ان تجربات سے گزرنے والوں کے اندر یقین کا پیٹرن متحرک ہو
جاتا ہے۔
پاکیزہ نفوس کا فیض کسی مخصوص فرد یا
خطے کی جغرافیائی حدود کا پابند نہیں ، ہر فرد اور مخلوق اس سے فیض یاب ہو سکتی
اور ہوتی ہے۔
علمِ حضوری کے حامل خواتین و حضرات
کوئی وظیفہ تجویز کرتے ہیں تو اسے پڑھنے سے اندر میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے جو
مقداروں کی کمی بیشی کو متوازن کر کے مسائل کو بخوبی حل کرنے کا یقین پیدا کر تا
ہے ۔ یقین سے منزل تک جانے کے راستے کھلتے ہیں اور ذہن اس قابل ہو جاتا ہے کہ شعور
، لاشعور کا پرنٹ قبول کرے۔
خانقاہ میں مرکزی تقریب تھی۔ خدمات پیش
کرنے والوں کی فہرست میں میرا نام بھی تھا۔ یہ میری پہلی ڈیوٹی تھی۔ راہ نما سے ملاقات
ہوئی تو دیکھتے ہی فرمایا، آپ مالی بابا کے پاس جائیں اور ان کے ساتھ مل کر
باغبانی کا کام انجام دیں۔
ڈیوٹی کا تعین ہوتے ہی محسوس ہوا کہ
عمل کا میدان کشادہ کر دیا گیا ہے ۔ مالی بابا کے ساتھ کام کرنے بیٹھی تو انہوں نے
بتایا کہ جب میں نے یہاں باغ بانی شروع کی تو راہ نما نے مجھ سے کہا ،
” گملے ترتیب سے لگانے کے بعد پودوں کو
پانی دیتے وقت تصور کریں کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے ۔ خیال رہے کہ ہر پودا ایک
شعور ہے اور آپ ان کے شعور سے سیراب ہو رہے ہیں۔“
کام کے دوران گفتگو سے اجتناب کا حکم
تھا۔
مالی بابا باغبانی میں مصروف ہو گئے
اور میں یہ سوچ کر مسکرا دی کہ خانقاہ کے گوشے گوشے میں علم کا دریا بہہ رہا ہے ۔
میں نے بھی حکم کی تعمیل کی۔ لطیف احساسات کا مشاہدہ ہوا۔
کام مکمل ہونے پر میں نے سمجھا کہ
ڈیوٹی ختم ہو گئی ہے، دوسرے شعبے میں خدمات انجام دینے ورکشاپ کمیٹی کے دفتر پہنچی
تو انہوں نے مجھے اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا اور ایک کارڈ دیا جسے میں نے گلے میں
ڈال لیا۔
وہاں سے واپسی پر ایک مرتبہ پھر راہ
نما سے ملاقات ہوئی۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی فرمایا،
آپ کیا بن گئیں؟
یہ فرما کر وہ آگے بڑھ گئے۔
میں وہیں کھڑی رہ گئی۔
دل نے کہا ، تم یہاں کچھ بننے نہیں آئی
تھیں۔ تمہارا مقصد صرف تعمیلِ حکم ہے۔
گلے میں پڑا کاغذی کارڈ مجھے منوں وزنی
محسوس ہوا جسے میں نے فوراً اتار دیا۔
باغبانی اور روحانی ورکشاپ ، دونوں کام
ایک ہی تقریب کی تیاری سے متعلق تھے لیکن یہاں تعمیلِ حکم کی اہمیت تھی کہ ڈیوٹی
براہِ راست ملی ، وہ چھوڑ کر دوسری جگہ کیوں گئی۔
دل بھاری ہو گیا۔
فوراً جا کر ورک شاپ کمیٹی کو کارڈ
واپس کیا اور باغبانی کا کارڈ گلے میں ڈالا مگر دل پر اب بھی بوجھ تھا ۔ چاہتی تھی
استادِ محترم دیکھ لیں کہ میں اپنی ڈیوٹی پر لوٹ آئی ہوں ۔ خواہش پوری ہوئی اور
ہجوم کے باوجود دوبارہ ملاقات ہوگئی۔
میرے گلے میں باغبانی کمیٹی سے منسلک
کارڈ دیکھ کر تبسم فرماتے ہوئے کہا،
اب ٹھیک ہے۔
سوچتی ہوں کہ قدرت کتنی فیاض ہے۔ آدمی
کو غلطی کی تلافی کے مواقع فراہم کرتی ہے ورنہ احساس ِ جرم سوہانِ روح بن جاتا ہے۔
راہ نما خیال کے ذریعے طالب علموں کو
تربیتی مراحل سے گزارتے ہیں۔ ہم ان کی مرضی میں اپنی مرضی شامل کر کے اپنے لئے
مشکلات جمع کر لیتے ہیں ۔ انحراف کی صورت میں اندر میں لطیف ارتعاش (ضمیر) خبردار
کرتا ہے جسے ہم وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں جب کہ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ
ارتعاش کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے ۔ کوئی ہے جو ہمیں غلطی کا احساس دلا رہا
ہے۔
جب میں چھوٹی تھی تو خواب دیکھا تھا کہ اپنے
کمرے میں محوِ استراحت ہوں، چاند کی کرنیں
ہر سو پھیلی ہوئی ہیں۔ غیب
سے ڈھیروں ڈھیر کتابیں آرہی ہیں اور بستر کے قریب پانچ سے چھ فٹ اونچی کتابوں کی
دیوار بن رہی ہے۔
یہ منظر دیکھ کر دہشت طاری ہوئی اور
میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ پیشانی پر پسینے کے قطرے تھے۔
