Topics
خیال یقین کی تلاش میں گم تھا۔ ذہن
کے پردوں میں حرکت ہوئی ۔ راہ نما کی بات یاد آئی۔
” وہ پہلی جو اللہ نے انسان کو عطا
کی اور جس نظر سے اس نے مشاہدہ کیا ، وہ یقین کی نظر تھی۔ یقین کی وہی نظر ہمارے
حواس کی بنیاد ہے۔“
کھوئی ہوئی میراث ”یقین“ حاصل کرنے
کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر اس نگاہ کو تلاش کریں جس نے قالو ابلیٰ
کہا۔
خالق کی نگاہِ التفات ہمہ وقت
مخلوق پر مرکوز ہے۔ہم اس کی توجہ کے دائرے میں ہیں اور وہ مہربان ذات ہمارے لیے ہر
قسم کے وسائل کی ترسیل بغیر کسی تعطل کے جاری رکھے ہوئے ہے۔ وقت کی مناسبت سے
سہولیات اور نئی نئی ایجادات اس لئے ہیں کہ مخلوق آرام پائے اور خوش رہے۔
رحیم ہستی اللہ
کا فرمان ہے،
” یاد کرو وہ وقت جب کہ ہم نے تیری
ماں کو اشارہ کیا ، ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعے سے کیا جاتا ہے کہ اس بچے کو صندوق
میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ، دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے
میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا۔ میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر
دی اور ایسا انتظام کیا کہ تیری پرورش میری نگرانی میں ہو۔“ ( طہٰ : ۳۸۔۳۹)
رب کا مطلب ہے پالنے والا ، پرورش
کرنے والا ۔ مخلوق کو ادراک ہو یا نہ ہو، پرورش کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ عالمِ
ناسوت سے پہلے اور بعد کے جتنے عالمین ہیں ، اللہ کی صفت ِ ربانیت محبت سے مخلوق
کی پرورش کر رہی ہے ۔ رب کی آغوشِ رحمت میں بوڑھا آدمی بھی اپنے شب و روز ایسے
گزارتا ہے جیسے کوئی طفل دنیا و مافیہا سے بے خبر ماں کی گود میں مسکراتا ہے۔
راہ نما اس بات کا پرچار کرتے ہیں
کہ خالق کے سامنے بچہ بن کر رہو ، اس بچے کی طرح جو اپنی ہر ضرورت ماں سے منسوب کر
لیتا ہے۔
روحانیت میں یہی تعلق استاد اور
شاگرد کے درمیان قائم ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شاگرد استاد کو ماں سمجھ لے تو اسے استاد
کا ذہن منتقل ہو جاتا ہے۔
حیات یقین کی بیلٹ پر سفر کرتی ہے
جس پر مخلوق کے معاملات ایک تسلسل سے جاری ہیں۔ کوئی رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش کرتا
ہے تو بیلٹ اسے قبول نہیں کرتی کیوں کہ قدرت نے جو پروگرام ترتیب دیا ، اس میں
تبدیلی نہیں ۔ فرد خود اپنا راستہ طویل کرتا ہے یہاں تک کہ مشیت ایک بار پھر اسے
اس مقام پر کھڑا کر دیتی ہے جہاں اس نے پہلے کسی موقع پر مزا حمت کی تھی ۔ اگر اب
وہ مزا حمت نہ کرے تو آگے بڑھ جائے گا۔
راہ نما اپنے مخصوص انداز میں ”
