Topics
تحقیق، تلاش اور تفکر راہ نما کی سوچ میں
داخل ہیں۔ وہ تجربے اور مشاہدے کے قائل ہیں۔ فرماتے ہیں کہ جو کہتا ہوں، گھر جا کر
اس کا تجربہ کرو۔ بیج کے بارے میں پڑھا ہے تو بیج کھول کر دیکھو۔ کششِ ثقل کو
سمجھنا ہے تو زمین سے اگنے والی ہر شے کی نشوونما پر نظر رکھو، پرندوں کی اڑان کے
زاویے دیکھو، قدموں کے درمیان زمین کے لپٹنے کا مشاہدہ کرو، دو اشیا کے ملاپ سے
تیسری شے کا ظاہر ہونا دیکھو جیسے پانی اور مٹی کے ملاپ سے گارا بننا، پھونک اور
خول کے یکجان ہونے سے رسیلی دھنوں کا ظاہر ہونا، پتّی اور پانی ملنے سے پانی کا
رنگ بدلنا۔ ہر ظاہر شے دو اشیا کا ملاپ ہے تو پھر مظاہرہ کیا ہے؟ یہ سوال و نکات
نہیں، اندر میں آوازیں ہیں جو کائنات کی تسخیر کا دروازہ کھولتی ہیں۔
برسوں پہلے علم دوست ہستی نے خانقاہ کے
باغ میں جدّت پیدا کی۔ پیوند کاری کے ذریعے پھلوں کے مختلف درخت لگوائے اور نئی
اقسام دریافت کیں۔ اس وقت میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں تنوّع (بوقلمونی،
قسم قسم کا ہونا، نیا پن، جدت) رکھا ہے تاکہ نوعِ انسان تفکر اور تجربات کر کے
اللہ کی قدرت اور تخلیقات کے ان پہلوؤں سے واقف ہو جو عام آدمی کی نظر سے مخفی
ہیں۔ زمین اور بیج کے ملاپ سے نئی صورت کا ظاہر ہونا بھی تنوّع ہے۔ راہ نما نے
احساس بیدار کیا کہ زمین جس کی سطح پر ہم رہتے ہیں، خلائے بسیط میں تیر رہی ہے اور
کائنات کا حصہ ہے، کائنات متنوّع لیبارٹری ہے جس کی ہر اسپیس رصد گاہ ہے اور ہر
منظر تجرباتی زمین۔ اس نظام کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے ہوش مند اور بیدار ذہن
درکار ہے۔
”آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات
اور دن کے باری باری سے آنے میں اولی الالباب کے لیے نشانیاں ہیں جو اٹھتے، بیٹھتے
اور لیٹتے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی ساخت میں غورو
فکر کرتے ہیں کہ پروردگار! یہ سب تو نے بے مقصد نہیں بنایا۔“ (آل عمران : ۱۹۰۔۱۹۱)
عالمِ ناسوت میں جسم، ذہن، لباس، غذا،
رہن سہن اور موسمیات و ماحولیات میں تغیر ہوتا رہتا ہے۔ ہم تغیرات میں سانس لیتے
ہیں اور رد و بدل کا مظاہرہ دیکھتے ہیں۔ رد و بدل کیا ہے؟ تنوع ہے، بوقلمونی ہے،
رنگ میں سے رنگ ظاہر ہونا ہے۔ غور کیا جائے کہ جب دو اشیا کے ملنے سے تنوّع یعنی
جدّت ہوتی ہے تو اس کا اثر کائنات کی تمام تخلیقات پر ہوتا ہے۔ ایک بار بہت تیز
ہوائیں چلیں تو ابدالِ حق نے فرمایا، ”ضرور کسی عالم میں طوفان آیا ہے۔“ طوفان
درجہ بہ درجہ مخفی تحریکات کے نتیجے میں اچانک رونما ہونے والا عمل ہے۔ راہ نما
فرماتے ہیں، ”طوفان کے سامنے بے خوف ڈٹے رہنے والے کو طوفان کی طاقت منتقل ہوتی
ہے۔“ ایسا فرد ہر تبدیلی کو قبول کرنے کی قوت اور سکت رکھتا ہے یہاں تک کہ حیات کی
سب سے بڑی حقیقت موت کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ تخلیقی نظام میں ہر