سال ہا سال خواب یاد آتا رہا ۔ سوچتی
تھی کہ کتابیں تو علم ہیں ۔ کوئی علم سے بھی ڈرتا ہے؟ میں خوفزدہ کیوں ہوئی؟
جن دنوں قوتِ مشاہدہ پر غور و فکر جاری
تھا، عقدہ کھلا کہ جس زمانے میں خواب دیکھا تھا، میرا ناپختہ شعور علم کا ارتعاش
برداشت نہ کر سکا۔ ننھا بچہ اخبار کے صفحے پلٹنے سے ڈر جاتا ہے ، میں بھی ڈر گئی
تھی ۔ جب علم کی پیاس بڑھی تو تشنگی دور کرنے کے لئے اللہ نے وسیلہ بنا دیا۔
مرید جب مراد کا تصور کرتا ہے تو یاد
کرنے کو اپنا فعل سمجھتا ہے حالاں کہ وہ حصار میں ہوتا ہے۔ ایک صاحب موٹر سائیکل
پر جا رہے تھے۔ رفتار تیز تھی۔ ٹرک ان کے اوپر سے گزر گیا۔ لوگ جمع ہوئے اور شور
مچ گیا۔۔ مر گیا ، مر گیا۔ ٹرک گزر گیا تو
دیکھنے والوں نے دیکھا کہ موٹر سائیکل زمین پر پڑی ہے اور سوار اپنے کپڑے جھاڑ
رہا ہے ، ایک خراش نہیں تھی۔
لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔
یہ صاحب راہ نما سے ملنے خانقاہ جا رہے
تھے ۔ خانقاہ پہنچنے پر راہ نما کو دروازے پر موجود پایا۔
فرمایا ، گاڑی آئندہ احتیاط سے چلانا۔
روحانی استاد اپنے شاگردوں کو خطرات سے
بچاتے ہیں اور کوتاہیوں کی نشاند ہی فرماتے ہیں۔ جب شاگرد یہ محسوس کرتا ہے کہ اس
کی نگرانی ہو رہی ہے تو ذہن نقصان پہنچانے والی عادتوں سے دور ہو جاتا ہے۔
میرے والد صاحب انہیں غریق ِ رحمت
فرمائے ، اکثر جھوم جھوم کر یہ شعر پڑھتے تھے۔
سبھی پھل درختیں لگدے کچے ہون یا پکے
پیر مرید سے سر اُتے رہندا جھوٹے ہون
یا سچے
ترجمہ : کچے پکے سارے پھل درخت پر لگتے ہیں ۔ پیر درخت
کی مانند ہے ۔ وہ مرید کی نگرانی کرتا ہے ، چاہے مرید پھل کی طرح کچا ہو یا پکا۔
کچھ خواتین و حضرات اپنے یقین کے لئے
اللہ کے دوستوں کو آزماتے ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ آزمانے کے خیال کی وجہ شک ہے
اور شک بھول بھلیوں کا راستہ ہے۔
ایک صاحبہ سے ان کے نانا جان نے پوچھا
، کیا تمہارے راہ نما میرے بارے میں جانتے
ہیں؟
ان صاحبہ نے اٹھلاتے ہوئے کہا، وہ
ہمارے دوستوں کے دوستوں کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ اس مناسبت سے وہ آپ کے بارے میں
ضرور جانتے ہیں۔ نانا خاموش ہو گئے۔
صبح خوشی خوشی نانا کو خواب سناتے ہوئے
کہا کہ راہ نما نے آپ کا نام لیا لیکن آخری حصہ آپ کے نام سے مختلف تھا۔
خواب سن کر نانا چونک گئے پھر کھوئے
ہوئے انداز میں جواب دیا ، بیٹی! دراصل نام کا آخری حصہ وہ ہے جو میری پیدائش کے
بعد بننے والی پہلی پرچی پر لکھا گیا ۔ بعد میں نام کا یہ حصہ بدل دیا گیا ۔ اللہ
کے دوستوں کے کسی عمل کو غلط نہ سمجھنا ورنہ یقین ، بے یقین ہو جائے گا۔
روحانی بندے سے بات کر کے سکون ملتا ہے
کیوں کہ وہ مخاطب کے ان تاروں کو تحریک دیتا
ہے جن کا براہ راست تعلق قلب سے ہے۔
ایک وقت تھا کہ ہم نا قابلِ تذکرہ شے
تھے۔ عالمِ ارواح میں روح پھونکنے کے عمل سے قابلِ تذکرہ ہوئے مگر جنت میں
نافرمانی سے پھر نا قابلِ تذکرہ ہو گئے۔ جب تک آدمی اپنی حقیقی شناخت سے واقف نہیں
ہوتا ، وہ ظالم اور جاہل ہے۔
” ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین
اور پہاڑوں کو پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے مگر
انسان نے اسے اٹھا لیا ۔ بے شک وہ ظالم اور جاہل ہے۔“ (الاحزاب : ۷۲)
خود شناسی کا مطلب قابلِ تذکرہ ہونا ہے
اور خود سے واقفیت ایسی ہستی کی نگرانی میں ہوتی ہے جو اللہ کے حکم سے فی الارضِ
خلیفہ کے منصب اور اس نظام سے متعلق امور سے واقف ہوتا ہے۔ جس طرح قطرۂ آب کے بغیر
سیپ کے اندر سچے موتی کی نشونما نہیں ہوتی، اسی طرح راہ نما کے بغیر آدمی اندر میں
جوہر سے واقف نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے،
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، تقویٰ
اختیار کرو اور اس تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو۔“
(المائدہ : ۳۵)