والر اسخون فی العلم “ کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ پختہ علم رکھنے والے لوگ وہ ہیں
جو مشاہدہ کر لیتے ہیں کہ ہر چیز من جانب اللہ ہے۔
ایک بار صاحب ِ مشاہدہ نے انگشتِ
شہادت بلند کرتے ہوئے فرمایا،
”انگلی کی یہ حرکت لوحِ محفوظ پر
نقش ہے۔ اگر لوحِ محفوظ پر انگلی کی حرکت موجود نہ ہوتی تو یہاں حرکت نہ ہوتی ۔“
ہر مظہر ، حرکت اور عمل کا تعلق
لوحِ محفوظ سے ہے ۔ معمولی جنبش سے لے کر کوئی بڑا عمل جو وہاں لکھا ہوا ہے ، یہاں
اس کا مظاہرہ ہوتا ہے۔بزرگ راہ نما فرماتے ہیں،
”سب کچھ ایک عظیم الشان اور منظم
نظام کے تحت واقع ہو رہا ہے جس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں۔ اربوں ، سنکھوں سال
سے ، جن کا ہمارے پاس کوئی شمار نہیں ، ضروریات زندگی تعطل کے بغیر مہیا ہو رہی
ہیں ۔ ان پر غور کرنے سے ذہن میں یقین کا پیٹرن بنتا ہے۔“
علم والوں کی باتیں معنویت اور
اسرار و رموز کا خزانہ ہیں ۔ مختصر سی بات میں لا تعداد جہتیں سامنے آجاتی ہیں ۔
جب کوئی بات دہراتی ہوں تو فہم علم کی نئی جہت سے روشناس ہوتی ہے۔
باپ کی طرح شفیق راہ نما کی خدمت
کا موقع ملا۔ میرے ذمہ کھانا پکانے کی ڈیوٹی تھی۔ میں نے ان کی پسندیدہ غذا دریافت
کی تو فرمایا یہ سوال خاتونِ خانہ سے کسی نے کیا تھا۔انہوں نے جواب دیا کہ آج تک
نہیں جان سکی کہ کھانے میں کیا پسند ہے ، جو پکا ہو شوق سے کھا لیتے ہیں۔
پھر میری پریشانی بھانپتے ہوئے
مسکرائے اور فرمایا ، بیٹا ! جو تمہارے ذہن میں آئے پکا لیا کرو۔ اللہ تعالیٰ جو
کھلانا چاہیں گے، تمہارے ذہن میں خیال آجائے گا۔
راہ نما کی شخصیت میں رب کے لیے
خود سپردگی کے جذبے نے مجھے ہمیشہ حیران کیا ہے۔ ایک روز وہ بعد از دوپہر مطالعے
میں مصروف تھے۔ میں خربوزہ لائی ۔کاٹ کر چکھا تو وہ پھیکا تھا۔ چپکے سے ایک طرف
رکھ دیا۔ دوسرا کاٹا ، وہ بھی پھیکا تھا۔ ایک اور کاٹنے لگی تو پوچھا ۔ یہ کیا ہو
رہا ہے؟
بتایا کہ خربوزے پھیکے ہیں۔
فرمایا ، جس طرح میٹھے پھل کے
فائدے ہیں، اسی طرح پھیکے پھل کے بھی فوائد ہیں۔ جسم کو پھیکے کی ضرورت ہوگی اس
لئے اللہ تعالیٰ پھیکا پھل کھلا رہے ہیں۔ آپ پریشان نہ ہوں۔
ان کی گفتگو مختصر اور معانی سے
پُر ہے۔
ایک روز فرمایا ، فقیر کو اس بات
کا خیال نہیں آتا کہ اس کی بیوی بچوں کا کیا ہوگا۔
میں نے عرض کیا ، کیوں کہ ان کو
یقین ہوتا ہے کہ ہمارا کام کوشش کرنا ہے ، رازق اللہ ۔
انہوں نے فرمایا کہ جو کہا جائے
غور سے سنا کرو۔ میں نے کہا کہ فقیر کو خیال ہی نہیں آتا۔
بزرگ نے اپنے طرز عمل سے سکھایا کہ
ارادہ اور اختیار استعمال کئے بغیر اللہ کی مشیت پر راضی رہنا اللہ والوں کا شیوہ
ہے۔
پچھلے دنوں کراچی میں ایک بہن کے