لمحہ تغیر ہے۔
راہ نما مثالوں اور مشقوں سے جدّت پسندی
کی ترغیب دیتے ہیں اور نظامِ کائنات میں تفکر کا احساس بیدار کرتے ہیں۔ ایک بصیرت
آموز گفتگو کا مفہوم قارئین کے ذوق کی نذر ہے: ”باغ کی سیر کرنے والے یہ تو کہتے
ہیں کہ ہم باغ میں گئے لیکن فی الواقع باغ کیا ہے، اس پر غور نہیں کرتے۔ حیات کی
ابتدا اور انتہا پانی پر قائم ہے لیکن نہیں معلوم کہ پانی کیا ہے؟ آئینے کے سامنے
خود کو اپنے مقابل دیکھ کر سوچتے نہیں کہ آئینے میں کون سی صلاحیت ہے کہ یکلخت
ہماری فوٹو کاپی بنا دی؟ رمز سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ فوٹو کاپی الٹی کیوں نظر
آتی؟ آسمان، زمین کی چھت ہے۔ شب و روز کی ہمراہی کے باوجود ہم اس سے ناواقف ہیں۔
سورج، چاند اور ستاروں کے نقش و نگار پکارتے ہیں کہ ہمیں مسخر کیا جائے لیکن نہ ہم
ان کی پکار سنتے ہیں اور نہ ان سے ذہنی اور فکری مطابقت قائم کرتے ہیں۔“
انفرادی اور اجتماعی سطح پر بے مقصد
زندگی زوال ہے۔ دورِ حاضر کی سبک رَو زندگی میں ذہن کو پے در پے بدلتی ہوئی تصاویر
دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے۔ غورو فکر سے عاری ذہن الوژن (فریبِ نظر) کی آبیاری کی
اسکرین ہے جس پر ایک تصویر بنتی نہیں کہ دوسری آ موجود ہوتی ہے۔ ابھی درخت کے نقش
تھے کہ نہ جانے کہاں سے پہاڑ آ گیا۔
توجیہہ: پہاڑ اور درخت دو الگ وجود ہیں۔
درخت کو پہاڑ اور پہاڑ کے نقوش کو درخت میں بدلتا ہوا دیکھنا پُر فریب طرزِ فکر
ہے۔ پہاڑ، پہاڑ نظر آنا چاہیے اور درخت، درخت، لیکن الوژن سے متاثر ذہن ایک منظر
کو لاشمار مناظر میں تبدیل ہوتا دیکھتا ہے۔ اس تصادم سے دیکھنے اور سمجھنے کی
صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں اور پہاڑ، درخت، پانی، بادل، ہوا جو فطرت کی نشانیاں ہیں،
الوژن کی وجہ سے چھپ جاتی ہیں۔ تفکر جب تغیر سے آزاد ہوتا ہے تو نہ صرف اشیا کے
فارمولوں کا انکشاف ہوتا ہے بلکہ فرد مزاج میں وسعت سے واقف ہوتا ہے۔ تغیر شے کو
اصل سے اتنا دور کر دیتا ہے کہ اس میں تعفن ظاہر ہو جاتا ہے۔ ذہن جب تغیر سے خالی
ہوتا ہے تو تعفن کی جگہ خوشبو لے لیتی ہے جو نہ صرف حواس کو لطیف کرتی ہے بلکہ اس
کی لہروں سے جسم مہک اٹھتا ہے۔
کبھی غور کیا ہے کہ خوشبو اور بدبو کیا
ہیں؟ یہ دو لہریں ہیں۔ اگر گھر میں بدبو ہے تو میں کھانا پکاؤں، مطالعہ کروں یا
دوسری مصروفیات ہوں، ہر کام کے ساتھ سانس لیتے ہوئے بدبو بھی اندر میں ذخیرہ ہوتی
ہے۔ راہ نما باطن کے ساتھ ساتھ ماحول کی صفائی کی تاکید کرتے ہیں کہ جب تک ماحول
صاف نہ ہو، ذہن صاف نہیں ہوتا۔ وہ فرماتے ہیں، ”کمرے کا دروازہ کھلا رکھو، کھڑکیاں
کھولو تاکہ گھر کی فضا مسحور کن ہو۔“ خوشبو کے لیے اگر بتی جلائیں۔ ایک اگر بتی
بخور کی ہے جس کی خوشبو ہوا سے ہم آغوش ہو کر ماحول میں سرایت کرتی ہے۔ ایک اگر
بتی وہ ہے جو اندر میں سلگتی ہے، دل و دماغ معطر ہوتے ہیں۔ نتیجے میں اُولی
الالباب اور روشن ضمیری کی صفات بیدار ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ راہ نما نے فرمایا، ”مرشد مرید
کے اندر گُم سلائی کر دیتا ہے۔“ انہوں نے پوچھا، کبھی لباس کے اوپر خوب صورت نفیس
نقش و نگار دیکھے ہیں؟ عرض کیا، جی ہاں۔ کیا اس میں سلائی دکھائی دیتی ہے؟ میں نے
کہا، جی نہیں۔ انہوں نے فرمایا، اسی طرح مرشد گُم سلائی کرتا ہے جس پر نقش و نگار
بنتے رہتے ہیں اور بنے ہوئے نقش و نگار پر دائرہ بھی بناتا ہے۔ میں نے سوچا، سوئی
کپڑے کو چیرتی ہوئی نکلتی ہے تو لباس کو تکلیف ہوتی ہے۔ کپڑا سلنے کے بعد سوئی کی
چبھن کا احساس نفیس لباس کی راحت میں بدل جاتا ہے۔
بزرگ دوست اپنا واقعہ سناتے ہیں کہ تربیت
کے دنوں میں معلوم ہوا کہ مرشد کریم نے کسی سے میرے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ تو
سوئی ہیں۔ میں معنی و مفہوم سمجھ نہ سکا اور رنج ہوا کہ کیا میں اتنا حقیر ہوں۔ جب
مرشد کریم کو خبر ہوئی تو انہوں نے فرمایا، ”سوئی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر طرح کے
حالات سے گزرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سوئی سے مخمل سی لو، ٹاٹ سی لو، ہر قسم کے
کپڑے سے گزر جاتی ہے۔“ راستے کے نشیب و فراز منزل تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا کرتے
ہیں۔ سوئی کو تانے بانے سے نکلتے ہوئے بغور دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سوئی ڈوبتی
ہے، ابھرتی ہے، غائب ہوتی ہے، ظاہر ہوتی ہے لیکن ۔۔ راستہ ترک نہیں کرتی۔ منزل تک
پہنچنے کے ساتھ پیچھے آنے والوں کے لیے راستہ بناتی ہے۔
راہ نما نے ایک صاحب سے فرمایا، ”یقین
ایک ہے اور شک لاشمار۔ بتایئے، کسے قبول کرنا آسان ہے؟“ راہ نما کے الفاظ یقین ہیں
جن سے فرد کے اندر شک کی عمارت مسمار ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہر کام کیئر آف
اللہ کرو۔ مخلوق تغیر ہے اور تغیر شک ہے۔ مخلوق سے توقع رکھ کر جو کام کیا جاتا
ہے، اس میں شک پیدا ہوتا ہے اور اللہ کے بھروسے پر کیا جانے والا کام یقین ہے۔
اللہ کے دوست نے یقین کی وضاحت میں ایک مرتبہ فرمایا، ”جب ہم یقین کہتے ہیں تو اس
میں وہ سارے عوامل آ جاتے ہیں جن سے یقین بنتا اور پُختہ ہوتا ہے۔ ان میں صبر،
شکر، تفکر، تجربہ اور مشاہدہ سب شامل ہیں۔۔۔ یہ سب اسپیس ہیں۔ صبر کی اسپیس سے
گزرنے کے لیے شکر اور شکر کے لیے تفکر ضروری ہے، تفکر کو تجربے سے تسکین ملتی ہے
اور تجربے کی تکمیل الوژن سے پاک مشاہدے سے ہوتی ہے، اسی کو یقین کہتے ہیں۔“ یقین
کے آگے رکاوٹیں جھک جاتی ہیں کہ یقین اور پانی کی صفت ایک ہے۔
ایک نشست میں راہ نما نے فرمایا، ”روحانی
بندے کو پانی کی طرح ہونا چاہیے، اس میں جو رنگ ڈالو، اُسی رنگ کا ہو جاتا ہے۔“