گھر قیام کیا ، کھلا اور روشن گھر
۔ہر طرف سے
دھوپ اور ہوا کا گزر تھا۔ تعریف کی کہ آپ کے گھر کی بناوٹ خوب ہے۔ وہ ہنس دیں ۔
انہوں نے بتایا کہ گھر بننے سے پہلے راہ نما کو نقشہ دکھایا تو انہوں نے نقشے کو
تبدیل کر دیا۔ یہ گھر اس نقشے کے متضاد ہے جو ہم نے بنایا تھا۔ اگر ہماری مرضی کے
مطابق بنتا تو ہم نے تو دھوپ اور ہوا کا راستہ بند کر دیا تھا۔
میں نے سوچا کہ ہماری طرزِ فکر میں
جو ٹیڑھ پن پیدا ہو گیا ہے ، محترم استاد اس نقشے میں تبدیلی کر کے ذہن کا ٹیڑھ پن
درست کرتے ہیں۔
ہم اپنی بہترین صلاحیتوں کا
استعمال اپنے خلاف کر کے خود کو ہلکان کر لیتے ہیں۔ میں نے تو زندگی کا نقشہ ہی
الٹ پلٹ کر دیا تھا۔ الحمد للہ توجہ سے آہستہ آہستہ ذہن ”کیوں“ کی تکرار سے ہٹ کر
”ٹھیک ہے“ پر مرکوز ہو رہا ہے ۔ فہم کہتی ہے کہ جب ہمارے پاس اختیار نہیں تو ہم
مداخلت کر کے حالات کیوں بگاڑنا چاہتے ہیں حالاں کہ ہم جانتے ہیں کہ جو ذات حالات
پر محیط ہے ، وہ مہربان اور رحیم ہے۔ صاحبِ یقین خواتین و حضرات مشیت میں دخل
اندازی نہیں کرتے۔
عرض کیا کہ میں اللہ کی دوست بننا
چاہتی ہوں ۔
انہوں نے جواب میں آیت تلاوت کی۔
” سُن رکھو! بے شک اللہ کے دوستوں
کو خوف ہوتا ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔“
(یونس : ۶۲)
آیت پر تفکر کیا تو سمجھ میں آیا
کہ ،
۱۔ یقین ہو تو خوف دور ہو جاتا ہے۔
۲۔ خالیق اور مخلوق کے تعلق کو
سمجھ کر غم اور خوف سے آزادی ممکن ہے۔
۳۔ جب تک مشاہدہ نہ ہو کہ ہم ”اول
آخر ظاہر باطن ہستی“ کے حصار میں ہیں ، نا خوشی اور مایوسی ہمیں گھیر لیتی ۔ خوف
اور غم سے آزادی آزاد طرز فکر ہے۔
پہلی نظر جو مخلوق کو عطا ہوئی ،
وہ معرفت کی نظر تھی ۔ پہلے سننا پھر تلاش کرنا کہ آواز کہاں سے آرہی ہے ، کس کی
ہے ، کس نے پکارا ، ہم کون ہیں اور کہاں پر ہیں۔ ان سوالوں کے جواب سے معرفت کی
نگاہ کھلتی ہے اور وہ صفات منتقل ہوتی ہیں جنہیں اللہ عالیٰ نے مخلوق کے لیے پسند
فرمایا ہے۔ اگر یہ نگاہ حاصل ہو جائے تو غم و آلام دور ہو جائیں گے ، تنگدستی ،
بیماری ، اعصابی اور دماغی کشمکش ، الجھن اور مضطرب زندگی سے نجات مل جائے گی ۔
دوا کی ضرورت نہیں رہے گی کیوں کہ یہی دوا ہے۔
صاحبِ
شہود ہستیاں معرفت کے درجے میں رہتے ہوئے حقیقی نظر سے علاج کرتی ہیں۔
آج
ہم ازل میں بیدار ہونے والی نظر سے اتنا دور ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ وہ ہمارے
اندر موجود ہے۔ اصل میں ہم واقف ہی نہیں اور چہرے پر لگی دو آنکھوں کو دیکھنے کا
ذریعہ سمجھتے ہیں۔
اس نظر کی یہ بات ہے
جو ازل میں ہم کو عطا ہوئی
وہ نظر جو اصل اصول ہے
وہ نظر جو ردِّ فتور ہے
وہ جو میری بنا بھی ہے
وہ نظر جو تیری ثنا بھی ہے
وہ نظر کہ حاصلِ زندگی
وہ نظر تجلی طور ہے
وہ نظر جو تیرا سوال ہے
وہ نظر جو میرا جواب ہے
وہ نظر جو عشق کی لَو بھی ہے
جسے بندگی پر سرور ہے
تجھے اس نظر کا ہے واسطہ
جو نظر کہ تجھ کو ہے جانتی
مجھے اس نظر سے نواز دے
جو پیغمبروں کا شعور ہے
وہ جو بالیقین وصال ہے
وہ نظر کہ ماہِ کمال ہے
وہ نظر جو مجھ سے ہے کھو گئی
انہی تجلیوں میں ضرور ہے
ہم دور بین کا استعمال کرتے وقت
شیشوں کو گھماتے ہوئے اپنی بصارت کی حد کے مطابق زاویہ فکس کرتے ہیں۔ اگر دور بین
کے شیشوں پر چکنائی یا داغ دھبہ ہو تو منظر دھندلا جاتا ہے اور الوژن اور حقیقت کا
فرق نمایاں نہیں ہوتا۔
فرد مثبت اور منفی کیفیات میں ردّ
و بدل ہوتا ہے۔ دونوں طرزوں کو قوت عطا کی گئی ہے۔ ہم منفی کردار کو دنیا سے ختم
نہیں کر سکتے ورنہ مثبت کردار بھی پہچان کھو دے گا ۔ کرنا یہ ہے کہ صرف مثبت طرز
کو غالب کریں۔اپنے معمولات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ جس کام میں اختیار استعمال
کرنے کی کوشش نہیں کی ، اس کے نتائج مثبت تھے ۔ ہماری سوچ میں سقم ہے۔ اچھے نتائج
کو ہم کسی نہ کسی اپنے عمل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ غیر جانب دار ذہن سے غور کیا
جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مشیت ہمیشہ مثبت طرزوں میں اثر انداز ہوتی ہے۔ ہماری حیثیت
معمول کی ہے اور ہم اللہ کی مشیت کے تابع ہیں۔ مشیت جس طرح اور جیسے چاہتی ہے ،
وہی ہوتا ہے۔
میلاد النبی ﷺ کی محفل تھی۔میں اور
میری سہیلی باورچی خانے کی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ دیکھا کہ لوگوں کی تعداد میں مسلسل
اضافہ ہو رہا ہے اور برتن کم ہو گئے ہیں تو ہم پریشان ہو گئے۔ میں تیزی سے برتن
دھونے لگی اور رونا شروع کر دیا کہ اب کیا ہوگا۔ ہم دونوں نے دعا کی کہ یا اللہ!
آپ کے محبوب ﷺ کی محفل ہے ، مدد فرمائیں۔
ہم نے ناقابلِ فراموش منظر دیکھا ۔
ایک مہمان خاتون تحفتاً چھ پلیٹیں لے آئیں ۔ حیرت سے ان کو دیکھ رہے تھے کہ اتنے
میں ایک صاحب ائے اور گلاس کا ڈبّہ دے کر چلے گئے۔ دل شکر کے جذبات سے سر شار ہو
گیا۔ سہیلی لہرا لہرا کر کہنے لگی کہ دیکھو خاتم النبیین حضور پاکﷺ کی محفل ہے ،
اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کی محفل کا انتظام کیا ہے۔
اس کے بعد چند مزید خواتین یکے بعد
دیگرے برتن لاتی رہیں یہاں تک کہ باورچی خانہ برتنوں سے بھر گیا اور برتن مہمانوں
کی تعداد سے زیادہ ہوگئے ۔ پہلے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔
مشاہدے سے ذہن کھلا کہ اللہ تعالیٰ
صرف اپنے محبوب خاتم النبیین حضور پاک ﷺ کی محفل کا انتظام نہیں کرتے بلکہ ہم سب
کی ضرورت بھی اسی طرح پوری کرتے ہیں۔ ایک اور واقعہ پڑھئے۔
ایک دوپہر راہ نما قیلولہ فرما رہے
تھے۔ خیال آیا کہ سیب ہونے چاہیں تاکہ شام کو چائے کے ساتھ رکھوں۔ خلاف ِ معمول اس
روز سیب موجود نہیں تھے۔ اِدھر اُدھر تلاش کیا کہ کوئی بھائی جا کر سیب لا دیں ۔
شدید گرمی تھی اور اس وقت افراد کم تھے ۔ بازار فاصلے پر تھا اور جو افراد موجود
تھے ان کے پاس سواری نہیں تھی ۔ نجانے کیوں ذہن نے سیب کے علاوہ کسی اور پھل کو
قبول نہیں کیا۔ آج سوچتی ہوں کہ سیب کا خیال میں تقویت کیوں تھی اور اس کے پیچھے
کیا حکمت تھی۔ بہرحال بے قراری کے عالم میں صحن کے چکر کاٹتی رہی۔ جاگنے کا وقت
قریب آرہا تھا۔ انتظام نہ کر سکی تو رونے لگی۔ نگاہیں آسمان پر مرکوز تھیں اور
لبوں پر یہ دعا تھی ۔۔ یا اللہ ! کوئی راستہ بتا دیں۔
اس خیال سے کہ کوئی دیکھ نہ لے ،
باورچی خانے میں آ کر منہ دھویا ۔ اتنے میں ایک صاحب آئے ۔ رخ دوسری جانب تھا ۔
باہر سے ہی ہاتھ بڑھاتے ہوئے مخاطب کیا کہ یہ لیں۔ یہ بڑے بڑے سیبوں سے بھرا ہوا
تھیلا تھا۔ نووارد کو دیکھے بغیر تھیلا لیا اور خوشی خوشی سیب کی قاشیں بنائیں۔
سیب پیش کیا اور ان کی ہدایت پر باقی سیب دیگر افراد میں تقسیم کر دیئے۔
چند روز قبل سہیلی گاڑی لے کر گھر
آئی اور کہا کہ کوئی کام ہے تو آجاؤ۔ میں فوراً چل پڑی اور ضروری کام نمٹا لیے۔
چند گھنٹے بعد شہر لاک ڈاؤن ہو گیا۔ سہیلی سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ خیال آیا
تھا تمہاری طرف چلنا چاہیے۔ جانا کہیں اور تھا، غیر ارادی طور پر گاڑی کا رخ
تمہارے گھر کی جانب ہو گیا۔
گھر میں چینی ختم ہونے کو تھی کہ
دور سے ایک عزیز آئے اور ساتھ کافی مقدار میں چینی لائے ۔ چینی لانےوالے مہمان نے
کہا ، میں نے سوچا کہ پتہ نہیں آپ کیا کہیں۔ میٹھا لے کر آنا تھا ، مٹھائی کی
جگہ چینی لے آیا۔
اللہ ہماری کفالت کرتا ہے ۔ جب ہمہ
وقت نگراں اور پیار کرنے والی ہستی موجود ہے تو پھر ہمیں کس بات کی فکر۔ میرے پاس
اس قسم کی بے شمار مثالیں ہیں۔ یہ معاملہ سب کے ساتھ ہے لیکن اکثر لوگ نظر انداز
کر دیتے ہیں۔
سوچ رہی تھی کہ وسائل کی بہتات کے
باوجود اللہ پر یقینی کی وجہ ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا سلسلہ مسلسل اور
متواتر ہے ، ہر شخص اس بات کا شکوہ کرتا ہے کہ یہ نہیں ہے اور وہ نہیں ہے ۔ نہیں
کی تکرار ظلم اور جہالت ہے۔ نعمتوں پر شکر کی تکرار سے بے یقینی کا خاتمہ ہو جاتا
ہے۔
خدائے مہربان کا ارشاد ہے،
”اے آل داؤد ؑ! عمل کرو شکر کے
طریقے پر ، میرے بندوں میں کم شکر گزار ہیں۔“